اہم خبریںپاکستان

وزیرآباد میں سہیل آفریدی کی سکیورٹی پر مامور کانسٹیبل کے مبینہ اغوا اور تشدد کا مقدمہ درج

پی ٹی آئی رہنما محمد احمد چٹھہ، فیاض احمد چٹھہ سمیت 65 معلوم اور 25 سے 30 نامعلوم افراد نامزد، انسداد دہشت گردی ایکٹ سمیت متعدد دفعات شامل

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
قیصر مقصود مغل-ادارت

لاہور: پنجاب کے ضلع وزیرآباد میں خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی کی سکیورٹی پر مامور پولیس کانسٹیبل کو مبینہ طور پر اغوا کرنے، تشدد کا نشانہ بنانے، سرکاری سامان اور نقدی چھیننے اور سرکاری اہلکار کو فرائض کی انجام دہی سے روکنے کے الزام میں پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

تھانہ صدر وزیرآباد میں درج ایف آئی آر کے مطابق مقدمے میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 7 کے علاوہ پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 382، 365، 353، 186، 341، 431، 148، 149 اور 188 شامل کی گئی ہیں۔ ایف آئی آر میں پی ٹی آئی رہنما محمد احمد چٹھہ اور فیاض احمد چٹھہ سمیت 65 معلوم افراد کو نامزد کیا گیا ہے، جبکہ 25 سے 30 نامعلوم افراد کو بھی مقدمے میں شامل کیا گیا ہے۔

واقعہ کیسے پیش آیا؟

ایف آئی آر کے مطابق واقعہ 16 ستمبر کو سہ پہر تقریباً 4 بج کر 45 منٹ پر محفوظ گارڈن کے قریب پیش آیا، جہاں کانسٹیبل مقدس علی وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی سکیورٹی اور امن و امان کی ڈیوٹی پر مامور تھے۔

مقدمے کے متن کے مطابق اس مقام پر پی ٹی آئی کارکنوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی اور نادرا دفتر کے سامنے سڑک بند کرکے حکومت کے خلاف نعرے بازی کی جا رہی تھی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مظاہرین سے راستہ کھولنے کے لیے کہا گیا تو تلخ کلامی شروع ہوگئی، جس کے بعد بعض افراد نے پولیس اہلکاروں سے مبینہ طور پر ہاتھا پائی کی۔

ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ محمد احمد چٹھہ نے مبینہ طور پر کارکنوں کو پولیس کے خلاف کارروائی پر اکسایا، جس کے بعد مظاہرین نے پولیس اہلکاروں کو دھکے دیے، گالم گلوچ کی اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں۔

کانسٹیبل کو مبینہ طور پر ساتھ لے جانے کا الزام

پولیس کے مطابق ایف آئی آر میں الزام لگایا گیا ہے کہ فیاض احمد چٹھہ، ایک مسلح گن مین اور دیگر افراد نے کانسٹیبل مقدس علی کو مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا اور زبردستی اپنے ساتھ لے گئے۔

ایف آئی آر کے مطابق کانسٹیبل کو ایک شخص رفیق کے گھر لے جایا گیا، جہاں مبینہ طور پر ان سے سرکاری وائرلیس سیٹ، پرس، سروس کارڈ، شناختی کارڈ اور دیگر دستاویزات کے علاوہ 9,700 روپے نقدی بھی لے لی گئی۔

پولیس کے مطابق کانسٹیبل کے کپڑے بھی پھاڑے گئے اور انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ ان الزامات کی مزید قانونی تفتیش مقدمے کے دوران کی جائے گی۔

ایک روز پہلے وزیراعلیٰ کا مختلف دعویٰ

یہ مقدمہ اس واقعے کے ایک روز بعد درج کیا گیا جس میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے دعویٰ کیا تھا کہ وزیرآباد میں ان کی سکیورٹی ٹیم نے ایک مشتبہ مسلح شخص کو گرفتار کیا جو مبینہ طور پر انہیں قتل کرنے کے لیے بھیجا گیا تھا۔

سہیل آفریدی نے ایک ویڈیو بیان میں کہا تھا کہ مشتبہ شخص ان کے قریب آیا اور ان کی سکیورٹی ٹیم نے اسے قابو کرلیا، جبکہ ان کے مطابق اس کے قبضے سے پستول بھی برآمد ہوئی اور اسے پولیس کے حوالے کردیا گیا۔

تاہم گوجرانوالہ پولیس نے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ جس شخص کو مشتبہ حملہ آور سمجھا گیا وہ دراصل کانسٹیبل مقدس علی تھا، جو وزیراعلیٰ کی سکیورٹی ڈیوٹی پر مامور تھا۔ پولیس کے مطابق کانسٹیبل نے اپنی شناخت بھی ظاہر کی تھی۔

پولیس کے مطابق اہلکار کو مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد مقامی پولیس نے مداخلت کرکے اسے سکیورٹی ٹیم سے واپس لیا۔

سیاسی کشیدگی کے دوران پیش آنے والا واقعہ

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی ان دنوں پنجاب میں پی ٹی آئی کی سیاسی سرگرمیوں کے سلسلے میں موجود تھے۔ خیبر پختونخوا حکومت کے مطابق انہوں نے پنجاب میں پارٹی کارکنوں سے رابطے اور سیاسی سرگرمیوں میں شرکت کی۔

وزیراعلیٰ نے پنجاب میں پولیس کارروائیوں، کارکنوں کی گرفتاریوں اور راستوں کی بندش پر بھی اعتراضات اٹھائے ہیں۔ دوسری جانب پنجاب پولیس نے وزیرآباد کے واقعے میں گرفتار کیے گئے شخص کے بارے میں ان کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے اسے پولیس اہلکار قرار دیا۔

مزید تفتیش جاری

نئے مقدمے میں پولیس نے مبینہ اغوا، تشدد، سرکاری اہلکار کو فرائض سے روکنے، سرکاری سامان اور نقدی چھیننے، سڑک بند کرنے، ہنگامہ آرائی اور دفعہ 144 کی مبینہ خلاف ورزی سمیت متعدد الزامات عائد کیے ہیں۔

اب تفتیش میں یہ تعین کیا جائے گا کہ کانسٹیبل مقدس علی کے ساتھ واقعے کے دوران کیا ہوا، انہیں کس نے اور کہاں لے جایا، مبینہ طور پر تشدد اور سامان چھیننے میں کون افراد ملوث تھے، جبکہ ایف آئی آر میں نامزد افراد کے خلاف عائد الزامات کے شواہد بھی جمع کیے جائیں گے۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے وزیرآباد میں پیش آنے والے سکیورٹی واقعے کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

یوں وزیرآباد کا یہ واقعہ ایک ہی وقت میں وزیراعلیٰ کے سکیورٹی خدشات، پولیس کے مختلف مؤقف اور پی ٹی آئی کارکنوں کے خلاف درج ہونے والے مقدمے کے باعث سیاسی اور قانونی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ واقعے کے اصل حالات اور ذمہ داری کا حتمی تعین تفتیش اور عدالتی کارروائی کے بعد ہی ہوسکے گا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button