
سید عاطف ندیم-ادارت
اسلام آباد: پاکستان کی مسلح افواج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والا مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ بنیادی طور پر دفاعی نوعیت کا ہے اور اس کا مقصد تینوں ممالک کے درمیان اجتماعی ڈیٹرنس، دفاعی تعاون اور علاقائی استحکام کو مضبوط بنانا ہے۔ ان کے مطابق اس معاہدے کے کوئی علاقائی عزائم نہیں اور یہ کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے سعودی نشریاتی ادارے کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں مکہ معاہدے کے خدوخال، اس میں ممکنہ نئے ممالک کی شمولیت، پاکستان کے چین کے ساتھ اسٹریٹجک تعلقات اور ایران کے ساتھ جاری تنازع کے خاتمے کے لیے اسلام آباد کی سفارتی کوششوں پر بات کی۔
مکہ معاہدہ اجتماعی دفاع کے لیے ہے
پاکستانی فوج کے ترجمان کے مطابق مکہ معاہدہ پاکستان کے سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ طویل عرصے سے موجود تعلقات کو اجتماعی دفاع اور ڈیٹرنس کے ایک باقاعدہ فریم ورک میں لے آیا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ یہ معاہدہ تینوں ممالک کے دفاع اور سلامتی سے متعلق ہے اور اس کا مقصد کسی نئی علاقائی طاقت یا بلاک کے قیام کے بجائے رکن ممالک کی سلامتی کو مضبوط بنانا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے دیگر ممالک اور عالمی یا علاقائی شراکت داروں کے ساتھ اپنے آزادانہ تعلقات بھی برقرار رکھتے ہیں۔
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ 7 اگست 2026 کو مکہ مکرمہ میں پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف، سعودی ولی عہد و وزیراعظم محمد بن سلمان اور ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے دستخط کیا تھا۔ معاہدے میں کہا گیا ہے کہ تینوں ممالک کی اجتماعی سلامتی کو مضبوط کیا جائے گا اور کسی ایک ملک پر مسلح حملے کو تینوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
نئے ممالک کے لیے بھی معاہدے کا دروازہ کھلا
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا کہ مکہ معاہدہ مستقبل میں ایسے نئے شراکت داروں کے لیے بھی کھولا جاسکتا ہے جو اس میں شامل ہونے کے خواہاں ہوں اور امن، استحکام اور علاقائی سلامتی کے بنیادی اصولوں سے اتفاق رکھتے ہوں۔
انہوں نے کہا کہ نئے فریق کی شمولیت کا فیصلہ فوجی قیادت نہیں بلکہ معاہدے میں شامل ممالک کی سیاسی قیادت کرے گی۔
ان کے مطابق جو ممالک عدم جارحیت، عدم مداخلت، باہمی احترام اور اجتماعی اصولوں پر یقین رکھتے ہوں، ان کے لیے مستقبل میں شمولیت کی گنجائش موجود ہوسکتی ہے۔ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار بھی پہلے واضح کر چکے ہیں کہ مکہ معاہدہ خطے کے ان ممالک کے لیے کھلا ہے جو اس کے بنیادی اصولوں اور پرامن طریقوں سے اختلافات کے حل پر آمادہ ہوں۔
معاہدہ کسی ملک کے خلاف نہیں، پاکستان کا سرکاری مؤقف
پاکستانی حکومت پہلے ہی متعدد مواقع پر واضح کرچکی ہے کہ مکہ معاہدہ کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے معاہدے کے فوراً بعد اسے خالصتاً دفاعی نوعیت کا قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس کا مقصد خطے میں امن، استحکام اور ترقی کو فروغ دینا ہے۔ وزارت خارجہ نے بھی کہا تھا کہ معاہدہ کسی ملک کے خلاف جارحانہ اتحاد نہیں بلکہ بیرونی جارحیت کے خلاف اجتماعی ڈیٹرنس مضبوط کرنے کا ذریعہ ہے۔
پاکستانی وزارت خارجہ کے مطابق معاہدہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 میں تسلیم شدہ انفرادی اور اجتماعی دفاع کے حق سے مطابقت رکھتا ہے۔
مکہ معاہدے میں دفاعی تعاون کے کئی شعبے شامل
معاہدے کے تحت تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے مختلف پہلوؤں کو مزید فروغ دینے کی بات کی گئی ہے۔
31 اگست کو استنبول میں مکہ معاہدے کے تحت قائم اسٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کے پہلے اجلاس کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ تینوں ممالک اپنے تعاون کو ادارہ جاتی شکل دیں گے، دفاعی صلاحیت اور باہمی ہم آہنگی کو مضبوط کریں گے اور دفاعی صنعت، مشترکہ ٹیکنالوجی کی تیاری اور پیداوار میں تعاون بڑھائیں گے۔ اسی اجلاس میں سعودی عرب میں ایک مستقل سیکریٹریٹ قائم کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا، جس کی ابتدائی سربراہی تین سال کے لیے پاکستان سے تعلق رکھنے والے سیکریٹری جنرل کے پاس ہوگی۔
چین کے ساتھ پاکستان کے تعلقات متاثر نہیں ہوں گے
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے مکہ معاہدے کو پاکستان کے چین کے ساتھ اسٹریٹجک تعلقات کا متبادل قرار دینے کے بجائے ان تعلقات کی تکمیل قرار دیا۔
پاکستانی فوج کے ترجمان کے مطابق تینوں ممالک کے اپنے اپنے دیگر ممالک کے ساتھ آزادانہ تعلقات موجود ہیں اور مکہ معاہدہ ان تعلقات کی جگہ نہیں لیتا۔
پاکستانی نائب وزیراعظم اسحاق ڈار بھی واضح کرچکے ہیں کہ مکہ معاہدہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے موجودہ دوطرفہ یا کثیرالجہتی معاہدوں کو ختم یا تبدیل نہیں کرتا۔
اس تناظر میں مکہ معاہدے کو پاکستان کی پہلے سے موجود دفاعی اور سفارتی شراکت داریوں کے ساتھ ایک اضافی تعاون کے فریم ورک کے طور پر پیش کیا جارہا ہے۔
ایران کے حوالے سے پاکستان کا سفارتی مؤقف
پاکستانی فوج کے ترجمان نے انٹرویو میں ایران کے ساتھ جاری جنگ اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کی کوششوں پر بھی گفتگو کی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور تنازع کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں کررہا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کا اس تنازع میں کوئی ذاتی مقصد یا نجی مفاد نہیں بلکہ بنیادی مقصد جنگ کو مزید پھیلنے سے روکنا اور مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کرنا ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تنازعات کا حل فضائی، زمینی یا بحری محاذوں پر تلاش کرنے کے بجائے بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے ہونا چاہیے۔
پاکستان کا مؤقف یہ ہے کہ خطے میں جاری تنازعات اگر مزید پھیلتے ہیں تو ان کے اثرات صرف متعلقہ ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کی سلامتی، تجارت، توانائی اور علاقائی استحکام متاثر ہوسکتا ہے۔
پاکستان ثالثی اور کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں مصروف
پاکستان نے حالیہ عرصے میں امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی رابطے کیے ہیں۔ پاکستانی حکام کے مطابق اسلام آباد کا مقصد دونوں فریقوں کے درمیان براہ راست یا بالواسطہ رابطے کے ذریعے ایسے راستے تلاش کرنا ہے جن سے جنگ بندی اور مذاکرات کی طرف واپسی ممکن ہوسکے۔
پاکستانی مؤقف کے مطابق کسی بھی تنازع کا پائیدار حل طاقت کے استعمال کے بجائے سیاسی مذاکرات، سفارت کاری اور باہمی سمجھوتے میں ہے۔
یہ کوششیں ایسے وقت میں ہورہی ہیں جب خطے میں مختلف محاذوں پر کشیدگی نے پاکستان کے لیے ایک پیچیدہ سفارتی ماحول پیدا کردیا ہے۔ ایک جانب اسلام آباد کے سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ دفاعی تعلقات مزید منظم ہورہے ہیں، جبکہ دوسری جانب پاکستان ایران کے ساتھ اپنے تعلقات اور جغرافیائی قربت کے باعث خطے میں کشیدگی کم کرنے میں بھی کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔
مکہ معاہدے کے تناظر میں ایران کے ساتھ تعلقات
مکہ معاہدے کے فوراً بعد پاکستان نے ایران کو بھی اس معاہدے کے مقاصد سے آگاہ کیا تھا۔ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے گفتگو کے دوران معاہدے کے خدوخال اور اس کے مقاصد سے آگاہ کیا تھا، جس میں علاقائی امن و سلامتی کے لیے تعاون کو بنیادی مقصد قرار دیا گیا تھا۔
اس سے قبل پاکستان کی وزارت خارجہ بھی واضح کرچکی ہے کہ مکہ معاہدہ کسی ملک کے خلاف نہیں ہے اور پاکستان خطے میں پرامن تنازعات کے حل اور علاقائی استحکام کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
حالیہ علاقائی صورتحال نے معاہدے کی اہمیت بڑھا دی
مکہ معاہدے پر دستخط کے بعد خطے میں سلامتی کی صورتحال مزید پیچیدہ ہوئی ہے۔ سعودی عرب کو یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے حملوں کا سامنا رہا ہے، جبکہ پاکستان نے حالیہ صورتحال کے دوران واضح کیا ہے کہ مکہ معاہدے کے تحت کسی فوری فوجی ردعمل پر کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
رائٹرز کے مطابق موجودہ صورتحال نے پاکستان کے لیے ایک مشکل توازن پیدا کیا ہے، کیونکہ اسلام آباد ایک طرف سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کا فریق ہے اور دوسری طرف ایران کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات برقرار رکھتے ہوئے کشیدگی کم کرنے کی کوشش کررہا ہے۔
اسی پس منظر میں لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری کا یہ بیان کہ مکہ معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے اور اس کے علاقائی عزائم نہیں، پاکستان کے سرکاری مؤقف کی وضاحت کرتا ہے۔
اجتماعی ڈیٹرنس اور علاقائی استحکام پر زور
پاکستانی فوج کے ترجمان کے مطابق مکہ معاہدے کا بنیادی تصور یہ ہے کہ تینوں ممالک اپنی دفاعی صلاحیتوں اور باہمی تعاون کو اس انداز میں مضبوط کریں کہ کسی بھی ممکنہ جارحیت کے خلاف اجتماعی ڈیٹرنس پیدا ہو۔
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے معاہدے کے ذریعے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ تینوں ممالک کی سلامتی باہم جڑی ہوئی ہے اور کسی ایک رکن کے خلاف مسلح حملے کو تینوں کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔
31 اگست کے مشترکہ اعلامیے میں تینوں ممالک نے اس کے ساتھ ساتھ کشیدگی کم کرنے، تحمل اور بحرانوں کے پرامن حل کی کوششوں کی حمایت بھی دہرائی۔
نتیجہ
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری کے تازہ بیان کے مطابق مکہ دفاعی معاہدہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دفاعی تعاون کو ادارہ جاتی شکل دینے کی کوشش ہے۔ معاہدے میں اجتماعی دفاع، ڈیٹرنس، دفاعی صنعت اور ٹیکنالوجی میں تعاون کے پہلو شامل ہیں، جبکہ پاکستان کا سرکاری مؤقف ہے کہ یہ کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں۔
ساتھ ہی پاکستان ایران کے ساتھ تعلقات برقرار رکھتے ہوئے امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کی سفارتی کوششوں کا بھی حصہ ہے۔ یوں اسلام آباد بیک وقت اپنی دفاعی شراکت داریوں کو آگے بڑھانے اور خطے میں کشیدگی کو مزید پھیلنے سے روکنے کے لیے سفارتی راستے پر زور دے رہا ہے۔



