
سعودی عرب کا دفاعی شراکت دار، ایران سے رابطہ اور امریکا سے سفارتی تعلق؛ پاکستان کے لیے توازن کا کڑا امتحان
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے بعد اسلام آباد کی سفارتی گنجائش کتنی باقی؟ ماہرین کے مطابق پاکستان کو سعودی دفاعی شراکت داری اور ایران سے رابطوں کے درمیان محتاط توازن برقرار رکھنا ہوگا
سید عاطف ندیم-ادارت
اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں تیزی سے بدلتی ہوئی سکیورٹی صورتحال نے پاکستان کے لیے خارجہ پالیسی کا ایک پیچیدہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ آیا اسلام آباد ایک طرف سعودی عرب کے دفاعی شراکت دار کی حیثیت برقرار رکھتے ہوئے دوسری جانب ایران اور امریکا کے درمیان سفارتی رابطوں اور کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں اپنا کردار جاری رکھ سکتا ہے۔
پاکستان کی سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ دفاعی شراکت داری کو اگست 2026 میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے نے مزید ادارہ جاتی شکل دی۔ معاہدے کے مطابق تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر مسلح حملے کو تینوں پر حملہ تصور کیا جائے گا، جبکہ پاکستان نے واضح کیا ہے کہ یہ معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے، کسی ملک کے خلاف نہیں اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 میں تسلیم شدہ انفرادی اور اجتماعی دفاع کے حق سے ہم آہنگ ہے۔
ایسے میں پاکستان کے لیے سب سے اہم چیلنج یہ ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ اپنے دفاعی اور سکیورٹی تعلقات کو برقرار رکھتے ہوئے ایران کے ساتھ سفارتی رابطے بھی جاری رکھے جائیں اور واشنگٹن کے ساتھ تعلقات اور ممکنہ ثالثی کے کردار کو بھی متاثر نہ ہونے دیا جائے۔
پاکستان کے تینوں ممالک سے تاریخی تعلقات
برلن کی فری یونیورسٹی کے شعبہ سیاسیات اور جرمنی کے متعلقہ علاقائی مطالعاتی ادارے سے وابستہ ماہر سیاسیات ڈاکٹر ڈیٹرش ریٹس کے مطابق پاکستان ان چند ممالک میں شامل ہے جن کے سعودی عرب، امریکا اور ایران تینوں کے ساتھ تاریخی اور عملی نوعیت کے تعلقات موجود ہیں۔
ان کے مطابق پاکستان کئی دہائیوں سے مشرق وسطیٰ میں دفاعی تعاون اور علاقائی توازن کی پالیسی پر عمل کرتا آیا ہے۔
ڈاکٹر ریٹس کے مطابق پاکستان اور سعودی عرب کے فوجی و سکیورٹی تعلقات کئی دہائیوں پر محیط ہیں اور 1982 میں دونوں ممالک کے درمیان دفاعی پروٹوکول نے اس تعاون کو مزید ادارہ جاتی شکل دی۔ اس کے بعد مختلف ادوار میں پاکستانی فوجی اہلکار سعودی عرب میں تربیتی اور مشاورتی ذمہ داریاں انجام دیتے رہے۔
ایران کے ساتھ تعلقات برقرار رکھنا پاکستان کی مجبوری بھی، ضرورت بھی
ماہرین کے مطابق سعودی عرب کے ساتھ دفاعی قربت کے باوجود ایران پاکستان کا اہم ہمسایہ ہے، جس کے ساتھ دونوں ممالک کے درمیان طویل سرحد، تاریخی روابط، تجارت، مذہبی و عوامی تعلقات اور سکیورٹی مفادات وابستہ ہیں۔
ڈاکٹر ڈیٹرش ریٹس کے مطابق پاکستان کے لیے ہمیشہ ایک بنیادی چیلنج یہ رہا ہے کہ وہ سعودی عرب کے ساتھ قریبی دفاعی تعلقات اور ایران کے ساتھ ہمسایہ ملک کی حیثیت سے تعلقات کے درمیان توازن برقرار رکھے۔
ان کے مطابق فرقہ وارانہ کشیدگی، سرحدی بلوچ علاقوں میں شورش اور سکیورٹی مسائل کے باوجود اسلام آباد نے تہران کی سیاسی اور عسکری قیادت کے ساتھ عملی اور متوازن تعلقات قائم رکھنے کی کوشش کی ہے۔
موجودہ بحران نے توازن کو مزید مشکل بنا دیا
اقوام متحدہ کی سینیئر ایسوسی ایٹ اور مشرق وسطیٰ و شمالی افریقہ امور کی مشیر پروفیسر شبنم دلفانی کے مطابق پاکستان موجودہ پیچیدہ صورتحال میں بھی سیاسی اور سفارتی توازن برقرار رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے، تاہم یہ کام پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہو چکا ہے۔
ان کے مطابق پاکستان سعودی عرب کا دفاعی شراکت دار رہتے ہوئے ایران کے ساتھ رابطے برقرار رکھ سکتا ہے، لیکن بنیادی ضرورت یہ ہے کہ اسلام آباد سعودی ایران محاذ آرائی کا براہ راست فریق بننے سے گریز کرے۔
یہی نکتہ پاکستان کی موجودہ سفارتی حکمت عملی کے لیے اہم سمجھا جا رہا ہے کہ دفاعی ذمہ داریوں اور براہ راست جنگی شمولیت کے درمیان واضح فرق برقرار رکھا جائے۔
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ کیا کہتا ہے؟
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے 7 اگست 2026 کو مکہ میں مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔
معاہدے کے تحت تینوں ممالک نے اجتماعی دفاعی صلاحیت اور باہمی تعاون کو مضبوط بنانے پر اتفاق کیا، جبکہ کسی ایک رکن پر مسلح حملے کو تینوں پر حملہ تصور کرنے کی شق بھی شامل کی گئی ہے۔
پاکستانی حکومت نے معاہدے کو واضح طور پر دفاعی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا مقصد کسی ملک کے خلاف جارحیت نہیں بلکہ بیرونی جارحیت کے خلاف اجتماعی روک تھام اور دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف بھی کہہ چکے ہیں کہ معاہدے کا مقصد جارحیت نہیں بلکہ خطے میں امن، استحکام اور ترقی کے لیے دفاعی تعاون کو مضبوط کرنا ہے۔
مکہ معاہدہ پاکستان کو سفارتی گنجائش کیسے دیتا ہے؟
پروفیسر شبنم دلفانی کے مطابق معاہدے کی دفاعی نوعیت اور پاکستان کے سفارتی تعلقات اسلام آباد کو بیک وقت متعدد راستوں پر کام کرنے کی گنجائش فراہم کرتے ہیں۔
ان کے مطابق پاکستان ممکنہ براہ راست بیرونی حملے کی صورت میں سعودی عرب کے دفاعی تعاون کا حصہ بن سکتا ہے، ریاض کے ساتھ فوجی تعاون جاری رکھ سکتا ہے اور ساتھ ہی ایران کے ساتھ سفارتی رابطوں کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کی کوشش بھی کر سکتا ہے۔
تاہم عملی سطح پر ان تینوں مقاصد کو بیک وقت آگے بڑھانا آسان نہیں ہوگا، خصوصاً اس صورت میں جب سعودی عرب اور ایران کے درمیان براہ راست عسکری کشیدگی بڑھ جائے۔
مکہ معاہدے کے بعد تعاون کو ادارہ جاتی شکل دی جا رہی ہے
مکہ معاہدے کے دائرہ کار کو اب تینوں ممالک نے مزید ادارہ جاتی شکل دینا شروع کر دی ہے۔
31 اگست 2026 کو استنبول میں تینوں ممالک کے وزرائے خارجہ، وزرائے دفاع اور اعلیٰ عسکری حکام پر مشتمل اسٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں تعاون کو مزید منظم کرنے پر اتفاق کیا گیا۔
تینوں ممالک نے ایک سیکریٹریٹ قائم کرنے کا فیصلہ بھی کیا، جس کا ابتدائی سربراہ تین سال کے لیے پاکستان سے ہوگا۔ دفاعی صنعت، مشترکہ ٹیکنالوجی، تربیت اور دفاعی صلاحیتوں میں تعاون بڑھانے کی بات بھی کی گئی ہے۔
پاکستان براہ راست جنگی فریق بننے سے کیسے بچ سکتا ہے؟
موجودہ صورتحال میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اگر سعودی عرب کو کسی جانب سے براہ راست عسکری خطرہ لاحق ہوتا ہے تو پاکستان کی ذمہ داریاں کہاں تک جائیں گی۔
عالمی سیاست اور جیو اسٹریٹیجی کے ماہر کاشف مرزا نے مؤقف اختیار کیا کہ پاکستان کا غیر مشروط عزم مکہ اور مدینہ سمیت سعودی سرزمین کے دفاع تک محدود رہنا چاہیے، جبکہ یمن میں جارحانہ فوجی کارروائیوں سے دور رہنے کی پالیسی اختیار کی جانی چاہیے۔
ان کے مطابق پاکستان اپنی بحری صلاحیت اور ثالثی کے کردار کو استعمال کرتے ہوئے بحیرہ احمر اور باب المندب میں غیر جانب دار نگرانی اور محفوظ جہاز رانی کے لیے کردار ادا کر سکتا ہے۔
یہ تجویز دفاعی ذمہ داری اور جارحانہ فوجی کارروائی کے درمیان ایک واضح فرق قائم کرنے کی کوشش کے طور پر سامنے آتی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب کیوں اہم ہیں؟
بحیرہ احمر اور باب المندب عالمی تجارت اور توانائی کی نقل و حرکت کے لیے اہم سمندری راستے ہیں۔
علاقائی کشیدگی میں اضافہ نہ صرف سعودی عرب اور یمن بلکہ عالمی تجارت، تیل کی ترسیل اور بحری جہاز رانی کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔
اسی تناظر میں پاکستان کے لیے بحری سلامتی میں کردار ادا کرنے کا سوال بھی اہمیت اختیار کرتا ہے، تاہم کسی بھی ایسی سرگرمی کی نوعیت اور دائرہ کار کا تعین سیاسی اور قانونی فیصلوں سے ہوگا۔
پاکستان کے لیے ایران کے ساتھ رابطہ کیوں اہم ہے؟
پاکستان کی ایران کے ساتھ جغرافیائی قربت اس کی خارجہ پالیسی میں ایک بنیادی عنصر ہے۔
ایران پاکستان کا ہمسایہ ملک ہے اور دونوں کے درمیان طویل سرحد موجود ہے۔ سرحدی سکیورٹی، تجارت، توانائی، سرحدی آبادیوں اور علاقائی امن جیسے معاملات براہ راست دوطرفہ تعلقات سے جڑے ہیں۔
اس لیے پاکستان کے لیے ایران کے ساتھ سفارتی رابطے ختم کرنا یا محدود کرنا محض مشرق وسطیٰ کی سیاست کا معاملہ نہیں ہوگا بلکہ اس کے اپنے قومی اور سرحدی مفادات پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔
پاکستان کے لیے امریکا بھی اہم فریق
دوسری جانب امریکا پاکستان کے اہم عالمی شراکت داروں میں شامل ہے اور واشنگٹن کے ساتھ اسلام آباد کے تعلقات میں سکیورٹی، تجارت، معیشت اور علاقائی سیاست سمیت متعدد پہلو شامل ہیں۔
مشرق وسطیٰ کے موجودہ بحران میں امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے باعث پاکستان کے لیے دونوں فریقوں کے ساتھ اپنے سفارتی روابط کو برقرار رکھنا مزید حساس معاملہ بن گیا ہے۔
پاکستان اگر ایران کے ساتھ رابطے برقرار رکھتا ہے تو اسے واشنگٹن کے ساتھ اپنے تعلقات کے تناظر میں بھی اپنی سفارتی زبان اور ترجیحات میں احتیاط برتنا ہوگی۔
پروفیسر نذیر حسین: پاکستان کی جغرافیائی اور عسکری اہمیت بڑھی
قائداعظم یونیورسٹی کے اسکول آف پولیٹکس اینڈ انٹرنیشنل ریلیشنز کے سابق ڈائریکٹر پروفیسر نذیر حسین کے مطابق پاکستان 1970 کی دہائی سے مشرق وسطیٰ کے معاملات سے کسی نہ کسی سطح پر منسلک رہا ہے۔
ان کے مطابق پاکستان اپنی فوجی صلاحیت اور جوہری طاقت کے باعث علاقائی اور عالمی سکیورٹی مباحث میں اہمیت رکھتا ہے۔
تاہم پاکستان نے سرکاری طور پر واضح کیا ہے کہ اس کی جوہری صلاحیت قومی دفاع اور قومی مفادات کے لیے ہے، اس لیے اسے مشرق وسطیٰ کے کسی مخصوص تنازع کے لیے استعمال ہونے والے آلے کے طور پر پیش کرنا پاکستان کی سرکاری پالیسی کی عکاسی نہیں کرتا۔
خلیجی ممالک کے ساتھ پاکستان کے دفاعی روابط
پروفیسر نذیر حسین نے پاکستان کے خلیجی ریاستوں کے ساتھ تاریخی دفاعی روابط کا بھی حوالہ دیا۔
پاکستان اور خلیجی ممالک کے درمیان عسکری تربیت اور دفاعی تعاون کئی دہائیوں پر محیط ہے۔ پاکستان نے مختلف ادوار میں خلیجی ممالک کے اہلکاروں کو تربیت اور دیگر دفاعی معاونت فراہم کی ہے۔
یہی تاریخی روابط موجودہ بحران میں پاکستان کو ایک ایسا ملک بناتے ہیں جس سے خلیجی ریاستیں دفاعی اور سفارتی سطح پر رابطہ رکھ سکتی ہیں۔
ایران کا اعتماد اور پاکستان کا ثالثی کردار
پروفیسر نذیر حسین کے مطابق موجودہ صورتحال میں پاکستان کی ایک اہم سفارتی قدر یہ بھی ہے کہ وہ ایران کے ساتھ براہ راست رابطہ برقرار رکھ سکتا ہے۔
ان کے مطابق اگر ایران پاکستان پر اعتماد کرتا ہے اور امریکا بھی اسلام آباد کے رابطہ کردار کو تسلیم کرتا ہے تو پاکستان دونوں کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی راستے فراہم کر سکتا ہے۔
تاہم یہ کردار اسی وقت مؤثر رہ سکتا ہے جب پاکستان خود کسی ایک فریق کی جنگی حکمت عملی کا براہ راست حصہ نہ بنے۔
پاکستان پر جنگ میں شامل ہونے کا دباؤ بڑھنے کا امکان
پروفیسر شبنم دلفانی کے مطابق خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث سعودی عرب کے سکیورٹی خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔
ان کے مطابق ریاض تاریخی طور پر امریکا پر دفاعی انحصار رکھتا ہے، تاہم خطے میں سکیورٹی ڈھانچے کو متنوع بنانے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔
اسی تناظر میں پاکستان اور ترکیہ کے ساتھ دفاعی تعاون کی اہمیت بڑھتی ہے۔
اگر سعودی عرب کو براہ راست حملے کا سامنا ہوتا ہے تو مکہ معاہدے کے تحت پاکستان پر سیاسی اور دفاعی ذمہ داریوں سے متعلق سوالات پیدا ہو سکتے ہیں۔ تاہم معاہدے کی عملی اطلاقی تفصیلات اور ہر مخصوص صورتحال میں اقدامات کا دائرہ الگ سے طے ہونا ہوگا۔
کیا مکہ معاہدہ ہر جنگ میں شرکت کا پابند کرتا ہے؟
پاکستانی حکومت نے معاہدے کو دفاعی نوعیت کا قرار دیا ہے اور اسے کسی ملک کے خلاف اتحاد نہیں کہا۔ وزارت خارجہ کے مطابق اس کا مقصد علاقائی سلامتی اور اجتماعی روک تھام کو مضبوط بنانا ہے۔
اس لیے کسی بھی مستقبل کی صورتحال میں یہ سوال صرف سیاسی نہیں بلکہ قانونی اور عملی نوعیت کا بھی ہوگا کہ حملے کی نوعیت کیا ہے، کس رکن کو نشانہ بنایا گیا، معاہدے کی متعلقہ شقیں کیسے لاگو ہوتی ہیں اور تینوں حکومتیں کس نوعیت کا ردعمل اختیار کرتی ہیں۔
پاکستان نے ایران کے ساتھ رابطہ ختم نہیں کیا
مکہ معاہدے کے باوجود پاکستان نے ایران کے ساتھ سفارتی رابطے جاری رکھنے کا مؤقف برقرار رکھا ہے۔
پاکستانی وزارت خارجہ کے مطابق اسلام آباد علاقائی بحران کے حل کے لیے براہ راست اور بالواسطہ سفارتی ذرائع استعمال کرنے اور فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش جاری رکھے ہوئے ہے۔ وزارت خارجہ نے اگست میں سعودی، ایرانی اور کویتی وزرائے خارجہ سے رابطوں کا بھی ذکر کیا تھا۔
یہ رابطے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مکہ معاہدے کو پاکستان اپنی وسیع تر سفارتی پالیسی کے متبادل کے طور پر پیش نہیں کر رہا۔
ترکیہ کا کردار بھی اہم ہوگیا
مکہ معاہدے میں ترکیہ کی شمولیت نے پاکستان کی سعودی عرب کے ساتھ دفاعی شراکت داری کو ایک سہ فریقی فریم ورک فراہم کیا ہے۔
ترکیہ ایک اہم علاقائی اور عسکری طاقت ہے اور نیٹو کا رکن بھی ہے۔ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان بھی پہلے سے دفاعی اور عسکری تعاون موجود ہے۔
یوں مکہ معاہدہ سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان موجودہ دفاعی روابط کو ایک مشترکہ فریم ورک میں لانے کی کوشش کے طور پر سامنے آیا ہے۔
معاہدے کی عملی تفصیلات ابھی بھی اہم سوال
جرمن ماہر سیاسیات ڈاکٹر ڈیٹرش ریٹس کے مطابق مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی عملی تفصیلات ابھی بھی اہمیت رکھتی ہیں۔
ان کے مطابق ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے تینوں ممالک دفاعی اور سفارتی سطح پر مختلف اقدامات پر غور کر سکتے ہیں، جن میں پاکستان کی دفاعی اور اسٹریٹیجک صلاحیت کو ممکنہ خطرات کی روک تھام کے لیے استعمال کرنا بھی شامل ہو سکتا ہے۔
تاہم کسی بھی مخصوص بحران میں عملی ردعمل کا تعین سیاسی فیصلوں، معاہدے کی تشریح اور زمینی صورتحال پر منحصر ہوگا۔
پاکستان کے لیے سب سے بڑا چیلنج: دفاع اور سفارت کاری میں فاصلہ برقرار رکھنا
موجودہ صورتحال میں پاکستان کو بیک وقت دو مختلف نوعیت کے تقاضوں کا سامنا ہے۔
ایک طرف سعودی عرب کے ساتھ طویل دفاعی تعلقات اور مکہ معاہدہ ہے، جبکہ دوسری طرف ایران کے ساتھ جغرافیائی، تاریخی اور سفارتی تعلقات ہیں۔ تیسری جانب امریکا کے ساتھ پاکستان کے اہم دوطرفہ اور عالمی تعلقات بھی موجود ہیں۔
ان تینوں سمتوں کو ایک ساتھ سنبھالنے کے لیے اسلام آباد کو ایسی پالیسی کی ضرورت ہوگی جو دفاعی وعدوں، علاقائی غیر جانب داری اور سفارتی رابطوں کے درمیان واضح حدود برقرار رکھ سکے۔
ثالثی کا کردار پاکستان کے لیے سفارتی اثاثہ بن سکتا ہے
اگر پاکستان سعودی عرب کے ساتھ دفاعی شراکت داری برقرار رکھتے ہوئے ایران اور امریکا کے درمیان رابطے کا راستہ بھی کھلا رکھتا ہے تو یہ کردار اسلام آباد کو علاقائی سفارت کاری میں ایک اضافی گنجائش فراہم کر سکتا ہے۔
لیکن ثالثی اسی وقت مؤثر رہ سکتی ہے جب تمام فریق پاکستان کو ایک قابل اعتماد رابطہ کار سمجھیں۔
اسی لیے کسی بھی فریق کے خلاف براہ راست عسکری مہم میں شمولیت پاکستان کے سفارتی کردار کو متاثر کرنے کا امکان پیدا کر سکتی ہے۔
معاشی مفادات بھی خارجہ پالیسی کا اہم عنصر
پاکستان کی خارجہ پالیسی کے اس توازن میں معاشی عوامل کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
سعودی عرب پاکستان کے اہم خلیجی شراکت داروں میں شامل ہے، جبکہ ایران کے ساتھ سرحدی تجارت اور توانائی سمیت مختلف شعبوں میں مفادات وابستہ ہیں۔
امریکا بھی پاکستان کے لیے اہم تجارتی اور اقتصادی شراکت دار ہے۔
لہٰذا مشرق وسطیٰ کی کسی وسیع جنگ میں براہ راست شمولیت کے معاشی اثرات بھی اسلام آباد کے فیصلوں میں اہمیت رکھتے ہوں گے۔
خطے میں پاکستان کی سفارتی اہمیت کا نیا مرحلہ
موجودہ بحران نے پاکستان کو ایک ایسے مقام پر پہنچا دیا ہے جہاں اس کی دفاعی صلاحیت، سعودی عرب کے ساتھ تعلقات، ایران کے ساتھ جغرافیائی قربت اور امریکا کے ساتھ سفارتی رابطے ایک ہی علاقائی بحران میں باہم جڑ گئے ہیں۔
یہ صورتحال اسلام آباد کے لیے مواقع بھی پیدا کرتی ہے اور خطرات بھی۔
سفارتی سطح پر پاکستان ایک رابطہ کار کا کردار ادا کر سکتا ہے، جبکہ دفاعی سطح پر سعودی عرب کے ساتھ اپنے معاہداتی تعلقات برقرار رکھ سکتا ہے۔ لیکن دونوں کرداروں کو ایک ساتھ چلانے کے لیے پالیسی میں واضح ترجیحات اور محتاط سفارت کاری ضروری ہوگی۔
مجموعی منظرنامہ
ماہرین کی آرا سے یہ تصویر سامنے آتی ہے کہ پاکستان کے لیے سعودی عرب، ایران اور امریکا کے درمیان مکمل طور پر کسی ایک فریق کے ساتھ کھڑا ہونا اس کے موجودہ علاقائی مفادات کے تناظر میں پیچیدہ ہوگا۔
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے نے سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ پاکستان کے دفاعی تعلقات کو مزید منظم کیا ہے، جبکہ پاکستان نے سرکاری طور پر واضح کیا ہے کہ یہ معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے اور کسی ملک کے خلاف نہیں۔
دوسری جانب اسلام آباد ایران کے ساتھ سفارتی رابطوں اور علاقائی کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کو بھی جاری رکھنے کا مؤقف رکھتا ہے۔
یوں پاکستان کی موجودہ سفارتی حکمت عملی کا اصل امتحان یہی ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ دفاعی شراکت داری، ایران کے ساتھ ہمسایہ اور سفارتی تعلقات، اور امریکا کے ساتھ اہم بین الاقوامی روابط—تینوں کو ایک ہی وقت میں کس حد تک متوازن رکھا جا سکتا ہے۔
موجودہ صورتحال میں پاکستان کے لیے دفاعی معاہدے کی ذمہ داریوں اور براہ راست جنگی شمولیت کے درمیان فرق واضح رکھنا، سفارتی رابطے برقرار رکھنا اور علاقائی کشیدگی میں کمی کے لیے کردار ادا کرنا اس کی خارجہ پالیسی کے اہم پہلو بنے ہوئے ہیں۔



