
این ڈی آر کے ساتھ
جرمنی کی شمال مشرقی ریاست میکلن برگ فورپومرن میں ریاستی انتخابات سے دو ہفتے قبل سامنے آنے والے ایک نئے سروے کے مطابق سوشل ڈیموکریٹک پارٹی (ایس پی ڈی) نے انتہائی دائیں بازو کی جماعت الٹرنیٹیو فار جرمنی (اے ایف ڈی) کے ساتھ اپنا فرق نمایاں حد تک کم کر لیا ہے۔ تازہ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ انتخابی دوڑ مزید سخت ہو گئی ہے اور دونوں جماعتوں کے درمیان مقابلہ کاٹے کا ہو سکتا ہے۔ ایس پی ڈی نے اے ایف ڈی کی برتری محدود کر دی۔
سرکاری نشریاتی ادارے این ڈی آر کے لیے کیے گئے انفراٹیسٹ ڈی میپ سروے کے مطابق ایس پی ڈی کو 32 فیصد ووٹروں کی حمایت حاصل ہے جبکہ اے ایف ڈی 35فیصد کے ساتھ صرف تین پوائنٹس آگے ہے۔
ریاست میں انتخابات 20 ستمبر کو ہوں گے۔ یہ انتخابات پڑوسی ریاست سیکسنی انہالٹ کے انتخابات کے دو ہفتے بعد ہو رہے ہیں، جہاں اے ایف ڈی کے پہلی مرتبہ کسی جرمن ریاست میں حکومت کی قیادت کرنے کے امکانات قوی ہیں۔
تاہم میکلن برگ فورپومرن میں مختلف سرویز کے نتائج میں خاصا فرق موجود ہے۔ بدھ کو جاری ہونے والے فورسا کے ایک الگ سروے میں اے ایف ڈی کو 37 فیصد اور ایس پی ڈی کو صرف 28 فیصد حمایت حاصل تھی۔ اس لیے انتخابی مقابلے کی حتمی سمت ابھی واضح نہیں۔
ریاست کی موجودہ وزیر اعلیٰ مانوئیلا شویزگ اپنی حکومت برقرار رکھنے کے لیے بھرپور طریقے سے انتخابی مہم چلا رہی ہیں۔
تازہ سروے میں ڈی لنکے لفٹ پارٹی 11 فیصد کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے، جبکہ چانسلر میرس کی کرسچن ڈیموکریٹک یونین، سی ڈی یو، صرف آٹھ فیصد پر ہے۔ اگر یہی نتیجہ انتخابات میں سامنے آیا تو یہ جرمنی میں کسی بھی ریاستی انتخاب میں سی ڈی یو کی اب تک کی بدترین کارکردگی ہوگی۔
گرین پارٹی پانچ فیصد پر ہے، جو ریاستی پارلیمان میں نشست حاصل کرنے کے لیے درکار کم از کم ووٹوں کی شرح ہے۔ جبکہ سارہ واگن کنیشٹ الائنس، بی ایس ڈبلیو، چار فیصد کے ساتھ اس حد سے نیچے دکھائی دے رہی ہے۔
سروے کے مطابق شویزیگ کی موجودہ ایس پی ڈی اور ڈی لنکے کی مخلوط حکومت کو دوبارہ اکثریت ملنے کا امکان نہیں۔
اب نظریں میکلن برگ فورپومرن پر ہیں، جہاں یہ واضح ہو سکتا ہے کہ مشرقی جرمنی میں اے ایف ڈی کی بڑھتی ہوئی حمایت سیاسی منظرنامے کو کس حد تک تبدیل کر سکتی ہے۔



