
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس: امریکہ کا ایرانی صدر پزشکیان کے وفد کے کئی ارکان کو ویزے دینے سے انکار
ایرانی صدر پزشکیان کی قیادت میں اعلیٰ سطحی سرکاری وفد میں شامل کئی شخصیات کو امریکہ نے ویزے جاری کرنے سے انکار کر دیا ہے
امریکہ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے لیے نیو یارک جانے والے ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے وفد میں شامل کئی سرکردہ ارکان کو ویزے دینے سے انکار کر دیا ہے۔ یہ بات ایران کے سرکاری میڈیا نے پیر 21 ستمبر کے روز بتائی۔
تہران سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق رواں ہفتے شروع ہونے والے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے لیے ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے ساتھ جن کئی سرکردہ ملکی اہلکاروں کو امریکہ بھیجنے کا پروگرام بنایا گیا تھا، ان میں سے جن شخصیات کو ٹرمپ انتظامیہ نے امریکی ویزے جاری کرنے سے انکار کر دیا، ان میں صدر پزشکیان کی کمیونیکیشن ٹیم کے ارکان بھی شامل ہیں۔
اٹھائیس فروری کو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے فضائی حملوں کے ساتھ شروع ہونے والی ایران جنگ کے آغاز کے بعد سے صدر پزشکیان وہ اعلیٰ ترین ایرانی رہنما ہوں گے، جو جنرل اسمبلی کے اجلاس کے لیے امریکہ میں موجود ہوں گے۔

ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی ارنا نے بتایا، ’’امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی طرف سے ایک نئی اور بے مثال حد تک جارحانہ پیش رفت کے دوران ایرانی صدر پزشکیان کی قیادت میں اعلیٰ سطحی سرکاری وفد میں شامل کئی شخصیات کو امریکہ نے ویزے جاری کرنے سے انکار کر دیا ہے، جن میں صدر کی کمیونیکیشن ٹیم کے ارکان بھی شامل ہیں۔‘‘
ایرانی وفد کے ارکان کو ویزے دینے سے امریکی انکار سے متعلق یہی خبر ایران کی مہر نیوز ایجنسی نے بھی دی، جس نے لکھا کہ اس امریکی انکار کی تہران میں وزارت خارجہ کے ترجمان نے بھی تصدیق کر دی ہے۔
اب تک کے پروگرام کے مطابق صدر مسعود پزشکیان کو نیو یارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے بدھ 23 ستمبر کے روز خطاب کرنا ہے۔

امریکہ نے جنرل اسمبلی کے اجلاس کے لیے ایرانی وفد کے مخصوص ارکان کو جو ویزے جاری کیے ہیں، ان کے اجرا کے ساتھ اس وفد کے ارکان کی امریکہ میں نقل و حرکت اور مصروفیات کے حوالے سے گزشتہ برس کی طرح مختلف نوعیت کی پابندیاں بھی عائد کی گئی ہیں۔
نیو یارک جانے والے ایرانی وفد میں وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی شامل ہیں، جو کل اتوار کی شام ہی ایران سے روانہ ہو گئے تھے۔ عراقچی کو اس سفر کے دوران کچھ دیر کے لیے خلیجی ریاست قطر میں قیام بھی کرنا تھا۔



