یورپتازہ ترین

جرمنی کا یوکرین کے لیے مزید 250 ملین یورو امداد کا اعلان، توانائی کے نظام کی بحالی کے لیے بڑا قدم

ان کے مطابق یوکرین کو توانائی کے نظام کے تحفظ اور تباہ شدہ انفراسٹرکچر کی تعمیر نو میں جرمنی کی حمایت جاری رہے گی۔

جواد احمد-ادارت

برلن/کییف — جرمنی نے روسی حملوں سے شدید متاثرہ یوکرین کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کی فوری مرمت، بحالی اور تحفظ کے لیے مزید 250 ملین یورو فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ برلن کے مطابق اضافی مالی معاونت کا بنیادی مقصد روسی حملوں کے باوجود یوکرینی شہریوں کے لیے بجلی اور ہیٹنگ کی فراہمی کو ممکنہ حد تک برقرار رکھنا اور آئندہ موسمِ سرما کے دوران توانائی کے بحران کو مزید سنگین ہونے سے روکنا ہے۔

جرمن وزارت اقتصادیات کے مطابق یوکرین کا توانائی کا شعبہ جنگ کے دوران روسی حملوں کا ایک اہم ہدف بنا ہوا ہے، جس کے باعث بجلی گھروں، پاور گرڈ، ٹرانسمیشن لائنوں اور دیگر اہم تنصیبات کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے۔

جرمنی کا کہنا ہے کہ نئی امداد کے ذریعے نہ صرف تباہ شدہ توانائی کے انفراسٹرکچر کی مرمت کی جائے گی بلکہ ایسے آلات اور نظام بھی فراہم کیے جائیں گے جو روسی حملوں کے بعد بجلی کی فراہمی کو تیزی سے بحال کرنے میں مدد دے سکیں۔

توانائی کا شعبہ جنگ کا اہم محاذ ہے، جرمن وزیر اقتصادیات

جرمن وزیر اقتصادیات کاتھرینا رائشے نے کہا ہے کہ توانائی کی فراہمی روس اور یوکرین کے درمیان جنگ میں بدستور ایک اہم محاذ کی حیثیت رکھتی ہے۔

ان کے مطابق یوکرین کو توانائی کے نظام کے تحفظ اور تباہ شدہ انفراسٹرکچر کی تعمیر نو میں جرمنی کی حمایت جاری رہے گی۔

جرمن وزیر نے دیگر بین الاقوامی شراکت داروں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ یوکرین کے توانائی کے شعبے کی مدد کے لیے مزید تعاون فراہم کریں، تاکہ روسی حملوں کے باوجود ملک میں بجلی اور ہیٹنگ کی بنیادی سہولیات برقرار رکھی جاسکیں۔

برلن کا مؤقف ہے کہ یوکرین کے شہریوں کو موسمِ سرما کے دوران توانائی کی بنیادی ضروریات سے محروم ہونے سے بچانا انسانی اور سیاسی دونوں اعتبار سے اہم ہے۔

روسی حملوں سے یوکرین کا توانائی نظام شدید متاثر

روس نے جنگ کے دوران متعدد مرتبہ یوکرین کے بجلی گھروں، پاور گرڈ، ٹرانسمیشن نیٹ ورک اور دیگر توانائی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔

ان حملوں کے نتیجے میں یوکرین کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو بارہا شدید نقصان پہنچا اور ملک کے مختلف علاقوں میں بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی۔

یوکرین کے لیے مسئلہ صرف بجلی کی پیداوار تک محدود نہیں بلکہ بجلی کی ترسیل اور تقسیم کا نظام بھی مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔

کسی بڑے پاور اسٹیشن یا گرڈ تنصیب کو نقصان پہنچنے کی صورت میں صرف ایک علاقے میں نہیں بلکہ کئی شہروں اور صنعتی علاقوں میں بجلی کی فراہمی متاثر ہوسکتی ہے۔

اسی وجہ سے یوکرین کے لیے توانائی کے شعبے کی بحالی جنگ کے دوران سب سے اہم تعمیر نو کے منصوبوں میں شامل ہوگئی ہے۔

گزشتہ موسمِ سرما کا تجربہ

یوکرین گزشتہ موسمِ سرما میں بھی توانائی کے شدید بحران سے دوچار رہا۔

دارالحکومت کییف سمیت مختلف علاقوں میں لاکھوں شہریوں کو طویل عرصے تک بجلی اور ہیٹنگ کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

سخت سرد موسم میں بجلی کی طویل بندش کا مطلب صرف گھروں میں روشنی کا خاتمہ نہیں بلکہ ہیٹنگ سسٹمز، پانی کی فراہمی، ہسپتالوں، اسکولوں، ٹرانسپورٹ اور دیگر بنیادی خدمات کے لیے بھی سنگین مشکلات پیدا ہونا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ یوکرینی حکومت اور اس کے بین الاقوامی اتحادی آئندہ موسمِ سرما سے قبل توانائی کے نظام کو زیادہ سے زیادہ مضبوط بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

250 ملین یورو کی تازہ امداد کیوں اہم ہے؟

جرمنی کی جانب سے اعلان کردہ 250 ملین یورو کی نئی امداد اس لیے اہم سمجھی جا رہی ہے کہ روسی حملے ابھی بھی یوکرین کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔

جنگ کے دوران توانائی کے انفراسٹرکچر کی مرمت ایک عام تعمیر نو کے منصوبے سے کہیں زیادہ مشکل ہوتی ہے، کیونکہ کسی تنصیب کی مرمت مکمل ہونے سے قبل ہی اسے دوبارہ نشانہ بنائے جانے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔

اس لیے یوکرین کو ایسے آلات، متبادل نظام اور ہنگامی سہولیات کی ضرورت ہے جن کے ذریعے نقصان کے بعد بجلی کی فراہمی جلد از جلد بحال کی جاسکے۔

جرمنی کی نئی مالی معاونت اسی وسیع تر کوشش کا حصہ ہے۔

یوکرین انرجی سپورٹ فنڈ کے لیے اربوں یورو

جرمن وزارت اقتصادیات کے مطابق جنگ شروع ہونے کے بعد سے بین الاقوامی عطیہ دہندگان نے یوکرین انرجی سپورٹ فنڈ کے لیے تقریباً 2.4 ارب یورو فراہم کیے ہیں۔

اس فنڈ کا مقصد یوکرین کے توانائی کے نظام کو ہنگامی بنیادوں پر ضروری سامان اور مالی وسائل فراہم کرنا ہے۔

جنگ کے دوران بجلی کی پیداوار اور ترسیل کے نظام کو ہونے والے نقصانات کے باعث یوکرین کو مسلسل نئے آلات اور مرمتی سامان کی ضرورت پڑتی ہے۔

بین الاقوامی مالی معاونت اسی ضرورت کو پورا کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

جرمنی فنڈ کا سب سے بڑا مالی معاون

جرمن حکومت کے مطابق برلن اب تک تقریباً 810 ملین یورو کی مجموعی شراکت کے ساتھ یوکرین انرجی سپورٹ فنڈ کا سب سے بڑا مالی معاون ہے۔

جرمنی کی جانب سے اس فنڈ میں مسلسل مالی تعاون یوکرین کے توانائی کے شعبے کے لیے برلن کی ترجیح کو ظاہر کرتا ہے۔

جرمن امداد یوکرین تک سرکاری ترقیاتی بینک کے ایف ڈبلیو (KfW) کے ذریعے پہنچائی جا رہی ہے۔

اس طریقہ کار کے ذریعے جرمن مالی معاونت کو توانائی کے بنیادی ڈھانچے کی فوری ضروریات، ہنگامی مرمت اور اہم آلات کی فراہمی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

جرمن کمپنیوں کا بھی اہم کردار

جرمن حکومت صرف سرکاری سطح پر امداد فراہم نہیں کر رہی بلکہ ملک کی کاروباری اور صنعتی کمپنیوں کو بھی یوکرین کے توانائی کے شعبے کی مدد میں شامل کر رہی ہے۔

جرمن وزارت اقتصادیات کے مطابق جرمن کمپنیوں کی جانب سے فراہم کیے جانے والے عطیات اور دیگر معاونت کے ذریعے اب تک تقریباً 14 لاکھ یوکرینی شہریوں کے لیے توانائی کی فراہمی بحال کی جا چکی ہے۔

یہ تعاون اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یوکرین کے توانائی کے بحران سے نمٹنے کے لیے حکومتی امداد کے ساتھ نجی شعبے کو بھی متحرک کیا جا رہا ہے۔

جرمن کمپنیوں کے پاس بجلی کی پیداوار، گرڈ ٹیکنالوجی، ٹرانسفارمرز، توانائی کی تقسیم اور صنعتی آلات کے شعبوں میں وسیع تجربہ موجود ہے، جو یوکرین کی تعمیر نو میں اہم ثابت ہوسکتا ہے۔

نجی سرمایہ کاری کو متحرک کرنے کی کوشش

جرمنی یوکرین کی تعمیر نو کے لیے صرف سرکاری امداد پر انحصار نہیں کرنا چاہتا بلکہ نجی سرمایہ کاری کو بھی متحرک کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

جنگ کے خاتمے یا شدت میں کمی کے بعد یوکرین کی تعمیر نو کے لیے بہت بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری درکار ہوگی۔

توانائی کا شعبہ اس تعمیر نو میں بنیادی حیثیت رکھے گا کیونکہ صنعتی پیداوار، کاروبار، ٹرانسپورٹ، شہری زندگی اور ڈیجیٹل معیشت سب کا انحصار قابلِ اعتماد بجلی پر ہے۔

جرمنی کی کوشش ہے کہ سرکاری معاونت کے ذریعے ایسا ماحول پیدا کیا جائے جہاں نجی کمپنیوں اور سرمایہ کاروں کو یوکرین کے توانائی اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کے لیے ترغیب مل سکے۔

روسی حملوں کے درمیان توانائی کی جنگ

یوکرین میں توانائی کا بنیادی ڈھانچہ جنگ کے دوران ایک اسٹریٹجک اہمیت رکھنے والا شعبہ بن چکا ہے۔

روس کا مؤقف رہا ہے کہ وہ یوکرین کے فوجی اور صنعتی ڈھانچے کو نشانہ بناتا ہے، جبکہ یوکرین اور اس کے اتحادیوں کا کہنا ہے کہ توانائی کی تنصیبات پر حملوں کا اثر عام شہری آبادی پر بھی پڑتا ہے۔

بجلی کی پیداوار اور ترسیل میں خلل کے نتیجے میں شہریوں کو گھروں میں سردی، پانی کی قلت اور دیگر بنیادی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

اسی لیے مغربی ممالک یوکرین کے توانائی کے نظام کو جنگی حالات میں برقرار رکھنے کے لیے مسلسل مالی اور تکنیکی مدد فراہم کر رہے ہیں۔

آئندہ سردیوں کا بڑا چیلنج

یوکرین کے لیے آئندہ موسمِ سرما سب سے اہم چیلنجز میں سے ایک ہوگا۔

شدید سردی کے دوران بجلی اور ہیٹنگ کی طلب میں نمایاں اضافہ ہوجاتا ہے۔ اگر روسی حملوں کے نتیجے میں بجلی پیدا کرنے یا منتقل کرنے کی صلاحیت کم ہوتی ہے تو ملک کے بڑے شہروں اور صنعتی مراکز پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

اسی لیے یوکرینی حکام موسمِ سرما سے پہلے بجلی گھروں، گرڈز اور دیگر اہم تنصیبات کی مرمت اور متبادل بجلی کے انتظامات پر توجہ دے رہے ہیں۔

جرمنی سمیت یورپی ممالک کا کہنا ہے کہ بروقت امداد سے یوکرین کو سردیوں کے دوران توانائی کے شدید بحران سے بچانے میں مدد مل سکتی ہے۔

توانائی کے شعبے کے لیے ہنگامی آلات

جنگ کے دوران کسی بڑے پاور اسٹیشن یا ٹرانسفارمر کے تباہ ہونے کے بعد اسے دوبارہ تعمیر کرنے میں طویل وقت لگ سکتا ہے۔

اس لیے یوکرین کے لیے فوری طور پر ایسے متبادل آلات کی فراہمی ضروری ہے جو عارضی طور پر بجلی کی فراہمی بحال کرسکیں۔

جنریٹرز، ٹرانسفارمرز، پاور گرڈ کے آلات اور دیگر ہنگامی سامان کی فراہمی یوکرین کے توانائی کے نظام کو حملوں کے بعد تیزی سے بحال کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔

جرمن اور دیگر یورپی کمپنیوں کی جانب سے اسی نوعیت کی امداد یوکرین کے لیے اہم قرار دی جا رہی ہے۔

شہری آبادی کے لیے انسانی مسئلہ

توانائی کا بحران محض اقتصادی یا تکنیکی مسئلہ نہیں بلکہ براہِ راست انسانی زندگی سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔

سردیوں میں بجلی اور ہیٹنگ کی عدم دستیابی بزرگوں، بچوں اور بیمار افراد کے لیے خاص طور پر خطرناک ہوسکتی ہے۔

ہسپتالوں کو مسلسل بجلی کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ طبی آلات، آپریشن تھیٹرز، وینٹی لیٹرز اور دیگر ضروری نظام کام کرتے رہیں۔

اسی طرح پانی کی فراہمی، سیوریج، مواصلات اور شہری انتظامیہ کے متعدد نظام بھی بجلی کے بغیر مؤثر طریقے سے کام نہیں کرسکتے۔

اس تناظر میں جرمنی کی نئی امداد کو یوکرینی شہریوں کے لیے بنیادی خدمات برقرار رکھنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

یورپ کی یوکرین کے ساتھ طویل مدتی وابستگی

جرمنی کی تازہ امداد اس بات کی بھی عکاسی کرتی ہے کہ برلن یوکرین کے لیے اپنی حمایت کو صرف فوری فوجی یا مالی مدد تک محدود نہیں رکھنا چاہتا۔

توانائی کے نظام کی تعمیر نو، صنعتی انفراسٹرکچر کی بحالی اور نجی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کی کوششیں ایک طویل مدتی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔

جرمنی یورپ کی بڑی صنعتی معیشت ہونے کے باعث یوکرین کی جنگ کے بعد تعمیر نو میں بھی اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔

برلن کا مؤقف ہے کہ یوکرین کے بنیادی ڈھانچے کو دوبارہ مضبوط بنانا اس ملک کے مستقبل کے استحکام کے لیے ضروری ہے۔

روس اور مغرب کے درمیان جاری کشمکش

یوکرین کے توانائی کے شعبے کے لیے جرمنی کی نئی امداد روس اور مغربی ممالک کے درمیان جاری وسیع تر سیاسی اور اقتصادی کشمکش کے تناظر میں بھی اہم ہے۔

روس یوکرین جنگ میں مغربی ممالک کی فوجی، مالی اور سیاسی حمایت کو تنقید کا نشانہ بناتا رہا ہے، جبکہ جرمنی اور دیگر یورپی ممالک کا کہنا ہے کہ یوکرین کی مدد اس کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے ضروری ہے۔

اس جنگ کے باعث یورپ کی توانائی پالیسی بھی بنیادی طور پر تبدیل ہوئی ہے۔

جرمنی سمیت کئی یورپی ممالک نے روسی توانائی پر اپنے انحصار کو کم کرنے کے لیے متبادل ذرائع اور سپلائی چینز کی تلاش تیز کردی ہے۔

جنگ کے بعد تعمیر نو کا سوال

جنگ ابھی جاری ہے، لیکن اس کے باوجود یوکرین کی تعمیر نو کے حوالے سے عالمی سطح پر منصوبہ بندی شروع ہوچکی ہے۔

ماہرین کے مطابق یوکرین کی تعمیر نو کے لیے سینکڑوں ارب یورو درکار ہوسکتے ہیں اور توانائی کا شعبہ اس عمل کے اہم ترین حصوں میں شامل ہوگا۔

جنگ کے دوران تباہ ہونے والے پاور پلانٹس، گرڈز، صنعتی مراکز اور رہائشی علاقوں کی بحالی ایک طویل اور مہنگا عمل ہوگا۔

جرمنی کی موجودہ حکمت عملی میں فوری امداد کے ساتھ ساتھ مستقبل کی تعمیر نو کے لیے نجی شعبے اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو شامل کرنا بھی شامل ہے۔

جرمنی کی اپیل: عالمی برادری مزید تعاون کرے

جرمن وزیر اقتصادیات نے دیگر بین الاقوامی شراکت داروں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ یوکرین کے توانائی کے نظام کی حفاظت اور بحالی کے لیے مزید تعاون کریں۔

جرمنی کا مؤقف ہے کہ ایک ملک اکیلا یوکرین کے وسیع توانائی بحران کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔

بین الاقوامی سطح پر مربوط مالی، تکنیکی اور صنعتی تعاون کی ضرورت ہے تاکہ روسی حملوں سے متاثرہ علاقوں میں بجلی کی فراہمی جلد از جلد بحال کی جاسکے۔

خصوصاً موسمِ سرما کی آمد سے قبل توانائی کے شعبے میں اضافی مدد کو انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

نتیجہ

جرمنی کی جانب سے یوکرین کے لیے مزید 250 ملین یورو کی امداد کا اعلان اس بات کی واضح علامت ہے کہ یوکرین کا توانائی کا بنیادی ڈھانچہ یورپی حمایت کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔

روس کے مسلسل حملوں کے باعث یوکرین کے پاور اسٹیشنز، بجلی کے گرڈ اور دیگر توانائی تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جبکہ گزشتہ موسمِ سرما کے دوران لاکھوں شہری بجلی اور ہیٹنگ کی مشکلات سے دوچار رہے۔

جرمنی پہلے ہی یوکرین انرجی سپورٹ فنڈ میں تقریباً 810 ملین یورو کی شراکت کے ساتھ سب سے بڑا مالی معاون ہے، جبکہ بین الاقوامی عطیہ دہندگان مجموعی طور پر تقریباً 2.4 ارب یورو فراہم کرچکے ہیں۔

جرمن کمپنیوں کی معاونت کے ذریعے بھی لاکھوں یوکرینی شہریوں کے لیے توانائی کی فراہمی بحال کرنے میں مدد ملی ہے۔

اب 250 ملین یورو کی نئی امداد کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ روسی حملوں کے باوجود یوکرین آئندہ موسمِ سرما میں اپنے شہریوں کو بجلی اور ہیٹنگ کی بنیادی سہولیات فراہم کرسکے۔

تاہم یوکرین کے سامنے چیلنج بدستور بہت بڑا ہے۔ جب تک توانائی کی تنصیبات پر حملوں کا خطرہ موجود ہے، تب تک صرف تباہ شدہ انفراسٹرکچر کی تعمیر نو کافی نہیں ہوگی۔ یوکرین کو ایسے مضبوط، لچک دار اور متبادل توانائی نظام کی ضرورت ہوگی جو حملوں کے باوجود کم سے کم رکاوٹ کے ساتھ کام کرسکے۔

جرمنی اور دیگر یورپی ممالک کی موجودہ امداد اسی طویل المدتی مقصد کی جانب ایک اہم قدم ہے، لیکن آنے والے موسمِ سرما میں اس تعاون کی اصل آزمائش اس وقت ہوگی جب یوکرین کو ایک بار پھر شدید سردی، توانائی کی بلند طلب اور روسی حملوں کے ممکنہ دباؤ کا بیک وقت سامنا کرنا پڑے گا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button