پاکستان پریس ریلیزاہم خبریں

ژوب جیل سے سپریم کورٹ کے جعلی احکامات پر دو قیدیوں کی رہائی کا انکشاف

منشیات کے مقدمات میں طویل قید کی سزا پانے والے دو قیدی جعلی عدالتی احکامات پر رہا، 15 ماہ بعد مقدمہ درج، سہولت کاروں کی تلاش شروع

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
سید عاطف ندیم-ادارت

ژوب: بلوچستان کے ضلع ژوب کی سینٹرل جیل سے منشیات کے مقدمات میں قید دو افراد کو سپریم کورٹ سے منسوب مبینہ جعلی رہائی کے احکامات کی بنیاد پر رہا کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ واقعہ مئی 2025 میں پیش آیا تھا، تاہم جیل انتظامیہ کی اندرونی فیکٹ فائنڈنگ انکوائری مکمل ہونے کے بعد اب پولیس کو درخواست بھیجے جانے پر مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق دونوں قیدیوں کی رہائی کے لیے مبینہ طور پر سپریم کورٹ کے نام سے جعلی عدالتی احکامات تیار کیے گئے، جنہیں جیل حکام کے سامنے پیش کیا گیا اور انہی دستاویزات کی بنیاد پر دونوں افراد کو اگلے روز جیل سے رہا کر دیا گیا۔

دونوں قیدیوں کو 2018 کے منشیات کیسز میں سزا ہوئی تھی

ژوب جیل کے سپرنٹنڈنٹ چٹھہ خان سومرو کے مطابق ضلع نصیرآباد کے رہائشی عبدالسلام اور کوئٹہ کے علاقے سملی کے رہائشی امان اللہ کو 2018 کے منشیات کے مقدمات میں 25، 25 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

جیل حکام کے مطابق دونوں قیدیوں کو اکتوبر 2024 میں سینٹرل جیل ژوب منتقل کیا گیا تھا اور وہ اپنی سزا وہیں کاٹ رہے تھے۔

نامعلوم شخص نے جیل گیٹ پر دو لفافے پہنچائے

سٹی تھانہ ژوب میں 30 اگست کو درج ایف آئی آر کے مطابق واقعہ 29 مئی 2025 کی شام پیش آیا، جب ایک نامعلوم شخص نے جیل کے مرکزی دروازے پر تعینات اہلکار کو دو خاکی لفافے دیے۔

ایف آئی آر کے متن کے مطابق دونوں لفافوں میں سپریم کورٹ سے منسوب رہائی کے احکامات موجود تھے۔ ہر حکم مبینہ طور پر آٹھ صفحات پر مشتمل تھا۔

دستاویزات موصول ہونے کے بعد ان کی بنیاد پر 30 مئی 2025 کو دونوں قیدیوں کو جیل سے رہا کر دیا گیا۔

بعد ازاں جب ان احکامات کی تصدیق اور واقعے کی حقیقت جاننے کے لیے فیکٹ فائنڈنگ انکوائری کی گئی تو یہ دستاویزات جعلی ثابت ہوئیں، جس کے بعد معاملے کو قانونی کارروائی کے لیے پولیس کے حوالے کیا گیا۔

جعل سازی اور قیدیوں کے فرار سے متعلق دفعات کے تحت مقدمہ

پولیس نے مفرور قیدیوں، ان کے مبینہ سہولت کاروں اور دیگر ملوث افراد کے خلاف تعزیرات پاکستان کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔

ایف آئی آر میں دفعہ 466، 468، 471، 223 اور 225-A شامل کی گئی ہیں۔ یہ دفعات سرکاری یا عدالتی دستاویزات میں جعل سازی، جعلی دستاویز تیار کرنے، اسے اصلی ظاہر کرکے استعمال کرنے اور سرکاری اہلکار کی غفلت یا لاپرواہی کے نتیجے میں قیدی کے فرار سے متعلق ہیں۔

پولیس نے مفرور قیدیوں کی تلاش شروع کردی

ایس پی ژوب عبدالصبور کاکڑ نے ایف آئی آر کے اندراج کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پولیس نے دونوں مفرور قیدیوں کی گرفتاری کے لیے کارروائی شروع کر دی ہے اور مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

ان کے مطابق پولیس اس معاملے کے مختلف پہلوؤں کی تحقیقات کر رہی ہے، جن میں یہ معلوم کرنا بھی شامل ہے کہ مبینہ جعل سازی میں کون کون افراد ملوث تھے، قیدیوں کو جیل سے نکلنے میں کس نے اور کس طرح مدد فراہم کی اور سپریم کورٹ سے منسوب جعلی احکامات کہاں اور کس طرح تیار کیے گئے۔

پولیس حکام کے مطابق دستاویزات کی تیاری، جیل تک ان کی ترسیل اور قیدیوں کی رہائی کے پورے عمل میں ملوث افراد کا کردار تحقیقات کے ذریعے سامنے لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

جیل اہلکاروں کے خلاف بھی کارروائی

جیل حکام کے مطابق مبینہ غفلت اور لاپرواہی کے معاملے پر سابق سپرنٹنڈنٹ جیل حبیب اللہ، ڈیٹا انٹری آپریٹر سدا گل اور کلرک عبدالجلیل کو معطل کر دیا گیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ جیل کے متعلقہ اہلکاروں کا کردار متعین کرنے کے لیے الگ سے باقاعدہ محکمانہ انکوائری بھی جاری ہے۔ اس انکوائری میں یہ دیکھا جا رہا ہے کہ جعلی عدالتی احکامات کی تصدیق کیے بغیر قیدیوں کی رہائی کیسے عمل میں آئی اور جیل کے ریکارڈ اور تصدیقی نظام میں کہاں غفلت ہوئی۔

15 ماہ بعد مقدمہ کیوں درج ہوا؟

پولیس حکام کے مطابق یہ واقعہ تقریباً 15 ماہ قبل پیش آیا تھا، تاہم مقدمہ فوری طور پر درج نہیں کیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ جیل انتظامیہ کی جانب سے پہلے اندرونی فیکٹ فائنڈنگ انکوائری کی گئی، جس کے مکمل ہونے کے بعد پولیس کو قانونی کارروائی کے لیے درخواست بھیجی گئی۔

جیل انتظامیہ کا کہنا ہے کہ جعلی احکامات ثابت ہونے کے بعد مفرور قیدیوں، ان کے مبینہ نامعلوم سہولت کاروں، جعلی دستاویزات تیار کرنے اور فراہم کرنے والے افراد سمیت دیگر ممکنہ ملوث عناصر کے خلاف قانونی کارروائی کے لیے پولیس سے رجوع کیا گیا۔

واقعے کی تحقیقات اب پولیس کے پاس ہیں، جبکہ مفرور قیدیوں کی گرفتاری، مبینہ جعلی عدالتی احکامات تیار کرنے والے عناصر کی شناخت اور جیل کے اندر ممکنہ غفلت کے تعین کے لیے الگ الگ کارروائیاں جاری ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button