پاکستاناہم خبریں

پمز واقعہ: سینیٹ انسانی حقوق کمیٹی کا ذمہ دار افسران کے خلاف فوری ایف آئی آر درج کرنے کا حکم

کمیٹی کی چیئرپرسن نے حکام سے تفصیلی وضاحتوں کے بجائے ایک بنیادی سوال کا جواب مانگا کہ کیا واقعے کی ایف آئی آر اب تک درج ہوئی ہے یا نہیں؟

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
سید عاطف ندیم-ادارت

اسلام آباد: سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق نے پمز ہسپتال کے واقعے سے متعلق تحقیقاتی رپورٹ میں ذمہ دار قرار دیے گئے افسران کے خلاف فوری مقدمہ درج کرنے کی ہدایت کردی۔ کمیٹی کے اجلاس میں تحقیقاتی رپورٹ کی سفارشات پر عمل درآمد میں تاخیر پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا اور اسلام آباد پولیس سے واضح طور پر پوچھا گیا کہ ذمہ دار قرار دیے گئے افسران کے خلاف اب تک ایف آئی آر کیوں درج نہیں کی گئی۔

بدھ کو سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری کی زیر صدارت ہونے والے فنکشنل کمیٹی کے اجلاس میں پمز واقعے اور اس کی تحقیقاتی رپورٹ پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس کے دوران کمیٹی ارکان نے اس امر پر سوال اٹھایا کہ جب انکوائری رپورٹ میں ذمہ دار افراد کا تعین کیا جاچکا ہے اور رپورٹ میں کارروائی کی سفارش بھی موجود ہے تو پھر مقدمے کے اندراج میں تاخیر کیوں کی جارہی ہے۔

کمیٹی کا بنیادی سوال: ایف آئی آر درج ہوئی یا نہیں؟

اجلاس میں وزارت صحت کے حکام کی جانب سے پمز ہسپتال کے انتظامی معاملات اور واقعے کے بعد کی کارروائی سے متعلق کمیٹی کو بریفنگ دی گئی۔

ایڈیشنل سیکریٹری وزارت صحت نے کمیٹی کو بتایا کہ پمز ہسپتال کو چلانے کے لیے باقاعدہ منصوبہ موجود ہے اور واقعے کے ذمہ دار افراد کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔

تاہم کمیٹی کی چیئرپرسن نے حکام سے تفصیلی وضاحتوں کے بجائے ایک بنیادی سوال کا جواب مانگا کہ کیا واقعے کی ایف آئی آر اب تک درج ہوئی ہے یا نہیں؟

چیئرپرسن نے حکام سے کہا کہ کمیٹی کو یہ واضح طور پر بتایا جائے کہ تحقیقاتی کمیٹی کے چار ارکان کون تھے، ان کے عہدے کیا تھے اور تحقیقاتی رپورٹ میں جن افسران کو ذمہ دار قرار دیا گیا، کیا ان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا یا نہیں۔

اجلاس میں اس معاملے پر اس وقت مزید سخت سوالات اٹھائے گئے جب کمیٹی کو یہ تاثر ملا کہ تحقیقاتی رپورٹ کی سفارشات پر عمل درآمد کے باوجود قانونی کارروائی کا مرحلہ آگے نہیں بڑھ سکا۔

سابق ای ڈی پمز سے متعلق بھی سوالات

فنکشنل کمیٹی کی چیئرپرسن نے سابق ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز کے حوالے سے بھی سوال اٹھایا اور پوچھا کہ انہیں ذمہ داری سے بچانے کی کوشش کیوں کی جارہی ہے۔

چیئرپرسن نے واضح کیا کہ وہ تحقیقاتی رپورٹ سے متعلق حکومتی کارروائی سے مطمئن نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ممکن ہے وزیراعظم اس رپورٹ سے مطمئن ہوں، لیکن وہ خود اس سے مطمئن نہیں ہیں۔

اس موقع پر کمیٹی نے اس امر پر زور دیا کہ تحقیقاتی رپورٹ میں جن افراد کو ذمہ دار قرار دیا گیا ہے، ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے اور معاملے کو مزید تاخیر کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔

پولیس افسر کو اجلاس میں ہی ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت

اجلاس کے دوران اسلام آباد پولیس کے ایس پی ذیشان علی بھی موجود تھے۔ کمیٹی نے انہیں پمز سانحے میں نامزد افراد کے خلاف فوری ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت کردی۔

کمیٹی کی ہدایت کے بعد متعلقہ پولیس افسر اجلاس سے روانہ ہوگئے تاکہ مقدمے کے اندراج کے لیے ضروری کارروائی کی جاسکے۔

کچھ دیر بعد ایس پی ذیشان علی دوبارہ اجلاس میں واپس آئے اور کمیٹی کو بتایا کہ انہوں نے ایف آئی آر کے اندراج کے احکامات دے دیے ہیں اور آئندہ تقریباً 10 منٹ میں مقدمہ درج کرلیا جائے گا۔

کمیٹی ارکان نے بعد ازاں دوبارہ پولیس افسر سے پیشرفت کے بارے میں دریافت کیا تو انہیں بتایا گیا کہ ایف آئی آر کے اندراج کا عمل جاری ہے۔

روزنامچے کی رپورٹ پر کمیٹی کا سخت ردعمل

اجلاس میں اس وقت صورتحال مزید کشیدہ ہوگئی جب پولیس افسر کی جانب سے بتایا گیا کہ واقعے کے حوالے سے روزنامچے کی رپورٹ جمع کروا دی گئی ہے۔

کمیٹی ارکان نے اس وضاحت پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ روزنامچے کی رپورٹ کمیٹی کے بنیادی سوال کا جواب نہیں ہے۔ ارکان نے واضح کیا کہ اصل سوال یہ ہے کہ ایف آئی آر درج ہوئی ہے یا نہیں۔

کمیٹی کے ارکان کے مطابق روزنامچے میں اندراج اور باقاعدہ ایف آئی آر دو الگ قانونی مراحل ہیں، اس لیے صرف روزنامچے کی رپورٹ جمع کرانے کو مقدمہ درج ہونے کے مترادف قرار نہیں دیا جاسکتا۔

چیئرپرسن نے بھی پولیس حکام سے واضح جواب طلب کیا کہ نامزد افراد کے خلاف باقاعدہ ایف آئی آر کب درج ہوگی۔

تحقیقاتی رپورٹ پر عمل درآمد میں تاخیر پر تشویش

فنکشنل کمیٹی نے اس امر پر بھی تشویش ظاہر کی کہ تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں ذمہ داری کا تعین کرنے کے باوجود اس پر عملی کارروائی میں تاخیر کی جارہی ہے۔

کمیٹی کا مؤقف تھا کہ کسی بھی تحقیقاتی عمل کا بنیادی مقصد صرف رپورٹ مرتب کرنا نہیں بلکہ اگر کسی فرد یا افسر کو ذمہ دار قرار دیا گیا ہو تو قانون اور قواعد کے مطابق اس کے خلاف کارروائی بھی عمل میں لانا ہے۔

اجلاس میں ارکان نے سوال اٹھایا کہ اگر تحقیقاتی رپورٹ میں واضح سفارشات موجود ہیں تو متعلقہ ادارے ان سفارشات پر عمل درآمد میں مزید تاخیر کیوں کررہے ہیں۔

وزارت صحت کا کارروائی کا یقین

وزارت صحت کے ایڈیشنل سیکریٹری نے کمیٹی کو یقین دہانی کرائی کہ پمز کے انتظامی امور کو بہتر بنانے کے لیے ایک باقاعدہ منصوبہ موجود ہے اور واقعے میں ذمہ دار قرار دیے گئے افراد کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔

تاہم کمیٹی نے اس یقین دہانی کے بجائے عملی پیشرفت پر زور دیا اور پولیس سے مقدمے کے اندراج کی صورتحال واضح کرنے کا مطالبہ کیا۔

کمیٹی کی جانب سے یہ مؤقف سامنے آیا کہ محض انتظامی کارروائی یا اندرونی انکوائری کافی نہیں، بلکہ جہاں قانونی ذمہ داری بنتی ہو وہاں متعلقہ قانون کے تحت کارروائی ہونی چاہیے۔

’اب کس کے کہنے پر ایف آئی آر درج ہوگی؟‘

اجلاس میں ایف آئی آر کے اندراج میں مسلسل تاخیر پر چیئرپرسن کمیٹی نے سخت تشویش کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ کمیٹی کی واضح ہدایات کے باوجود اگر مقدمہ درج نہیں ہوتا تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر کس کے کہنے پر ایف آئی آر درج کی جائے گی۔

چیئرپرسن کے اس ردعمل سے ظاہر ہوا کہ کمیٹی تحقیقاتی رپورٹ کے بعد قانونی کارروائی کے طریقہ کار اور اداروں کے درمیان رابطے سے مطمئن نہیں تھی۔

کمیٹی نے پولیس حکام سے کہا کہ معاملے کو رسمی کارروائیوں تک محدود رکھنے کے بجائے تحقیقاتی رپورٹ میں سامنے آنے والی ذمہ داری اور نامزد افراد کے حوالے سے قانون کے مطابق فوری کارروائی کی جائے۔

پمز واقعہ، ادارہ جاتی جواب دہی کا معاملہ

اجلاس میں ہونے والی بحث محض ایک ایف آئی آر کے اندراج تک محدود نہیں رہی بلکہ اس میں سرکاری ہسپتال کے انتظام، تحقیقاتی عمل، افسران کی ذمہ داری اور ادارہ جاتی جواب دہی کے معاملات بھی زیر بحث آئے۔

سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق نے اس معاملے میں یہ نکتہ اٹھایا کہ سرکاری اداروں میں پیش آنے والے واقعات کی تحقیقات کے بعد ذمہ داری کا تعین کیا جائے تو اس کے بعد کی کارروائی بھی شفاف اور قابلِ تصدیق ہونی چاہیے۔

کمیٹی نے وزارت صحت اور پولیس حکام سے عملی اقدامات کی توقع ظاہر کرتے ہوئے اس معاملے کو محض انتظامی وضاحتوں تک محدود نہ رکھنے پر زور دیا۔

ایف آئی آر کے اندراج کی حتمی صورتحال اہم مرحلہ

اجلاس کے دوران پولیس افسر کی جانب سے یہ یقین دہانی کرائی گئی کہ ایف آئی آر کے اندراج کے احکامات جاری کردیئے گئے ہیں اور مقدمہ جلد درج کیا جائے گا۔ تاہم اجلاس کے اختتام تک کمیٹی کی تشویش برقرار رہی کیونکہ پولیس کی جانب سے بعد کی بریفنگ میں بھی یہ بتایا گیا کہ ایف آئی آر کے اندراج کا عمل جاری ہے۔

اس صورتحال میں کمیٹی کے لیے بنیادی مطالبہ یہی رہا کہ تحقیقاتی رپورٹ میں ذمہ دار قرار دیے گئے افراد کے خلاف اگر فوجداری ذمہ داری بنتی ہے تو باقاعدہ ایف آئی آر درج کرکے قانونی عمل شروع کیا جائے۔

یوں پمز واقعے پر سینیٹ کی انسانی حقوق کمیٹی کا اجلاس تحقیقاتی رپورٹ پر عمل درآمد، ذمہ دار افسران کے خلاف قانونی کارروائی، سابق انتظامی سربراہ کے کردار اور ایف آئی آر کے اندراج میں تاخیر کے سوالات کے گرد مرکوز رہا۔ کمیٹی نے پولیس اور وزارت صحت کو واضح کیا کہ معاملے میں محض یقین دہانیوں کے بجائے عملی پیشرفت ضروری ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button