
روئٹرز، اے پی، اے ایف پی کے ساتھ
اس بالٹک ملک کے صدر نے منگل کو بتایا کہ ایک ڈرون لیتھوانیا کی فضائی حدود میں داخل ہوا، جسے بعد ازاں نیٹو کے جنگی طیاروں نے مار گرایا۔
صدر گیتاناس ناؤسیدا نے فوجی اتحاد نیٹو کا اس ”فوری ردعمل‘‘ پر شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا، ”روس کی جانب سے یوکرین کے خلاف جارحیت میں شدت کے پیش نظر ایسی تیاری ہمارے خطے کے لیے انتہائی اہم ہے۔ نیٹو اتحادیوں کے ساتھ مل کر لیتھوانیا اپنی فضائی حدود کا دفاع کرے گا۔‘‘
تازہ ترین ڈرون واقعے کے بارے میں کیا معلوم ہے؟
لیتھوانیا کے سرکاری ریڈیو ‘ایل آر ٹی‘ نے قومی بحران انتظامی مرکز کے ابتدائی اعداد و شمار کے حوالے سے بتایا کہ ڈرون روس کے اتحادی ہمسایہ ملک بیلاروس سے آیا تھا اور اسے مار گرائے جانے کے وقت وہ مغرب کی جانب پرواز کر رہا تھا۔
نشریاتی ادارے کے مطابق ڈرون لیتھوانیا کے وسطی علاقے میں جھیل کاؤناس کے قریب ایک دیہی علاقے میں گرا۔
لیتھوانیا کے وزیر خارجہ کیستوتس بودریس نے کہا کہ نیٹو کے ردعمل نے ”واضح پیغام دیا ہے کہ نیٹو چوکس، پرعزم اور تیار ہے۔‘‘
لیتھوانیا کی سرحد روس کے بالٹک ساحل پر واقع علاقے کالینن گراڈ کے علاوہ بیلاروس سے بھی ملتی ہے۔ فروری 2022 میں روس کی جانب سے یوکرین پر حملے کے آغاز کے بعد سے لیتھوانیا کے ساتھ ساتھ نیٹو کے رکن ممالک لٹویا اور ایسٹونیا کی فضائی حدود میں اس نوعیت کے ڈرون داخل ہونے کے واقعات عام ہو گئے ہیں۔
دریں اثنا جلاوطن بیلاروسی اپوزیشن رہنما سوتلانا تیخانوفسکایا نے منگل کو اس واقعے کی مذمت کی۔
انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا، ”ہم اپنے ملک کو یورپ کے لیے خطرے کا ذریعہ بننے کو قبول نہیں کر سکتے۔ پائیدار سلامتی کے لیے ایک خودمختار اور جمہوری بیلاروس ضروری ہے، جس کی سرزمین کبھی بھی اس کے ہمسایہ ممالک کے خلاف استعمال نہ ہو۔‘‘

ڈنمارک کے فوجی ہیلی کاپٹر پر فائرنگ
ڈنمارک کی وزیر اعظم میٹے فریڈرکسن نے منگل کو ایک روز قبل بحیرۂ بالٹک میں روسی بحری جنگی جہاز کی جانب سے ڈنمارک کے فوجی ہیلی کاپٹر پر فلیئرز فائر کیے جانے کے واقعے کو ”لاپرواہی‘‘ قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی۔
ڈنمارک کی مسلح افواج نے پیر کی رات ایک بیان میں کہا، ”فضائیہ کے ایک فینک ہیلی کاپٹر کو فلیئرز کا اس وقت نشانہ بنایا گیا جب ڈنمارک کے جنوبی شہر گیڈسر کے قریب بین الاقوامی پانیوں میں موجود ایک روسی جنگی بحری جہاز کی تصاویر لینے کی کوشش کی جا رہی تھی۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ جنگی بحری جہاز نے ”ہیلی کاپٹر کی جانب دو فلیئرز فائر کیے۔ ان میں سے ایک فلیئر ہیلی کاپٹر کے قریب سے گزرا۔‘‘
ڈنمارک کی وزیرِاعظم میٹے فریڈرکسن نے اس واقعے کو ”روس کی جانب سے کی جانے والی لاپرواہ کارروائی‘‘ قرار دیا۔
فریڈرکسن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا، ”روسی اقدامات کا مقصد خوف زدہ کرنا اور تقسیم پیدا کرنا ہے۔ وہ کامیاب نہیں ہوں گے۔ ہم اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔‘‘
دریں اثنا، وزیرِ خارجہ لارس لوکے راسموسن نے کہا کہ یہ کارروائی ”مکمل طور پر ناقابلِ قبول تھی اور اس سے انسانی جانوں کو خطرہ لاحق ہو سکتا تھا۔‘‘
انہوں نے اے ایف پی کو بھیجے گئے ایک بیان میں کہا، ”اسی لیے میں نے اس واقعے پر بات چیت کے لیے روسی سفیر کو طلب کیا ہے۔‘‘
روس نے تاحال اس واقعے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔



