یورپتازہ ترین

جرمنی: صوبائی الیکشن میں اے ایف ڈی اور ایس پی ڈی کے مابین کانٹے دار مقابلہ متوقع

انہوں نے مزید کہا، ’’ہم اے ایف ڈی میں حکومت کی ذمہ داری سنبھالنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔‘‘

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
جواد احمد-ادارت

 جرمنی کی دائیں بازو کی جماعت متبادل برائے جرمنی (اے ایف ڈی) نے اتوار کو میکلن برگ فورپومیرن کے صوبائی انتخابات سے قبل اپنی انتخابی مہم کے آخری مرحلے میں ووٹروں کو متحرک کرنے کی کوشش تیز کر دی ہے۔

مہاجرت مخالف اے ایف ڈی کے سرکردہ امیدوار اینریکو شُولٹ نے ہفتے کے روز ڈیمِن شہر میں منعقدہ انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ’’ہم اس ریاست کو نیلا (اے ایف ڈی کے رنگ میں) بنانا چاہتے ہیں۔ سروے کے نتائج سے پریشان نہ ہوں۔‘‘

انہوں نے مزید کہا، ’’ہم اے ایف ڈی میں حکومت کی ذمہ داری سنبھالنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔‘‘

زیڈ ڈی ایف پولیٹ بارومیٹر کے تازہ ترین سروے کے مطابق موجودہ وزیر اعلیٰ مانوئیلا شویزگ کی سوشل ڈیموکریٹک پارٹی (SPD) معمولی برتری کے ساتھ 37 فیصد حمایت حاصل کیے ہوئے ہے، جبکہ اے ایف ڈی 36 فیصد کے ساتھ اس کے بالکل قریب ہے۔

جرمنی، روسٹاک، 12 ستمبر 2026 جرمنی کی دائیں بازو کی جماعت متبادل برائے جرمنی (AfD) کا ایک معلوماتی اسٹال روسٹاک میں نظر آ رہا ہے۔ دو ہفتے قبل سکسنی انہالٹ میں کامیابی کے بعد میکلن برگ فورپومیرن کے انتخابات میں بھی اے ایف ڈی کی کارکردگی پر خاص توجہ مرکوز ہے۔
میکلن برگ فورپومیرن میں صوبائی الیکشن کا انعقاد اتوار کو ہو رہا ہے، فائل فوٹوتصویر: Tasneem Zahra/DW

سروے کے مطابق بائیں بازو کی جماعت (دی لنکے) 9 فیصد، سی ڈی یو 6 فیصد، گرینز 5 فیصد جبکہ بی ایس ڈبلیو چار فیصد ووٹ حاصل کر سکتی ہے۔

یہ انتخاب ایسے وقت میں ہو رہا ہے، جب دو ہفتے قبل اے ایف ڈی نے مشرقی جرمنی کی ریاست سیکسنی انہالٹ کے صوبائی انتخابات میں نمایاں کامیابی حاصل کی تھی۔

میکلن برگ فورپومیرن اور برلن، جہاں اتوار کو ہی ووٹنگ ہو رہی ہے، رواں سال جرمنی کے پانچ ریاستی انتخابات کی آخری دو اہم آزمائشیں ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ان انتخابات نے چانسلر فریڈرش میرس کی اتحادی حکومت سے متعلق عوامی بے اطمینانی کو نمایاں کیا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button