
سید عاطف ندیم-ادارت
پنجاب حکومت نے صوبے سے پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے اپنی انسدادِ پولیو حکمت عملی کو مزید مؤثر بنانے کا فیصلہ کرتے ہوئے 21 ستمبر سے شروع ہونے والی خصوصی انسدادِ پولیو مہم کے دوران ایک کروڑ 6 لاکھ 48 ہزار سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کردیا ہے۔ مہم 27 ستمبر تک جاری رہے گی، جس کے دوران صوبے کے 13 اضلاع کی 1,376 یونین کونسلوں میں بچوں کی ویکسینیشن یقینی بنانے کے لیے ہزاروں ٹیمیں فیلڈ میں موجود رہیں گی۔
اس حوالے سے صوبائی ٹاسک فورس برائے انسدادِ پولیو کا اہم اجلاس بدھ کو سول سیکرٹریٹ لاہور میں منعقد ہوا، جس کی صدارت صوبائی وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق نے کی۔ اجلاس میں چیف سیکرٹری پنجاب زاہد اختر زمان، وزیراعلیٰ پنجاب کی فوکل پرسن برائے انسدادِ پولیو عظمیٰ کاردار، سیکرٹری پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر، بین الاقوامی اداروں کے نمائندوں اور محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی، جبکہ متعلقہ ڈویژنل کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شریک ہوئے۔
اجلاس میں صوبے میں پولیو کے خاتمے کے لیے جاری اقدامات، مہم کی تیاریوں، ویکسینیشن ٹیموں کی تعیناتی، ہائی رسک علاقوں، مسڈ چلڈرن کی کوریج اور سفری راستوں پر قائم ٹرانزٹ ٹیموں کی کارکردگی سمیت مختلف امور کا جائزہ لیا گیا۔
ہر پانچ سال سے کم عمر بچے تک ویکسین پہنچانے کی ہدایت
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق نے ہدایت کی کہ پانچ سال تک کی عمر کے ہر بچے کو پولیو ویکسین کی خوراک پلانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ انسدادِ پولیو مہم کی کامیابی صرف مقررہ تعداد پوری کرنے سے نہیں بلکہ اس بات سے وابستہ ہے کہ کوئی بچہ ویکسین سے محروم نہ رہ جائے۔ اس لیے فیلڈ ٹیموں کو گھر گھر جاکر بچوں کی ویکسینیشن یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ ایسے بچوں پر بھی خصوصی توجہ دینا ہوگی جو کسی وجہ سے پہلی کوشش کے دوران ویکسین حاصل نہیں کرپاتے۔
صوبائی وزیر صحت نے مسڈ چلڈرن کی کوریج کو مہم کا اہم ترین حصہ قرار دیتے ہوئے ہدایت کی کہ گھروں میں موجود نہ ہونے والے بچوں یا دیگر وجوہات کی بنا پر ویکسین سے رہ جانے والے بچوں کو دوبارہ تلاش کرکے قطرے پلائے جائیں۔
ہائی رسک اور زیادہ نقل و حرکت والے علاقوں پر خصوصی توجہ
خواجہ سلمان رفیق نے ہدایت کی کہ ایسے علاقوں کو خصوصی طور پر فوکس کیا جائے جہاں بچوں اور خاندانوں کی نقل و حرکت زیادہ ہے یا جہاں ماضی میں ویکسینیشن کوریج کے حوالے سے مشکلات سامنے آتی رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بس اسٹینڈز، سفری راستوں، انٹری اور ایگزٹ پوائنٹس پر قائم ٹرانزٹ ٹیموں کو مکمل طور پر متحرک رکھا جائے تاکہ ایک ضلع یا علاقے سے دوسرے علاقے میں سفر کرنے والے بچے بھی پولیو ویکسین سے محروم نہ رہیں۔
ان کے مطابق زیادہ نقل و حرکت والے علاقوں میں خصوصی توجہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ ایسے مقامات پر بچوں اور خاندانوں کی آمدورفت مسلسل جاری رہتی ہے اور فیلڈ ٹیموں کے لیے ہر بچے تک پہنچنا ایک مختلف نوعیت کا چیلنج ہوتا ہے۔
صوبائی وزیر نے یو سی ایم اوز اور ایریا انچارجز کو بھی مہم کی سخت نگرانی کی ہدایات جاری کیں اور کہا کہ فیلڈ میں ٹیموں کی موجودگی، بچوں کی کوریج اور مسڈ چلڈرن کی دوبارہ ویکسینیشن پر مسلسل نظر رکھی جائے۔
13 اضلاع کی 1,376 یونین کونسلوں میں مہم
محکمہ صحت کے حکام نے اجلاس کو مہم کے انتظامات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔
حکام کے مطابق خصوصی انسدادِ پولیو مہم 21 سے 27 ستمبر تک پنجاب کے 13 اضلاع کی 1,376 یونین کونسلوں میں جاری رہے گی۔
بریفنگ کے مطابق لاہور میں مہم مسلسل سات روز جاری رہے گی، جبکہ دیگر متعلقہ اضلاع میں مہم چار روز تک جاری رکھی جائے گی۔
حکام نے بتایا کہ مہم کے دوران کچھ اضلاع میں مکمل کوریج کی جائے گی جبکہ دیگر اضلاع میں مخصوص یونین کونسلوں اور ہائی رسک علاقوں کو مہم کا حصہ بنایا گیا ہے۔
8 اضلاع میں مکمل مہم
محکمہ صحت کے مطابق پنجاب کے 8 اضلاع میں خصوصی انسدادِ پولیو مہم مکمل طور پر چلائی جائے گی۔
ان اضلاع میں:
- لاہور
- ملتان
- راولپنڈی
- ڈیرہ غازی خان
- مظفرگڑھ
- راجن پور
- رحیم یار خان
- شیخوپورہ
شامل ہیں۔
ان اضلاع میں فیلڈ ٹیمیں مقررہ علاقوں میں گھر گھر جاکر پانچ سال تک کی عمر کے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائیں گی۔
5 اضلاع کی مخصوص یونین کونسلوں میں کوریج
محکمہ صحت کے مطابق مزید 5 اضلاع میں مکمل ضلع کی بجائے مخصوص یونین کونسلوں اور علاقوں کو مہم میں شامل کیا گیا ہے۔
ان اضلاع میں:
- اٹک
- بہاولپور
- فیصل آباد
- قصور
- میانوالی
شامل ہیں۔
حکام کے مطابق ان اضلاع میں مہم کی سرگرمیاں ان مخصوص علاقوں میں مرکوز رکھی جائیں گی جہاں بچوں کی ویکسینیشن کے حوالے سے اضافی توجہ درکار ہے۔
تقریباً 40 ہزار ٹیمیں فیلڈ میں تعینات
پنجاب حکومت نے خصوصی مہم کو کامیاب بنانے کے لیے بڑے پیمانے پر انسانی وسائل مختص کیے ہیں۔
محکمہ صحت کے مطابق مہم کے دوران مجموعی طور پر 39,774 ٹیمیں اور 77,488 اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔
ان ٹیموں کو مختلف ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں تاکہ گھر گھر ویکسینیشن کے ساتھ ساتھ مقررہ مراکز اور سفری مقامات پر بھی بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کا سلسلہ جاری رہے۔
36,420 موبائل ٹیمیں گھر گھر جائیں گی
حکام کے مطابق مہم میں سب سے بڑی تعداد موبائل ٹیموں کی ہے۔
مجموعی طور پر 36,420 موبائل ٹیمیں گھر گھر جاکر بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائیں گی۔ ان ٹیموں کے ذریعے 81 لاکھ 67 ہزار سے زائد بچوں تک رسائی کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
موبائل ٹیموں کی ذمہ داری ہوگی کہ وہ اپنے مقررہ علاقوں میں ہر گھر تک پہنچیں، پانچ سال تک کی عمر کے بچوں کی نشاندہی کریں اور انہیں پولیو ویکسین کے قطرے پلائیں۔
اس کے علاوہ اگر کسی گھر میں بچے موجود نہ ہوں تو فیلڈ ٹیمیں اس کا ریکارڈ مرتب کرکے دوبارہ رسائی کی کوشش کریں گی تاکہ مسڈ چلڈرن کی تعداد کم سے کم کی جاسکے۔
فکسڈ ٹیمیں مقررہ مراکز پر موجود رہیں گی
مہم کے دوران 2,060 فکسڈ ٹیمیں بھی تعینات کی گئی ہیں۔
یہ ٹیمیں مقررہ مراکز اور دیگر متعلقہ مقامات پر موجود رہیں گی تاکہ والدین اپنے بچوں کو ان مراکز پر لاکر پولیو ویکسین کے قطرے پلاسکیں۔
فکسڈ ٹیموں کا مقصد گھر گھر ویکسینیشن کے ساتھ ساتھ ان بچوں تک بھی رسائی پیدا کرنا ہے جو مختلف وجوہات کی بنا پر موبائل ٹیموں کی رسائی سے باہر رہ سکتے ہیں۔
سفری مقامات پر 1,294 ٹرانزٹ ٹیمیں
محکمہ صحت کے مطابق 1,294 ٹرانزٹ ٹیمیں بھی تعینات کی گئی ہیں جو بس اڈوں، سفری راستوں اور دیگر انٹری و ایگزٹ پوائنٹس پر خدمات انجام دیں گی۔
ان ٹیموں کی خصوصی ذمہ داری ایسے بچوں کو ویکسین دینا ہوگی جو اپنے خاندانوں کے ہمراہ ایک علاقے سے دوسرے علاقے کا سفر کررہے ہوں۔
حکام کے مطابق زیادہ نقل و حرکت والے علاقوں میں ٹرانزٹ ٹیموں کی فعالیت مہم کے مجموعی اہداف کے حصول میں اہم کردار ادا کرے گی۔
ڈپٹی کمشنرز کو خود نگرانی کی ہدایت
اجلاس میں چیف سیکریٹری پنجاب زاہد اختر زمان نے متعلقہ اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کو انسدادِ پولیو مہم کی خود نگرانی کرنے کی ہدایت کی۔
انہوں نے ضلعی انتظامیہ کو کہا کہ مہم کے دوران فیلڈ سرگرمیوں کی باقاعدگی سے نگرانی کی جائے اور خاص طور پر ان بچوں کی کوریج پر توجہ دی جائے جو ابتدائی مرحلے میں ویکسین سے رہ جائیں۔
چیف سیکریٹری نے ضلعی انتظامیہ کی ذمہ داری پر زور دیتے ہوئے ہدایت کی کہ پولیو ٹیموں کو درپیش انتظامی مسائل کو فوری طور پر حل کیا جائے تاکہ مہم کی سرگرمیوں میں رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
مسڈ چلڈرن کی کوریج کو مرکزی اہمیت
اجلاس میں مسڈ چلڈرن کی کوریج کو خصوصی اہمیت دی گئی۔ حکام کے مطابق گھر میں موجود نہ ہونے، سفر پر ہونے یا دیگر وجوہات کے باعث اگر کوئی بچہ پہلی مرتبہ ویکسین سے محروم رہ جائے تو اسے دوبارہ تلاش کرکے قطرے پلانا مہم کی کامیابی کے لیے ضروری ہے۔
اسی مقصد کے تحت فیلڈ ٹیموں کو بچوں کی نشاندہی اور دوبارہ رسائی کے لیے اقدامات کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
پنجاب حکومت کی انسدادِ پولیو حکمت عملی میں یہ پہلو اس لیے اہم قرار دیا جارہا ہے کہ مجموعی ہدف کے حصول کے ساتھ ساتھ ہر بچے تک رسائی کو یقینی بنایا جاسکے۔
مہم کی نگرانی مزید سخت بنانے کا فیصلہ
صوبائی ٹاسک فورس کے اجلاس میں مہم کے انتظامی اور فیلڈ آپریشنز کی نگرانی مزید سخت کرنے پر بھی زور دیا گیا۔
یو سی ایم اوز، ایریا انچارجز، ضلعی انتظامیہ اور محکمہ صحت کے افسران کو اپنی اپنی سطح پر مہم کی نگرانی کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
حکام کے مطابق ٹیموں کی حاضری، بچوں کی ویکسینیشن، مسڈ چلڈرن کی نشاندہی اور ہائی رسک علاقوں کی کوریج سمیت مختلف اشاریوں کو مانیٹر کیا جائے گا۔
صوبائی حکومت کا پولیو کے مکمل خاتمے کے عزم کا اعادہ
اجلاس کے اختتام پر پنجاب حکومت نے ایک مرتبہ پھر صوبے سے پولیو کے مکمل خاتمے کے عزم کا اعادہ کیا۔
صوبائی حکومت کے مطابق خصوصی مہم کا بنیادی مقصد پانچ سال تک کی عمر کے ہر بچے تک پولیو ویکسین پہنچانا اور ایسے علاقوں میں کوریج کو بہتر بنانا ہے جہاں بچوں تک رسائی نسبتاً مشکل ہے۔
21 سے 27 ستمبر تک جاری رہنے والی اس خصوصی مہم میں ایک کروڑ 6 لاکھ 48 ہزار سے زائد بچوں کو ویکسین کے قطرے پلانے کا ہدف، تقریباً 40 ہزار ٹیموں اور 77 ہزار سے زائد اہلکاروں کی تعیناتی، گھر گھر ویکسینیشن کے ساتھ فکسڈ اور ٹرانزٹ ٹیموں کی موجودگی اس مہم کے وسیع انتظامی دائرہ کار کی عکاسی کرتی ہے۔
پنجاب حکومت کا کہنا ہے کہ مہم کی کامیابی کے لیے صرف فیلڈ ٹیموں کی تعداد کافی نہیں بلکہ ضلعی انتظامیہ، محکمہ صحت اور متعلقہ افسران کی مسلسل نگرانی، مسڈ چلڈرن کی دوبارہ کوریج اور ہائی رسک و زیادہ نقل و حرکت والے علاقوں پر خصوصی توجہ بھی بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔



