صحتتازہ ترین

پمز نرسری سانحہ: 14 نومولود بچوں کی ہلاکت، 9 حکام کے خلاف فوجداری کارروائی شروع

یہ سانحہ پمز کے حفاظتی اور انتظامی نظام کے ساتھ ساتھ ملک کے بڑے سرکاری ہسپتالوں میں فائر سیفٹی اور ایمرجنسی رسپانس کے انتظامات پر بھی اہم سوالات اٹھا چکا ہے

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
سید عاطف ندیم-ادارت

اسلام آباد: پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کی نرسری میں 14 نومولود بچوں کی ہلاکت کے المناک واقعے کے بعد ذمہ دار قرار دیے گئے حکام کے خلاف فوجداری کارروائی آگے بڑھا دی گئی ہے، جبکہ سانحے کی جامع تحقیقاتی رپورٹ میں ہسپتال کے انتظامی، طبی اور فائر سیفٹی نظام میں سنگین خامیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔

26 اگست 2026 کو پمز کے مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ ہسپتال کی نرسری میں لگنے والی آگ کے نتیجے میں 14 نومولود بچے جاں بحق ہوئے تھے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر تشکیل دی گئی تحقیقاتی کمیٹی نے واقعے کی تحقیقات کرتے ہوئے ہسپتال کے انتظامی اور آپریشنل نظام، فائر سیفٹی انتظامات، ایمرجنسی رسپانس، عملے کی موجودگی اور حفاظتی اقدامات کا جائزہ لیا۔

تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق سانحے کے پس منظر میں محض آگ لگنے کا واقعہ نہیں بلکہ نظامی اور ادارہ جاتی ناکامیوں کا بھی اہم کردار سامنے آیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ فائر سیفٹی، ہنگامی انخلا، عملے کی دستیابی اور انتظامی نگرانی سمیت متعدد شعبوں میں مطلوبہ اقدامات موجود نہیں تھے یا مؤثر انداز میں نافذ نہیں کیے گئے۔

کن حکام کے خلاف کارروائی؟

حکام کے مطابق کارروائی کی زد میں پمز اور متعلقہ اداروں کے متعدد افسران شامل ہیں۔ ان میں پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر عمران سکندر، جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر مطاہر شاہ، ڈاکٹر اویس علی شاہ، شعبہ نیونیٹولوجی کی سربراہ پروفیسر ڈاکٹر سعدیہ ریاض، سینیئر رجسٹرار ڈاکٹر نغمہ، ڈاکٹر نوشیلا امجد، اسسٹنٹ ڈائریکٹر سیکیورٹی محمد عثمان اور سی ڈی اے ایمرجنسی سروسز کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر عبدالرحمن کے نام شامل ہیں۔

سرکاری طور پر 29 اگست کو وزیراعظم نے تحقیقاتی کمیٹی کی عبوری رپورٹ کی سفارشات پر آٹھ افسران کو معطل کرنے اور ذمہ دار عناصر کے خلاف محکمانہ و فوجداری کارروائی شروع کرنے کی منظوری دی تھی۔ بعد ازاں جامع تحقیقاتی عمل میں مزید ذمہ داریوں اور ممکنہ قانونی کارروائی کا جائزہ لیا گیا۔

ڈاکٹر عنیزہ جلیل کا نام بھی رپورٹ میں شامل

آپ کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق پمز کی ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر عنیزہ جلیل کا نام بھی حتمی تحقیقاتی رپورٹ میں شامل کیا گیا ہے اور ان کے خلاف کارروائی شروع کیے جانے کی اطلاع ہے۔ تاہم دستیاب سرکاری عبوری رپورٹ میں جن آٹھ افسران کے خلاف فوری معطلی اور کارروائی کی سفارش کی گئی تھی، ان میں ڈاکٹر عنیزہ جلیل کا نام شامل نہیں تھا۔ اس لیے ان کے خلاف موجودہ قانونی کارروائی کی نوعیت اور بنیاد کو حتمی طور پر رپورٹ یا متعلقہ حکام کی جانب سے واضح کیا جانا باقی ہے۔

تحقیقاتی رپورٹ میں فائر سیفٹی کی سنگین خامیاں

تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا کہ نرسری میں مؤثر فائر الارم اور اسپرنکلر سسٹم موجود نہیں تھا جبکہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مطلوبہ تیاری اور تربیت بھی ناکافی تھی۔

رپورٹ کے مطابق آگ کے بعد ہنگامی ردعمل میں بھی تاخیر ہوئی اور واقعے کے وقت ڈیوٹی روسٹر کے مطابق تمام متعلقہ طبی عملہ موجود نہیں تھا۔ نیونیٹولوجی یونٹ کی نگرانی اور عملے کی دستیابی کے حوالے سے بھی ذمہ داری کا تعین کیا گیا۔

تحقیقاتی کمیٹی نے یہ بھی نشاندہی کی کہ پمز کے نرسنگ ہاسٹل میں جولائی 2026 میں بھی آگ کا واقعہ پیش آیا تھا، جس کے بعد فائر سیفٹی، الارم، انخلا کے طریقہ کار اور دیگر حفاظتی اقدامات میں بہتری کی ضرورت کی نشاندہی کی گئی تھی، تاہم 26 اگست کے سانحے سے پہلے ان اقدامات پر مکمل عمل درآمد نہیں ہوسکا۔

آگ لگنے کی ممکنہ وجہ

جامع تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق آگ لگنے کی ممکنہ وجہ ایئرکنڈیشنر نمبر دو کی بجلی کی سپلائی کیبل میں پیدا ہونے والی خرابی قرار دی گئی ہے، تاہم رپورٹ نے مجموعی سانحے کو صرف ایک تکنیکی خرابی تک محدود نہیں کیا بلکہ اسے وسیع تر نظامی اور ادارہ جاتی ناکامیوں سے جوڑا ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ کسی فرد کی حتمی فوجداری ذمہ داری کا تعین الگ قانونی عمل کے ذریعے شواہد کی بنیاد پر کیا جائے گا۔

وزیر صحت کے استعفے کا مطالبہ

14 نومولود بچوں کی ہلاکت کے بعد وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال سے استعفے کا مطالبہ بھی سامنے آتا رہا ہے۔ تاہم دستیاب تحقیقاتی کارروائی میں وزیر صحت اور وفاقی سیکریٹری صحت کے خلاف اسی نوعیت کی فوجداری کارروائی کا اعلان سامنے نہیں آیا جس کا سامنا تحقیقاتی رپورٹ میں نامزد پمز اور متعلقہ اداروں کے بعض افسران کو ہے۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قومی صحت خدمات نے بھی سانحے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ذمہ دار افراد کے خلاف قانونی کارروائی، فائر سیفٹی نظام، عملے کی تربیت، ایمرجنسی تیاری اور ہسپتال کے انتظامی ڈھانچے کی مکمل جانچ کا مطالبہ کیا تھا۔

مزید قانونی کارروائی متوقع

تحقیقاتی رپورٹ کی روشنی میں فوجداری اور محکمانہ کارروائی کا عمل آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ حکام کے مطابق تحقیقات میں متعلقہ افسران کے بیانات، سی سی ٹی وی فوٹیج، فائر سیفٹی ریکارڈ، انتظامی دستاویزات اور دیگر شواہد کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

14 نومولود بچوں کی ہلاکت کا یہ سانحہ پمز کے حفاظتی اور انتظامی نظام کے ساتھ ساتھ ملک کے بڑے سرکاری ہسپتالوں میں فائر سیفٹی اور ایمرجنسی رسپانس کے انتظامات پر بھی اہم سوالات اٹھا چکا ہے۔ تحقیقاتی رپورٹ کی سفارشات پر عمل درآمد اور قانونی کارروائی کے نتائج سے یہ واضح ہوگا کہ انفرادی ذمہ داری کہاں تک طے ہوتی ہے اور ادارہ جاتی سطح پر کون سی اصلاحات مستقل بنیادوں پر نافذ کی جاتی ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button