
غزہ: جنگ سے بے گھر ہونے والے افراد کے خیموں پرعمارت گرنے سے ایک درجن سے زائد ہلاکتیں
خیموں اور گھروں کی شدید کمی کے باعث لوگ خستہ حال اور مخدوش عمارتوں میں زندگی گزار رہے ہیں، جس سے مزید حادثات کا خطرہ برقرار ہے۔
غزہ سٹی کے علاقے تل الہویٰ میں بدھ کے روز ایک چھ منزلہ رہائشی عمارت منہدم ہونے سے 20 افراد ہلاک ہو گئے جن میں پانچ بچے بھی شامل ہیں، جبکہ 100 سے زائد افراد کے ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ہے۔ یہ عمارت بے گھر فلسطینی خاندانوں کی رہائش گاہ کے طور پر استعمال ہو رہی تھی۔
غزہ کی سول ڈیفنس ایجنسی نے ہلاکتوں کی تازہ ترین تعداد بتاتے ہوئے کہا کہ بدھ کے روز غزہ میں رہائشی عمارت کے منہدم ہونے سے کم از کم 20 افراد (جن میں پانچ بچے بھی شامل ہیں) ہلاک ہو گئے، جبکہ درجنوں افراد لاپتہ ہیں۔ یہ عمارت اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں پہنچنے والے نقصانات کی وجہ سے کمزور ہو گئی تھی۔
حماس کے زیر انتظام سول ڈیفنس ادارے کے ترجمان محمود بصل کے مطابق عمارت رات کے وقت قریبی گھروں اور خیموں پر آ گری۔ ان کا کہنا تھا کہ عمارت کی ساخت کو اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں پہلے ہی شدید نقصان پہنچا تھا۔
بصل نے بتایا کہ اس عمارت کو 2024 اور مارچ 2025 میں متعدد بار نشانہ بنایا گیا تھا، جس کے بعد حکام نے شہریوں کو واپس نہ آنے کی تنبیہ کی تھی۔ تاہم رہائش کے متبادل انتظامات نہ ہونے کی وجہ سے کئی خاندان خطرناک حد تک متاثرہ عمارتوں میں رہنے پر مجبور تھے۔
انہوں نے کہا کہ خیموں اور گھروں کی شدید کمی کے باعث لوگ خستہ حال اور مخدوش عمارتوں میں زندگی گزار رہے ہیں، جس سے مزید حادثات کا خطرہ برقرار ہے۔

غزہ کی وزارتِ صحت کے ترجمان ظاہر الواحدی کے مطابق، ہلاک ہونے والوں میں 12 خواتین اور بچے شامل ہیں۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے کیونکہ بدھ کی صبح ملبے سے مزید لاشیں نکالی جا رہی تھیں۔
ویڈیو میں سول ڈیفنس کے عملے کو ملبے کا جائزہ لیتے اور بچوں سمیت لوگوں کو باہر نکالنے کے لیے بلڈوزروں کا استعمال کرتے ہوئے دیکھا گیا۔
یہ عمارت جنگ کے ابتدائی مرحلے میں اسرائیلی حملے کے دوران جزوی طور پر تباہ ہو گئی تھی۔ اس کے منہدم ہونے کی فوری وجہ واضح نہیں ہو سکی، لیکن غزہ میں جنگ کے دوران بمباری کا شکار ہونے والی درجنوں کثیر المنزلہ عمارتیں گر چکی ہیں۔
غزہ میں عمارتوں کا گرنا ایک سنگین خطرہ بن چکا ہے۔ تقریباً تین سالہ جنگ کے دوران، بے گھر ہونے والے خاندان اکثر خیمہ بستیوں سے واپس ان گھروں میں لوٹے ہیں جو بمباری کے باعث پہلے ہی تباہ یا متاثر ہو چکے تھے۔



