کالمزپیر مشتاق رضوی

پاکستان کی غیرت کے رکھوالو، بھیک نہ مانگو!…. پیر مشتاق رضوی

رواں سال یعنی مالی سال 2026ءمیں حکومت نے زیادہ تر قرضہ مقامی بینکوں سے پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز کے ذریعے لیا ہے تاکہ شارٹ ٹرم قرضوں کو کم کیا جا سکے

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service

اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور وزارت خزانہ کی رپورٹس کے مطابق مالی سال 26-2025ءکے دوران پاکستان کے مجموعی قرضے میں 5.754 ٹریلین روپے کا اضافہ ہوا ہے۔جون 2025ء میں مرکزی حکومت کا کل قرضہ 77.888 ٹریلین روپے تھا جو جون 2026ءکے آخر تک بڑھ کر 83.642 ٹریلین روپے کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا ہے۔ یہ اضافہ 7.4 فیصد بنتا ہے۔ 1758 اس میں سب سے بڑا حصہ اندرونی قرضے کا ہےاندرونی قرضہ 9 فیصد یعنی 4.969 ٹریلین روپے بڑھ کر 59.94 ٹریلین روپے تک پہنچ گیا ہے، جبکہ بیرونی قرضہ 3 فیصد یعنی 471 ارب روپے بڑھ کر 24.2 ٹریلین قروپے ہو گیا ہے۔ ایک اور سرکاری دستاویز کے مطابق اگر آئی ایم ایف کے قرضے کو نکال دیا جائے تو مئی 2026ء تک کل قرضہ 81.9 ٹریلین روپے تھا جس میں اندرونی قرضہ 58.1 ٹریلین اور بیرونی قرضہ 23.8 ٹریلین روپے تھا۔ رواں سال یعنی مالی سال 2026ءمیں حکومت نے زیادہ تر قرضہ مقامی بینکوں سے پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز کے ذریعے لیا ہے تاکہ شارٹ ٹرم قرضوں کو کم کیا جا سکے۔ بیرونی قرضے میں کمی کی کوشش کے باوجود روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے بیرونی قرضے کا حجم روپے میں بڑھتا ہوا نظر آتا ہے۔ آئندہ سال کے لیے حکومت کا منصوبہ مزید قرضہ لینے کا ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق مالی سال 27۔2026ء کے لیے حکومت نے 23.38 ارب ڈالر بیرونی قرضہ لینے کا ہدف رکھا ہے جو گزشتہ سال کے 19.9 ارب ڈالر کے ہدف سے 17.5 فیصد زیادہ ہے۔ اس میں 400 ملین ڈالر دوطرفہ ذرائع سے، 4.866 ارب ڈالر ملٹی لیٹرل اداروں جیسے ایشیائی ترقیاتی بینک اور ورلڈ بینک سے، 2.35 ارب ڈالر کمرشل بینکوں سے، 12 ارب ڈالر سیف ڈپازٹس کی مد میں، اور 530 ملین ڈالر آئی ایم ایف سے لینے کا تخمینہ شامل ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق پاکستان کی مجموعی بیرونی فنانسنگ کی ضرورت 27-2026ء میں 21.197 ارب ڈالر رہے گی۔
پاکستان کے تاریخی تناظر میں اور معروضی معاشی حالات کے حوالے سے شاعرِ انقلاب حبیب جالب کی یہ نظم "بھیک نہ مانگو” آج سے تین دہائیوں پہلے لکھی گئی تھی، لیکن آج 2026ء میں یہ نظم پہلے سے زیادہ زندہ، زیادہ تلخ اور زیادہ سچی محسوس ہوتی ہے
"پاکستان کی غیرت کے رکھوالو بھیک نہ مانگو
توڑ کے اس کشکول کو آدھی کھا لو
بھیک نہ مانگو”
یہ صرف شعر نہیں، ایک پوری معاشی اور خارجہ پالیسی پر سوالیہ نشان ہے۔ جالب نے "کشکول” کا استعارہ بڑی خوبصورتی سے استعمال کیا ہے۔ جالب کہتے ہیں کہ اس کشکول کو توڑ دو۔ بہتر ہے کہ ہم آدھی روٹی کھا کر گزارہ کر لیں، لیکن کسی کے سامنے ہاتھ نہ پھیلائیں۔ یہ خودداری کا درس ہے جو آج آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اور دوست ممالک کے سامنے قرضوں کی لائن میں کھڑے پاکستان کے لیے ایک تازیانہ ہے۔:
” اپنے بل پر چلنا کب سیکھو گے
طوفانوں میں پلنا کب سیکھو گے”
جالب حکمرانوں اور قوم کی اس مزاج پر چوٹ کرتا ہے جو ہر ناکامی کو "تقدیر” کا نام دے کر بری الذمہ ہو جاتی ہے۔ سیلاب آ جائے تو تقدیر، معیشت بیٹھ جائے تو تقدیر، بجلی نہ آئے تو تقدیر۔ جالب کہتا ہے کہ طوفانوں میں پلنا سیکھو۔ قومیں طوفانوں سے ہی بنتی ہیں۔ جاپان نے ایٹم بم کھانے کے بعد بھیک نہیں مانگی، اپنی تقدیر خود بنائی۔ جرمنی نے دو عالمی جنگیں ہارنے کے بعد خیرات نہیں مانگی، اپنے بل پر چلنا سیکھا۔ سوال یہ ہے کہ ہم 79 سال بعد بھی اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا کب سیکھیں گے؟ وہ جاگیردار، وہ سرمایہ دار، وہ نسلی اشرافیہ ہے جو انگریز کے دور سے ہمارے راستے میں کھڑی ہے۔ پاکستان تو اس مزدور، کسان، اور عام آدمی کے خون سے بنا تھا جو آج بھی جیلوں میں پڑا ہے۔ آج بھی سچ بولنے والا صحافی، حق مانگنے والا کسان، اور انصاف مانگنے والا مزدور ہی جیل میں ہے، جبکہ اشرافیہ اقتدار کے مزے لوٹ رہے ہیں۔
” انگریزوں کے پٹھو کہلاؤ نا امریکہ کے تلوے سہلاؤ نا
آج تلک ان کے دھوکے کھائے ہی اور مگر،
ان کے دھوکے کھاؤ نا
"آزادی کے سر پہ خاک نہ ڈالو”
بھیک نہ مانگو”
1947ھ میں ہم انگریز سے آزاد ہوئے، لیکن ذہنی غلامی سے نہ نکل سکے۔ کبھی ہم نے انگریزوں کے پٹھو بن کر سوچا، کبھی امریکہ کے تلوے سہلا کر امداد لی۔ ہر دور میں ہمیں دھوکہ ملا۔ کبھی سیٹو، سینٹو کے نام پر، کبھی افغان جنگ کے نام پر، کبھی دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر۔ ہم نے ڈالر لیےاور اپنی خودمختاری بیچ دی۔ جالب اسی لیے چیخ کر کہتا ہے کہ "آزادی کے سر پر خاک نہ ڈالو۔”
آج کے معروضی معاشی حالات کی تناظر میں اس نظم کی اہمیت دوچند ہو گئی ہے۔ پاکستان کا ہر بجٹ آئی ایم ایف کی منظوری سے بنتا ہے۔ ہر حکمران آئی ایم ایف اور واشنگٹن جا کر کشکول پھیلاتا ہے۔ ہم نے خود انحصاری کو چھوڑ کر درآمدات پر مبنی معیشت بنا لی ہے۔ ہم گندم بھی باہر سے منگواتے ہیں، دالیں بھی باہر سے، حتیٰ کہ ٹوتھ پیسٹ بھی باہر کا۔ جالب کا یہ مصرعہ "توڑ کے اس کشکول کو آدھی کھا لو” دراصل "کفایت شعاری اور پیداواری معیشت” کا منشور ہے۔
حبیب جالب کی یہ نظم مایوسی کی نظم نہیں، امید کی نظم ہے۔ وہ کہتا ہے "خود اپنی بگڑی تقدیر بنا لو”۔ یعنی تقدیر بن سکتی ہے، بگڑی ہوئی تقدیر سنور سکتی ہے، بشرطیکہ ہم بھیک مانگنا چھوڑ دیں۔ غیرت مند قومیں قرضوں پر نہیں، محنت پر زندہ رہتی ہیں۔ جو قوم کو خودداری سکھائیں۔ جب تک ہم اس کشکول کو نہیں توڑیں گے، اس وقت تک ہم نہ معاشی طور پر اور نہ نظریاتی طور پر آزاد ہو سکتے ہیں،
آخر میں یہی کہنا ہے کہ حبیب جالب مر گیا، لیکن اس کی شاعری آج بھی زندہ ہے، کیونکہ اس کے سوال آج بھی زندہ ہیں۔ اور جب تک ہم ان سوالوں کا جواب نہیں دیتے، یہ نظم ہمارے ضمیر پر دستک دیتی رہے گی۔
‘پاکستان کی غیرت کے رکھوالو، بھیک نہ مانگو!

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button