مشرق وسطیٰتازہ ترین

یمن میں رواں ماہ 1.25 لاکھ افراد بے گھر اور درجنوں زخمی ہوچکے ہیں، اقوام متحدہ

اس لڑائی کے باعث شہریوں کو اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا ہے  اور پہلے ہی محدود وسائل کے ساتھ جاری انسانی امداد کی کارروائیاں مزید دباؤ کا شکار ہو گئی ہیں۔

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ارکان نے یمن میں شدت اختیار کرتی ہوئی خانہ جنگی  کے تناظر میں کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کا عمل دوبارہ شروع کرنے پر زور دیا۔

نیویارک میں ایک ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے  اقوام متحدہ کے اسسٹنٹ سکریٹری جنرل خالد خیاری نے کہا کہ باب المندب آبنائے اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں صورتحال حالیہ دنوں میں انتہائی  غیر مستحکم ہو گئی ہے۔
خیاری نے کہا کہ یمن کے مغربی ساحل پر لڑائی میں شدت آ گئی ہے کیونکہ حوثی باغی  آبنائے کی جانب پیش قدمی کر رہے ہیں اور انہوں نے بحیرہ احمر کے جنوبی حصے میں کئی جزیروں پر قبضے کا دعویٰ کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس لڑائی کے باعث شہریوں کو اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا ہے  اور پہلے ہی محدود وسائل کے ساتھ جاری انسانی امداد کی کارروائیاں مزید دباؤ کا شکار ہو گئی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اس مہینے کے آغاز سے اب تک یمن بھر میں کم از کم ایک لاکھ 25 ہزار افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ اسی عرصے کے دوران، اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے رپورٹ کیا کہ 8 افراد ہلاک اور 32 دیگر زخمی ہوئے۔
اقوام متحدہ کے مطابق لڑائی یمن کی حدود سے باہر بھی پھیل گئی ہے اور سعودی عرب میں حوثی حملوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

یمن تعز 2026 | ایک عارضی پناہ گزین کیمپ میں بے گھر جوڑا پانی کے خالی کنستر اور تباہ شدہ دیگر سامان کے بیچ نظر آ رہا ہے
یمن میں جاری لڑائی کے باعث شہریوں کو اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا ہےتصویر: REUTERS

خیاری نے کہا،’’ہم تمام فریقین سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنائیں، بین الاقوامی انسانی قانون کا احترام کریں اور انسانی امداد کی محفوظ اور بلا رکاوٹ فراہمی کو ممکن بنائیں تاکہ ضرورت مند لوگوں تک فوری امداد پہنچائی جا سکے۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا، ’’اب ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلسل رابطے اور کوششیں کی جائیں جن سے کشیدگی میں کمی آئے، مزید شدت کو روکا جا سکے اور سمندری نقل و حمل کی آزادی کا تحفظ ممکن ہو۔  یمن کے فریقین کو چاہیے کہ وہ بات چیت کو ترجیح دیں اور مذاکرات کے ذریعے سیاسی حل تلاش کرنے کی اقوام متحدہ کی کوششوں میں تعمیری انداز میں شامل ہوں۔‘‘
اس ہنگامی اجلاس کی درخواست بحرین، ڈنمارک، فرانس، یونان، لٹویا اور برطانیہ نے کی تھی۔
اقوام متحدہ کے سب سے طاقتور ادارے کے 15 رکن ممالک کے علاوہ، یمن اور سعودی عرب کے نمائندوں نے بھی اس میں شرکت کی۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button