
رپورٹ سید عاطف ندیم-ادارت پاکستان
پاکستان اور افغانستان کے درمیان پہلے سے کشیدہ تعلقات میں حالیہ دنوں کے دوران مزید شدت آنے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں کی بحالی کے امکانات محدود ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ پاکستانی حکام کے مطابق کابل میں طالبان حکومت کے طرزِ عمل اور افغان سرزمین سے پاکستان مخالف عسکری سرگرمیوں کے خدشات کے باعث اسلام آباد اور کابل کے درمیان اعتماد کا بحران مزید گہرا ہو گیا ہے۔
پاکستانی حکام کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان تعلقات ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں جہاں مستقبل قریب میں بامعنی سفارتی پیش رفت کے امکانات مشکل نظر آتے ہیں، جبکہ بعض حکام نجی گفتگو میں اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ موجودہ صورتحال مزید کشیدگی کا باعث بن سکتی ہے۔

یہ صورتحال ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ترکی اور قطر کی جانب سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور دونوں فریقوں کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے سفارتی کوششیں کی جا رہی تھیں۔ ترکی کے انٹیلی جنس چیف اور قطر کے نائب مشیر برائے قومی سلامتی نے کابل کا دورہ کیا، جہاں دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی کشیدگی اور ممکنہ سفارتی راستوں پر بات چیت کی گئی۔
ترک انٹیلی جنس چیف نے علاقائی سفارتی کوششوں کے سلسلے میں اسلام آباد کا بھی دورہ کیا، تاہم ان کوششوں کے نتیجے میں فوری طور پر کوئی قابلِ ذکر پیش رفت سامنے نہیں آ سکی۔
کوہاٹ حملے کے بعد صورتحال مزید پیچیدہ
سفارتی کوششوں کے دوران ہی پاکستان میں کوہاٹ پولیس لائنز پر ایک ہلاکت خیز دہشت گرد حملے نے صورتحال کو مزید پیچیدہ کر دیا۔ پاکستانی حکام کے مطابق حملے میں ملوث خودکش حملہ آوروں میں سے ایک کی شناخت افغان شہری کے طور پر ہوئی۔
پاکستانی حکام کے لیے اس واقعے نے اس خدشے کو مزید تقویت دی کہ افغانستان میں موجود یا وہاں سے سرگرم دہشت گرد گروہ پاکستان کی سلامتی کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ اسلام آباد طویل عرصے سے کابل سے مطالبہ کرتا رہا ہے کہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکا جائے اور پاکستان مخالف مسلح گروہوں کے خلاف مؤثر کارروائی کی جائے۔
حکام کے مطابق کوہاٹ حملے کے بعد پاکستان نے افغانستان میں دہشت گردوں کے مبینہ ٹھکانوں کے خلاف محدود اور نپے تلے حملے کیے۔ پاکستانی مؤقف کے مطابق ان کارروائیوں کا مقصد پاکستان میں دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی اور کارروائیوں میں ملوث عناصر کے مراکز کو نشانہ بنانا تھا۔
ڈرون حملوں اور جوابی کارروائیوں سے کشیدگی میں اضافہ
پاکستانی حکام کے مطابق افغانستان کی طالبان حکومت کی جانب سے اس کے جواب میں پاکستان کی سمت ابتدائی نوعیت کے ڈرون بھیجے گئے، تاہم انہیں کسی بڑے جانی یا مالی نقصان سے قبل ناکارہ بنا دیا گیا۔
اس کے بعد پاکستانی حکام کے مطابق افغانستان کے اندر تقریباً 10 مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔ حکام کا دعویٰ تھا کہ ان مقامات میں ڈرونز کے ذخیرہ کرنے اور انہیں لانچ کرنے کے مراکز شامل تھے۔ ان مبینہ اہداف میں قندھار کا ایک مقام بھی شامل تھا، جو طالبان تحریک کے لیے مذہبی اور سیاسی اعتبار سے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔

پاکستانی حکام کے مطابق ان کارروائیوں کا تعلق براہِ راست ان سکیورٹی خدشات سے تھا جو افغانستان میں موجود مسلح گروہوں کی پاکستان مخالف سرگرمیوں کے حوالے سے اسلام آباد کو درپیش ہیں۔
ایک اعلیٰ پاکستانی عہدیدار نے موجودہ صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ طالبان حکومت کی جانب سے پاکستان کے خدشات دور کرنے کے لیے اگر کچھ اقدامات کیے بھی گئے ہیں تو اسلام آباد انہیں ناکافی سمجھتا ہے۔ عہدیدار کے مطابق یہ اقدامات عملی اور پائیدار نوعیت کے بجائے زیادہ تر ظاہری محسوس ہوتے ہیں۔
ترک سفارتی کوششوں پر بھی سوالات
پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی میں اضافے نے ترکی کی ثالثی یا سہولت کاری کی کوششوں کے مستقبل کے حوالے سے بھی سوالات اٹھا دیے ہیں۔
ذرائع کے مطابق کابل کے دورے کے دوران ترک انٹیلی جنس چیف کو طالبان قیادت تک وہ رسائی حاصل نہیں ہو سکی جس کی توقع کی جا رہی تھی۔ اطلاعات کے مطابق ترک وفد کو ابتدا میں طالبان کے امیر ہیبت اللہ اخوندزادہ سے قندھار میں ملاقات کی توقع تھی، تاہم بعد ازاں طالبان قیادت کی جانب سے وفد سے ملاقات کے لیے ایک نمائندہ مقرر کیا گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ترک فریق نے اس پیش رفت کو مثبت انداز میں نہیں لیا۔ تاہم اس حوالے سے طالبان حکومت کی جانب سے کوئی ایسا تفصیلی عوامی مؤقف سامنے نہیں آیا جس سے ملاقات کے انتظامات اور اس کی نوعیت کی مکمل وضاحت ہو سکے۔
اسلام آباد میں طالبان پالیسی پر بڑھتی ہوئی مایوسی
پاکستانی پالیسی سازوں کے ایک حلقے کے مطابق حالیہ سفارتی کوششوں کی محدود کامیابی ان کے لیے مکمل طور پر غیر متوقع نہیں تھی۔ ایک پاکستانی عہدیدار کے مطابق اسلام آباد طالبان حکومت کے طرزِ عمل اور پالیسی ترجیحات سے اچھی طرح واقف ہے اور موجودہ حالات میں کابل کے رویے میں بنیادی تبدیلی کے امکانات محدود دکھائی دیتے ہیں۔
ایک عہدیدار نے موجودہ صورتحال کو انتہائی سنگین قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک ایسے مرحلے تک پہنچ چکے ہیں جہاں تعلقات کی فوری بحالی انتہائی مشکل نظر آتی ہے۔

تاہم یہ بات واضح نہیں کہ اس نوعیت کا تجزیہ پاکستان کی باضابطہ پالیسی ہے یا بعض حکام کی موجودہ صورتحال کے بارے میں داخلی رائے۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان سفارتی روابط مکمل طور پر منقطع نہیں ہوئے اور دونوں ممالک کے درمیان مستقبل میں رابطے کے امکانات موجود رہتے ہیں۔
افغانستان میں طالبان مخالف مزاحمت بھی اہم عنصر
پاکستان کی افغانستان سے متعلق پالیسی پر ایک اور اہم عامل ملک کے مختلف علاقوں میں طالبان مخالف مسلح گروہوں کی سرگرمیوں میں اضافہ ہے۔
نورستان میں حالیہ پیش رفت کو اس تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ طالبان مخالف گروپ افغانستان فریڈم فرنٹ (AFF) سے وابستہ جنگجوؤں کی جانب سے دعویٰ کیا گیا کہ انہوں نے نورستان کے ضلع کامدیش میں طالبان کے متعدد ٹھکانوں پر قبضہ کیا۔

طالبان حکام نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حملہ پسپا کر دیا گیا۔ طالبان کی جانب سے یہ الزام بھی عائد کیا گیا کہ حملہ آور پاکستان کی سرحد پار کرکے افغانستان میں داخل ہوئے تھے۔
اسلام آباد نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کابل کی جانب سے اس دعوے کے حق میں کوئی قابلِ تصدیق ثبوت فراہم نہیں کیا گیا۔
نورستان کی صورتحال اس لیے بھی اہم ہے کہ افغانستان میں طالبان حکومت کے مخالف مسلح گروہوں کی سرگرمیاں کابل کے لیے ایک اضافی سکیورٹی چیلنج بن سکتی ہیں، اگرچہ ان گروہوں کی حقیقی صلاحیت، علاقائی اثر و رسوخ اور طالبان حکومت کے لیے طویل المدتی خطرے کا اندازہ لگانے میں آزادانہ اور قابلِ تصدیق معلومات کی ضرورت ہے۔
پاکستان پر الزامات کا طالبان مخالف گروہوں پر ممکنہ اثر
پاکستانی پالیسی سازوں کے مطابق طالبان حکومت کی جانب سے بار بار پاکستان پر مخالف مسلح گروہوں کی حمایت یا سہولت کاری کے الزامات کا ایک غیر متوقع نتیجہ یہ ہو سکتا ہے کہ افغانستان میں طالبان مخالف عناصر پاکستان اور طالبان حکومت کے تعلقات کو نئے انداز سے دیکھنا شروع کر دیں۔
ماضی میں بعض طالبان مخالف گروہوں کے درمیان یہ تاثر پایا جاتا رہا کہ اسلام آباد اور طالبان حکومت کے درمیان اختلافات بنیادی طور پر محدود یا وقتی نوعیت کے ہیں اور پاکستان کسی نہ کسی شکل میں طالبان کے ساتھ تعاون برقرار رکھے ہوئے ہے۔

پاکستانی حکام کے مطابق اگر افغانستان میں طالبان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی مزید بڑھتی ہے تو بعض طالبان مخالف گروہ یہ نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ دونوں فریقوں کے درمیان سابقہ مفاہمت یا تعاون کا تصور اب قابلِ عمل نہیں رہا۔
اس کے نتیجے میں افغانستان کے بعض علاقوں میں طالبان حکومت کے خلاف مسلح مزاحمت کو مزید تقویت ملنے کا امکان بھی زیرِ بحث ہے۔ تاہم یہ ابھی ایک امکان اور پالیسی تجزیہ ہے، نہ کہ کوئی ثابت شدہ رجحان۔
خطے کے لیے پیچیدہ صورتحال
پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی صرف دوطرفہ تعلقات تک محدود نہیں رہتی بلکہ اس کے اثرات پورے خطے کی سکیورٹی اور سفارتی صورتحال پر پڑ سکتے ہیں۔ افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی، طالبان حکومت اور مختلف مسلح مخالف گروہوں کے درمیان کشمکش، سرحدی تنازعات اور دونوں ممالک کے درمیان باہمی الزامات پہلے ہی علاقائی ممالک کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔
ترکی اور قطر کی جانب سے حالیہ سفارتی کوششیں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ خطے کے بعض اہم ممالک دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ تاہم حالیہ واقعات کے بعد کسی فوری بریک تھرو کے امکانات محدود دکھائی دیتے ہیں۔

اسلام آباد کا بنیادی مطالبہ بدستور یہ ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہو، جبکہ کابل ماضی میں پاکستان پر افغان امور میں مداخلت اور بعض مخالف گروہوں کی حمایت جیسے الزامات عائد کرتا رہا ہے۔ دونوں جانب موجود یہ بداعتمادی کسی بھی ممکنہ مذاکرات کے لیے بنیادی رکاوٹ بن چکی ہے۔
موجودہ صورتحال میں پاک افغان تعلقات کا مستقبل بڑی حد تک اس بات پر منحصر ہوگا کہ دونوں حکومتیں سرحد پار دہشت گردی، عسکری گروہوں، باہمی الزامات اور سفارتی رابطوں کے مسائل کو کس حد تک مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر آمادہ ہوتی ہیں۔ اگر براہِ راست رابطے اور قابلِ اعتماد سکیورٹی انتظامات کا راستہ بحال نہ ہوا تو موجودہ کشیدگی طویل عرصے تک برقرار رہنے کا خدشہ موجود رہے گا۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ افغان طالبان پاکستان کی توقعات پوری کرنے میں ناکام رہے ہیں، تو ایسے میں سوال یہ ہے کہ دونوں ممالک کب تک انتہائی کشیدہ تعلقات برداشت کر سکتے ہیں؟ کیا حالات ابھی بھی معمول پر لانے کی گنجائش باقی ہے یا پھر پاکستان کے خیال میں ماضی کی طرح افغانستان میں حکومت کی تبدیلی ہی مسئلے کا حل ہے؟



