
125 سالہ قدیم غیر فعال مندر موسلادھار بارشوں سے متاثر، دانستہ مسماری کی افواہیں بے بنیاد: متروکہ وقف املاک بورڈ
بعض ملک دشمن عناصر غلط اطلاعات کے ذریعے پاکستان میں اقلیتوں کے مذہبی مقامات اور اقلیتوں کے حوالے سے منفی تاثر پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
سید عاطف ندیم-ادارت
متروکہ وقف املاک بورڈ کے سیکرٹری و ایڈیشنل سیکرٹری شرائنز ناصر مشتاق نے صوبائی وزیر اقلیتی امور سردار رمیش سنگھ اروڑہ اور ڈپٹی کمشنر ناروال طیب خان کے ہمراہ ناروال کے نواحی علاقے سراج گاؤں میں واقع تقریباً 125 سالہ قدیم مندر کا دورہ کیا اور موقع پر موجود شواہد اور عمارت کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا۔
ناصر مشتاق نے واضح کیا کہ مندر کو کسی فرد یا ادارے کی جانب سے دانستہ طور پر نقصان پہنچانے یا گرانے کے شواہد سامنے نہیں آئے۔ ان کے مطابق حالیہ موسلادھار اور طوفانی بارشوں کے باعث قدیم اور خستہ حال مندر کی عمارت کا ایک حصہ منہدم ہوا، جسے انسانی کارروائی قرار دینا حقائق کے منافی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ یہ ایک غیر فعال مندر ہے جہاں اس وقت کوئی مذہبی رسومات ادا نہیں کی جاتیں، جبکہ سراج گاؤں یا اس کے قریبی علاقوں میں ہندو مذہب سے تعلق رکھنے والی کوئی فیملی بھی موجود نہیں۔
سیکرٹری بورڈ نے کہا کہ غیر فعال ہونے کے باوجود مندر تاریخی اور ثقافتی اہمیت رکھتا ہے اور اس کے تحفظ کو نظرانداز نہیں کیا جائے گا۔ متروکہ وقف املاک بورڈ پنجاب حکومت کے تعاون سے مندر کی بحالی، مرمت اور تزئین و آرائش کے لیے جلد باقاعدہ کام شروع کرے گا۔
ناصر مشتاق نے کہا کہ واقعے کو دانستہ مسماری قرار دے کر افواہیں پھیلانا درست نہیں۔ ان کے مطابق بعض ملک دشمن عناصر غلط اطلاعات کے ذریعے پاکستان میں اقلیتوں کے مذہبی مقامات اور اقلیتوں کے حوالے سے منفی تاثر پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ متروکہ وقف املاک بورڈ اقلیتوں کے مذہبی مقامات، تاریخی عمارات اور ثقافتی ورثے کے تحفظ و دیکھ بھال کے لیے کوشاں ہے۔ فعال مذہبی عبادت گاہوں میں زائرین اور عبادت گزاروں کی حفاظت کے لیے مؤثر سکیورٹی انتظامات بھی یقینی بنائے جاتے ہیں



