
ایران 2022 کے احتجاجی مظاہروں کے دوران ’انسانیت کے خلاف جرائم‘ کا مرتکب، ایمنسٹی انٹرنیشنل
احتجاجی سلسلہ ستمبر 2022 میں اس وقت شروع ہوا تھا جب ایرانی کرد خاتون مہسا امینی پولیس حراست میں ہلاک ہو گئی تھیں
انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بدھ کے روز جاری کردہ ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ ایران میں 2022 کے احتجاجی مظاہروں کے خلاف حکومتی کریک ڈاؤن انسانیت کے خلاف جرائم کے زمرے میں آتا ہے، جبکہ رواں سال ہونے والے نئے مظاہروں کی سرکوبی میں بھی اسی طرزِ عمل کو، کہیں زیادہ وسیع اور مہلک پیمانے پر، دہرایا گیا۔
تنظیم نے 2022 کے احتجاجی مظاہروں کے چار سال مکمل ہونے پر جاری کی گئی رپورٹ میں کہا کہ اس کریک ڈاؤن کے دوران قتل، تشدد، جنسی زیادتی اور جبری گمشدگی جیسے اقدامات کیے گئے، جو انسانیت کے خلاف جرائم شمار ہوتے ہیں۔ ایمنسٹی کے مطابق رواں سال کے اوائل میں مظاہرین کے خلاف کارروائیاں ’’مزید جان لیوا اور حیران کن حد تک وسیع‘‘ تھیں۔
لندن میں قائم حقوقِ انسانی کی تنظیم نے ایران کے 87 قومی اور صوبائی حکام کے نام بھی رپورٹ میں شامل کیے جنہیں ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ ان افراد کو بین الاقوامی انصاف کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔ ان میں سے چھ اہلکار بعد ازاں امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں میں ہلاک ہو گئے تھے۔
ایران میں ’’عورت، زندگی، آزادی‘‘ تحریک کے نام سے مشہور احتجاجی سلسلہ ستمبر 2022 میں اس وقت شروع ہوا تھا جب ایرانی کرد خاتون مہسا امینی پولیس حراست میں ہلاک ہو گئی تھیں۔ انہیں خواتین کے لیے مقرر سخت ’’لباس ضابطے‘‘ کی مبینہ خلاف ورزی پر گرفتار کیا گیا تھا۔

یہ مظاہرے حالیہ برسوں میں ایران کے سب سے بڑے عوامی احتجاج تھے۔ تاہم رواں سال مہنگائی اور بڑھتی ہوئی معاشی مشکلات کے خلاف شروع ہونے والے مظاہروں نے بھی شدت اختیار کی، جن کا نقطۂ عروج 8 اور 9 جنوری کی راتوں میں دیکھا گیا۔ دونوں مواقع پر حکام نے مظاہروں کے جواب میں سخت اور مہلک کریک ڈاؤن کیا، جس پر عالمی سطح پر شدید ردِعمل سامنے آیا۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی ایک ہزار صفحات پر مشتمل رپورٹ بنیادی طور پر 2022 کے احتجاجی مظاہروں پر مرکوز ہے، تاہم اس میں واضح کیا گیا ہے کہ 2026 میں مظاہرین کے خلاف کارروائی بھی اسی طرز پر کی گئی، البتہ اس کی شدت کہیں زیادہ تھی۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کی سکریٹری جنرل اور فرانسیسی انسانی حقوق کی ایک معروف کارکن ایگنس کالامارڈ نے کہا، ’’ہماری رپورٹ میں جمع اور تجزیہ کیے گئے وسیع شواہد اس بات میں کوئی شک نہیں چھوڑتے کہ ایرانی حکام نے 2022 کی ‘عورت، زندگی، آزادی’ تحریک کو کچلنے کے لیے انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کیا۔‘‘
ایمنسٹی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی پر زور دیا کہ وہ ’’ایک بین الاقوامی فوجداری انصاف کا نظام تشکیل دے جو ان افراد کے خلاف قانونی کارروائی کرے جو ان جرائم میں سب سے زیادہ ملوث تھے۔‘‘



