بین الاقوامیاہم خبریں

امریکی سفیر کا انکشاف: ٹرمپ نے شی جن پنگ سے امریکی ہتھیار خریدنے کی پیشکش سے متعلق سوال کیا تھا

شی جن پنگ کی وطن واپسی سے قبل واشنگٹن میں دونوں رہنماؤں کی ملاقاتوں سے متعلق تصویری اور تحریری ریکارڈ کا بھی جائزہ لیا گیا۔

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
سید عاطف ندیم-ادارت

چین میں تعینات امریکی سفیر ڈیوڈ پرڈیو نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چینی صدر شی جن پنگ سے براہِ راست پوچھا تھا کہ کیا چین کبھی امریکا سے ہتھیار خریدنے میں دلچسپی رکھے گا۔ تاہم امریکی حکام نے بعد میں واضح کیا کہ امریکی قانون چین کو ہتھیاروں کی فروخت کی اجازت نہیں دیتا اور واشنگٹن کی جانب سے بیجنگ کو اس نوعیت کی کوئی پیشکش یا باقاعدہ منصوبہ موجود نہیں۔

ڈیوڈ پرڈیو نے اتوار کو فاکس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ صدر ٹرمپ اکثر اس بات کا حوالہ دیتے ہیں کہ امریکا دنیا کے مختلف ممالک کو دفاعی سازوسامان اور ہتھیار فروخت کرتا ہے۔ ان کے مطابق اسی تناظر میں ٹرمپ نے چینی صدر شی جن پنگ سے یہ سوال کیا تھا کہ آیا چین کبھی امریکی ہتھیار خریدنے میں دلچسپی رکھے گا۔

تاہم پرڈیو نے یہ نہیں بتایا کہ چینی صدر نے اس سوال کا کیا جواب دیا۔

یہ انکشاف امریکا اور چین کے درمیان حالیہ اعلیٰ سطحی رابطوں کے پس منظر میں سامنے آیا ہے، جہاں تجارت، دفاع، تائیوان، عالمی سلامتی اور دونوں ممالک کے درمیان وسیع تر تزویراتی تعلقات اہم موضوعات رہے ہیں۔

شی جن پنگ کا دورہ امریکا اور ٹرمپ سے ملاقاتیں

چینی صدر شی جن پنگ نے امریکا کا تین روزہ سرکاری دورہ کیا، جس کے دوران ان کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ اہم ملاقاتیں ہوئیں۔

جمعرات کو وائٹ ہاؤس میں دونوں رہنماؤں کے درمیان اعلیٰ سطحی سربراہی ملاقات ہوئی، جسے دونوں ممالک کے تعلقات کے حوالے سے اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا گیا۔ اس کے بعد دونوں رہنماؤں نے جمعہ کو ایک نسبتاً غیر رسمی ملاقات میں چائے پر بھی وقت گزارا۔

شی جن پنگ کی وطن واپسی سے قبل واشنگٹن میں دونوں رہنماؤں کی ملاقاتوں سے متعلق تصویری اور تحریری ریکارڈ کا بھی جائزہ لیا گیا۔

چینی حکام نے دورے کے اختتام پر اسے مثبت قرار دیا، جبکہ امریکی حکام نے بھی دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست رابطے کی اہمیت پر زور دیا۔

چین: عسکری قوت اپنی ضروریات کے مطابق بنائی

چینی وزارت خارجہ نے شی جن پنگ کے دورہ امریکا کے بعد بیجنگ کا مؤقف واضح کرتے ہوئے کہا کہ چین اپنی دفاعی اور عسکری صلاحیتیں اپنی ضروریات کے مطابق تیار کرتا ہے۔

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان گو جیاکون نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ چین عالمی امن اور استحکام کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔

چینی مؤقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان فوجی طاقت، جدید ہتھیاروں، تائیوان اور بحرالکاہل میں سلامتی کے معاملات پر اختلافات موجود ہیں۔

بیجنگ تائیوان کو چین کا حصہ قرار دیتا ہے اور کسی بھی بیرونی طاقت کی جانب سے جزیرے کو فوجی مدد فراہم کرنے کی مخالفت کرتا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کی وضاحت

امریکی سفیر کے بیان کے بعد امریکی محکمہ خارجہ کے ایک عہدیدار نے ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ کو وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ امریکی قانون چین کو امریکی ہتھیار فروخت کرنے سے روکتا ہے۔

عہدیدار کے مطابق واشنگٹن کے پاس چین کو ہتھیار فروخت کرنے کی کوئی پیشکش یا منصوبہ موجود نہیں۔

اس وضاحت سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے چینی صدر سے ہتھیار خریدنے کے بارے میں سوال کو باقاعدہ اسلحہ معاہدے یا فروخت کی پیشکش کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔

یعنی امریکی سفیر کے بیان میں ایک ممکنہ سوال یا گفتگو کا حوالہ موجود ہے، جبکہ امریکی محکمہ خارجہ نے واضح کیا ہے کہ موجودہ قانونی فریم ورک کے تحت چین کو امریکی ہتھیار فروخت کرنے کا کوئی منصوبہ زیرِ عمل نہیں۔

تائیوان پالیسی میں تبدیلی نہیں ہوئی، امریکی سفیر

ڈیوڈ پرڈیو نے گفتگو کے دوران تائیوان کے حوالے سے واشنگٹن کی پالیسی بھی واضح کی اور کہا کہ امریکا کی بنیادی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

انہوں نے امریکی ون چائنا پالیسی، تائیوان ریلیشنز ایکٹ، امریکا اور چین کے درمیان تین مشترکہ اعلامیوں اور چھ ضمانتوں (Six Assurances) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن اپنے موجودہ پالیسی فریم ورک کے اندر تائیوان کے معاملے کو دیکھتا ہے۔

پرڈیو کے مطابق امریکا تائیوان کی آزادی کی حمایت نہیں کرتا، تاہم وہ جبر یا طاقت کے ذریعے صورتحال تبدیل کرنے کی بھی حمایت نہیں کرتا۔

یہ مؤقف امریکا کی طویل عرصے سے جاری اس پالیسی کی عکاسی کرتا ہے جس میں واشنگٹن تائیوان کے ساتھ غیر رسمی تعلقات اور دفاعی تعاون برقرار رکھتا ہے، لیکن تائیوان کی باضابطہ آزادی کی حمایت نہیں کرتا۔

تائیوان کے لیے امریکی ہتھیاروں کی فروخت

امریکی سفیر نے تائیوان کو امریکی دفاعی سازوسامان کی فروخت کا دفاع کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کی جانب سے تائیوان کے لیے تقریباً 11 ارب ڈالر مالیت کے ہتھیاروں کے پیکیج کی منظوری کا حوالہ دیا۔

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ٹرمپ نے 1979 کے بعد کسی بھی سابق امریکی صدر کے مقابلے میں زیادہ دفاعی سازوسامان کی منتقلی کی اجازت دی ہے۔

تائیوان کو امریکی ہتھیاروں کی فراہمی بیجنگ اور واشنگٹن کے درمیان مستقل اختلاف کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ چین کا مؤقف ہے کہ تائیوان چین کا حصہ ہے اور امریکا سمیت دیگر ممالک کی جانب سے جزیرے کو ہتھیار فراہم کرنا چین کے داخلی معاملے میں مداخلت کے مترادف ہے۔

واشنگٹن دوسری جانب تائیوان کو دفاعی صلاحیت برقرار رکھنے میں مدد دینے کو اپنی علاقائی سکیورٹی پالیسی کا حصہ قرار دیتا ہے۔

امریکا پہلے چین کو ہتھیار فروخت کر چکا ہے

اگرچہ موجودہ دور میں امریکا چین کو ہتھیار فروخت نہیں کرتا، تاہم دونوں ممالک کے درمیان ایسا تعاون ماضی میں موجود رہا ہے۔

1980 کی دہائی میں امریکا اور چین نے سوویت یونین کے خلاف وسیع تر تزویراتی مفادات کے تناظر میں دفاعی تعاون کیا تھا۔ اس دور میں واشنگٹن نے بیجنگ کو بعض فوجی سازوسامان فراہم کیا۔

ان میں AN/TPQ-37 کاؤنٹر آرٹلری ریڈار اور مارک-46 ٹارپیڈو سمیت دیگر دفاعی نظام شامل تھے۔

تاہم بعد میں امریکا اور چین کے دفاعی تعلقات میں نمایاں تبدیلی آئی اور حکومت سے حکومت کے درمیان اسلحہ فروخت کا سلسلہ ختم ہوگیا۔

امریکی حکومت کے گورنمنٹ اکاؤنٹیبلٹی آفس (GAO) کے مطابق 1990 کے بعد چین کے ساتھ نئے فارن ملٹری سیلز معاہدے نہیں کیے گئے۔

تائیوان بدستور سب سے حساس مسئلہ

امریکا اور چین کے درمیان تائیوان کا مسئلہ دونوں ممالک کے تعلقات میں سب سے حساس معاملات میں شمار ہوتا ہے۔

بیجنگ کا کہنا ہے کہ تائیوان چین کا حصہ ہے اور ضرورت پڑنے پر طاقت کے استعمال کا اختیار بھی برقرار رکھتا ہے۔ چین تائیوان کو امریکی ہتھیاروں کی فروخت کی مسلسل مخالفت کرتا ہے۔

واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ تائیوان کو دفاعی صلاحیت فراہم کرنا جزیرے کو ممکنہ جبر کے خلاف اپنی حفاظت کے قابل بنانے کے لیے ضروری ہے۔

اسی اختلاف کی وجہ سے تائیوان کے لیے امریکی دفاعی پیکیجز اکثر چین کی جانب سے شدید ردعمل کا باعث بنتے ہیں۔

امریکی ہتھیار خریدنے کے سوال کی اہمیت

شی جن پنگ سے امریکی ہتھیار خریدنے کے بارے میں صدر ٹرمپ کے سوال کا انکشاف اس لیے اہم ہے کہ امریکا اور چین ایک دوسرے کے سب سے بڑے تزویراتی حریفوں میں شمار ہوتے ہیں، جبکہ دونوں ممالک کے دفاعی تعلقات میں اعتماد کی کمی بھی موجود ہے۔

تاہم اس واقعے کو باقاعدہ امریکی اسلحہ پیشکش سمجھنا درست نہیں ہوگا، کیونکہ امریکی محکمہ خارجہ کے عہدیدار نے واضح کر دیا ہے کہ امریکی قانون چین کو ہتھیاروں کی فروخت کی اجازت نہیں دیتا اور ایسی کسی فروخت کا منصوبہ موجود نہیں۔

یہ سوال بظاہر صدر ٹرمپ کے اس وسیع تر مؤقف کے تناظر میں سامنے آیا جس میں وہ امریکی دفاعی صنعت کے لیے بیرون ملک اسلحہ فروخت کو اہم قرار دیتے رہے ہیں۔

چین کا امن اور استحکام پر زور

شی جن پنگ کے دورہ امریکا کے بعد چینی وزارت خارجہ کا یہ کہنا کہ چین عالمی امن اور استحکام کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے، دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے تزویراتی مقابلے کے باوجود سفارتی رابطوں کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔

چین ایک طرف اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنا رہا ہے تو دوسری جانب امریکا کے ساتھ اقتصادی اور سفارتی تعلقات کو بھی مکمل طور پر منقطع کرنے کے بجائے مذاکرات اور رابطے جاری رکھنے پر زور دیتا ہے۔

دوسری جانب واشنگٹن چین کی عسکری سرگرمیوں، تائیوان کے معاملے اور بحرالکاہل میں بڑھتے ہوئے چینی اثر و رسوخ کو اپنی علاقائی پالیسی کے اہم عوامل میں شمار کرتا ہے۔

مستقبل کے تعلقات میں دفاعی مسئلہ مرکزی حیثیت رکھتا ہے

امریکا اور چین کے درمیان مستقبل کے تعلقات میں تجارت اور معیشت کے ساتھ دفاعی اور تزویراتی معاملات بھی اہم رہیں گے۔ تائیوان، جنوبی بحیرہ چین، جدید فوجی ٹیکنالوجی، دفاعی برآمدات اور خطے میں امریکی و چینی فوجی موجودگی دونوں طاقتوں کے درمیان مسابقت کے بنیادی پہلو ہیں۔

شی جن پنگ سے امریکی ہتھیاروں کی ممکنہ خریداری کے بارے میں ٹرمپ کے سوال کا انکشاف اس وسیع تر تعلقات کے ایک غیر معمولی پہلو کو سامنے لاتا ہے، لیکن امریکی محکمہ خارجہ کی وضاحت کے مطابق اس وقت چین کو امریکی ہتھیار فروخت کرنے کی نہ کوئی باقاعدہ پیشکش ہے اور نہ ہی ایسا کوئی منصوبہ موجود ہے۔

یوں حالیہ واقعہ امریکا چین تعلقات میں ایک دلچسپ سفارتی انکشاف ضرور ہے، تاہم اس سے فی الحال دونوں ممالک کی دفاعی پالیسیوں یا تائیوان کے حوالے سے بنیادی مؤقف میں کسی بڑی تبدیلی کی نشاندہی نہیں ہوتی۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button