مشرق وسطیٰتازہ ترین

امریکہ اور ایران کے درمیان ایک ماہ بعد دوبارہ فوجی جھڑپ، ٹرمپ کا سخت جواب دینے کا اعلان، تہران کا مذاکرات پر زور

ان کے مطابق امریکہ تازہ حملوں کو نظر انداز نہیں کرے گا اور صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد جواب دیا جائے گا۔

مدثر احمد-ادارت

واشنگٹن/تہران: تقریباً ایک ماہ کے وقفے کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان فوجی تنصیبات اور اہداف کو نشانہ بنانے کے واقعات نے خطے میں کشیدگی میں ایک بار پھر اضافہ کر دیا ہے۔ تازہ فوجی کارروائیوں کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت جواب دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی حملوں کا جواب دیا جائے گا، تاہم ان کا کہنا ہے کہ تازہ واقعات کا لازمی طور پر یہ مطلب نہیں کہ دونوں ممالک مکمل جنگ کی جانب واپس جا رہے ہیں۔

پیر کے روز ہونے والے حملوں نے کئی ہفتوں کی نسبتاً کم کشیدگی کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان تنازع کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا۔ دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے جاری سفارتی تعطل، اقتصادی پابندیوں اور بحری گزرگاہوں پر دباؤ کے پس منظر میں تازہ فوجی کارروائیوں نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فوکس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے ایران کے خلاف سخت ردعمل کا عندیہ دیا۔ ان کے مطابق امریکہ تازہ حملوں کو نظر انداز نہیں کرے گا اور صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد جواب دیا جائے گا۔

بعد ازاں اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ موجودہ فوجی جھڑپوں کا یہ مطلب نہیں کہ مکمل جنگ دوبارہ شروع ہو گئی ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ اپنی فوجی تنصیبات یا مفادات کے خلاف کارروائیوں کا جواب دینے کے لیے تیار ہے۔

ٹرمپ نے ایران کی معاشی اور فوجی صورتحال پر بھی تنقید کرتے ہوئے اسے ایک ’’ناکام ملک‘‘ قرار دیا اور دعویٰ کیا کہ ایرانی معیشت اور فوج کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے باوجود امریکہ ایران کی جانب سے ہونے والی کارروائیوں کا جواب دینے سے گریز نہیں کرے گا۔

معاشی دباؤ سے فوجی کشیدگی تک

تازہ فوجی جھڑپ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گزشتہ کئی ہفتوں سے امریکہ اور ایران کے درمیان براہِ راست فوجی کارروائیوں کے بجائے معاشی اور بحری دباؤ کی پالیسی نمایاں رہی۔

امریکی انتظامیہ کی جانب سے ایران پر اقتصادی پابندیوں اور دیگر دباؤ کے اقدامات کو اپنی حکمت عملی کا اہم حصہ بنایا گیا، جبکہ ایران نے بھی آبنائے ہرمز میں اپنی پالیسی کے ذریعے بین الاقوامی تجارت اور توانائی کی ترسیل پر اثرانداز ہونے کی کوشش کی۔

فریقین کے درمیان جاری کشیدگی نے یہ خدشہ پیدا کر دیا ہے کہ اقتصادی پابندیاں، بحری ناکہ بندی اور تجارتی دباؤ کسی بھی مرحلے پر دوبارہ براہِ راست فوجی تصادم کی صورت اختیار کر سکتے ہیں۔

اگرچہ دونوں جانب سے مکمل جنگ کی خواہش کا واضح اظہار سامنے نہیں آیا، تاہم تازہ حملوں کے بعد امریکہ اور ایران نے ایک دوسرے کی کارروائیوں کا جواب دینے کی صلاحیت اور تیاری برقرار رکھنے کا اشارہ دیا ہے۔

جزیرہ لارک پر ایرانی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا امریکی دعویٰ

امریکہ نے کہا ہے کہ اس کی کارروائیوں کا مقصد اہم بحری گزرگاہ میں ایران کی جانب سے بارودی سرنگیں بچھانے کی کوشش کو روکنا تھا۔

امریکی مؤقف کے مطابق جزیرہ لارک پر موجود ایرانی راکٹ لانچرز کو نشانہ بنایا گیا۔ واشنگٹن کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی خطے میں بحری نقل و حرکت اور امریکی مفادات کے تحفظ کے تناظر میں کی گئی۔

دوسری جانب ایران نے ان واقعات پر اپنا ردعمل دیتے ہوئے اردن اور متحدہ عرب امارات میں متعدد اہداف کو میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔

تہران کے مطابق ان حملوں کا ہدف وہاں موجود امریکی فوجی اور فوجی مفادات تھے۔ تاہم ان دعووں اور حملوں کے اثرات سے متعلق تفصیلات پر مختلف فریقوں کے بیانات سامنے آ رہے ہیں۔

ایرانی صدر کا مذاکرات اور مفاہمت پر زور

فوجی کشیدگی کے باوجود ایران کی جانب سے مذاکرات اور سفارتی حل کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا ہے۔

ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے کرغزستان میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران جنگ کے بجائے معاہدے اور مفاہمت کی راہ تلاش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران کی نظر میں جنگ کا تسلسل نہ صرف اس کے اپنے مفاد میں نہیں بلکہ پورے خطے کے مفادات کے بھی خلاف ہے۔

صدر پزشکیان کے مطابق موجودہ مسائل کے حل کے لیے مذاکرات اور تعاون کو ترجیح دی جانی چاہیے۔

ایرانی قیادت کے اس مؤقف کو اس تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے کہ ایک جانب خطے میں فوجی کشیدگی برقرار ہے، جبکہ دوسری جانب سفارتی ذرائع سے تنازع کے خاتمے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔

آبنائے ہرمز اور بحری کشیدگی

امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کا ایک اہم پہلو آبنائے ہرمز اور خطے کی بحری گزرگاہوں سے متعلق صورتحال بھی ہے۔

ایران اور امریکہ دونوں ایک دوسرے پر بحری سرگرمیوں اور اقتصادی دباؤ کے حوالے سے الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں پابندیوں اور نقل و حرکت پر اثرانداز ہونے والی سرگرمیوں نے عالمی توانائی اور تجارتی منڈیوں کے حوالے سے خدشات کو بڑھایا ہے۔

دوسری جانب امریکہ کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں اور اقتصادی سرگرمیوں پر دباؤ بڑھانے کی پالیسی بھی دونوں ممالک کے درمیان تنازع کا اہم حصہ بنی ہوئی ہے۔

آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے حوالے سے انتہائی اہم بحری گزرگاہ ہے، اس لیے یہاں پیدا ہونے والی کسی بھی کشیدگی کے عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں پر اثرات مرتب ہونے کے خدشات موجود رہتے ہیں۔

امریکہ میں سیاسی اور معاشی دباؤ

امریکہ میں بھی ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے معاشی اور سیاسی اثرات پر بحث جاری ہے۔

خطے میں جاری صورتحال اور عالمی توانائی منڈیوں میں بے یقینی کے باعث قیمتوں اور مہنگائی کے حوالے سے خدشات بڑھتے رہے ہیں، جبکہ امریکی انتظامیہ کو ملکی سیاسی دباؤ کا بھی سامنا ہے۔

صدر ٹرمپ نے تازہ حملوں سے قبل ایران کی فوجی اور معاشی صورتحال پر سخت تنقید کی تھی اور سوشل میڈیا پر ایرانی حکومت کے خلاف متعدد دعوے کیے تھے۔

ناقدین اور سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکی انتظامیہ کو ایک جانب ایران کے خلاف اپنے طے شدہ اہداف کے حصول کا چیلنج درپیش ہے، جبکہ دوسری جانب طویل جنگ کے سیاسی اور معاشی اثرات سے بھی نمٹنا پڑ رہا ہے۔

سفارتی کوششیں تاحال نتیجہ خیز نہیں ہو سکیں

امریکہ اور ایران کے درمیان جاری تنازع کو ختم کرنے کے لیے کئی ماہ سے سفارتی رابطے اور ثالثی کی کوششیں جاری ہیں، تاہم جنگ بندی اور مستقل مفاہمت کے حوالے سے تاحال کوئی حتمی پیش رفت سامنے نہیں آ سکی۔

ایران کی جانب سے امریکہ پر سابقہ معاہدوں اور مفاہمت کی طرف واپسی کے لیے دباؤ ڈالا جاتا رہا ہے، جبکہ واشنگٹن اپنی سکیورٹی اور علاقائی پالیسیوں کے حوالے سے مختلف مطالبات پیش کرتا رہا ہے۔

ثالث ممالک اور سفارتی حلقے کئی ماہ سے دونوں فریقوں کو مذاکرات کی میز پر لانے اور کشیدگی کم کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں، لیکن بنیادی اختلافات کے باعث اب تک کوئی پائیدار سمجھوتہ طے نہیں پا سکا۔

مکمل جنگ سے گریز، مگر کشیدگی برقرار

تازہ فوجی حملوں نے ایک بار پھر یہ واضح کر دیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان موجود تنازع میں فوجی اور سفارتی دونوں راستے بیک وقت فعال ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سخت جواب دینے کے اعلان اور ایران کی جانب سے مذاکرات و مفاہمت پر زور کے باعث آنے والے دنوں میں سفارتی سرگرمیوں اور فوجی نقل و حرکت دونوں پر توجہ مرکوز رہے گی۔

اگرچہ دونوں فریقوں کی جانب سے مکمل جنگ میں واپسی سے گریز کے اشارے ملتے ہیں، تاہم باہمی حملوں، بحری کشیدگی، اقتصادی پابندیوں اور سیاسی اختلافات کے باعث صورتحال بدستور حساس ہے۔

تازہ جھڑپوں کے بعد سب سے اہم سوال یہ ہے کہ آیا دونوں ممالک محدود فوجی کارروائیوں کے بعد سفارتی رابطوں کی جانب واپس آتے ہیں یا پھر جوابی حملوں کا سلسلہ خطے میں ایک نئی اور وسیع کشیدگی کو جنم دیتا ہے۔

موجودہ صورتحال میں عالمی اور علاقائی سفارتی کوششوں کی کامیابی امریکہ اور ایران کے درمیان مزید فوجی تصادم کو روکنے کے لیے فیصلہ کن اہمیت اختیار کر چکی ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button