یورپتازہ ترین

کینیڈا کا امریکی دفاعی انحصار کم کرنے کی جانب اہم قدم، برطانیہ کی زیرقیادت جے ای ایف میں شمولیت کی باضابطہ درخواست

کینیڈا نے باضابطہ طور پر جے ای ایف میں شمولیت کے لیے درخواست دے دی ہے جبکہ انہوں نے کینیڈا کی شرکت کے لیے برطانیہ کی حمایت کو سراہا۔

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service

لندن/اوٹاوا: کینیڈا نے امریکا پر اپنے دفاعی انحصار کو متنوع بنانے اور یورپی اتحادیوں کے ساتھ فوجی و دفاعی تعاون مزید مضبوط کرنے کی سمت ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے برطانیہ کی زیرقیادت جوائنٹ ایکسپیڈیشنری فورس (JEF) میں شمولیت کے لیے باضابطہ درخواست دے دی ہے۔

کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی نے برطانیہ کے دورے کے دوران اس پیش رفت کا اعلان کیا۔ کینیڈین وزیراعظم کے دفتر کے مطابق کارنی نے برطانیہ کی جانب سے کینیڈا کی جے ای ایف میں شرکت کی حمایت کا خیرمقدم کیا ہے۔ یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اوٹاوا اپنی دفاعی، اقتصادی اور تزویراتی شراکت داریوں کو امریکا سے آگے بڑھاتے ہوئے یورپ کے ساتھ تعلقات کو مزید وسعت دینے کی کوشش کر رہا ہے۔

برطانیہ کے ساتھ دفاعی تعاون میں مزید وسعت

مارک کارنی نے برطانیہ کے وزیراعظم اینڈی برنہم سے شمالی انگلینڈ میں ملاقات کی، جس میں دونوں ممالک کے درمیان دفاعی اور سکیورٹی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے امکانات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

کینیڈین وزیراعظم کے دفتر کے مطابق دونوں رہنماؤں نے کینیڈا اور برطانیہ کے درمیان پہلے سے موجود قریبی تاریخی تعلقات اور مشترکہ اقدار کے ساتھ ساتھ بڑھتی ہوئی دفاعی و سکیورٹی شراکت داری پر بھی بات چیت کی۔

ملاقات کے دوران کارنی نے اعلان کیا کہ کینیڈا نے باضابطہ طور پر جے ای ایف میں شمولیت کے لیے درخواست دے دی ہے جبکہ انہوں نے کینیڈا کی شرکت کے لیے برطانیہ کی حمایت کو سراہا۔

کینیڈا اور برطانیہ نے دفاعی صنعتی تعاون کے مزید مواقع تلاش کرنے پر بھی اتفاق کیا، جبکہ دونوں رہنماؤں نے جدید لڑاکا طیاروں سے متعلق گلوبل کومبیٹ ایئر پروگرام (GCAP) کے تحت تعاون پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

کینیڈا نے جولائی 2026 میں GCAP میں مبصر کی حیثیت سے شمولیت اختیار کی تھی۔ کینیڈین حکومت کے مطابق اس پروگرام کے ذریعے دفاعی صنعت، جدید ٹیکنالوجی اور مستقبل کے جنگی فضائی نظام سے متعلق تعاون کے امکانات پر کام کیا جا رہا ہے۔

جے ای ایف کیا ہے؟

جوائنٹ ایکسپیڈیشنری فورس برطانیہ کی قیادت میں قائم ایک ہائی ریڈی نیس دفاعی شراکت داری ہے، جس میں اس وقت 10 یورپی نیٹو رکن ممالک شامل ہیں۔

اس اتحاد میں برطانیہ ڈنمارک ,ایسٹونیا ,فن لینڈ ,آئس لینڈ ,لٹویا ,لیتھوانیا ,نیدرلینڈز ,ناروے ,سویڈن شامل ہیں۔ برطانیہ اس گروپ کا فریم ورک یا قائد ملک ہے۔

جے ای ایف کو کسی مستقل الگ فوج کے طور پر نہیں بنایا گیا بلکہ یہ مختلف ممالک کی مسلح افواج کے درمیان ایسا دفاعی فریم ورک ہے جس کے ذریعے رکن ممالک مشترکہ تربیت، فوجی مشقوں اور بحران کی صورت میں تیز رفتار ردعمل کی صلاحیت کو بہتر بناتے ہیں۔

برطانوی اور ڈینش دفاعی حکام کے مطابق جے ای ایف کی سرگرمیوں میں خاص طور پر شمالی یورپ، بحیرہ بالٹک، شمالی بحرِ اوقیانوس اور آرکٹک کے قریب علاقوں کی سکیورٹی کو اہمیت حاصل ہے، تاہم اس کا تعاون ان علاقوں تک محدود نہیں ہے۔

کینیڈا کی درخواست کی اہمیت

کینیڈا پہلے ہی نیٹو کا رکن ہے، اس لیے جے ای ایف میں شمولیت کو نیٹو سے الگ کوئی متبادل فوجی اتحاد قرار نہیں دیا جا رہا۔ برطانوی پارلیمانی تحقیق کے مطابق جے ای ایف ایک ایسا دفاعی فریم ورک ہے جو نیٹو کی سرگرمیوں کے ساتھ تعاون کرتا ہے اور بحران کے دوران رکن ممالک کے درمیان تیز رفتار رابطے اور فوجی تعاون کو آسان بناتا ہے۔

کینیڈا کی درخواست کا اہم پہلو یہ ہے کہ اوٹاوا اپنی دفاعی شراکت داری کو مزید وسیع کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ رائٹرز کے مطابق کینیڈا کی جانب سے جے ای ایف میں شمولیت کی درخواست کو امریکا پر دفاعی انحصار کم کرنے اور یورپی ممالک کے ساتھ فوجی تعاون بڑھانے کی حکمت عملی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔

اس اقدام سے کینیڈا کو شمالی یورپ، شمالی بحرِ اوقیانوس اور آرکٹک خطے میں دفاعی تعاون کے موجودہ یورپی ڈھانچوں کے ساتھ مزید قریبی رابطے کا موقع مل سکتا ہے۔

آرکٹک اور شمالی بحرِ اوقیانوس کی سکیورٹی بھی اہم

کینیڈا کے لیے جے ایف میں شمولیت کا ایک اہم پہلو جغرافیائی بھی ہے۔ کینیڈا کا وسیع شمالی علاقہ آرکٹک خطے تک پھیلا ہوا ہے جبکہ جے ایف کے متعدد ارکان بھی شمالی یورپ، نورڈک خطے اور شمالی بحرِ اوقیانوس سے متعلق دفاعی تعاون میں سرگرم ہیں۔

جے ایف کے موجودہ رکن ممالک پہلے ہی شمالی یورپ، بحیرہ بالٹک اور آرکٹک کے قریب علاقوں میں مشترکہ دفاعی سرگرمیوں اور فوجی مشقوں پر توجہ دیتے ہیں۔ برطانوی حکومت کے مطابق جے ایف کو ایسے خطرات سے نمٹنے کے لیے ہائی ریڈی نیس اور قابلِ موافقت دفاعی فریم ورک کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔

کینیڈا کی شمولیت کی صورت میں شمالی بحرِ اوقیانوس اور آرکٹک سے متعلق دفاعی تعاون میں جغرافیائی دائرہ مزید وسیع ہو سکتا ہے، تاہم کینیڈا کی درخواست کو باضابطہ رکنیت میں تبدیل کرنے کا عمل ابھی مکمل ہونا باقی ہے۔

دفاعی صنعت میں تعاون پر بھی پیش رفت

مارک کارنی اور اینڈی برنہم کی ملاقات میں صرف فوجی تعاون ہی نہیں بلکہ دفاعی صنعت کے شعبے میں تعاون کے امکانات بھی زیر بحث آئے۔

دونوں رہنماؤں نے گلوبل کومبیٹ ایئر پروگرام کے تحت دفاعی صنعتی تعاون کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا۔ کینیڈا جولائی 2026 میں اس پروگرام میں مبصر کی حیثیت سے شامل ہوا تھا۔

کینیڈین وزیراعظم کے دفتر کے مطابق دونوں ممالک نے جدید ٹیکنالوجی، دفاعی صنعت اور مستقبل کے سکیورٹی چیلنجز سے متعلق تعاون بڑھانے کی خواہش کا اظہار کیا۔

اس کے علاوہ کینیڈا اور برطانیہ British Army Training Unit Suffield (BATUS) کو جدید بنانے کے منصوبے پر بھی کام کر رہے ہیں۔ کینیڈین حکومت کے مطابق BATUS Future Project کے تحت البرٹا میں واقع اس تربیتی مرکز کو نئے فوجی سازوسامان اور جدید ٹیکنالوجی کی تیاری و آزمائش کے لیے مزید جدید بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

اقتصادی اور ٹیکنالوجی تعاون بھی ایجنڈے میں

کارنی اور برنہم کی ملاقات میں دفاع کے علاوہ اقتصادی تعاون اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں پر بھی بات ہوئی۔

دونوں رہنماؤں نے تجارت، ٹیکنالوجی اور دفاع میں تعاون بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا جبکہ مصنوعی ذہانت سمیت فرنٹیئر ٹیکنالوجیز کے محفوظ اور ذمہ دارانہ استعمال کے لیے تعاون جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا۔

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کینیڈا اور برطانیہ کے درمیان بڑھتی ہوئی شراکت داری کو صرف روایتی دفاعی تعاون تک محدود رکھنے کے بجائے ٹیکنالوجی، صنعت، معیشت اور سکیورٹی کے وسیع تر شعبوں تک پھیلانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

یورپ کے ساتھ کینیڈا کے بڑھتے ہوئے روابط

جے ای ایف میں شمولیت کی درخواست کینیڈا کے یورپی ممالک کے ساتھ تعلقات میں وسیع تر پیش رفت کے پس منظر میں سامنے آئی ہے۔

وزیراعظم کارنی کے حالیہ یورپی روابط میں دفاع، توانائی، ٹیکنالوجی، اہم معدنیات اور اقتصادی تعاون جیسے شعبے نمایاں رہے ہیں۔ کینیڈین حکومت نے بھی یورپی شراکت داروں کے ساتھ روابط مضبوط کرنے کو اپنی وسیع تر تزویراتی ترجیحات کا حصہ قرار دیا ہے۔

اسی تناظر میں جے ای ایف میں شمولیت کی درخواست کو کینیڈا کی جانب سے اپنی دفاعی شراکت داریوں کو وسیع کرنے کے ایک اہم اقدام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

امریکا سے تعلقات ختم نہیں، دفاعی شراکت داریوں میں تنوع

کینیڈا کی جے ای ایف میں شمولیت کی درخواست کو امریکا کے ساتھ اس کے موجودہ دفاعی تعلقات کے خاتمے کے طور پر پیش کرنا درست نہیں ہوگا۔ کینیڈا اب بھی نیٹو کا رکن ہے اور امریکا کے ساتھ اس کے طویل عرصے سے قائم دفاعی و سکیورٹی روابط موجود ہیں۔

تاہم حالیہ پیش رفت سے یہ ضرور ظاہر ہوتا ہے کہ اوٹاوا اپنی قومی سلامتی اور دفاعی ضروریات کے لیے شراکت داریوں کے دائرے کو وسیع کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

کینیڈین حکومت نے یورپی ممالک کے ساتھ دفاعی تعاون، دفاعی صنعتی روابط، جدید ٹیکنالوجی اور مشترکہ سکیورٹی صلاحیتوں کو بڑھانے پر زیادہ توجہ دینا شروع کی ہے۔ جے ایف میں شمولیت کی درخواست اسی وسیع تر پالیسی کا ایک حصہ دکھائی دیتی ہے۔

جے ایف میں کینیڈا کی شمولیت سے ممکنہ اثرات

اگر کینیڈا کی درخواست منظور ہوتی ہے تو وہ جے ایف کا پہلا غیر یورپی رکن بن جائے گا۔ اس سے تنظیم کا جغرافیائی دائرہ شمالی یورپ سے آگے شمالی امریکا تک پھیل جائے گا اور کینیڈا کے ساتھ آرکٹک اور شمالی بحرِ اوقیانوس سے متعلق دفاعی تعاون کے نئے امکانات پیدا ہوں گے۔

تاہم رکنیت کی درخواست اور عملی شمولیت دو الگ مراحل ہیں۔ موجودہ سرکاری بیان میں کینیڈا نے درخواست اور برطانیہ کی حمایت کی تصدیق کی ہے، جبکہ حتمی رکنیت کے طریقہ کار اور آئندہ اقدامات کی تفصیلات الگ مرحلے میں سامنے آنا باقی ہیں۔

مجموعی طور پر کینیڈا کا جے ای ایف میں شمولیت کے لیے قدم اس کی دفاعی پالیسی میں شراکت داریوں کو متنوع بنانے، یورپی اتحادیوں کے ساتھ فوجی تعاون بڑھانے اور شمالی بحرِ اوقیانوس و آرکٹک سے متعلق سکیورٹی تعاون میں زیادہ فعال کردار ادا کرنے کی کوشش کی عکاسی کرتا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button