مشرق وسطیٰ

ایران نے حملہ کیا تو اسے ’’پتھر کے دور‘‘ میں واپس پہنچا دیں گے، اسرائیلی وزیر دفاع کی دھمکی

ایران نے رواں جنگ کے دوران اپریل میں یہودی تہوار پاس اوور کے موقع پر بھی اسرائیل پر حملے کیے تھے۔

اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ اسرائیل پر کسی نئے ایرانی حملے کی صورت میں تہران کو انتہائی بڑے پیمانے پر جوابی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اسرائیلی وزارت دفاع کے مطابق کاٹز نے اپنے محکمے کے ملازمین سے ملاقات کے دوران کہا کہ اگر ایران نے اسرائیل پر حملہ کیا تو اسرائیل ایران کے قومی فوجی اور شہری انفراسٹرکچر سمیت توانائی کے نظام کو بھی نشانہ بنائے گا اور ان کے الفاظ میں، اسرائیل ایران کو ’’پتھر کے دور اور تاریکی کے زمانے میں واپس پہنچا دے گا۔‘‘
کاٹز نے مزید کہا کہ ایران کی جانب سے حملہ اسرائیل کو موجودہ تمام پابندیوں اور حدود سے ’’آزاد‘‘کر دے گا۔ تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ ان پابندیوں یا حدود سے ان کی مراد کیا ہے۔
اسرائیلی وزیر دفاع کے مطابق اسرائیل ان علامات پر بھی نظر رکھے ہوئے ہے کہ ایران پر بڑھتا ہوا اقتصادی دباؤ تہران کو کسی غیر معمولی فوجی اقدام کی طرف لے جا سکتا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ معاشی مشکلات، ممکنہ عوامی بغاوت اور حکومت کے خاتمے کا خوف ایرانی قیادت کو انتہائی اقدامات پر مجبور کر سکتا ہے۔
کاٹز نے ایک روز قبل بھی خبردار کیا تھا کہ اسرائیل کو خدشہ ہے کہ ایران آنے والی یہودی مذہبی تعطیلات کے دوران حملے کی کوشش کر سکتا ہے۔ اسرائیلی نیوز ویب سائٹ وائی نیٹ کے مطابق کاٹز نے کہا کہ تہران تعطیلات کے دوران حملہ کر سکتا ہے۔
یہودیوں کے نئے سال روش ہشاناہ کا آغاز 11 ستمبر کی شام سے ہو گا جبکہ یہودی کیلنڈر کے مقدس ترین دن یوم کپور کا آغاز 20 ستمبر کی شام کو ہو گا۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ وہ اس دوران ممکنہ ایرانی کارروائی سے نمٹنے کی تیاری کر رہے ہیں۔
ایران نے رواں جنگ کے دوران اپریل میں یہودی تہوار پاس اوور کے موقع پر بھی اسرائیل پر حملے کیے تھے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی اپریل میں ایران کے خلاف اسی نوعیت کی سخت زبان استعمال کرتے ہوئے اسے ’’پتھر کے دور‘‘ میں واپس بھیجنے کی دھمکی دے چکے ہیں۔
اس قسم کے بیانات پر ایران میں شدید ردعمل سامنے آیا تھا اور خبر رساں ادارے ڈی پی اے کے مطابق ایرانی حکومت کے مخالف حلقوں سمیت متعدد ایرانیوں نے بھی ایسی زبان پر غصے اور ناراضی کا اظہار کیا تھا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button