پاکستاناہم خبریں

ایرانی وزیر خارجہ کی آرمی چیف عاصم منیر سے ٹیلی فونک گفتگو، علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال

بیانات کے باوجود جنگ کے فوری خاتمے یا کسی نئے معاہدے کے حوالے سے کوئی حتمی اعلان سامنے نہیں آیا۔

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
سید عاطف ندیم-ادارت

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا ہے، جس میں خطے کی تازہ صورتحال اور جاری تنازعات سے متعلق پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ گفتگو بدھ کو عباس عراقچی کے دورۂ بیجنگ کے دوران ہوئی۔ رابطہ ایسے وقت میں ہوا جب امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات تعطل کا شکار ہیں اور خطے میں جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔

چینی وزارت خارجہ کے مطابق عباس عراقچی نے 16 ستمبر کو بیجنگ کا دورہ کیا جہاں انہوں نے چینی وزیر خارجہ وانگ یی سے ملاقات کی۔ دونوں جانب سے علاقائی صورتحال، کشیدگی میں کمی اور سفارتی راستے تلاش کرنے پر بات چیت ہوئی۔

واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات میں تعطل

امریکا اور ایران کے درمیان جاری تنازع کے دوران مذاکرات کی بحالی ایک اہم سفارتی معاملہ بن چکی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ انہیں امید ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ اختتام کی جانب بڑھ رہی ہے۔

ٹرمپ نے ایران کے بارے میں کہا کہ تہران معاہدہ کرنا چاہتا ہے اور واشنگٹن دیکھے گا کہ معاملات کس سمت آگے بڑھتے ہیں۔ امریکی صدر نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ انہیں ایران کی جانب سے براہِ راست پیغام موصول ہوا ہے، تاہم انہوں نے اس پیغام کی تفصیلات بیان نہیں کیں۔

تاہم، ان بیانات کے باوجود جنگ کے فوری خاتمے یا کسی نئے معاہدے کے حوالے سے کوئی حتمی اعلان سامنے نہیں آیا۔

ٹرمپ کی خلیجی رہنماؤں سے ملاقات متوقع

دوسری جانب امریکی ویب سائٹ Axios نے رپورٹ کیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ آئندہ منگل، 22 ستمبر کو نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک کے رہنماؤں یا وزرائے خارجہ سے ملاقات کر سکتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق متوقع ملاقات میں ایران کے ساتھ جاری جنگ اور تنازع کے بعد امریکی حکمت عملی پر تبادلہ خیال متوقع ہے۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین، کویت اور عمان کے نمائندے اس ملاقات میں شریک ہو سکتے ہیں۔

Axios کے مطابق امریکی انتظامیہ ایران کے ساتھ جنگ کے بعد کی صورتحال سے متعلق ایک وسیع حکمت عملی پر کام کر رہی ہے، جبکہ اس معاملے پر خلیجی ممالک کے ساتھ مشاورت بھی اہم سمجھی جا رہی ہے۔

خطے میں کشیدگی اور پاکستان کا سفارتی کردار

ایرانی وزیر خارجہ اور پاکستانی آرمی چیف کے درمیان رابطہ ایسے وقت ہوا ہے جب مشرق وسطیٰ میں متعدد محاذوں پر کشیدگی برقرار ہے۔ ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان تنازع کے علاوہ یمن اور بحیرہ احمر کے معاملات نے بھی علاقائی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

حالیہ دنوں میں پاکستان نے مختلف فریقوں کے ساتھ رابطوں کے ذریعے کشیدگی کم کرنے اور سفارتی راستوں کو فعال رکھنے پر زور دیا ہے۔ پاکستان کے لیے ایک طرف ایران کے ساتھ ہمسایہ اور سفارتی تعلقات اہم ہیں تو دوسری جانب سعودی عرب کے ساتھ اس کے دفاعی اور تزویراتی تعلقات بھی خطے کی موجودہ صورتحال میں اہمیت رکھتے ہیں۔

اسی تناظر میں عباس عراقچی کا پاکستانی عسکری قیادت سے رابطہ علاقائی صورتحال پر جاری سفارتی رابطہ کاری کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے، تاہم دونوں جانب سے گفتگو کی مکمل تفصیلات عوامی سطح پر جاری نہیں کی گئیں۔

تیل اور گیس کی قیمتوں پر دباؤ

ایران کے ساتھ جاری جنگ اور خطے میں توانائی کے اہم راستوں سے متعلق خطرات نے عالمی تیل و گیس مارکیٹ کو بھی متاثر کیا ہے۔ Reuters کے مطابق تنازع کے باعث توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے اور یہ معاملہ امریکی داخلی سیاست میں بھی اہمیت اختیار کر گیا ہے، خصوصاً نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل۔

ایران کے حوالے سے جنگ، آبنائے ہرمز اور خطے کے دیگر اہم بحری راستوں میں کشیدگی عالمی توانائی کی ترسیل اور سپلائی چین کے لیے بھی باعثِ تشویش بنی ہوئی ہے۔ چین نے بھی حالیہ سفارتی رابطوں میں آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے، کشیدگی کم کرنے اور امریکا و ایران کے درمیان مذاکرات کی بحالی پر زور دیا ہے۔

جنگ کے خاتمے کے امکانات پر غیر یقینی برقرار

امریکی صدر کی جانب سے جنگ کے خاتمے کی امید ظاہر کیے جانے اور خلیجی رہنماؤں کے ساتھ ممکنہ ملاقات کی اطلاعات کے باوجود ایران، امریکا اور خطے کے دیگر فریقوں کے درمیان بنیادی اختلافات بدستور موجود ہیں۔

اس صورتحال میں عباس عراقچی اور عاصم منیر کے درمیان رابطہ، بیجنگ میں ایرانی اور چینی قیادت کی بات چیت اور نیویارک میں متوقع امریکی و خلیجی مشاورت خطے میں جاری سفارتی سرگرمیوں کی اہم کڑیاں بن گئے ہیں۔ تاہم کسی حتمی جنگ بندی یا نئے معاہدے کے لیے فریقین کے درمیان مزید مذاکرات اور عملی پیش رفت درکار ہوگی۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button