
پی آئی ایم ایس آتشزدگی میں 14 نومولود بچوں کی ہلاکت پر اے پی جی آر کا گہرے رنج و غم کا اظہار، شفاف تحقیقات کا مطالبہ
تحقیقات کے ذریعے واقعے کے اسباب اور حالات کا تعین کیا جانا ضروری ہے تاکہ حقائق سامنے آ سکیں اور ذمہ داری کا تعین قانون اور ضابطے کے مطابق کیا جا سکے۔
سید عاطف ندیم-ادارت
ایسوسی ایشن آف پاکستانی گریجویٹس فرام رشیا اینڈ سی آئی ایس (APGR) نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (PIMS) اسلام آباد میں پیش آنے والے آتشزدگی کے المناک واقعے میں 14 نومولود بچوں کے جاں بحق ہونے پر گہرے رنج و غم اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے واقعے کی مکمل، شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری بیان میں چیئرمین ڈاکٹر شاہد حسن اور صدر پروفیسر ڈاکٹر اشرف نظامی نے نومولود بچوں کی ہلاکت کو انتہائی افسوس ناک اور دل خراش سانحہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ معصوم جانوں کا ضیاع ایک ایسا ناقابلِ تلافی نقصان ہے جس نے نہ صرف متاثرہ خاندانوں بلکہ پوری قوم کو رنجیدہ کر دیا ہے۔
انہوں نے جاں بحق بچوں کے والدین اور دیگر اہلِ خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اپنے نومولود بچوں کو کھو دینا کسی بھی خاندان کے لیے ایک انتہائی بڑا اور ناقابلِ بیان صدمہ ہے۔ ایسوسی ایشن اس مشکل گھڑی میں متاثرہ خاندانوں کے غم میں برابر کی شریک ہے۔
مکمل اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کا مطالبہ
چیئرمین ڈاکٹر شاہد حسن اور صدر پروفیسر ڈاکٹر اشرف نظامی نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ آتشزدگی کے اس المناک واقعے کی تمام پہلوؤں سے مکمل، شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کی جائیں۔
انہوں نے کہا کہ تحقیقات کے ذریعے واقعے کے اسباب اور حالات کا تعین کیا جانا ضروری ہے تاکہ حقائق سامنے آ سکیں اور ذمہ داری کا تعین قانون اور ضابطے کے مطابق کیا جا سکے۔
بیان میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ تحقیقات کا مقصد صرف واقعے کے فوری اسباب تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسپتالوں میں موجود حفاظتی انتظامات، فائر سیفٹی کے نظام، ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی صلاحیت اور طبی مراکز میں کمزور اور خصوصی نگہداشت کے محتاج مریضوں کے تحفظ کے انتظامات کا بھی جائزہ لیا جانا چاہیے۔
نومولود بچوں اور مریضوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کی ضرورت
ایسوسی ایشن نے کہا کہ اسپتالوں میں نومولود بچوں، مریضوں اور دیگر ایسے افراد کی حفاظت کے لیے مؤثر اور قابلِ عمل حفاظتی نظام موجود ہونا انتہائی ضروری ہے جو ہنگامی صورتحال میں اپنی مدد کرنے کی محدود صلاحیت رکھتے ہیں۔
بیان میں متعلقہ اداروں پر زور دیا گیا کہ اسپتالوں میں آگ اور دیگر ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے حفاظتی انتظامات کو مزید مؤثر بنایا جائے، فائر سیفٹی کے نظام کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے اور عملے کی تربیت سمیت ہنگامی انخلا کے طریقہ کار کو مضبوط بنایا جائے۔
اے پی جی آر کے عہدیداروں نے کہا کہ ایسے واقعات سے سبق سیکھتے ہوئے حفاظتی انتظامات میں موجود ممکنہ خامیوں کی نشاندہی اور ان کے تدارک کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جانے چاہییں تاکہ مستقبل میں کسی بھی ممکنہ سانحے سے بچاؤ ممکن ہو سکے۔
متاثرہ خاندانوں سے اظہارِ یکجہتی
ایسوسی ایشن آف پاکستانی گریجویٹس فرام رشیا اینڈ سی آئی ایس نے غمزدہ خاندانوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس دکھ اور آزمائش کی گھڑی میں پوری تنظیم متاثرہ والدین اور اہلِ خانہ کے ساتھ کھڑی ہے۔
چیئرمین ڈاکٹر شاہد حسن اور صدر پروفیسر ڈاکٹر اشرف نظامی نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ جاں بحق ہونے والے تمام معصوم نومولود بچوں کو اپنی رحمت میں جگہ عطا فرمائے اور ان کے والدین اور دیگر اہلِ خانہ کو اس عظیم صدمے کو برداشت کرنے کے لیے صبر، حوصلہ اور استقامت عطا فرمائے۔
ایسوسی ایشن نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ ملک کے طبی اور صحت کے شعبے سے وابستہ اداروں میں مریضوں، خصوصاً نومولود بچوں اور دیگر کمزور طبقات کے تحفظ اور سلامتی کے لیے مؤثر حفاظتی اقدامات کو ترجیح دینا ضروری ہے تاکہ مستقبل میں ایسے افسوس ناک واقعات کی روک تھام کے لیے عملی اور پائیدار انتظامات کیے جا سکیں۔



