پاکستاناہم خبریں

فیلڈ مارشل عاصم منیر سے POWERUS وفد کی ملاقات، دفاعی ٹیکنالوجی اور تعاون کے امکانات پر غور

دونوں جانب سے باہمی دلچسپی کے شعبوں میں روابط کو مزید فروغ دینے میں دلچسپی کا اظہار کیا گیا، تاہم اس مرحلے پر کسی حتمی معاہدے یا مخصوص منصوبے کا اعلان نہیں کیا گیا۔

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
سید عاطف ندیم-ادارت

راولپنڈی: دفاعی اور اہم بنیادی ڈھانچے کے حل کے شعبے میں مہارت رکھنے والے ادارے POWERUS کے ایک وفد نے چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز (COAS/CDF) فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، NI (M)، HJ سے جنرل ہیڈ کوارٹرز (GHQ) راولپنڈی میں ملاقات کی۔

POWERUS کے وفد کی قیادت مسٹر رابرٹ بریٹ ویلیکووچ نے کی۔ ملاقات کے دوران باہمی دلچسپی کے مختلف امور کے علاوہ دفاعی ٹیکنالوجی میں رونما ہونے والی تبدیلیوں، دفاعی خریداری، مقامی پیداوار اور دفاعی استعداد کار میں اضافے کے لیے ممکنہ تعاون کے مواقع پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات میں جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے قومی سلامتی اور اہم بنیادی ڈھانچے کے تحفظ کو مزید مؤثر بنانے کے امکانات بھی زیرغور آئے۔

دفاعی ٹیکنالوجی میں بدلتے رجحانات پر گفتگو

ملاقات کے دوران دفاعی ٹیکنالوجی کے شعبے میں تیزی سے رونما ہونے والی تبدیلیوں اور جدید جنگی و دفاعی تقاضوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

دفاعی شعبے میں ٹیکنالوجی کا کردار گزشتہ برسوں کے دوران نمایاں طور پر بڑھا ہے، جس کے باعث عسکری اداروں کے لیے جدید نظام، بہتر نگرانی، مواصلاتی صلاحیت، بنیادی ڈھانچے کی مضبوطی اور دفاعی پیداوار میں تکنیکی استعداد کو اہمیت حاصل ہوئی ہے۔

اسی تناظر میں POWERUS وفد اور پاکستانی عسکری قیادت کے درمیان دفاعی ٹیکنالوجی کے بدلتے ہوئے رجحانات اور ان سے متعلق ممکنہ تعاون کے پہلوؤں پر بات چیت ہوئی۔

تاہم ملاقات کے جاری کردہ مختصر بیان میں کسی مخصوص دفاعی نظام، ہتھیار، ٹیکنالوجی یا ممکنہ خریداری کے معاہدے کی تفصیلات سامنے نہیں لائی گئیں۔

دفاعی خریداری اور پیداوار میں تعاون کے امکانات

ملاقات کا ایک اہم موضوع دفاعی خریداری، پیداوار اور استعداد کار میں تعاون کے ممکنہ مواقع تھے۔

دفاعی خریداری کے عمل میں جدید ٹیکنالوجی کے حصول کے ساتھ ساتھ مقامی سطح پر پیداواری صلاحیت، دیکھ بھال، تکنیکی معاونت اور متعلقہ شعبوں میں استعداد پیدا کرنا بھی اہم سمجھا جاتا ہے۔

POWERUS کے وفد کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں انہی شعبوں میں ممکنہ روابط اور تعاون کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔

جاری کردہ بیان کے مطابق دونوں جانب سے باہمی دلچسپی کے شعبوں میں روابط کو مزید فروغ دینے میں دلچسپی کا اظہار کیا گیا، تاہم اس مرحلے پر کسی حتمی معاہدے یا مخصوص منصوبے کا اعلان نہیں کیا گیا۔

قومی سلامتی اور لچک کے لیے جدید حل کی اہمیت

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ملاقات کے دوران قومی سلامتی اور قومی لچک (resilience) کو مضبوط بنانے میں تکنیکی جدت اور جدید حل کی اہمیت کو اجاگر کیا۔

قومی لچک سے مراد ایسے دفاعی اور بنیادی ڈھانچے کی صلاحیت ہے جو مختلف نوعیت کے خطرات، بحرانوں اور ممکنہ رکاوٹوں کے باوجود ضروری خدمات اور ریاستی صلاحیتوں کو برقرار رکھنے میں مدد دے سکے۔

اس تناظر میں جدید ٹیکنالوجی نہ صرف روایتی دفاعی صلاحیتوں بلکہ اہم بنیادی ڈھانچے کے تحفظ، نظاموں کی قابلِ اعتماد کارکردگی اور ممکنہ خطرات سے نمٹنے کی استعداد میں بھی کردار ادا کر سکتی ہے۔

ملاقات میں اسی وسیع تر تناظر میں تکنیکی جدت اور جدید حل کی اہمیت پر زور دیا گیا۔

POWERUS وفد کی GHQ آمد

POWERUS وفد کی GHQ راولپنڈی میں آمد کو دفاعی ٹیکنالوجی اور اہم بنیادی ڈھانچے سے متعلق شعبوں میں ممکنہ رابطوں کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔

وفد کی قیادت کرنے والے رابرٹ بریٹ ویلیکووچ نے پاکستانی عسکری قیادت کے ساتھ باہمی دلچسپی کے امور پر گفتگو کی۔

ملاقات کے دوران دونوں جانب سے دفاعی ٹیکنالوجی میں ہونے والی پیش رفت اور دفاعی شعبے میں تعاون کے ممکنہ راستوں کا جائزہ لیا گیا۔

بیان کے مطابق فریقین نے اس بات میں دلچسپی ظاہر کی کہ باہمی مفاد کے شعبوں میں روابط کو مزید آگے بڑھایا جائے۔

دفاعی استعداد کار میں ٹیکنالوجی کا بڑھتا کردار

جدید دفاعی ماحول میں ٹیکنالوجی محض ہتھیاروں تک محدود نہیں رہی بلکہ دفاعی منصوبہ بندی، مواصلات، نگرانی، بنیادی ڈھانچے، نظاموں کے تحفظ اور مختلف شعبوں کے باہمی ربط تک پھیل چکی ہے۔

اسی وجہ سے دفاعی ادارے جدید تکنیکی حل کے ذریعے اپنی استعداد کار بڑھانے پر توجہ دے رہے ہیں۔

POWERUS کے ساتھ ملاقات میں بھی دفاعی ٹیکنالوجی میں تبدیل ہوتے رجحانات کے ساتھ دفاعی خریداری اور پیداوار سے متعلق امور کو گفتگو کا حصہ بنایا گیا۔

پاکستان کے لیے دفاعی پیداوار اور تکنیکی استعداد میں اضافہ طویل عرصے سے دفاعی پالیسی کا ایک اہم پہلو رہا ہے، تاہم اس ملاقات کے حوالے سے جاری بیان میں کسی مخصوص پیداواری منصوبے یا ٹیکنالوجی کی منتقلی کے بارے میں تفصیلات نہیں دی گئیں۔

اہم بنیادی ڈھانچے کے تحفظ پر توجہ

POWERUS کو دفاعی اور اہم بنیادی ڈھانچے کے حل میں مہارت رکھنے والے ادارے کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ ایسے بنیادی ڈھانچے کی حفاظت جدید قومی سلامتی کے ماحول میں اہمیت رکھتی ہے کیونکہ توانائی، مواصلات، صنعتی نظام اور دیگر اہم سہولتوں میں خلل قومی سطح پر وسیع اثرات پیدا کر سکتا ہے۔

ملاقات کے دوران جدید حل اور تکنیکی جدت کی اہمیت پر گفتگو اسی وسیع تر تناظر میں بھی اہمیت رکھتی ہے۔

تاہم جاری کردہ بیان میں پاکستان میں کسی مخصوص بنیادی ڈھانچے کے منصوبے، ممکنہ سرمایہ کاری یا تجارتی معاہدے کی تفصیل سامنے نہیں آئی۔

کوئی حتمی دفاعی معاہدہ سامنے نہیں آیا

ملاقات کے حوالے سے دستیاب معلومات میں دفاعی خریداری یا مشترکہ پیداوار کے کسی حتمی معاہدے کا اعلان نہیں کیا گیا۔

بیان میں بنیادی طور پر تعاون کے مواقع، دفاعی ٹیکنالوجی کے رجحانات اور باہمی روابط کو مزید فروغ دینے کی خواہش کا ذکر کیا گیا ہے۔

اس لیے اس ملاقات کو فی الحال دونوں جانب سے ممکنہ تعاون کے شعبوں پر تبادلہ خیال اور روابط آگے بڑھانے کے تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ کسی عملی معاہدے یا مخصوص دفاعی منصوبے کے بارے میں مزید پیش رفت کی تفصیلات مستقبل میں سامنے آ سکتی ہیں۔

دفاعی تعاون میں تکنیکی شراکت داری کی اہمیت

موجودہ دور میں دفاعی تعاون میں روایتی عسکری روابط کے ساتھ تکنیکی شراکت داری کو بھی اہمیت حاصل ہے۔ دفاعی پیداوار، تحقیق و ترقی، جدید نظاموں کا انضمام اور بنیادی ڈھانچے کی حفاظت جیسے شعبوں میں تکنیکی تعاون ممالک اور اداروں کے درمیان دفاعی روابط کو مزید وسیع کر سکتا ہے۔

POWERUS وفد کی GHQ میں ملاقات میں بھی دفاعی ٹیکنالوجی اور استعداد کار کے حوالے سے ممکنہ تعاون کے پہلوؤں پر بات چیت اسی تناظر میں ہوئی۔

ملاقات کے اختتام پر دونوں اطراف نے باہمی دلچسپی کے شعبوں میں رابطوں کو مزید فروغ دینے کی خواہش کا اظہار کیا۔

یوں POWERUS وفد اور پاکستانی عسکری قیادت کے درمیان یہ ملاقات دفاعی ٹیکنالوجی، جدید حل اور دفاعی استعداد کار کے شعبوں میں ممکنہ تعاون کے لیے رابطوں کو آگے بڑھانے کی ایک کڑی کے طور پر سامنے آئی ہے، تاہم کسی حتمی دفاعی خریداری، مشترکہ پیداوار یا مخصوص ٹیکنالوجی کے معاہدے کی تفصیلات تاحال جاری نہیں کی گئیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button