بین الاقوامیتازہ ترین

چینی نیپالی سرحد پر تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 1,273 تک پہنچ گئیں

اس بات پر بھی گفتگو جاری ہے کہ چین کی سرحد کے قریب شدید متاثرہ اور زمینی راستوں سے کٹ جانے والے علاقوں تک امدادی سامان کس طرح جلد از جلد پہنچایا جائے۔

چند روز قبل چین اور نیپال کی سرحد پر آنے والے تباہ کن سیلاب میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد بڑھ کر 1,273 ہو گئی ہے جبکہ دونوں ممالک میں مجموعی طور پر 4,757 افراد اب بھی لاپتا ہیں۔ یہ قدرتی آفت 26 اگست کو ہمالیائی خطے میں آئی تھی اور امدادی کارروائیاں اب بھی بڑے پیمانے پر جاری ہیں۔
نیپال کے ڈیزاسٹر مینجمنٹ حکام کے مطابق ملک میں اب تک 1,252 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ 4,216 افراد لاپتا ہیں۔ چین کے سرکاری میڈیا کے مطابق تبت میں 21 افراد ہلاک اور 541 لاپتا ہیں۔
لاپتا افراد میں 30سے زیادہ ممالک کے تقریباً 600 غیر ملکی شہری بھی شامل ہیں۔ ان میں بھارتی شہریوں کی تعداد نمایاں ہے جبکہ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق 75 امریکی شہریوں کا بھی اب تک کوئی سراغ نہیں مل سکا۔
سیلاب نے پہاڑی علاقوں میں بڑے پیمانے پر تباہی مچاتے ہوئے سڑکیں، پل اور دوسری بنیادی شہری سہولیات اور تنصیبات تباہ کر دی ہیں، جس کے باعث کئی متاثرہ علاقوں تک امداد پہنچانا انتہائی مشکل ہو گیا ہے۔
اقوام متحدہ اور دیگر امدادی ادارے اب روایتی ذرائع کے ساتھ ہیلی کاپٹروں، کارگو ڈرونز اور حتیٰ کہ انسانی پورٹرز کے ذریعے امداد پہنچانے پر غور کر رہے ہیں۔ نیپال کے پہاڑی علاقوں میں پورٹرز طویل عرصے سے دشوار گزار راستوں پر بھاری سامان منتقل کرنے میں اہم کردار ادا کرتے آئے ہیں۔
نیپال میں اقوام متحدہ کی ریزیڈنٹ کوآرڈینیٹر لیلا پیٹرز یحییٰ کے مطابق حکومت کے ساتھ اس بات پر بھی گفتگو جاری ہے کہ چین کی سرحد کے قریب شدید متاثرہ اور زمینی راستوں سے کٹ جانے والے علاقوں تک امدادی سامان کس طرح جلد از جلد پہنچایا جائے۔
دوسری جانب نیپالی فوج، مقامی امدادی ٹیمیں اور غیر ملکی ماہرین ہائیڈرو پاور منصوبوں کی متعدد سرنگوں میں ممکنہ طور پر پھنسے افراد کی تلاش بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔
فوج کے مطابق سرنگوں میں کھدائی کرنے والی بھاری مشینری اور دیگر آلات استعمال کیے جا رہے ہیں تاکہ ملبہ ہٹایا جا سکے اور دیکھا جا سکے کہ آیا وہاں اب بھی کوئی شخص زندہ موجود ہے۔
26 اگست کی اس تباہی کے ایک ہفتے سے زیادہ وقت گزرنے کے باوجود ہزاروں افراد کا لاپتا ہونا اس بحران کو مزید سنگین بنا رہا ہے، جبکہ تباہ شدہ انفراسٹرکچر امدادی اور سرچ آپریشنز کے لیے سب سے بڑی رکاوٹوں میں سے ایک بنا ہوا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button