یورپتازہ ترین

آبنائے ہرمز بحران: یورپی یونین کو فوسل فیول درآمدات پر اضافی 90 ارب یورو خرچ کرنا پڑے، اُرزولا فان ڈیر لائن

توانائی کے ذرائع کے انتخاب میں ٹیکنالوجی کے بجائے اس امر کو بنیادی اہمیت دی جائے کہ وہ یورپ کی توانائی آزادی میں کس حد تک کردار ادا کرتے ہیں۔ 

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service

برسلز/اسٹراسبرگ: یورپی کمیشن کی صدر اُرزولا فان ڈیر لائن نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ اور آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی صورتحال کے نتیجے میں یورپی یونین کو فوسل فیول کی درآمدات پر اضافی 90 ارب یورو خرچ کرنا پڑے ہیں، تاہم اس اضافی اخراجات کے عوض یورپ کو توانائی کی اضافی مقدار حاصل نہیں ہوئی۔

اُرزولا فان ڈیر لائن نے یہ بات 16 ستمبر 2026 کو یورپی پارلیمنٹ میں اپنے اسٹیٹ آف دی یونین خطاب کے دوران کہی، جس میں انہوں نے یورپ کی توانائی سلامتی، صنعتی مسابقت، صاف توانائی اور مستقبل کی اقتصادی ترجیحات پر تفصیلی گفتگو کی۔

آبنائے ہرمز نے یورپ کے توانائی انحصار کو نمایاں کردیا

یورپی کمیشن کی صدر کے مطابق آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حرکت میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں نے ایک مرتبہ پھر یہ حقیقت واضح کردی ہے کہ درآمدی فوسل فیول پر یورپ کا انحصار کس قدر مہنگا ثابت ہوسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یورپ نے گزشتہ برسوں کے دوران اپنی توانائی کی سپلائی کو متنوع بنانے اور مقامی سطح پر صاف توانائی پیدا کرنے کے لیے نمایاں سرمایہ کاری کی ہے، تاہم موجودہ بحران نے ظاہر کیا ہے کہ عالمی توانائی منڈیوں میں پیدا ہونے والے کسی بڑے جغرافیائی یا سکیورٹی بحران کے اثرات یورپی معیشت تک براہ راست پہنچ سکتے ہیں۔

فان ڈیر لائن نے اپنے خطاب میں کہا کہ یورپ صنعتی طاقت کے طور پر اس وقت تک اپنی پوزیشن برقرار نہیں رکھ سکتا جب تک توانائی کی قیمتیں مستقل طور پر بلند رہیں۔ ان کے مطابق توانائی کی بلند قیمتیں نہ صرف گھریلو صارفین بلکہ یورپی صنعت، کاروبار اور مجموعی اقتصادی مسابقت کو بھی متاثر کرتی ہیں۔

2040 تک بجلی کے استعمال کا حصہ دگنا کرنے کا ہدف

یورپی کمیشن کی صدر نے اس صورتحال کے تناظر میں یورپ کی توانائی پالیسی کو مزید تیز کرنے پر زور دیا۔ ان کے مطابق یورپی یونین کا مقصد 2040 تک اپنی توانائی کی کھپت میں بجلی کے حصے کو تقریباً دگنا کرنا ہے۔

یورپی پارلیمانی ریسرچ سروس کے مطابق یورپ کی معیشت میں حتمی توانائی کے استعمال کے لحاظ سے بجلی کا موجودہ حصہ تقریباً 23 فیصد ہے، جبکہ یورپی کمیشن کے منصوبے میں 2040 تک اسے مزید بڑھانے کی سمت متعین کی گئی ہے۔

فان ڈیر لائن کے مطابق یورپ میں بجلی کے استعمال اور مقامی صاف توانائی کی پیداوار میں اضافے سے فوسل فیول کی درآمدات پر سالانہ 260 ارب یورو تک کی بچت ممکن ہوسکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس تبدیلی کا مقصد صرف ماحولیاتی اہداف حاصل کرنا نہیں بلکہ یورپ کی توانائی خودمختاری، قیمتوں میں استحکام اور اقتصادی سلامتی کو مضبوط بنانا بھی ہے۔

قابلِ تجدید توانائی اور جوہری توانائی پر توجہ

یورپی کمیشن کی صدر نے کہا کہ یورپ کو سستی، مقامی اور صاف توانائی کے ذرائع پر انحصار بڑھانا ہوگا۔ انہوں نے قابلِ تجدید توانائی، جوہری توانائی، بائیو میتھین اور دیگر مقامی ذرائع کو اس حکمت عملی کا حصہ قرار دیا۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ توانائی کے ذرائع کے انتخاب میں ٹیکنالوجی کے بجائے اس امر کو بنیادی اہمیت دی جائے کہ وہ یورپ کی توانائی آزادی میں کس حد تک کردار ادا کرتے ہیں۔

ان کے مطابق یورپ نے گزشتہ سال 80 گیگاواٹ سے زیادہ قابلِ تجدید توانائی کی پیداواری صلاحیت نصب کی، تاہم نئی پیداواری صلاحیت کا ایک بڑا حصہ ابھی بجلی کے گرڈ سے منسلک ہونے کا منتظر ہے۔ فان ڈیر لائن نے بتایا کہ نصب شدہ صلاحیت کے مقابلے میں تقریباً چھ گنا زیادہ صلاحیت گرڈ کنکشن کی منتظر ہے، جس سے بجلی کے ترسیلی نظام میں توسیع کی فوری ضرورت واضح ہوتی ہے۔

بجلی کے گرڈ اور ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں اضافہ ضروری

فان ڈیر لائن کے مطابق صرف نئی بجلی پیدا کرنا کافی نہیں ہوگا بلکہ اس بجلی کو صارفین اور صنعت تک پہنچانے کے لیے یورپ کے بجلی کے گرڈز کو بھی تیزی سے جدید اور وسیع کرنا ہوگا۔

انہوں نے یورپی رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ گرڈ کنکشن کے عمل کو تیز کریں، نئی ٹرانسمیشن لائنیں تعمیر کریں اور توانائی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں اضافہ کریں۔

ان کے مطابق شمسی اور ہوا سے پیدا ہونے والی بجلی کی مقدار میں اضافے کے ساتھ توانائی ذخیرہ کرنے کے مؤثر نظام بھی ضروری ہیں تاکہ پیداوار اور طلب کے درمیان فرق کو بہتر انداز میں پورا کیا جاسکے۔

یورپ کی صنعتی مسابقت بھی توانائی سے جڑی ہے

یورپی کمیشن کی صدر نے اپنے خطاب میں توانائی کے بحران کو صرف ایک ماحولیاتی یا توانائی کا مسئلہ قرار نہیں دیا بلکہ اسے یورپ کی صنعتی مسابقت سے بھی جوڑا۔

انہوں نے کہا کہ اگر یورپی صنعت کو طویل عرصے تک دوسری بڑی معیشتوں کے مقابلے میں زیادہ توانائی قیمتوں کا سامنا رہا تو یورپی کمپنیوں کی عالمی مسابقت متاثر ہوسکتی ہے۔

یورپی پارلیمانی ریسرچ سروس کے مطابق یورپی کمیشن نے بھی بجلی کی قیمتوں اور صنعتی مسابقت کے مسئلے کو اپنی پالیسی ترجیحات میں شامل کیا ہے، جبکہ جولائی 2026 میں بجلی کے بلوں اور صنعتی صارفین کے لیے نیٹ ورک چارجز سے متعلق اقدامات بھی سامنے آئے۔

ماضی کے تجربات سے سبق لینے پر زور

فان ڈیر لائن نے اپنے خطاب میں روسی گیس پر یورپ کے سابقہ انحصار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ روس کی جانب سے گیس کی سپلائی میں کمی کے بعد یورپ نے اپنی توانائی سپلائی کے ذرائع کو متنوع بنایا اور مقامی صاف توانائی میں سرمایہ کاری بڑھائی۔

تاہم ان کے مطابق آبنائے ہرمز کی صورتحال نے یہ ظاہر کردیا ہے کہ عالمی توانائی نظام میں دیگر جغرافیائی راستوں اور درآمدی ایندھن پر انحصار بھی یورپ کے لیے ایک اہم خطرہ ہے۔

یورپی کمیشن کی اپریل 2026 کی ایک دستاویز میں بھی بتایا گیا تھا کہ یورپ کی توانائی کھپت کا ایک بڑا حصہ درآمدی فوسل فیول سے پورا ہوتا ہے اور مشرق وسطیٰ کے تنازع کے بعد آبنائے ہرمز کی بندش نے توانائی کی قیمتوں اور سپلائی سے متعلق خطرات کو نمایاں کیا۔

توانائی کی خود کفالت یورپی پالیسی کا اہم محور

فان ڈیر لائن کے حالیہ خطاب سے واضح ہوتا ہے کہ یورپی یونین توانائی کے شعبے میں درآمدی فوسل فیول پر انحصار کم کرنے کو اپنی اقتصادی اور سکیورٹی پالیسی کے ساتھ جوڑ رہی ہے۔

یورپی کمیشن کی حکمت عملی میں قابلِ تجدید توانائی کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ، بجلی کے استعمال کو صنعت، ٹرانسپورٹ اور دیگر شعبوں تک پھیلانا، گرڈز کو جدید بنانا اور توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام میں سرمایہ کاری شامل ہے۔

اس حکمت عملی کے تحت یورپ کا مقصد نہ صرف کاربن اخراج کم کرنا بلکہ عالمی بحرانوں کے دوران توانائی کی قیمتوں اور سپلائی پر بیرونی عوامل کے اثرات کو بھی محدود کرنا ہے۔

90 ارب یورو کا اضافی بوجھ، آئندہ کے لیے پالیسی کا اشارہ

اُرزولا فان ڈیر لائن کے مطابق موجودہ بحران میں فوسل فیول کی درآمد پر اضافی 90 ارب یورو کا خرچ اس بات کی مثال ہے کہ توانائی کے بیرونی ذرائع پر انحصار یورپی معیشت کے لیے کس قدر بڑا مالی خطرہ بن سکتا ہے۔

ان کے پیش کردہ منصوبے کے مطابق اگر یورپ مقامی صاف توانائی، بجلی کے استعمال، گرڈ انفراسٹرکچر اور ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں تیزی سے سرمایہ کاری کرتا ہے تو طویل مدت میں درآمدی ایندھن کی ضرورت اور اس سے وابستہ اخراجات کو نمایاں طور پر کم کیا جاسکتا ہے۔

یوں آبنائے ہرمز کا بحران یورپ کے لیے محض ایک عارضی توانائی چیلنج نہیں بلکہ توانائی پالیسی، صنعتی مسابقت اور اقتصادی خودمختاری سے جڑا ایک بڑا معاملہ بن گیا ہے۔ فان ڈیر لائن کے مطابق یورپ کا مستقبل ایسی توانائی معیشت کی طرف بڑھنے میں ہے جو زیادہ مقامی، صاف، قابلِ اعتماد اور کم درآمدی انحصار پر مبنی ہو۔

نوٹ: یورپی کمیشن کے 16 ستمبر 2026 کے سرکاری خطاب میں 90 ارب یورو کے اضافی اخراجات، 2040 تک بجلی کے حصے کو دگنا کرنے اور فوسل فیول درآمدی بل میں سالانہ 260 ارب یورو تک ممکنہ کمی کا ذکر موجود ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button