مشرق وسطیٰتازہ ترین

’بلیک ہول‘: قازقستان میں روس کی قیادت میں فوجی مشقیں، افغانستان سے دہشت گردی کے خطرات پر علاقائی تشویش

’فرنٹیئر 2026‘ فوجی مشقیں 12 سے 19 ستمبر تک جنوب مشرقی قازقستان کے صوبے زیتیسو (Zhetysu) میں واقع کوکتال (Koktal) تربیتی میدان میں جاری رہیں گی۔

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
سید عاطف ندیم-ادارت
روس کی قیادت میں دفاعی اتحاد اجتماعی سلامتی کے معاہدے کی تنظیم (CSTO) نے قازقستان کے جنوب مشرقی ژتیسو (Zhetysu) ریجن کے کوکتل (Koktal) ٹریننگ گراؤنڈ پر "رو بیژ 2026” (Rubezh/Frontier 2026) نامی مشترکہ فوجی مشقوں کے فعال مرحلے کا آغاز کر دیا ہے। ان مشقوں کا بنیادی مقصد افغانستان سے وسطی ایشیا میں دہشت گرد گروہوں کے ممکنہ دراندازی کے خطرات سے نمٹنا ہے۔ 
بین الاقوامی میڈیا اور سیکیورٹی مبصرین خطے کی اس صورتحال کو ایک "بلیک ہول” (Black Hole) سے تشبیہ دے رہے ہیں، جہاں افغانستان سے اٹھنے والے سیکیورٹی خطرات پورے خطے کے امن کو نگل سکتے ہیں اور اس کے تدارک کے لیے روس وسطی ایشیائی ممالک پر اپنا اثر و رسوخ بڑھا رہا ہے۔

یہ فوجی سرگرمیاں ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہیں جب روس اور وسطی ایشیائی ریاستوں کی جانب سے افغانستان میں موجود دہشت گرد تنظیموں اور ان کے ممکنہ علاقائی اثرات پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ بالخصوص تاجکستان کی افغانستان کے ساتھ طویل سرحد کو علاقائی سکیورٹی کے حوالے سے ایک حساس محاذ سمجھا جاتا ہے۔

قازقستان میں ’فرنٹیئر 2026‘ مشقیں

CSTO کے مطابق ’فرنٹیئر 2026‘ فوجی مشقیں 12 سے 19 ستمبر تک جنوب مشرقی قازقستان کے صوبے زیتیسو (Zhetysu) میں واقع کوکتال (Koktal) تربیتی میدان میں جاری رہیں گی۔

مشقوں کے فعال مرحلے میں سرحد پار سے ممکنہ خطرات کا مقابلہ کرنے اور کسی رکن ملک کی حدود میں داخل ہونے والے غیر قانونی مسلح گروہوں کے خلاف کارروائی کی مشق شامل ہے۔ فوجی دستے پہاڑی اور صحرائی علاقوں میں آپریشنز کے مختلف پہلوؤں کی تربیت حاصل کر رہے ہیں۔

CSTO کے مطابق ان مشقوں میں قازقستان، کرغزستان، روس اور تاجکستان کے تقریباً 1,500 فوجی اہلکار حصہ لے رہے ہیں، جبکہ 300 سے زائد فوجی اور خصوصی آلات بھی مشقوں کا حصہ ہیں۔ ان میں تقریباً 115 بغیر پائلٹ فضائی گاڑیاں یا ڈرونز بھی شامل ہیں۔

اگرچہ CSTO کی سرکاری تفصیل میں فرضی حملے کے ماخذ کے طور پر افغانستان کا براہ راست نام نہیں لیا گیا، تاہم مشقوں میں جن حالات اور جغرافیائی ماحول کو مدنظر رکھا گیا ہے، ان کی نوعیت خطے کو درپیش سرحد پار مسلح گروہوں کے خطرے سے مطابقت رکھتی ہے۔

’افغانستان کو پیش نظر رکھتے ہوئے مشقیں‘

’دی ٹائمز آف سینٹرل ایشیا‘ کی رپورٹ کے مطابق ان مشقوں کی منصوبہ بندی افغانستان کی صورتحال کو پیش نظر رکھتے ہوئے کی گئی تھی۔ رپورٹ میں افغانستان کو ان اہم موضوعات میں شامل کیا گیا ہے جن پر CSTO کے اندر 2026 کے دوران متعدد مواقع پر تبادلہ خیال ہوا ہے۔

خطے میں یہ تشویش پائی جاتی ہے کہ افغانستان میں موجود بعض دہشت گرد تنظیمیں اپنی سرگرمیوں کو ملک کی حدود سے باہر بھی پھیلا سکتی ہیں۔ بالخصوص وسطی ایشیائی ریاستوں کی حکومتیں سرحد پار دراندازی، انتہا پسند پروپیگنڈے اور دہشت گرد نیٹ ورکس کی ممکنہ سرگرمیوں کو سکیورٹی چیلنج کے طور پر دیکھتی ہیں۔

تاہم، کسی بھی مخصوص فوجی مشق کو افغانستان سے براہ راست منسلک قرار دیتے ہوئے احتیاط ضروری ہے، کیونکہ CSTO کی سرکاری وضاحت میں مشقوں کے فرضی دشمن یا حملہ آور کے طور پر افغانستان کا نام نہیں لیا گیا۔

افغانستان سے دہشت گردی کے ممکنہ خطرات

افغانستان کی صورتحال خطے میں سکیورٹی مباحث کا اہم موضوع بنی ہوئی ہے۔ وسطی ایشیائی ممالک کو خاص طور پر اس بات کی تشویش ہے کہ افغانستان میں موجود مسلح اور دہشت گرد تنظیمیں سرحدی علاقوں کو اپنے لیے محفوظ پناہ گاہ، بھرتی، تربیت یا پروپیگنڈے کے لیے استعمال نہ کریں۔

پاکستان ٹی وی ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے صحافی اور بین الاقوامی دہشت گرد گروہوں کے ماہر ارشد مہمند نے افغانستان میں سرگرم مختلف مقامی اور بین الاقوامی دہشت گرد تنظیموں کو خطے کے ممالک کے لیے ایک سکیورٹی چیلنج قرار دیا۔

انہوں نے افغانستان کو ایک ”بلیک ہول“ سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں مختلف دہشت گرد گروہ سرگرم ہیں اور بعض تنظیمیں اپنی صلاحیتیں دوبارہ منظم اور مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

مہمند کے مطابق القاعدہ سمیت بعض گروہوں کے حوالے سے یہ خدشات موجود ہیں کہ وہ اپنی تنظیمی اور آپریشنل صلاحیتوں کو دوبارہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق اس صورتحال کا اثر صرف افغانستان تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے ممکنہ اثرات وسطی ایشیائی ریاستوں کی سلامتی پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

داعش خراسان اور وسطی ایشیا

ارشد مہمند نے داعش خراسان (ISKP) کو بھی CSTO کی رکن ریاستوں کے لیے ایک اہم سکیورٹی چیلنج قرار دیا۔

ان کے مطابق حالیہ مہینوں میں داعش خراسان کے پروپیگنڈے میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس میں تاجک اور ازبک زبانوں میں مواد بھی شامل ہے۔ ان کے بقول اس نوعیت کا پروپیگنڈا وسطی ایشیائی ریاستوں کی حکومتوں اور خطے کے سکیورٹی ڈھانچوں کو ہدف بناتا ہے۔

ماہرین کے مطابق دہشت گرد تنظیموں کے لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز ایک ایسا ذریعہ بن چکے ہیں جس کے ذریعے وہ جغرافیائی سرحدوں سے باہر موجود افراد تک اپنا پیغام پہنچا سکتی ہیں۔ اس وجہ سے دہشت گردی کے خلاف علاقائی تعاون میں صرف فوجی کارروائی نہیں بلکہ انٹیلی جنس شیئرنگ، سرحدی نگرانی، آن لائن انتہا پسندانہ مواد کی روک تھام اور مالیاتی نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی بھی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔

’لون وولف‘ حملوں کا خدشہ

ارشد مہمند نے اس خطرے کی ایک اور جہت کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کی نوعیت روایتی منظم حملوں سے بدل کر ایسے حملوں کی طرف بھی جا سکتی ہے جنہیں ’لون وولف‘ یا تنہا کارروائی کرنے والے افراد انجام دیتے ہیں۔

’لون وولف‘ حملے سے مراد عمومی طور پر ایسا دہشت گرد حملہ ہے جس میں حملہ آور کسی دہشت گرد تنظیم کی براہ راست آپریشنل مدد کے بغیر خود کارروائی کرتا ہے، اگرچہ نظریاتی یا آن لائن پروپیگنڈے سے متاثر ہونے کا امکان موجود ہو سکتا ہے۔

یہ رجحان قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے ایک اضافی چیلنج تصور کیا جاتا ہے کیونکہ کسی بڑے منظم نیٹ ورک کے مقابلے میں کسی تنہا فرد کی جانب سے ممکنہ حملے کے ابتدائی اشاروں کی نشاندہی زیادہ مشکل ہو سکتی ہے۔

ماسکو حملہ اور داعش خراسان

داعش خراسان کا نام روس کے لیے اس لیے بھی خاص اہمیت رکھتا ہے کہ گروہ نے مارچ 2024 میں ماسکو کے کروکس سٹی ہال پر ہونے والے دہشت گرد حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

اس حملے میں 140 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے اور بڑی تعداد میں لوگ زخمی بھی ہوئے۔ واقعے کے بعد روس میں افغانستان سے سرگرم داعش خراسان سمیت دہشت گرد گروہوں کے ممکنہ خطرے پر بحث میں اضافہ ہوا۔

روس کے لیے وسطی ایشیا کی ریاستوں کی سکیورٹی بھی اہم ہے کیونکہ ان ممالک کے ساتھ تاریخی، جغرافیائی اور سکیورٹی روابط موجود ہیں اور خطے کے بعض ممالک CSTO کے رکن بھی ہیں۔

تاجکستان اور افغانستان کی سرحد پر روسی توجہ

قازقستان میں ’فرنٹیئر 2026‘ مشقیں ایسے وقت میں ہو رہی ہیں جب روس اور تاجکستان کی جانب سے تاجک-افغان سرحد کی سکیورٹی پر بھی توجہ بڑھائی جا رہی ہے۔

تاجکستان افغانستان کے ساتھ وسطی ایشیا کی اہم سرحد رکھنے والا ملک ہے اور دونوں ممالک کے درمیان سرحدی علاقے کو طویل عرصے سے سکیورٹی کے اعتبار سے حساس سمجھا جاتا ہے۔

روسی وزیر دفاع آندرے بیلووسوف نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ افغانستان کے ساتھ تاجکستان کی سرحد کو مضبوط بنانا ماسکو کی علاقائی دفاعی ترجیحات میں شامل ہو گیا ہے۔

خامہ پریس کی رپورٹ کے مطابق بیلووسوف نے یہ بات ماسکو میں تاجکستان کی آزادی کی 35ویں سالگرہ کی تقریب کے دوران کہی، جہاں انہوں نے تاجکستان کو وسطی ایشیا میں روس کے اہم اسٹریٹجک سکیورٹی شراکت داروں میں شمار کیا۔

روسی وزیر دفاع کے مطابق ماسکو CSTO، شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) اور دولتِ مشترکہ آزاد ریاستوں (CIS) کے اندر اجتماعی سکیورٹی کے نظام کو فعال طور پر وسعت دے رہا ہے اور اسی کے ساتھ افغانستان کے ساتھ تاجکستان کی سرحد کو مضبوط بنانے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔

روس کے لیے وسطی ایشیا کیوں اہم ہے؟

وسطی ایشیا روس کے لیے جغرافیائی اور سکیورٹی دونوں اعتبار سے اہم خطہ ہے۔ افغانستان کے شمال میں واقع وسطی ایشیائی ممالک تاجکستان، ازبکستان اور ترکمانستان افغانستان کے ساتھ براہ راست سرحد رکھتے ہیں، جبکہ قازقستان اور کرغزستان بھی علاقائی سکیورٹی کے ڈھانچے کا حصہ ہیں۔

ماسکو کے لیے خطے میں دہشت گردی، انتہا پسندی، غیر قانونی مسلح گروہوں اور سرحد پار جرائم کے ممکنہ پھیلاؤ کو روکنا ایک اہم سکیورٹی ترجیح ہے۔

اسی تناظر میں CSTO کے تحت ہونے والی مشترکہ فوجی مشقیں رکن ممالک کے درمیان فوجی رابطے، مشترکہ آپریشنل تیاری اور مختلف نوعیت کے سرحدی خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت کو جانچنے کا ذریعہ بھی ہیں۔

مشترکہ سکیورٹی کا تصور

CSTO بنیادی طور پر اجتماعی دفاع کے تصور پر قائم علاقائی سکیورٹی تنظیم ہے۔ تنظیم کے رکن ممالک کے درمیان فوجی تعاون، مشترکہ مشقیں اور سکیورٹی خطرات سے نمٹنے کے لیے رابطہ اس کے اہم مقاصد میں شامل ہیں۔

’فرنٹیئر 2026‘ جیسی مشقوں میں مختلف ممالک کی افواج کی مشترکہ کارروائی کی صلاحیت کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ کمانڈ اینڈ کنٹرول، انٹیلی جنس، نگرانی، نقل و حرکت اور بغیر پائلٹ فضائی نظام کے استعمال جیسے پہلوؤں کو بھی آزمایا جاتا ہے۔

تقریباً 1,500 اہلکاروں اور 300 سے زائد فوجی و خصوصی آلات کی شرکت سے ظاہر ہوتا ہے کہ مشق کا دائرہ محض علامتی نوعیت تک محدود نہیں بلکہ مختلف فوجی صلاحیتوں کو عملی ماحول میں جانچنے پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔

افغانستان اور علاقائی سکیورٹی کا بدلتا منظرنامہ

افغانستان میں سکیورٹی صورتحال نے گزشتہ برسوں کے دوران پورے خطے کی پالیسی ترجیحات کو متاثر کیا ہے۔ روس، وسطی ایشیائی ریاستیں اور پاکستان سمیت خطے کے متعدد ممالک افغانستان میں دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی اور ان کے ممکنہ سرحد پار اثرات کو سکیورٹی کے اہم موضوع کے طور پر دیکھتے ہیں۔

تاہم ماہرین کے مطابق افغانستان سے متعلق سکیورٹی پالیسی کو صرف فوجی اقدامات تک محدود رکھنے کے بجائے سرحدی نگرانی، انٹیلی جنس تعاون، دہشت گردی کی مالی معاونت کی روک تھام، شدت پسندانہ پروپیگنڈے کے مقابلے اور علاقائی سفارتی رابطوں کو بھی شامل کرنا ہوگا۔

قازقستان میں جاری ’فرنٹیئر 2026‘ مشقیں اسی وسیع تر علاقائی سکیورٹی بحث کا حصہ ہیں۔ اگرچہ ان مشقوں کے سرکاری بیان میں افغانستان کو براہ راست فرضی دشمن قرار نہیں دیا گیا، تاہم سرحد پار مسلح گروہوں کے خلاف کارروائی، پہاڑی و صحرائی علاقوں میں آپریشن اور تاجک-افغان سرحد پر روسی توجہ کے تناظر میں یہ سرگرمیاں افغانستان سے پیدا ہونے والے ممکنہ سکیورٹی خطرات کے بارے میں روس اور وسطی ایشیائی ریاستوں کی بڑھتی ہوئی حساسیت کو ضرور نمایاں کرتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق آنے والے عرصے میں افغانستان کے گرد علاقائی سکیورٹی تعاون میں مزید اضافہ متوقع ہے، خصوصاً ان ممالک کے درمیان جو براہ راست یا بالواسطہ طور پر افغانستان سے منسلک دہشت گردی، انتہا پسندی اور سرحد پار جرائم کے خطرات کا سامنا کر رہے ہیں۔ اس صورتحال میں CSTO، SCO اور دیگر علاقائی پلیٹ فارمز کے ذریعے سکیورٹی تعاون، معلومات کے تبادلے اور سرحدی نگرانی کی اہمیت مزید بڑھ سکتی ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button