کالمزپیر مشتاق رضوی

کالم بعنوان: اب تو عوام کو فیصلہ کرنے دیں……. پیر مشتاق رضوی

اس کی بنیاد میں لاکھوں شہیدوں کا خون شامل ہے۔مگربدقسمتی سے قیام کے فوری بعد ہی وہ نادیدہ قوتیں سرگرم ہو گئیں جو اس ملک کو جمہوری، فلاحی ریاست نہیں بلکہ ایک کنٹرولڈ اسٹیٹ کے طور پر چلانا چاہتی تھیں۔

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service

پاکستان دنیا کی کوئی عام ریاست نہیں، یہ کلمہ طیبہ کی بنیاد پر اور ووٹ کی طاقت سے قائم ہوا۔ اس کی بنیاد میں لاکھوں شہیدوں کا خون شامل ہے۔مگربدقسمتی سے قیام کے فوری بعد ہی وہ نادیدہ قوتیں سرگرم ہو گئیں جو اس ملک کو جمہوری، فلاحی ریاست نہیں بلکہ ایک کنٹرولڈ اسٹیٹ کے طور پر چلانا چاہتی تھیں۔تاریخ گواہ ہے کہ جب قائد اعظم محمد علی جناح نے جنرل گریسی کو کشمیر میں فوجیں بھیجنے کا حکم دیا تو اس نے حکم عدولی کی۔ جبکہ جنرل ایوب کی سیاسی امور مین دلچسپی دیکھی گئی یہ وہ پہلا موقع تھا جب قائد اعظم نے اسٹیبلشمنٹ کے ارادے بھانپ لیے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ اسی وقت قائد نے جنرل ایوب خان سے انتظامی ذمہ داریاں واپس لے کر انہیں کسی دوسری جگہ پوسٹ کرنے کی ہدایت کی تھی، لیکن بدقسمتی سے قائد اعظم کا جلد انتقال ہو گیا اور یہ فیصلہ عملی جامہ نہ پہن سکا۔ یہیں سے اس گٹھ جوڑ کی بنیاد پڑی جس نے آگے چل کر ملکی سیاست اورجمہوری نظام کو یرغمال بنایا۔جنرل ایوب خان نے صدر جنرل سکندر مرزا کے ساتھ گٹھ جوڑ کر لیا۔ اسی دوران پاکستان کے پہلے منتخب وزیر اعظم نوابزادہ لیاقت علی خان کو جلسہ عام میں شہید کر دیا گیا۔ اس کے بعد 1956ءکا متفقہ آئین جو بڑی محنت سے بنا تھا، اسے معطل کر دیا گیا۔ اس سے قبل جنرل سکندر مرزا خود یہ کہتا پھرتا تھا کہ’سیاسی لیڈر شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار بنے بیٹھے ہیں”۔ یہ وہ دور تھا جب اقتدار چند ہاتھوں میں مرکوز ہو کر رہ گیا۔پھر وہی ہوا جس کا خدشہ تھا، جنرل ایوب خان نے اپنے ہی محسن جنرل سکندر مرزا سے اقتدار چھین لیا اور ملک میں کھلی ملٹری ڈکٹیٹر شپ نافذ کر دی۔ جمہوریت کا گلا گھونٹ دیا گیا۔ اس آمریت کے خلاف سب سے توانا آواز مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح نے بلند کی۔ انہوں نے ملک میں جمہوری نظام کی بقا کے لیے بھرپور تحریک چلائی۔ لیکن افسوس کہ جمہوریت کا سورج طلوع ہونے سے پہلے ہی غروب کر دیا گیا۔ مادر ملت کی اس تاریخی ، مزاحمتی جمہوری تحریک کو سیوٹاژ کیا گیا، جعلی صدارتی انتخابات کا ڈھونگ رچایا گیا اور جنرل ایوب خان خود صدر بن بیٹھے۔ اسی الیکشن میں مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح جیسی محترم ہستی کو غدار وطن تک کہہ کر دیوار سے لگا دیا گیا۔ یہ بھی تاریخ کا حصہ ہے کہ جنرل ایوب خان نے ہی ذوالفقار علی بھٹو کو اپنی کابینہ میں لا کر سیاست میں متعارف کرایا اور بعد میں مادر ملت کی تاریخی جمہوری تحریک کو ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کیش کرایا اور موقع سے بھر پور سیاسی فائدہ اٹھایا ۔ذوالفقار علی بھٹو دیکھتے ہی دیکھتے ایک عوامی لیڈر بن کر ابھرے۔ جنرل ایوب کے بعد جنرل یحییٰ خان نے اقتدار پر قبضہ جما لیا۔ 71-1970ءکے عام انتخابات جو پاکستان کی تاریخ کے شفاف ترین انتخابات تھے، میں عوامی مینڈیٹ کو تسلیم نہ کیا گیا۔ شیخ مجیب الرحمان کو غدار بنا کر "ادھر تم ادھر ہم” کا نعرہ لگایا گیا اس سلسلے بھٹو کو اسٹیبلشمنٹ کی مکمل سپورٹ حاصل رہی اور اسی فارمولے کے تحت ہمارے اپنے ہاتھوں سے پاکستان کو دو لخت کر دیا گیا۔ اس سارے عمل میں اسٹیبلشمنٹ کا کردار انتہائی افسوسناک رہا سیاس. فیصلون کا فقدان تھا مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد بھٹو نے باقی ماندہ پاکستان میں سول مارشل لاء لگایا اور پھر ملک کے منتخب وزیر اعظم بنے۔ 1977ء میں بھٹو نے عام انتخابات کرائے لیکن ان پر تاریخی دھاندلی کے الزامات لگے۔ اس کے نتیجے میں ملک میں پاکستان قومی اتحاد کی شکل میں ایک بڑی احتجاجی تحریک نے جنم لیا۔ اسی افراتفری کے دوران جنرل ضیاء الحق نے بھٹو حکومت کا تختہ الٹ دیا اور گیارہ سال تک ملک پر جبر و آمریت کے سیاہ بادل چھائے رہے۔1985ء سے 1999 ءتک ملکی اقتدار میوزیکل چیئر کا کھیل بنا رہا۔ اسٹیبلشمنٹ نے اسی دوران میاں نواز شریف کو سیاست میں لانچ کیا اور لاڈلے کے طور پر پروان چڑھایا۔ 1988ء میں جنرل ضیاء الحق کے پراسرار طیارہ حادثے میں جاں بحق ہونے کے بعد اقتدار کی جنگ ایک بار پھر شروع ہو گئی۔ کبھی نواز شریف کو وزیر اعظم بنایا گیا اور کبھی محترمہ بے نظیر بھٹو کو، لیکن اصل اقتدار کہیں اور ہی رہا۔ ایک باقاعدہ پلان کے تحت کبھی مغربی لابی کو خوش کیا گیا تو کبھی جمہوریت کو ڈی ریل کیا گیا۔پھر ایک طویل جدوجہد کے بعد 2008ء میں جمہوریت کی بحالی ہوئی، آصف علی زرداری صدر بنے، پھر میاں نواز شریف کو ایک بار پھر وزارت عظمیٰ ملی۔ 2018ء کا الیکشن آیا تو اسٹیبلشمنٹ نے ایک نیا سیاسی کھیل کھیلا اور عمران خان کو اقتدار کی کرسی پر بٹھا دیا۔ لیکن وقت نے ثابت کیا کہ وہ ایک سیکورٹی رسک ثابت ہوئے۔ اس کے بعد پھر وہی پرانا کھیل دہرایا گیا، زرداری اور شہباز شریف کا اتحاد بنایا گیا، زرداری دوبارہ صدر بنے اور شہباز شریف دوسری بار وزیر اعظم بنے۔لیکن سوال یہ ہے کہ تین سال گزرنے کے باوجود حکومت عوام کو ریلیف دینے میں ناکام کیوں ہے؟ آج مہنگائی، بے روزگاری اور بدامنی عروج پر ہے۔ وجہ صاف ہے کہ جب تک اس ملک میں عوام کو آزادانہ فیصلہ نہیں کرنے دیا جائے گا، جب تک ہر الیکشن کو انجینئرڈ کیا جاتا رہے گا، جب تک منتخب وزیر اعظم کو اسٹیبلشمنٹ کے رحم و کرم پر رکھا جائے گا، اس وقت تک ملک ترقی نہیں کر سکتا۔79 سالہ تاریخ نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ تجربے ناکام ہو چکے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ فیصلہ عوام کو کرنے دیا جائے۔ عوام جسے چاہیں منتخب کریں اور اسے پانچ سال تک کام کرنے دیا جائے۔ یہی اس ملک کی بقا اور سلامتی کا واحد راستہ ہے۔پاکستان کی سیاسی تاریخ کا اگر بغور جائزہ لیا جائے تو ایک بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ تقریباً ہر آمرانہ دور میں جب عوامی مسائل، مہنگائی، بے روزگاری اور بدامنی عروج پر پہنچتی ہے تو اقتدار پر قابض قوتیں عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانے کے لیے نئے صوبوں کا شوشہ چھوڑ دیتی ہیں۔ یہ کوئی نئی حکمتِ عملی نہیں۔ ایوب خان سے لے کر یحییٰ خان، ضیاء الحق سے لے کر پرویز مشرف تک، ہر آمر نے انتظامی اصلاحات اور چھوٹے انتظامی یونٹس کے نام پر قوم کو تقسیم کرنے کا خواب دکھایا۔ایک بار پھر آج اسی پرانے پنڈورا باکس کو کھول دیا گیا ہے۔ ایوانوں میں بیٹھے چند افراد کی جانب سے یہ بیان دیا جا رہا ہے کہ اب کوئی فردِ واحد یا سیاسی گروہ نئے صوبے بننے سے نہیں روک سکتا اور یہ صوبے صرف انتظامی یونٹس بن کر رہیں گے۔ دوسری طرف اسی سانس میں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ نئے صوبوں کا فیصلہ عوام کریں گے۔ یہ دونوں باتیں کھلا تضاد ہیں۔ اگر فیصلہ عوام نے کرنا ہے تو پھر پہلے سے یہ اعلان کیوں کہ کوئی اسے روک نہیں سکتا؟ دراصل یہ عوام کو فیصلہ دینے کا نہیں، بلکہ عوام پر فیصلہ مسلط کرنے کا اعلان ہے۔سوال یہ ہے کہ نئے صوبے بنانا کیا واقعی عوام کا مطالبہ ہے؟ یا یہ ایک سوچی سمجھی سیاسی انجینئرنگ ہے؟ آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 239 کے تحت نیا صوبہ بنانے کے لیے صوبائی اسمبلی کی دو تہائی اکثریت اور پھر قومی اسمبلی و سینیٹ کی دو تہائی اکثریت درکار ہے۔ کیا آج ملک میں ایسی کوئی پارلیمنٹ موجود ہے جو عوام کی صحیح نمائندہ ہو اور آئینی ترمیم کر سکے؟ ہرگز نہیں۔آج ملک میں جس نظام کو جمہوریت کہا جا رہا ہے، وہ درحقیقت سول مارشل لاء کی بدترین شکل ہے۔ یہ تاریخ کی ناکام ترین ہائی برڈ حکومت ہے جس کے پاس نہ عوامی مینڈیٹ ہے، نہ پالیسی، نہ سمت۔ اس ہائی برڈ نظام نے ملک کے تمام آئینی اداروں کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔ سب سے بڑا وار عدلیہ پر کیا گیا ہے۔ عدلیہ کو آزاد، خود مختار اور انصاف کا آخری سہارا بننے کی بجائے مکمل طور پر کنگز کورٹس میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ جہاں انصاف ملتا نہیں، دیا جاتا ہے، اور وہ بھی دیکھ کر کہ کون مقتدرہ کا لاڈلہ ہےاورناپسندیدہ کون ہے۔ آج ملک تاریخ کے خطرناک ترین دوراہے پر کھڑا ہے۔ اقتدار پرست ٹولے نے اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیے ملک کے تمام ادارے تباہ و برباد کر دیے ہیں۔ پارلیمنٹ بے توقیر ہے، الیکشن کمیشن ایک مہر کا دفتر بن چکا ہے، میڈیا پر قدغن ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ ملک بیک وقت شدید معاشی، سیاسی اور سیکیورٹی عدم استحکام کا شکار ہے۔ روپیہ گر رہا ہے، مہنگائی آسمان سے باتیں کر رہی ہے، دہشت گردی ایک بار پھر سر اٹھا رہی ہے، نوجوان ملک چھوڑ کر جا رہے ہیں، لیکن حکمران ہیں کہ وہ آج بھی عیاشی کی بانسری بجا رہے ہیں، بیرونِ ملک دورے، پروٹوکول، اور نئے صوبوں جیسے غیر ضروری مباحث میں قوم کا وقت اور پیسہ ضائع کر رہے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ اب گیم مقتدرہ قوتوں کے ہاتھ سے نکل چکی ہے۔ عوام اب باشعور ہو چکے ہیں۔ وہ سمجھ چکے ہیں کہ جنوبی پنجاب صوبہ، بہاولپور صوبہ، ہزارہ صوبہ یا کراچی صوبہ کا نعرہ صرف اس لیے لگایا جاتا ہے تاکہ عوام لسانی اور علاقائی بنیادوں پر لڑ پڑیں اور اصل لوٹ مار پر سے توجہ ہٹ جائے۔ عوام کو صوبے نہیں، روٹی، روزگار، انصاف اور عزت چاہیے۔اس تمام بحران کا واحد حل یہ ہے کہ ملٹری اور سول اسٹیبلشمنٹ اب ملک کو معافی دے دے۔ یہ ملک اب مزید تجربات کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ اس ملک کو اب عوام کو چلانے دیا جائے۔ اس کے لیے فوری طور پر دو کام ناگزیر ہیں۔ اول، مستقل بنیادوں پر شفاف، غیر جانبدارانہ اور مداخلت سے پاک عام انتخابات کرائے جائیں۔ ایسے انتخابات جن کا رزلٹ آر او کے دفتر میں نہیں بلکہ عوام کے ووٹ سے نکلے۔ دوم، ملک میں تواتر کے ساتھ بلدیاتی انتخابات کرائے جائیں تاکہ طاقت اسلام آباد کے چند کمروں سے نکل کر گلی محلوں تک منتقل ہو۔نئے صوبے بننے چاہئیں یا نہیں، اس کا فیصلہ اسٹیبلشمنٹ ، کوئی جج یا کوئی فارم 47 کی پیداوار حکومت نہیں کرے گی۔ اس کا فیصلہ صرف اور صرف عوام کریں گے، آزاداور بااختیار پارلیمنٹ کے ذریعے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ بند کمروں کی سیاست ختم کی جائے اور

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button