
مودی کا گلوبل ساؤتھ میں تعاون مضبوط بنانے پر زور، برکس ممالک کا وباؤں سے نمٹنے کے لیے ابتدائی انتباہی نظام پر اتفاق
برکس سربراہی اجلاس میں ٹیکنالوجی اور اہم معدنیات کو ہتھیار بنانے کے رجحان پر تشویش، تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری پر زور
نئی دہلی: بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے دنیا میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی و سیاسی کشیدگی، سپلائی چین میں پیدا ہونے والے خلل اور موسمیاتی بحران کے اثرات سے نمٹنے کے لیے گلوبل ساؤتھ کے ممالک کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا ہے۔
نئی دہلی میں جاری برکس سربراہی اجلاس کے دوسرے روز خطاب کرتے ہوئے نریندر مودی نے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں ممالک کے درمیان باہمی تعاون کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ ان کے مطابق دنیا کو بیک وقت جغرافیائی سیاسی تنازعات، معاشی غیر یقینی، موسمیاتی تبدیلی، قدرتی آفات، وباؤں اور سپلائی چین میں رکاوٹوں جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔
مودی نے خبردار کیا کہ ٹیکنالوجی اور اہم معدنی وسائل کو سیاسی یا تزویراتی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کا رجحان عالمی ترقی اور مشترکہ خوشحالی کی راہ میں رکاوٹ پیدا کر سکتا ہے۔
عالمی بحران کسی ایک خطے تک محدود نہیں رہتے
برکس اجلاس سے خطاب میں بھارتی وزیراعظم نے اس امر پر زور دیا کہ آج کی باہم منسلک دنیا میں کسی ایک ملک یا خطے کو درپیش بحران بالآخر پوری عالمی معیشت اور معاشرے کو متاثر کر سکتا ہے۔
ان کے مطابق حالیہ وباؤں، موسمیاتی آفات اور عالمی سپلائی چین میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں نے یہ واضح کردیا ہے کہ ممالک ایک دوسرے سے کس قدر گہرے طور پر جڑے ہوئے ہیں۔
مودی نے کہا کہ کسی ایک خطے میں پیدا ہونے والا بحران تجارت، خوراک، توانائی، صحت، روزگار اور عالمی معیشت سمیت متعدد شعبوں پر اثر انداز ہوسکتا ہے، اس لیے عالمی سطح پر مشترکہ تیاری اور مربوط ردعمل کی ضرورت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ترقی پذیر ممالک، بالخصوص گلوبل ساؤتھ، کو ایسے عالمی نظام کی ضرورت ہے جس میں ان کے مفادات اور ترقیاتی ترجیحات کو مناسب اہمیت دی جائے۔
وباؤں سے نمٹنے کے لیے مربوط ابتدائی انتباہی نظام
برکس سربراہی اجلاس کے اہم نتائج میں سے ایک رکن ممالک کا متعدی بیماریوں کے لیے مربوط ابتدائی انتباہی نظام قائم کرنے پر اتفاق بھی بتایا گیا ہے۔
مودی کے مطابق اس نظام کا مقصد مستقبل میں ممکنہ وباؤں اور متعدی بیماریوں کے خطرات کی بروقت نشاندہی، معلومات کے تبادلے اور بہتر تیاری کے ذریعے بحران سے نمٹنے کی صلاحیت میں اضافہ کرنا ہے۔
عالمی سطح پر کووڈ-19 کے تجربے کے بعد صحت عامہ کے شعبے میں ابتدائی انتباہ، بیماریوں کی نگرانی، ڈیٹا شیئرنگ اور ممالک کے درمیان فوری رابطے کی اہمیت مزید نمایاں ہوئی ہے۔
برکس ممالک کے درمیان اس نوعیت کے مربوط نظام کا مقصد یہ ہوگا کہ کسی ممکنہ وبا کے ابتدائی آثار سامنے آنے پر متعلقہ ممالک بروقت معلومات کا تبادلہ کرسکیں اور مشترکہ ردعمل کی تیاری بہتر بنائی جاسکے۔
معاہدوں کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنے پر زور
برکس کے اختتامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نریندر مودی نے رکن ممالک پر زور دیا کہ سربراہی اجلاس کے دوران ہونے والے معاہدوں اور اتفاقِ رائے کو محض دستاویزات اور فائلوں تک محدود نہ رکھا جائے۔
انہوں نے کہا کہ اجلاس میں کیے گئے وعدوں اور طے پانے والے معاہدوں کو مقررہ مدت کے اندر عملی اقدامات میں تبدیل کیا جانا چاہیے۔
مودی کے مطابق بین الاقوامی اجلاسوں کی کامیابی صرف مشترکہ اعلامیے جاری کرنے سے نہیں بلکہ ان میں کیے گئے فیصلوں پر مؤثر عمل درآمد سے جانچی جانی چاہیے۔
اس تناظر میں انہوں نے برکس ممالک کے درمیان تعاون کے منصوبوں کی بروقت تکمیل اور طے شدہ اہداف پر پیش رفت کی اہمیت اجاگر کی۔
تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری پر زور
برکس کے مشترکہ اعلامیے میں بھی عالمی تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کو ترجیح دینے پر زور دیا گیا۔
رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے تنازعات اور کشیدگی کے ماحول میں بات چیت اور سفارتی ذرائع کے ذریعے مسائل کے حل کی کوششیں جاری رہنی چاہئیں۔
یہ مؤقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا کے مختلف خطوں میں جاری تنازعات نے عالمی معیشت، تجارت، توانائی اور سلامتی کے ماحول کو متاثر کیا ہے۔
برکس ممالک نے تنازعات کے حل کے لیے سفارتی کوششوں اور سیاسی مذاکرات کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے عالمی برادری کے درمیان تعاون کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
کثیر قطبی عالمی نظام کی حمایت
برکس رہنماؤں نے ایک مرتبہ پھر کثیر قطبی عالمی نظام کی حمایت کا اظہار کیا۔
اس تصور کے تحت عالمی سیاسی اور معاشی نظام میں کسی ایک طاقت یا محدود گروپ کے بجائے مختلف خطوں اور ممالک کو زیادہ مؤثر نمائندگی اور کردار دینے کی بات کی جاتی ہے۔
برکس ممالک کا مؤقف رہا ہے کہ عالمی اداروں کو موجودہ عالمی معاشی اور سیاسی حقیقتوں کے مطابق زیادہ نمائندہ بنایا جانا چاہیے۔
اسی تناظر میں رہنماؤں نے اقوام متحدہ میں اصلاحات، خصوصاً سلامتی کونسل میں اصلاحات کے مطالبے کو بھی دہرایا۔
عالمی مالیاتی اداروں میں اصلاحات کا مطالبہ
برکس سربراہی اجلاس میں عالمی مالیاتی نظام میں اصلاحات کے معاملے کو بھی اہمیت دی گئی۔
رہنماؤں نے عالمی بینک اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سمیت عالمی مالیاتی اداروں میں تبدیلیوں اور اصلاحات کی حمایت کی۔
برکس ممالک کا کہنا ہے کہ عالمی معیشت میں ابھرتی ہوئی اور ترقی پذیر معیشتوں کا کردار بڑھ چکا ہے، اس لیے عالمی مالیاتی اداروں کے فیصلہ سازی کے ڈھانچے میں بھی اس حقیقت کی عکاسی ہونی چاہیے۔
گلوبل ساؤتھ کے ممالک طویل عرصے سے عالمی مالیاتی نظام میں ترقی پذیر ممالک کی نمائندگی بڑھانے اور قرض، ترقیاتی فنانسنگ اور عالمی اقتصادی فیصلوں میں ان کے مفادات کو زیادہ وزن دینے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔
ٹیکنالوجی اور اہم معدنیات پر عالمی مقابلہ
نریندر مودی نے ٹیکنالوجی اور اہم معدنی وسائل کے حوالے سے بڑھتے ہوئے عالمی مقابلے کو بھی اہم مسئلہ قرار دیا۔
دنیا بھر میں سیمی کنڈکٹرز، جدید ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، توانائی کے نئے ذرائع اور اہم معدنیات کی طلب میں اضافہ ہوا ہے۔ ان وسائل کی فراہمی پر محدود تعداد میں ممالک یا کمپنیوں کا انحصار عالمی سپلائی چین کو حساس بنا سکتا ہے۔
مودی نے خبردار کیا کہ اگر ٹیکنالوجی یا اہم معدنیات کو سیاسی دباؤ یا جغرافیائی سیاسی کشمکش کے لیے استعمال کیا گیا تو اس کے اثرات عالمی تجارت اور ترقی پر پڑ سکتے ہیں۔
ان کے مطابق مشترکہ خوشحالی کے لیے ممالک کو باہمی تعاون، قابلِ اعتماد سپلائی چین اور ٹیکنالوجی تک مناسب رسائی کے لیے کام کرنا چاہیے۔
موسمیاتی بحران بھی مشترکہ چیلنج
برکس اجلاس میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو بھی عالمی چیلنجز کے تناظر میں دیکھا گیا۔
ترقی پذیر ممالک خصوصاً گلوبل ساؤتھ کے کئی ممالک موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں سیلاب، خشک سالی، شدید گرمی، سمندری سطح میں اضافے اور دیگر قدرتی خطرات کا سامنا کر رہے ہیں۔
مودی نے ایسے حالات میں ترقی پذیر ممالک کے درمیان تعاون اور تجربات کے تبادلے کی ضرورت پر زور دیا۔
موسمیاتی بحران کے ساتھ ساتھ توانائی کی ضروریات اور معاشی ترقی کے درمیان توازن بھی گلوبل ساؤتھ کے لیے ایک اہم مسئلہ ہے، کیونکہ کئی ممالک بیک وقت معاشی ترقی، غربت میں کمی اور ماحولیاتی تحفظ کے اہداف حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
ایران، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی شرکت اہم
برکس اجلاس میں ایران، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سمیت مختلف ممالک کے درمیان اتفاقِ رائے بھی سفارتی اعتبار سے اہم پیش رفت کے طور پر سامنے آیا۔
ان ممالک کے متعدد علاقائی اور جغرافیائی سیاسی معاملات پر مختلف مؤقف رہے ہیں، تاہم برکس کے پلیٹ فارم پر مشترکہ اقتصادی، ترقیاتی اور عالمی مسائل پر تعاون کی گنجائش نظر آتی ہے۔
یہ پیش رفت اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ برکس کا دائرہ کار روایتی علاقائی اتحادوں سے مختلف ہے اور اس میں مختلف سیاسی اور معاشی ترجیحات رکھنے والے ممالک مشترکہ عالمی مسائل پر تعاون کے لیے ایک پلیٹ فارم پر آتے ہیں۔
ایسے میں مختلف علاقائی پس منظر رکھنے والے ممالک کا مشترکہ اعلامیے اور باہمی تعاون کے بعض نکات پر اتفاق برکس کے بڑھتے ہوئے سفارتی کردار کی جانب بھی اشارہ کرتا ہے۔
گلوبل ساؤتھ کے لیے برکس کا کردار
برکس کو گزشتہ برسوں میں ترقی پذیر اور ابھرتی ہوئی معیشتوں کے درمیان تعاون کے ایک اہم پلیٹ فارم کے طور پر پیش کیا جاتا رہا ہے۔
اس فورم پر اقتصادی تعاون کے ساتھ ساتھ عالمی حکمرانی، مالیاتی نظام، صحت، توانائی، تجارت، ٹیکنالوجی اور ترقی جیسے معاملات زیر بحث آتے ہیں۔
گلوبل ساؤتھ کے ممالک کے لیے برکس کی اہمیت اس وجہ سے بھی بڑھ رہی ہے کہ یہ ممالک عالمی فیصلوں میں زیادہ نمائندگی اور اپنے معاشی مفادات کے تحفظ کے لیے متبادل پلیٹ فارمز کی تلاش میں ہیں۔
تاہم مختلف برکس ممالک کے درمیان سیاسی اور معاشی ترجیحات میں نمایاں فرق بھی موجود ہے، جس کے باعث مشترکہ پالیسی پر مکمل اتفاق رائے پیدا کرنا ہمیشہ آسان نہیں ہوتا۔
اعلامیے سے عمل درآمد تک کا مرحلہ اہم
برکس سربراہی اجلاس کے اختتام پر سامنے آنے والے نکات میں جہاں عالمی تنازعات، کثیر قطبی نظام، مالیاتی اداروں میں اصلاحات اور عالمی صحت جیسے معاملات پر اتفاق رائے نمایاں ہے، وہیں ان فیصلوں پر عملی پیش رفت بھی اہم ہوگی۔
خصوصاً متعدی بیماریوں کے لیے ابتدائی انتباہی نظام، سپلائی چین میں تعاون اور ٹیکنالوجی و اہم معدنیات کے حوالے سے مشترکہ اقدامات کے لیے رکن ممالک کو عملی طریقہ کار وضع کرنا ہوگا۔
نریندر مودی کی جانب سے معاہدوں کو فائلوں تک محدود نہ رکھنے کی اپیل اسی ضرورت کی عکاسی کرتی ہے کہ عالمی سربراہی اجلاسوں میں کیے جانے والے اعلانات کو عملی پالیسی اور مشترکہ منصوبوں میں تبدیل کیا جائے۔
عالمی سیاست میں برکس کا بڑھتا ہوا سفارتی وزن
نئی دہلی میں ہونے والی برکس سرگرمیوں نے ایک مرتبہ پھر عالمی سیاست میں اس گروپ کے بڑھتے ہوئے کردار کو نمایاں کیا ہے۔ اجلاس میں مختلف سیاسی و معاشی نظام رکھنے والے ممالک نے عالمی تنازعات، صحت عامہ، موسمیاتی بحران، سپلائی چین، ٹیکنالوجی اور عالمی مالیاتی نظام جیسے مشترکہ چیلنجز پر تعاون کی ضرورت تسلیم کی۔
مودی کی جانب سے گلوبل ساؤتھ کے درمیان تعاون مضبوط بنانے، ٹیکنالوجی اور اہم معدنیات کو سیاسی ہتھیار نہ بنانے اور اجلاس کے فیصلوں کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنے پر زور دیا گیا۔
دوسری جانب مشترکہ اعلامیے میں مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے تنازعات کے حل، اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل میں اصلاحات اور عالمی مالیاتی اداروں میں تبدیلیوں کی حمایت نے برکس کے وسیع تر سیاسی اور اقتصادی ایجنڈے کو نمایاں کیا۔
اب اس سربراہی اجلاس کے فیصلوں کی اصل اہمیت ان پر ہونے والی عملی پیش رفت سے طے ہوگی، خصوصاً اس بات سے کہ برکس ممالک باہمی اختلافات کے باوجود عالمی صحت، تجارت، ٹیکنالوجی، موسمیاتی تبدیلی اور مالیاتی نظام جیسے شعبوں میں کس حد تک مشترکہ اقدامات کو آگے بڑھا پاتے ہیں۔



