کھیلتازہ ترین

ہسپانوی فٹبال فیڈریشن کا خواتین کھلاڑیوں کے انڈے منجمد کرانے کے اخراجات اٹھانے پر غور

ماں بننے اور پیشہ ورانہ کھیل کے درمیان انتخاب سے بچانے کی کوشش، ماہرین نے سہولت کو حق اور اختیار کے طور پر رکھنے پر زور دے دیا

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service

میڈرڈ: ہسپانوی فٹبال فیڈریشن خواتین کھلاڑیوں کو پیشہ ورانہ کھیل کے ساتھ مستقبل میں ماں بننے کے امکانات برقرار رکھنے میں مدد دینے کے لیے ایک اہم پالیسی پر غور کر رہی ہے، جس کے تحت خواتین فٹبالرز کے انڈے منجمد کرانے کے طبی اخراجات ادا کیے جانے کی تجویز زیرِ غور ہے۔

اس ممکنہ اقدام کا مقصد ان خواتین کھلاڑیوں کو ایک اضافی طبی سہولت فراہم کرنا ہے جو اپنے پیشہ ورانہ کھیل کے کیریئر کے دوران حمل کو مؤخر کرنا چاہتی ہیں، تاہم اس پالیسی نے طبی، اخلاقی، سماجی اور کھلاڑیوں کی فلاح و بہبود سے متعلق متعدد سوالات بھی اٹھا دیے ہیں۔

یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خواتین کی فٹبال دنیا بھر میں تیزی سے پیشہ ورانہ ترقی کر رہی ہے اور کھلاڑیوں کے لیے زچگی، کیریئر اور جسمانی صحت کے درمیان توازن کا سوال کھیلوں کی پالیسی کا اہم حصہ بنتا جا رہا ہے۔

خواتین کھلاڑیوں کے لیے کیریئر اور زچگی کا چیلنج

خواتین کے پیشہ ورانہ کھیلوں میں ایک عرصے سے یہ مسئلہ زیرِ بحث رہا ہے کہ کھلاڑی اپنے محدود اور نسبتاً مختصر پیشہ ورانہ کیریئر کے دوران ماں بننے کے فیصلے کو کس طرح عملی شکل دے سکتی ہیں۔

سابق ہسپانوی فٹبالر لارائیتس لوکاس کے مطابق ایک خاتون کھلاڑی کا پیشہ ورانہ کیریئر تقریباً ایک دہائی تک جاری رہ سکتا ہے اور اعلیٰ سطح پر مقابلہ کرنے والی کھلاڑی کے لیے حمل اور کھیل کو ایک ساتھ جاری رکھنا آسان نہیں ہوتا۔

ان کا کہنا ہے کہ جب کھلاڑی اعلیٰ سطح کے مقابلوں میں حصہ لے رہی ہو تو اس کی تمام توجہ موجودہ مقابلوں اور کارکردگی پر مرکوز ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے بہت سی خواتین کھلاڑی ماضی میں ماں بننے کے فیصلے کو اپنے کھیل کے کیریئر کے بعد تک مؤخر کرنے پر مجبور رہی ہیں۔

چند برس قبل تک خواتین فٹبالرز میں کیریئر کے دوران حاملہ ہونے والی کھلاڑیوں کی تعداد انتہائی کم بتائی جاتی تھی اور بعض اندازوں کے مطابق یہ شرح تقریباً دو فیصد کے قریب تھی۔ اس صورتحال کے نتیجے میں متعدد خواتین کو ماں بننے اور کھیل جاری رکھنے میں سے ایک کا انتخاب کرنا پڑتا تھا۔

تاہم خواتین کی فٹبال میں بڑھتے ہوئے مالی وسائل، بہتر معاہدوں، طویل کیریئر اور کھیلوں میں خواتین کی بڑھتی ہوئی نمائندگی کے ساتھ اب کلبوں اور فٹبال تنظیموں پر یہ سوال بھی اٹھ رہا ہے کہ کھلاڑیوں کو زچگی کے دوران اور اس کے بعد کس طرح بہتر معاونت فراہم کی جائے۔

زچگی سے متعلق فٹبال پالیسیوں میں تبدیلی

خواتین فٹبالرز کے لیے زچگی کے حقوق اور سہولتوں سے متعلق لازمی ضوابط پہلی مرتبہ 2021 میں متعارف کرائے گئے تھے، جبکہ 2024 میں ان پالیسیوں کو مزید مضبوط کیا گیا۔

ان تبدیلیوں کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ خواتین کھلاڑیوں کو حاملہ ہونے کی صورت میں اپنے پیشہ ورانہ کیریئر سے محروم نہ ہونا پڑے اور انہیں زچگی کے بعد دوبارہ کھیل میں واپسی کے لیے مناسب تحفظ حاصل ہو۔

اس کے باوجود ان کھلاڑیوں کے لیے ایک الگ سوال موجود ہے جو فی الحال ماں نہیں بننا چاہتیں لیکن مستقبل میں اولاد کی خواہش رکھتی ہیں۔ اسی تناظر میں انڈے منجمد کرانے کی سہولت کو ایک ممکنہ اضافی آپشن کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

الیکسیا پوتیاس سمیت کھلاڑیوں کا کردار

اس معاملے میں ممتاز ہسپانوی فٹبالر اور بارسلونا کی اسٹار کھلاڑی الیکسیا پوتیاس سمیت بعض کھلاڑیوں کی جانب سے بھی فٹبال حکام کی توجہ اس مسئلے کی طرف مبذول کرانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

پوتیاس 14 اپریل 2026 کو لندن کے ویمبلے اسٹیڈیم میں اسپین اور انگلینڈ کے درمیان فیفا ویمنز ورلڈ کپ 2027 کوالیفائر کے گروپ 3 کے میچ میں بھی ایکشن میں نظر آئیں۔

خواتین فٹبال میں نمایاں مقام رکھنے والی کھلاڑیوں کی جانب سے اس نوعیت کے معاملات کو اجاگر کیے جانے سے یہ بحث مزید اہم ہوئی ہے کہ اعلیٰ سطح کی خواتین ایتھلیٹس کو اپنے کھیل کے کیریئر اور ذاتی زندگی کے بارے میں فیصلے کرنے کے لیے کس نوعیت کی سہولتیں فراہم کی جانی چاہئیں۔

اگر ہسپانوی فٹبال فیڈریشن یہ پالیسی نافذ کرتی ہے تو وہ ایسی قومی سطح کی فٹبال تنظیموں میں شامل ہو سکتی ہے جو خواتین کھلاڑیوں کے لیے معاون تولیدی سہولتوں کے اخراجات برداشت کرنے کا باقاعدہ نظام متعارف کرائیں گی۔

انگلینڈ اور امریکا میں بھی اقدامات

خواتین فٹبالرز کے لیے انڈے منجمد کرانے کے اخراجات برداشت کرنے کا معاملہ صرف اسپین تک محدود نہیں رہا۔

امریکی کلب ریسنگ لوئس ویل نے 2021 میں اپنی خواتین کھلاڑیوں کے لیے اس نوعیت کے اخراجات برداشت کرنے والا پہلا کلب بننے کا اعلان کیا تھا۔

اسی طرح انگلش کلب چیلسی نے بھی رواں ماہ اعلان کیا ہے کہ جو کھلاڑی اپنے انڈے منجمد کرانا چاہیں گی، ان کے اخراجات کلب کی جانب سے ادا کیے جائیں گے۔

ان اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ خواتین کے کھیل میں کھلاڑیوں کی طویل مدتی فلاح و بہبود، زچگی اور تولیدی صحت سے متعلق سہولتیں بتدریج کھیلوں کی تنظیموں کے ایجنڈے میں شامل ہو رہی ہیں۔

سابق فٹبالر کا ذاتی تجربہ

سابق ہسپانوی فٹبالر لارائیتس لوکاس کا کہنا ہے کہ جب وہ خود پروفیشنل فٹبال کھیل رہی تھیں تو اس وقت ایسی سہولتیں عام طور پر دستیاب نہیں تھیں۔

تاہم بعد میں وہ خود بھی انڈے منجمد کرانے کے طبی عمل سے گزر چکی ہیں۔ ان کے مطابق یہ عمل کسی پیشہ ور کھلاڑی کے لیے آسان نہیں ہوتا اور اسے میچوں کے شیڈول کے ساتھ ہم آہنگ کرنا خاصا مشکل ہو سکتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ کھلاڑی بھرپور انداز میں مقابلہ جاری رکھنے کی کوشش کرتی ہے، لیکن انڈے نکالنے کے عمل سے پہلے، دورانِ عمل اور اس کے بعد کا وقت جسمانی اور ذہنی طور پر آسان نہیں ہوتا۔

ان کے مطابق اس پورے مرحلے کے دوران جسمانی دباؤ کے ساتھ ذہنی دباؤ بھی برقرار رہ سکتا ہے اور اس کا اثر کھلاڑی کی کھیلوں کی کارکردگی پر پڑنے کا امکان موجود ہوتا ہے۔

انڈے منجمد کرانے کا طبی عمل کیا ہے؟

ماہرین کے مطابق انڈے منجمد کرانے کا طبی عمل ہر خاتون کے لیے یکساں نہیں ہوتا، تاہم عمومی طور پر اس میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں۔

اس عمل کے دوران ہارمونز کے ذریعے بیضہ دانی میں ایک سے زیادہ انڈوں کی افزائش کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس مقصد کے لیے عموماً روزانہ ہارمون انجیکشن دیے جاتے ہیں۔

اس کے بعد طبی طریقہ کار کے ذریعے تیار ہونے والے انڈے نکالے جاتے ہیں اور انہیں مستقبل میں استعمال کے لیے منجمد کر دیا جاتا ہے۔ انڈوں کو نکالنے کا عمل طبی نگرانی میں کیا جاتا ہے اور اس کے لیے بے ہوشی یا نیم بے ہوشی کا طریقہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔

بعد میں اگر خاتون مستقبل میں ان منجمد انڈوں کو استعمال کرنا چاہے تو انہیں پگھلا کر اسپرم کے ذریعے بارآور کیا جا سکتا ہے، جس کے بعد جنین تیار کیے جاتے ہیں۔

تاہم ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ انڈے منجمد کرانا مستقبل میں حمل کی کامیابی کی ضمانت نہیں ہے اور اس کے نتائج عمر، صحت، انڈوں کی تعداد اور دیگر طبی عوامل پر منحصر ہو سکتے ہیں۔

کیا سہولت خود ایک نیا دباؤ بن سکتی ہے؟

ممکنہ پالیسی کے حق میں سب سے بڑا مؤقف یہ ہے کہ اس سے خواتین کھلاڑیوں کو مستقبل کے لیے ایک اضافی آپشن مل سکتا ہے۔ تاہم ماہرین نے اس کے ممکنہ منفی پہلوؤں کی جانب بھی توجہ دلائی ہے۔

ماہر امراض نسواں لامیہ زفرانی کے مطابق لندن میں ان کے کلینک میں ایسے کھلاڑیوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے جو انڈے منجمد کرانے کے طریقہ کار کے بارے میں معلومات حاصل کرنا چاہتی ہیں۔

وہ اس رجحان کو خواتین کھلاڑیوں میں بڑھتی ہوئی دلچسپی کا عکاس قرار دیتی ہیں، تاہم ان کے مطابق اس پالیسی کے ساتھ ایک اہم اخلاقی سوال بھی وابستہ ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر کسی فٹبال تنظیم کی جانب سے انڈے منجمد کرانے کی سہولت فراہم کی جاتی ہے تو یہ دیکھنا ضروری ہوگا کہ کہیں اس اقدام سے بالواسطہ طور پر یہ پیغام تو نہیں جا رہا کہ خواتین کھلاڑیوں کو اپنے کھیل کے دوران حاملہ نہیں ہونا چاہیے۔

ان کے مطابق کھلاڑیوں کو سہولت فراہم کرنا مثبت قدم ہو سکتا ہے، لیکن اسے کسی بھی صورت میں ایسی پالیسی نہیں بننا چاہیے جو خواتین کو زچگی مؤخر کرنے پر مجبور یا مائل کرے۔

FIFPRO کی جانب سے بھی تشویش

عالمی فٹبالرز یونین FIFPRO کی قانونی ڈائریکٹر الیگزینڈرا گومیز نے بھی اسی نوعیت کے خدشات کا اظہار کیا ہے۔

گومیز زچگی سے متعلق فیفا کی پالیسیوں کی تیاری میں بھی شامل رہی ہیں۔ ان کے مطابق FIFPRO انڈے منجمد کرانے سمیت معاون تولیدی طریقوں سے متعلق پالیسیوں پر کام کر رہی ہے۔

تاہم ان کے نزدیک سب سے اہم اصول یہ ہے کہ کھلاڑیوں کو اپنے تمام اختیارات، طبی طریقہ کار اور ممکنہ نتائج کے بارے میں مکمل معلومات فراہم کی جائیں۔

FIFPRO کا مؤقف ہے کہ انڈے منجمد کرانے کی سہولت کو ایسی پالیسی کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے جس سے کھلاڑیوں پر اپنے کیریئر کے دوران حاملہ نہ ہونے کا دباؤ پیدا ہو۔

گومیز کے مطابق ماں بننے کا فیصلہ مکمل طور پر کھلاڑی کا ذاتی حق ہے اور کسی خاتون کو اس فیصلے کی وجہ سے اپنے پیشہ ورانہ کیریئر میں سزا یا امتیازی سلوک کا سامنا نہیں کرنا چاہیے۔

طبی اخراجات بھی ایک بڑی رکاوٹ

ماہرین کے مطابق انڈے منجمد کرانے کا ایک اہم مسئلہ اس کی لاگت بھی ہے۔

اس طبی طریقہ کار کے اخراجات مختلف ممالک، کلینکس اور طبی ضروریات کے مطابق مختلف ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ابتدائی علاج، ادویات، ہارمونل انجیکشن، انڈے نکالنے کا عمل، انہیں محفوظ رکھنے کی فیس اور مستقبل میں ان کے استعمال کے اخراجات بھی مجموعی لاگت کو بڑھا سکتے ہیں۔

FIFPRO کی قانونی ڈائریکٹر الیگزینڈرا گومیز کے مطابق دنیا بھر میں بیشتر خواتین کھلاڑی محض اخراجات کی وجہ سے اس طرح کی معاون تولیدی سہولتوں تک رسائی حاصل نہیں کر پائیں گی۔

یہ مسئلہ خاص طور پر ان ممالک میں زیادہ اہم ہو سکتا ہے جہاں خواتین فٹبالرز کی آمدنی نسبتاً کم ہے یا جہاں خواتین کے پیشہ ورانہ کھیلوں کے لیے مالی وسائل محدود ہیں۔

دنیا بھر کے لیے ایک ہی پالیسی ممکن نہیں

ڈاکٹر لامیہ زفرانی کے مطابق انڈے منجمد کرانے کے طبی اخراجات، علاج اور صحت یابی کے مراحل مختلف ممالک میں مختلف ہوتے ہیں۔

اسی لیے ایک ایسا عالمی ماڈل وضع کرنا آسان نہیں جسے ہر ملک اور ہر فٹبال لیگ میں یکساں طور پر نافذ کیا جا سکے۔

خواتین کی فٹبال میں مختلف ممالک کے درمیان پیشہ ورانہ معیار، کھلاڑیوں کی آمدنی، طبی سہولتوں اور کلبوں کے مالی وسائل میں نمایاں فرق موجود ہے۔ اس لیے ایک امیر ملک یا بڑے کلب کے لیے قابلِ عمل پالیسی ممکن ہے کہ کم وسائل رکھنے والے ملک یا کلب کے لیے قابلِ عمل نہ ہو۔

ماہرین کے مطابق کسی بھی پالیسی میں مقامی طبی نظام، کھلاڑیوں کے معاہدوں، مالی وسائل اور صحت سے متعلق ضوابط کو مدنظر رکھنا ضروری ہوگا۔

اجتماعی مذاکرات کو اہم قرار

FIFPRO کی جانب سے اس مسئلے کے حل کے لیے قومی سطح پر اجتماعی مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔

اس مؤقف کے مطابق فٹبال فیڈریشنز، کلبوں، کھلاڑیوں کی یونینوں، طبی ماہرین اور دیگر متعلقہ فریقوں کے درمیان مذاکرات کے ذریعے ایسی پالیسی تشکیل دی جانی چاہیے جو خواتین کھلاڑیوں کو حقیقی انتخاب فراہم کرے۔

اس میں صرف انڈے منجمد کرانے کے اخراجات برداشت کرنا کافی نہیں ہوگا بلکہ زچگی کے دوران ملازمت اور معاہدے کا تحفظ، کھیل میں واپسی، طبی معاونت اور کھلاڑیوں کی ذہنی و جسمانی صحت جیسے پہلو بھی اہم رہیں گے۔

بنیادی مقصد کھلاڑی کا اختیار ہونا چاہیے

خواتین فٹبال میں زچگی اور کیریئر کے درمیان توازن کا مسئلہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کھیلوں کی دنیا میں خواتین کی پیشہ ورانہ ترقی کے ساتھ ان کی ذاتی اور خاندانی ضروریات کو بھی پالیسی کا حصہ بنانا ہوگا۔

انڈے منجمد کرانے کی سہولت ان خواتین کھلاڑیوں کے لیے ایک اضافی آپشن فراہم کر سکتی ہے جو مستقبل میں ماں بننے کی خواہش رکھتی ہیں لیکن فی الحال اپنے کھیل کے کیریئر کو ترجیح دینا چاہتی ہیں۔

تاہم ماہرین اور کھلاڑیوں کی تنظیموں کے مطابق اس سہولت کو لازمی عمل، کیریئر کی شرط یا حمل مؤخر کرنے کے دباؤ میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔

حتمی طور پر پالیسی کا مرکز کھلاڑی کی آزادی، مکمل طبی معلومات اور باخبر فیصلہ ہونا چاہیے۔ خواتین کھلاڑیوں کو یہ اختیار حاصل ہونا چاہیے کہ وہ اپنے کیریئر، زچگی اور صحت سے متعلق فیصلے اپنی ترجیحات اور طبی مشورے کی بنیاد پر خود کریں۔

ہسپانوی فٹبال فیڈریشن کی زیرِ غور تجویز اسی وسیع تر بحث کا حصہ ہے کہ جدید پیشہ ورانہ کھیل میں خواتین کو صرف بہتر کارکردگی کے لیے نہیں بلکہ ایک مکمل اور متوازن پیشہ ورانہ زندگی کے لیے بھی کس نوعیت کی معاونت فراہم کی جائے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button