کاروبارتازہ ترین

عالمی منڈی میں خام تیل سستا، سعودی عرب کی متبادل ترسیل کی اطلاعات سے سپلائی خدشات کم؛ یورپی ڈیزل مہنگا

اس تیزی کی بنیادی وجہ سعودی عرب کی بحیرۂ احمر میں واقع اہم برآمدی بندرگاہ ینبع سے خام تیل کی لوڈنگ معطل ہونے کی اطلاعات تھیں۔

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service

لندن/نیویارک: عالمی منڈی میں بدھ کے روز خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔ سعودی عرب کی جانب سے عمان کے راستے اضافی خام تیل کی کھیپ فراہم کرنے کی پیشکش سے متعلق اطلاعات کے بعد سرمایہ کاروں میں مشرقِ وسطیٰ سے تیل کی سپلائی میں ممکنہ بڑے اور طویل تعطل کے خدشات کچھ کم ہوئے ہیں۔ تاہم دوسری جانب یورپ میں ڈیزل کی قیمتیں اب بھی ریکارڈ بلند سطح کے قریب برقرار ہیں، جس سے خطے میں توانائی کی لاگت اور ایندھن کی دستیابی سے متعلق دباؤ برقرار رہنے کا عندیہ ملتا ہے۔

روئٹرز کے مطابق بدھ کو برینٹ خام تیل کے مستقبل کے معاہدوں کی قیمت میں 1.30 ڈالر، یعنی تقریباً 1.2 فیصد کمی ہوئی، جس کے بعد برینٹ کی قیمت 107.45 ڈالر فی بیرل پر آگئی۔

اسی طرح امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کی قیمت 1.96 ڈالر، یعنی 1.85 فیصد کم ہوکر 103.87 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔

قیمتوں میں یہ کمی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عالمی تیل منڈی گزشتہ کئی دنوں سے مشرقِ وسطیٰ میں پیدا ہونے والی صورتحال، اہم بحری راستوں میں رکاوٹ اور خلیجی خطے سے تیل کی ترسیل کے امکانات کے باعث شدید اتار چڑھاؤ کا شکار ہے۔

سعودی عرب کی اضافی ترسیل سے مارکیٹ کو کچھ ریلیف

تیل کی قیمتوں میں بدھ کی کمی کا ایک اہم سبب سعودی عرب کی جانب سے عمان کے راستے اضافی خام تیل کی ممکنہ ترسیل سے متعلق اطلاعات کو قرار دیا جارہا ہے۔

مارکیٹ میں اس خبر کو اس اعتبار سے اہم سمجھا گیا کہ اگر سعودی عرب متبادل راستوں کے ذریعے اضافی خام تیل عالمی خریداروں تک پہنچانے میں کامیاب ہوتا ہے تو مشرقِ وسطیٰ سے عالمی منڈی میں تیل کی سپلائی میں پیدا ہونے والے ممکنہ خلا کو کسی حد تک کم کیا جاسکتا ہے۔

اس پیش رفت کے بعد سرمایہ کاروں میں یہ خدشہ نسبتاً کم ہوا کہ موجودہ صورتحال کے باعث عالمی مارکیٹ کو کئی ہفتوں تک تیل کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

تاہم قیمتوں میں کمی کے باوجود خام تیل اب بھی 100 ڈالر فی بیرل سے نمایاں طور پر اوپر کاروبار کررہا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں سپلائی کے خطرات مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔

ایک روز قبل قیمتوں میں تین ڈالر سے زائد اضافہ

خام تیل کی موجودہ قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کی شدت کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ بدھ سے ایک روز قبل عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تین ڈالر سے زیادہ کا اضافہ ہوا تھا۔

اس تیزی کی بنیادی وجہ سعودی عرب کی بحیرۂ احمر میں واقع اہم برآمدی بندرگاہ ینبع سے خام تیل کی لوڈنگ معطل ہونے کی اطلاعات تھیں۔

شپنگ انڈسٹری سے وابستہ ذرائع کے مطابق ینبع سے تیل کی لوڈنگ میں رکاوٹ نے عالمی مارکیٹ میں اس امکان کو جنم دیا کہ سعودی خام تیل کی برآمدات متاثر ہوسکتی ہیں۔

چونکہ سعودی عرب عالمی سطح پر خام تیل پیدا اور برآمد کرنے والے اہم ممالک میں شامل ہے، اس لیے اس کی کسی بڑی برآمدی سرگرمی میں خلل عالمی مارکیٹ کے لیے فوری طور پر تشویش کا باعث بن سکتا ہے۔

یورپی صارفین کے لیے بعض کھیپیں منسوخ

ذرائع کے مطابق سعودی عرب نے یورپ جانے والی خام تیل کی بعض کھیپوں کی ترسیل بھی منسوخ کردی تھی۔

ان اطلاعات نے مارکیٹ میں تشویش کو مزید بڑھایا، کیونکہ یورپی توانائی مارکیٹ پہلے ہی مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کے باعث دباؤ کا شکار ہے۔

یورپ میں خام تیل کے ساتھ ساتھ ریفائنڈ پٹرولیم مصنوعات، خصوصاً ڈیزل کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ یورپی ڈیزل کی قیمتیں اب بھی ریکارڈ بلند سطح کے قریب ہیں، جس سے خطے میں ٹرانسپورٹ، صنعت اور دیگر شعبوں کے اخراجات پر مزید دباؤ پڑنے کا امکان ہے۔

اہم برآمدی راستے میں رکاوٹ کا خدشہ

ینبع سے متعلق اطلاعات کے بعد مارکیٹ میں یہ خدشات پیدا ہوئے تھے کہ سعودی عرب کی تیل برآمد کرنے کی صلاحیت پر پڑنے والا اثر عارضی ہونے کے بجائے کئی ہفتوں تک جاری رہ سکتا ہے۔

اگر کسی اہم برآمدی مرکز سے خام تیل کی لوڈنگ طویل عرصے تک متاثر ہوتی ہے تو اس کے اثرات صرف ایک ملک یا خطے تک محدود نہیں رہتے بلکہ عالمی سپلائی چین پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

تیل کی عالمی قیمتیں بنیادی طور پر طلب اور رسد کے توازن، پیداواری صلاحیت، ذخائر اور جغرافیائی و سیاسی خطرات سے متاثر ہوتی ہیں۔ اسی لیے مشرقِ وسطیٰ میں پیدا ہونے والی کسی بھی بڑی رکاوٹ کا فوری اثر فیوچر مارکیٹ پر نظر آتا ہے۔

متبادل راستوں کی اہمیت بڑھ گئی

موجودہ صورتحال میں تیل کی ترسیل کے لیے متبادل راستوں کی دستیابی عالمی مارکیٹ کے لیے خاص اہمیت اختیار کرگئی ہے۔

سعودی عرب کی جانب سے عمان کے راستے اضافی خام تیل کی ممکنہ ترسیل کی اطلاعات نے اسی لیے مارکیٹ میں کسی حد تک اطمینان پیدا کیا ہے کہ اس سے یہ امکان سامنے آیا کہ پیداوار اور عالمی خریداروں کے درمیان موجود ترسیلی رکاوٹوں کو متبادل ذرائع سے جزوی طور پر کم کیا جاسکتا ہے۔

تاہم مارکیٹ میں یہ بھی واضح ہے کہ متبادل راستوں کی دستیابی اس بات کی ضمانت نہیں کہ عالمی سپلائی مکمل طور پر معمول پر آچکی ہے۔ شپنگ، انشورنس، بحری سلامتی اور بندرگاہوں کی آپریشنل صورتحال جیسے عوامل بھی تیل کی حتمی قیمت پر اثرانداز ہوسکتے ہیں۔

یورپ میں ڈیزل مارکیٹ پر دباؤ برقرار

خام تیل کی قیمت میں بدھ کو کمی کے باوجود یورپ میں ڈیزل کی قیمتوں کا بلند سطح کے قریب رہنا عالمی توانائی مارکیٹ کے ایک اہم پہلو کو ظاہر کرتا ہے۔

خام تیل کی قیمت میں کمی اور صارفین کے لیے ریفائنڈ ایندھن کی قیمتوں میں کمی ہمیشہ ایک ہی رفتار سے نہیں ہوتی۔ ریفائنری مارجن، سپلائی کی دستیابی، نقل و حمل کے اخراجات، ٹیکس اور مقامی مارکیٹ کے حالات بھی پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کو متاثر کرتے ہیں۔

اسی وجہ سے عالمی خام تیل میں معمولی کمی کے باوجود یورپی صارفین کو فوری طور پر ڈیزل کی قیمتوں میں اسی تناسب سے کمی نظر آنا ضروری نہیں۔

مارکیٹ کی نظریں مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر

عالمی توانائی مارکیٹ میں سرمایہ کار اب بھی مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کو انتہائی قریب سے دیکھ رہے ہیں۔ کسی بھی نئی پیش رفت سے خام تیل کی قیمتوں میں دوبارہ تیزی یا مزید کمی آسکتی ہے۔

اگر خطے سے تیل کی ترسیل معمول کے مطابق جاری رہتی ہے اور سعودی عرب سمیت بڑے برآمد کنندگان متبادل راستوں سے سپلائی برقرار رکھنے میں کامیاب رہتے ہیں تو مارکیٹ پر موجود رسد کے دباؤ میں کمی آسکتی ہے۔

اس کے برعکس اگر بڑی برآمدی بندرگاہوں، بحری راستوں یا شپنگ سرگرمیوں میں مزید رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو قیمتوں پر دوبارہ دباؤ بڑھنے کا امکان موجود رہے گا۔

عالمی معیشت کے لیے تیل کی قیمتیں اہم

خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ عالمی معیشت کے لیے بھی اہمیت رکھتا ہے۔ تیل کی قیمت بڑھنے سے ٹرانسپورٹ اور صنعتی پیداوار کے اخراجات میں اضافہ ہوسکتا ہے، جبکہ ایندھن مہنگا ہونے سے افراطِ زر پر بھی دباؤ بڑھنے کا خدشہ رہتا ہے۔

خصوصاً درآمدی توانائی پر زیادہ انحصار کرنے والی معیشتوں کے لیے عالمی تیل کی بلند قیمتیں تجارتی اور مالیاتی دباؤ میں اضافہ کرسکتی ہیں۔

یورپ کے معاملے میں صورتحال مزید اہم ہے کیونکہ خطے میں ڈیزل کی بلند قیمتیں ٹرانسپورٹ، زراعت، صنعت اور لاجسٹکس سمیت متعدد شعبوں کے اخراجات کو متاثر کرسکتی ہیں۔

خام تیل کی تازہ قیمتیں

خام تیلبدھ کی قیمتتبدیلی
برینٹ107.45 ڈالر فی بیرل1.30 ڈالر کمی، 1.2٪
WTI103.87 ڈالر فی بیرل1.96 ڈالر کمی، 1.85٪

مجموعی صورتحال

بدھ کی قیمتوں میں کمی سے عالمی تیل مارکیٹ کو وقتی طور پر کچھ ریلیف ضرور ملا ہے، لیکن خام تیل کا 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر رہنا اور یورپ میں ڈیزل کی قیمتوں کا ریکارڈ سطح کے قریب برقرار رہنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ توانائی کی عالمی مارکیٹ ابھی بھی غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے۔

سعودی عرب کی جانب سے عمان کے راستے اضافی خام تیل کی ممکنہ ترسیل کی اطلاعات نے فوری طور پر سپلائی کے شدید تعطل کے خدشات کو کچھ کم کیا ہے، تاہم مارکیٹ کا اگلا رخ مشرقِ وسطیٰ میں بحری نقل و حمل، سعودی برآمدی سرگرمیوں اور عالمی خریداروں تک خام تیل کی مسلسل رسائی پر منحصر رہے گا۔

اس لیے آنے والے دنوں میں تیل کے تاجروں اور صارفین کی توجہ خاص طور پر اس بات پر مرکوز رہے گی کہ کیا متبادل راستوں کے ذریعے تیل کی سپلائی برقرار رہتی ہے اور آیا ینبع سمیت اہم برآمدی مراکز پر سرگرمیاں معمول پر آتی ہیں یا نہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button