پاکستان پریس ریلیزتازہ ترین

پاکستان جرمنی مذاکرات: پنجاب میں اقلیتوں کے حقوق، مذہبی آزادی اور بین المذاہب ہم آہنگی پر تفصیلی تبادلہ خیال

مذہبی آزادی، باہمی احترام، بین المذاہب مکالمہ اور مختلف مذہبی برادریوں کی سماجی شمولیت معاشرے میں پائیدار امن اور ہم آہنگی کے لیے اہم ہیں۔

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
سید عاطف ندیم-ادارت

لاہور: جرمنی کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے پنجاب کے وزیر برائے اقلیتی امور سردار رمیش سنگھ اروڑہ سے لاہور میں ملاقات کی، جس میں اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ، مذہب و عقیدے کی آزادی، بین المذاہب ہم آہنگی اور پنجاب میں اقلیتی برادریوں کی سماجی و اقتصادی شمولیت کے لیے اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

جرمن وفد میں جرمنی کی وفاقی حکومت کے کمشنر برائے آزادی مذہب و عقیدہ تھامس راشل (Thomas Rachel)، جرمن پارلیمنٹ (بنڈس ٹیگ) کی خارجہ امور کمیٹی کے رکن ڈیوڈ ڈرکسن (David Druksen)، جرمن سفارتخانے کے ڈپٹی ہیڈ آف مشن آرنو کرچوف (Arno Kirchhof) اور فرسٹ سیکرٹری سیاسی امور وائلٹا کزموا-انانگ (Violetta Kuzmova-Anang) شامل تھے۔

ملاقات میں دونوں جانب سے اس امر پر زور دیا گیا کہ مذہبی آزادی، باہمی احترام، بین المذاہب مکالمہ اور مختلف مذہبی برادریوں کی سماجی شمولیت معاشرے میں پائیدار امن اور ہم آہنگی کے لیے اہم ہیں۔

رمیش سنگھ اروڑہ کی تقرری کا خیرمقدم

جرمن وفد نے سردار رمیش سنگھ اروڑہ کی بطور صوبائی وزیر اقلیتی امور تقرری کا خیرمقدم کیا اور پنجاب میں ایک سکھ شخصیت کے صوبائی وزارتی منصب پر فائز ہونے کی اہمیت کو اجاگر کیا۔

وفد نے اقلیتوں کے حقوق اور مذہبی آزادی کے حوالے سے صوبائی سطح پر جاری اقدامات کے بارے میں بھی معلومات حاصل کیں۔ یہ ملاقات جرمن کمشنر تھامس راشل کے پاکستان کے حالیہ دورے کے دوران انسانی حقوق اور مذہبی آزادی سے متعلق دیگر اعلیٰ سطحی رابطوں کے سلسلے کی کڑی بھی ہے۔ اس سے قبل اسلام آباد میں وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق سینیٹر اعظم نذیر تارڑ سے ملاقات میں بھی مذہبی آزادی، اقلیتوں کے حقوق، قانون کی حکمرانی اور بین المذاہب ہم آہنگی پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔

اقلیتوں کی فلاح و بہبود حکومت کی ترجیح ہے، رمیش سنگھ اروڑہ

صوبائی وزیر رمیش سنگھ اروڑہ نے جرمن وفد کو پنجاب حکومت کی جانب سے اقلیتی برادریوں کے لیے جاری پالیسیوں اور فلاحی اقدامات پر بریفنگ دی۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی قیادت میں اقلیتی برادریوں کی فلاح، تحفظ، بااختیاری اور سماجی شمولیت حکومت کی ترجیحات میں شامل ہیں۔

رمیش سنگھ اروڑہ کے مطابق پنجاب حکومت اقلیتی برادریوں کی شمولیت اور فلاح و بہبود کے لیے ایک جامع پانچ سالہ اسٹریٹجک پلان تیار کر رہی ہے، جس کا مقصد صوبے بھر میں اقلیتوں کو تعلیمی، معاشی اور ادارہ جاتی مواقع تک بہتر رسائی فراہم کرنا ہے۔

’مائنارٹی کارڈ‘ اسکیم، 10 لاکھ مستحقین تک توسیع کا ہدف

ملاقات کے دوران صوبائی وزیر نے پنجاب حکومت کی مائنارٹی کارڈ اسکیم کو بھی اہم فلاحی اقدام قرار دیا۔

انہوں نے بتایا کہ حکومت اس پروگرام کو وسعت دینے پر کام کر رہی ہے اور مستقبل میں اس کے دائرہ کار کو 10 لاکھ مستحق افراد تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

رمیش سنگھ اروڑہ نے جرمن وفد کو اقلیتی برادریوں کے لیے دیگر اقدامات سے بھی آگاہ کیا، جن میں سرکاری سطح پر شادیوں کی رجسٹریشن، تعلیمی وظائف، سی ایس ایس امتحانات کی تیاری کے پروگرام، مذہبی تہواروں کے لیے مالی معاونت اور مختلف بنیادی ڈھانچے کے منصوبے شامل ہیں۔

صوبائی وزیر کے مطابق ان اقدامات کا مقصد اقلیتی برادریوں کو محض مالی امداد فراہم کرنا نہیں بلکہ انہیں تعلیم، روزگار، ادارہ جاتی مواقع اور سماجی ترقی کے عمل میں زیادہ مؤثر طور پر شامل کرنا ہے۔

مذہبی تہواروں اور مذہبی سیاحت کا فروغ

ملاقات میں پنجاب کے مذہبی اور ثقافتی ورثے کے تحفظ اور مذہبی سیاحت کے فروغ کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔

رمیش سنگھ اروڑہ نے وفد کو بتایا کہ اقلیتی ہفتہ، کرسمس، دیوالی، ہولی اور ایسٹر سمیت مختلف مذہبی و ثقافتی مواقع احترام اور شمولیت کے جذبے کے ساتھ منائے جا رہے ہیں۔

انہوں نے پنجاب میں موجود مختلف مذاہب سے متعلق تاریخی اور مذہبی مقامات کے تحفظ اور مذہبی سیاحت کے فروغ کے لیے حکومت کی کوششوں پر بھی روشنی ڈالی۔

یہ معاملہ پاکستان اور جرمنی کے درمیان حالیہ مذاکرات کے وسیع تر تناظر میں بھی اہم ہے۔ جرمن کمشنر تھامس راشل نے اس سے قبل وفاقی سطح پر ہونے والی ملاقاتوں میں بھی مختلف مذاہب کے پیروکاروں کے درمیان باہمی احترام اور مسلسل مکالمے کو عالمی امن کے لیے اہم قرار دیا تھا۔

غربت صرف اقلیتوں کا نہیں، پورے معاشرے کا مسئلہ ہے

سردار رمیش سنگھ اروڑہ نے پاکستان کو درپیش وسیع تر سماجی و اقتصادی چیلنجز پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ غربت کسی ایک مذہبی برادری تک محدود مسئلہ نہیں بلکہ تمام مذاہب سے تعلق رکھنے والے پاکستانیوں کو متاثر کرتی ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اقلیتی برادریوں کی ترقی اور سماجی شمولیت کے اقدامات کو وسیع تر معاشی اور سماجی ترقی کی پالیسیوں کے ساتھ جوڑنے کی ضرورت ہے۔

ان کے مطابق حکومت کی کوشش ہے کہ اقلیتی برادریوں کے افراد کو تعلیم، روزگار اور معاشی مواقع تک بہتر رسائی حاصل ہو تاکہ وہ قومی ترقی کے عمل میں زیادہ مؤثر کردار ادا کرسکیں۔

بین المذاہب ہم آہنگی کے لیے کمیٹی کا کردار

ملاقات کے دوران پنجاب میں قائم بین المذاہب ہم آہنگی کے پلیٹ فارمز کے کردار پر بھی بات ہوئی۔

رمیش سنگھ اروڑہ نے مختلف مذاہب کے نمائندوں پر مشتمل بین المذاہب ہم آہنگی کمیٹی کے کام کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ایسے فورمز کا بنیادی مقصد مکالمے، باہمی افہام و تفہیم اور پرامن بقائے باہمی کو فروغ دینا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مذہبی اختلافات کو مکالمے اور باہمی احترام کے ذریعے سمجھنے اور حل کرنے کے لیے مذہبی رہنماؤں، نوجوانوں، تعلیمی اداروں اور سول سوسائٹی کو بھی اس عمل کا حصہ بنانا ضروری ہے۔

جرمنی اور پنجاب کے درمیان تعاون کے امکانات

ملاقات میں پنجاب اور جرمنی کے درمیان اقلیتوں کے حقوق، مذہبی آزادی، بین المذاہب مکالمے اور کمیونٹی کی شمولیت کے شعبوں میں تعاون کے امکانات کا بھی جائزہ لیا گیا۔

فریقین نے جرمن حکومت، جرمن دفتر خارجہ اور اسلام آباد میں متعلقہ اداروں کے ساتھ رابطوں اور مستقبل میں مشترکہ اقدامات کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب جرمن حکومت کے نمائندے پاکستان میں انسانی حقوق اور مذہبی آزادی سے متعلق مختلف اداروں اور حکام سے رابطے کر رہے ہیں۔ جرمن کمشنر تھامس راشل نے اسلام آباد میں وفاقی وزیر انسانی حقوق سے ملاقات کے دوران بھی پاکستان اور جرمنی کے درمیان انسانی حقوق، مذہبی آزادی، قانون کی حکمرانی اور بین المذاہب ہم آہنگی کے شعبوں میں مسلسل تعاون کی ضرورت پر زور دیا تھا۔

نوجوانوں کو بین المذاہب سرگرمیوں میں شامل کرنے کا منصوبہ

صوبائی وزیر نے جرمن وفد کو نوجوانوں کی شمولیت سے متعلق اقدامات سے بھی آگاہ کیا۔

انہوں نے بتایا کہ اسٹوڈنٹ ایمبیسیڈر پروگرامز سمیت مختلف منصوبوں کے ذریعے نوجوانوں کو بین المذاہب ہم آہنگی کی سرگرمیوں میں شامل کیا جا رہا ہے۔

ان پروگراموں کے تحت تربیت حاصل کرنے والے نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کی جائے گی کہ وہ اپنے تجربات اور حاصل کردہ معلومات کو اپنی کمیونٹیز اور تعلیمی اداروں، جن میں اسکول، کالج، جامعات اور دینی مدارس شامل ہیں، تک پہنچائیں۔

وزیر کے مطابق اس اقدام کا ایک مقصد ایسے نوجوانوں کا وسیع نیٹ ورک تشکیل دینا بھی ہے جو بین المذاہب ہم آہنگی، مذہبی شمولیت اور سماجی مکالمے کے شعبوں میں عملی کردار ادا کرسکیں۔

ادارہ جاتی رابطوں کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

ملاقات کے اختتام پر پنجاب اور جرمنی کے متعلقہ حکام اور اداروں کے درمیان مسلسل رابطوں اور ادارہ جاتی مکالمے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

دونوں جانب سے مذہبی آزادی، اقلیتوں کے حقوق، بین المذاہب ہم آہنگی، نوجوانوں کی شمولیت اور سماجی و اقتصادی ترقی کے شعبوں میں تعاون کے امکانات کو آگے بڑھانے پر بات ہوئی۔

جرمن وفد کے دورے اور لاہور میں صوبائی وزیر اقلیتی امور سے ملاقات کو پاکستان اور جرمنی کے درمیان انسانی حقوق، مذہبی آزادی اور بین المذاہب ہم آہنگی کے حوالے سے جاری رابطوں کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ تاہم ملاقات میں زیر بحث بیشتر اقدامات پنجاب حکومت کی جانب سے پیش کیے گئے پالیسی پروگرامز اور اہداف ہیں، جن پر عمل درآمد اور نتائج کا جائزہ مستقبل میں لیا جائے گا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button