صحتتازہ ترین

جلتی نرسری میں ماں جیسی ممتا: پمز کی نرس رضیہ نورین نے اپنی جان کی پروا کیے بغیر نوزائیدہ بچے کو بچا لیا

اسلام آباد کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال میں خوفناک آتشزدگی، نرسری میں پھنسے کمزور بچوں کو بچانے کے لیے نرس کی بے مثال کوشش، حکومت کی جانب سے اعزاز اور ایک کروڑ روپے انعام

سید عاطف ندیم-ادارت

پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے مدر اینڈ چائلڈ ہسپتال میں نوزائیدہ بچوں کی نرسری میں لگنے والی خوفناک آگ کے دوران ایک نرس نے اپنی جان کی پروا کیے بغیر بچوں کو بچانے کی کوشش کر کے انسانیت، فرض شناسی اور ماں جیسی ممتا کی ایک غیر معمولی مثال قائم کر دی۔

26 اگست کو اسلام آباد کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال میں نرسری کے اندر آگ بھڑک اٹھی تو نرس رضیہ نورین کے پاس فیصلہ کرنے کے لیے صرف چند لمحے تھے۔ ان کے سامنے ایک طرف اپنی جان بچانے کا راستہ تھا اور دوسری جانب وہ کمزور اور نوزائیدہ بچے تھے جو طبی آلات اور آکسیجن کے سہارے زندگی کی جنگ لڑ رہے تھے۔

رضیہ نورین نے اپنی حفاظت کو پسِ پشت ڈال کر بچوں کو بچانے کا فیصلہ کیا اور شعلوں اور دھوئیں کے درمیان نرسری میں داخل ہو کر ایک شیرخوار بچے کو باہر نکالنے میں کامیاب ہو گئیں۔ تاہم، جب وہ مزید بچوں کو بچانے کے لیے دوبارہ نرسری کی جانب بڑھیں تو ایک زور دار دھماکے، شدید گرمی اور گھنے دھوئیں نے ان کی واپسی کو ناممکن بنا دیا۔

پاکستانی حکومت نے رضیہ نورین کی بہادری اور فرض شناسی کے اعتراف میں انہیں اعزاز سے نوازنے کے ساتھ ایک کروڑ روپے کا انعام بھی دیا ہے، تاہم رضیہ نورین کے نزدیک یہ اعزاز اور انعام ان بچوں کی جانوں کے مقابلے میں کوئی معنی نہیں رکھتے جنہیں وہ آگ سے نہیں بچا سکیں۔

انہوں نے کہا کہ انہوں نے کسی انعام، تعریف یا شہرت کے لیے یہ قدم نہیں اٹھایا تھا بلکہ ان کے لیے اس وقت نرسری میں موجود ہر بچہ اپنی ذمہ داری اور اپنی اولاد کی مانند تھا۔

"کیا کوئی ماں انعام کی امید پر اپنے بچے کو بچاتی ہے؟”

پمز میں گفتگو کرتے ہوئے رضیہ نورین نے اپنے جذباتی انداز میں کہا کہ ان کے لیے کسی بچے کو بچانا کسی پر احسان نہیں تھا۔

انہوں نے کہا، "کیا کبھی کسی ماں نے انعام کی امید پر کسی بچے کو بچایا ہے؟ میں نے کسی پر احسان نہیں کیا۔ میں نے بطور ماں ان بچوں کو بچایا۔ میں تمام بچوں کو بچانا چاہتی تھی لیکن ایسا نہیں کر سکی۔ میں صرف ایک کو بچا سکی۔”

ان کے الفاظ اس سانحے کے انسانی پہلو کو نمایاں کرتے ہیں۔ ایک نرس کے لیے نرسری میں موجود نوزائیدہ بچے محض مریض نہیں ہوتے بلکہ وہ روزانہ ان کی نگرانی، خوراک، ادویات اور سانس لینے کی ضروریات کی ذمہ داری سنبھالتی ہے۔

رضیہ نورین کے مطابق یہی مسلسل ذمہ داری رفتہ رفتہ ایک ایسے جذباتی تعلق میں بدل جاتی ہے جس میں نرس خود کو بچوں کی نگہبان ہی نہیں بلکہ ایک طرح سے ان کی ماں محسوس کرنے لگتی ہے۔

آگ کا پہلا منظر اور صرف دو سیکنڈ کا فیصلہ

رضیہ نورین کے مطابق آتشزدگی کے وقت وہ نوزائیدہ بچوں کی روزانہ کی ادویات تیار کرنے میں مصروف تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ جب وہ الماری بند کر کے مڑیں تو ان کے سامنے آگ کے شعلے موجود تھے۔

یہ وہ لمحہ تھا جب ان کے مطابق زندگی کا سب سے مشکل فیصلہ ان کے سامنے آیا۔

انہوں نے کہا، "جب میں نے الماری بند کی تو اپنے سامنے آگ دیکھی۔ میرے ذہن میں دو چیزیں تھیں، یا تو خود کو بچاؤں یا بچوں کو۔ یہ صرف دو سیکنڈ کی بات تھی۔”

صرف چند لمحوں میں انہوں نے اپنی جان کے بجائے بچوں کی زندگی کو ترجیح دینے کا فیصلہ کیا۔

رضیہ نورین نے ایک کم وزن نوزائیدہ بچے کو اٹھایا، جس کی شناخت ہسپتال میں "آصفہ کے بچے” کے نام سے کی گئی۔ بچہ طبی آلات سے منسلک تھا اور اسے آکسیجن کی ضرورت تھی۔

انہوں نے بچے کو نرسری سے نکال کر راہداری تک پہنچایا اور وہاں موجود اپنے ساتھیوں کے حوالے کرتے ہوئے کہا کہ اسے فوری طور پر نوزائیدہ بچوں کے انتہائی نگہداشت کے یونٹ منتقل کیا جائے۔

ایک بچے کو بچانے کے بعد دوبارہ آگ کی طرف واپسی

ایک بچے کو محفوظ مقام تک پہنچانے کے باوجود رضیہ نورین نے اپنی جان بچانے کا راستہ اختیار نہیں کیا۔

ان کے ذہن میں نرسری میں موجود دوسرے بچے تھے۔

وہ مزید بچوں کو بچانے کے لیے دوبارہ نرسری کی طرف بڑھیں۔ اس موقع پر ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر رمشا بھی ان کے ساتھ تھیں۔

رضیہ نورین کے مطابق جب وہ دوبارہ نرسری کے اندر داخل ہونے کی کوشش کر رہی تھیں تو اچانک ایک دھماکہ ہوا۔

انہوں نے بتایا کہ وہ اور ڈاکٹر رمشا ہر ممکن کوشش کر رہی تھیں کہ کسی طرح دوبارہ بچوں تک پہنچ سکیں۔

"جب میں باہر سے واپس آئی اور دوبارہ داخل ہونے ہی والی تھی کہ ایک دھماکہ ہوا۔ ڈاکٹر رمشا اور میں نے پوری کوشش کی، ہم نے اپنے موبائل کی فلیش لائٹ آن کی، ہم جھک کر زمین کے قریب ہو گئیں، ہم نے سوچا کہ چاہے ہمیں کچھ ہو جائے لیکن ہمیں بچوں کو بچانا چاہیے۔”

لیکن شدید گرمی اور دبیز دھواں اتنا زیادہ تھا کہ نرسری کے اندر واپس جانا ممکن نہیں رہا۔

ان کے مطابق آگ نے چند لمحوں میں انتہائی خطرناک صورت اختیار کر لی۔

رضیہ نورین نے اس لمحے کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ وقت اتنا کم تھا کہ دیکھتے ہی دیکھتے صورتحال مکمل طور پر تبدیل ہو گئی۔

طبی آلات سے منسلک بچوں کو نکالنے کا مشکل چیلنج

نوزائیدہ بچوں کی نرسری میں موجود بچوں کو بچانا عام مریضوں کو کسی کمرے سے باہر نکالنے سے کہیں زیادہ پیچیدہ تھا۔

متعدد بچے مختلف طبی آلات سے منسلک تھے، جن میں سانس لینے میں مدد دینے والی مشینیں، سی پی اے پی سسٹم، سانس کی ٹیوبز اور انفیوژن پمپ شامل تھے۔

ایسے بچوں کو منتقل کرتے وقت صرف انہیں اٹھا کر باہر لے جانا کافی نہیں ہوتا بلکہ ان کی آکسیجن، سانس اور دیگر طبی ضروریات کا تسلسل برقرار رکھنا بھی ضروری ہوتا ہے۔

اسی وجہ سے آتشزدگی کے چند لمحوں کے دوران بچوں کو محفوظ طریقے سے نکالنا ایک انتہائی مشکل اور خطرناک عمل بن گیا۔

تاہم رضیہ نورین کے لیے اس وقت سب سے اہم بات یہ تھی کہ وہ اپنی جان کی فکر کیے بغیر بچوں تک پہنچنے کی کوشش کریں۔

"ایک ماں کبھی اپنی پرواہ نہیں کرتی”

رضیہ نورین نے کہا کہ جب انہوں نے شعلے دیکھے تو ان کے اندر موجود ماں کا جذبہ ان کی پیشہ ورانہ ذمہ داری سے بھی زیادہ طاقتور ہو گیا۔

انہوں نے کہا، "اور ایک ماں کیا کرتی ہے؟ وہ کبھی اپنی پرواہ نہیں کرتی، وہ اپنے بچے کو بچاتی ہے۔ میں بھی اپنے بچوں کے لیے اندر کود گئی۔”

ان کے مطابق نرسری میں داخل ہونے والے بچے صرف مریض نہیں ہوتے۔

نرسیں ان بچوں کو کھانا دیتی ہیں، ان کے لنگوٹ تبدیل کرتی ہیں، ادویات دیتی ہیں اور ان کی آکسیجن سمیت دیگر طبی ضروریات کی نگرانی کرتی ہیں۔

انہوں نے کہا، "وہ صرف دوسرے لوگوں کے بچے نہیں تھے۔ ان لوگوں نے انہیں ہمارے سپرد کیا تھا۔”

یہی ذمہ داری رضیہ نورین کے نزدیک نرس اور بچے کے درمیان ایک منفرد رشتہ پیدا کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب والدین اپنے بچوں کو نرسری میں چھوڑتے ہیں تو نرس ان بچوں کی پہلی نگہبان اور بعض اوقات ماں جیسی ذمہ دار بن جاتی ہے۔

"جب لوگ کسی بچے کو نرسری میں چھوڑتے ہیں تو بطور نرس وہ ان کی پہلی ماں ہوتی ہے۔ اور میں ان کی پہلی ماں تھی۔”

آتشزدگی کے بعد حفاظتی انتظامات پر سوالات

پمز کے مدر اینڈ چائلڈ ہسپتال میں ہونے والی اس آتشزدگی نے ہسپتالوں میں آگ سے بچاؤ اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے انتظامات پر بھی اہم سوالات اٹھا دیے ہیں۔

آتشزدگی کے بعد کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی رپورٹ میں آگ اور انسانی جانوں کے تحفظ سے متعلق بعض انتظامات کو ناکافی اور غیر معیاری قرار دیا گیا۔

رپورٹ میں بعض خارجی راستوں سے متعلق بھی سوالات اٹھائے گئے اور کہا گیا کہ کچھ راستے بند یا تالوں کے ذریعے محدود تھے۔

تاہم پمز انتظامیہ نے اس تاثر سے اختلاف کیا کہ حادثے کے دوران خارجی راستے بند تھے۔

رضیہ نورین نے بھی کہا کہ واقعے کے وقت عملہ موجود تھا اور ان کے مطابق دروازے کھلے ہوئے تھے، تاہم انہوں نے نرسری میں فائر الارم سسٹم نہ ہونے کی کمی کو تسلیم کیا۔

انہوں نے کہا کہ ایسے حساس مقام پر آگ سے خبردار کرنے والا نظام ہونا چاہیے تھا۔

ان کے مطابق ہسپتال کی عمارت پرانی ہے اور نرسری میں فائر الارم کا مناسب نظام موجود نہیں تھا۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ نوزائیدہ بچوں کے اغوا کے ممکنہ خطرے کے باعث نرسری تک رسائی کو محدود اور کنٹرول میں رکھا جاتا تھا۔

یہ معاملہ اب ہسپتالوں، بالخصوص بچوں اور انتہائی نگہداشت کے شعبوں میں موجود حفاظتی نظام کے معیار کے حوالے سے ایک اہم بحث کو جنم دے رہا ہے۔

"میں اس رات سے سو نہیں پاتی”

سانحے کے بعد رضیہ نورین کے لیے سب سے مشکل مرحلہ اپنی معمول کی زندگی کی طرف واپسی ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ نرسری میں رہ جانے والے بچوں کی یادیں مسلسل ان کا پیچھا کرتی ہیں۔

انہوں نے بتایا، "میں اس رات سے نہیں سوئی۔ میں نیند کی گولیاں کھاتی ہوں لیکن پھر بھی نیند نہیں آتی۔ سارا دن دفتر میں اور یہاں آنے کے بعد میں سونے کی کوشش کرتی ہوں لیکن اچانک آنکھ کھل جاتی ہے۔”

یہ الفاظ ایک ایسے صحت کارکن کے اندر موجود درد کی عکاسی کرتے ہیں جس نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر بچوں کو بچانے کی کوشش کی، لیکن وہ خود کو اس حقیقت سے الگ نہیں کر پا رہیں کہ وہ تمام بچوں تک نہیں پہنچ سکیں۔

ان کے لیے حکومتی اعزاز اور مالی انعام سے زیادہ اہم وہ زندگیاں ہیں جنہیں وہ بچانا چاہتی تھیں۔

فلورنس نائٹنگیل سے متاثر ہونے والی نرس

رضیہ نورین نے بتایا کہ ان کی بہن بھی کراچی کے ایک ہسپتال میں نرس کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ نرسنگ کے عظیم پیشے اور فلورنس نائٹنگیل کے نظریات سے متاثر رہی ہیں۔

رضیہ نورین کا کہنا ہے کہ نرسنگ محض ایک ملازمت نہیں بلکہ انسانوں کی زندگیوں کی ذمہ داری ہے۔

انہوں نے نوجوان صحت کارکنوں کو بھی یہی پیغام دیا کہ وہ اپنے پیشے کو صرف روزگار کے طور پر نہ دیکھیں بلکہ مریضوں اور ان کے اہلِ خانہ کی زندگیوں میں اپنی ذمہ داری کو پوری سنجیدگی اور انسانیت کے ساتھ ادا کریں۔

بچائے گئے بچے کے خاندان سے رابطہ نہیں کیا

رضیہ نورین نے بتایا کہ انہوں نے اس بچے کے خاندان سے خود رابطہ نہیں کیا جسے وہ جلتی ہوئی نرسری سے نکالنے میں کامیاب ہوئی تھیں۔

ان کے مطابق انہوں نے یہ کام تعریف، شہرت یا شکریہ وصول کرنے کے لیے نہیں کیا تھا۔

ان کے نزدیک ایک نرس کے طور پر یہ ان کی ذمہ داری تھی۔

تاہم ان کی خواہش ہے کہ ایک دن بچائے گئے بچے کا خاندان خود جان لے کہ اس مشکل لمحے میں ان کے بچے کو کس نے آگ کے شعلوں سے نکالا تھا۔

مسکراتے ہوئے رضیہ نورین نے کہا، "انہیں خود ہی پتا چل جائے گا کہ آصفہ کے بچے کی ایک اور ماں ہے اور وہ مس رضیہ نورین ہے۔”

بہادری، فرض اور ممتا کی ایک غیر معمولی داستان

پمز کی نرسری میں ہونے والا یہ سانحہ جہاں ہسپتالوں کے حفاظتی انتظامات، فائر سیفٹی سسٹمز اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی صلاحیت پر اہم سوالات اٹھا رہا ہے، وہیں رضیہ نورین کی کہانی انسانی ہمدردی اور پیشہ ورانہ فرض شناسی کی ایک غیر معمولی مثال بن کر سامنے آئی ہے۔

چند سیکنڈ کے اندر انہیں اپنی زندگی اور نرسری میں موجود کمزور بچوں کی زندگیوں میں سے انتخاب کرنا تھا۔

انہوں نے خود کو نہیں، بچوں کو منتخب کیا۔

وہ تمام بچوں کو نہیں بچا سکیں، لیکن شدید آگ، دھوئیں اور خطرے کے باوجود ایک بچے کو محفوظ مقام تک پہنچانے کے لیے انہوں نے اپنی جان کو خطرے میں ڈال دیا۔

ان کے لیے یہ بہادری نہیں بلکہ ماں ہونے کا فطری احساس تھا۔

اور شاید یہی وجہ ہے کہ ایک کروڑ روپے کے انعام اور حکومتی اعزاز کے باوجود رضیہ نورین کی سب سے بڑی خواہش کسی تعریف یا مالی انعام سے وابستہ نہیں، بلکہ صرف اس احساس سے جڑی ہے کہ جس بچے کو وہ شعلوں سے نکال کر لائیں، وہ زندہ رہے، بڑا ہو اور ایک دن جان سکے کہ اس کی زندگی بچانے کے لیے ایک نرس نے اپنی جان کی پروا کیے بغیر آگ کے اندر قدم رکھا تھا۔

رضیہ نورین کے الفاظ میں، "وہ صرف دوسرے لوگوں کے بچے نہیں تھے۔ وہ ہمارے سپرد کیے گئے بچے تھے۔”

اور یہی احساسِ ذمہ داری شاید اس خوفناک سانحے کے درمیان انسانیت اور امید کی سب سے روشن تصویر بن کر سامنے آیا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button