
یمن میں جاری لڑائی سے جان بچا کر 2000 افراد جبوتی فرار، اقوام متحدہ
حوثی جنگجوؤں نے بحیرہ احمر کے اہم بندرگاہی شہر مخا پر بھی قبضہ کر لیا۔ یہ شہر یورپ اور ایشیا کے درمیان بحری تجارت کے لیے اہم سمندری راستے پر واقع ہے۔
یمن میں لڑائی سے فرار ہونے والے دو ہزار سے زائد افراد جبوتی پہنچ گئے ہیں۔اقوام متحدہ کے مطابق یمن میں ایران نواز حوثی جنگجوؤں اور سعودی حمایت یافتہ حکومت کے درمیان لڑائی میں حالیہ شدت کے بعد بڑی تعداد میں لوگ ملک چھوڑ رہے ہیں۔
عالمی ادارہ برائے مہاجرت (آئی او ایم) نے بتایا ہے کہ دو ہزار سے زائد افراد جبوتی کے ساحل پر پہنچ چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کے اس ذیلی ادارے کے مطابق یمنی مہاجرین کا اولین گروپ جمعرات کی شام جبوتی پہنچا تھا۔یمن میں حوثیوں کی ایک ہفتے تک جاری رہنے والی کارروائی کے دوران انہوں نے بحیرہ احمر کے ساحل کے باقی ماندہ علاقوں اور کئی اہم جزائر پر بھی قبضہ کر لیا ہے۔ اس طرح آبنائے باب المندب پر ان کا کنٹرول مزید مضبوط ہو گیا ہے۔
حوثی جنگجوؤں نے بحیرہ احمر کے اہم بندرگاہی شہر مخا پر بھی قبضہ کر لیا۔ یہ شہر یورپ اور ایشیا کے درمیان بحری تجارت کے لیے اہم سمندری راستے پر واقع ہے۔
اقوام متحدہ کے مطابق جولائی سے جاری لڑائی کے نتیجے میں یمن میں کم از کم 76 ہزار افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ حوثیوں کی حالیہ کارروائی کے دوران صرف ایک ہفتے میں بے گھر ہونے والوں کی تعداد تقریباً چار گنا بڑھی ہے۔
جبوتی آبنائے باب المندب کے دوسری جانب یمن کے سامنے واقع ہے۔ آبنائے ہرمز میں ایران کی ناکہ بندی کے بعد سعودی عرب کی تیل برآمدات کے لیے اس بحری راستے کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
تقریباً دس لاکھ آبادی والے جبوتی میں امریکہ، چین، جاپان، فرانس اور اٹلی کے فوجی اڈے بھی موجود ہیں، جو باب المندب کی تزویراتی اہمیت کے باعث یہاں قائم کیے گئے ہیں۔



