
منبر، عِلم اور ذمہ داری……. علی عباس کاظمی
یہ فرق سمجھنا اس لیے ضروری ہے کہ مذہب صرف عقیدہ نہیں، انسان کے لیے ایک اخلاقی اور روحانی تجربہ بھی ہے
جہالت کا سب سے خطرناک روپ وہ ہوتا ہے جو یقین کے لہجے میں گفتگو کرتی ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ کوئی شخص کسی نظریے سے اختلاف کرتا ہے۔۔۔ اختلاف انسانی فکر کا فطری حصہ ہے۔ اصل المیہ تب پیدا ہوتا ہے جب کسی اصطلاح کو سمجھے بغیر اسے اپنے مذہبی خوف کا عنوان بنا دیا جائے اور پھر منبر سے اسے اس یقین کے ساتھ بیان کیا جائے کہ گویا پوری دنیا کو اسی مفہوم کا پابند ہونا چاہیے۔ ایسے لمحوں میں سوال صرف ایک غلط تعریف کا نہیں رہتا، سوال یہ بن جاتا ہے کہ ہم نے علم، مذہب اور اختلافِ رائے کے ساتھ اپنا تعلق آخر کس مقام پر لا کھڑا کیا ہے؟سیکولرزم اور الحاد کو ایک ہی چیز سمجھ لینا اسی فکری الجھن کی ایک نمایاں مثال ہے۔ الحاد بنیادی طور پر خدا کے وجود سے انکار یا خدا پر ایمان نہ رکھنے سے متعلق ایک عقیدتی موقف ہے، جبکہ سیکولرزم کا تعلق ریاست، قانون اور اجتماعی زندگی میں مذہب کے کردار اور شہریوں کے مذہبی اختلاف کے ساتھ ہے۔ ایک شخص خدا پر گہرا ایمان رکھنے والا مسلمان بھی ہو سکتا ہے اور اس اصول کا حامی بھی کہ ریاست ہر شہری کے مذہبی عقیدے کو برابر کا قانونی احترام دے۔ یہاں بظاہر دو الگ دنیائیں نہیں بلکہ دو الگ دائروں کی بات ہو رہی ہے۔۔۔ایک انسان کا ذاتی ایمان اور دوسرا اجتماعی نظم کا اصول۔
یہ فرق سمجھنا اس لیے ضروری ہے کہ مذہب صرف عقیدہ نہیں، انسان کے لیے ایک اخلاقی اور روحانی تجربہ بھی ہے، لیکن ریاست کسی فرد کے باطن میں داخل نہیں ہو سکتی۔ وہ یہ طے نہیں کر سکتی کہ کون کس خدا کو مانے، کون کس عبادت گاہ میں جائے، کس مذہب کی پیروی کرے یا کس مذہبی عقیدے کو اپنے لیے سچ سمجھے۔ ریاست کا اصل امتحان یہ ہے کہ وہ شہری کے حقِ ایمان کے ساتھ ساتھ دوسرے شہری کے حقِ اختلاف کی بھی حفاظت کرے۔ اگر ایک مسلمان کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے عقیدے پر قائم رہے تو کسی غیر مسلم کو بھی یہ حق حاصل ہونا چاہیے کہ وہ اپنے عقیدے کے مطابق زندگی گزارے۔ یہی اصول مذہبی آزادی کو محض نعرہ نہیں بلکہ شہری حق بناتا ہے۔یہاں ایک نہایت اہم سوال پیدا ہوتا ہےکہ کیا اپنے عقیدے پر مضبوطی سے قائم رہنے کے لیے دوسرے کے عقیدے کو زبردستی بدلنا ضروری ہے؟ اگر ہمارا ایمان ہمارے لیے سچ ہے تو اسے دوسروں پر طاقت کے ذریعے مسلط کرنے کی خواہش کیوں پیدا ہوتی ہے؟ کیا ایمان اتنا کمزور ہے کہ اسے ریاستی اختیار، سماجی دباؤ یا نفرت انگیز زبان کے سہارے کی ضرورت پڑے؟ اور اگر ہم اپنے لیے مذہبی آزادی چاہتے ہیں تو کیا دوسروں کے لیے بھی اسی آزادی کو تسلیم کرنے کا اخلاقی حوصلہ رکھتے ہیں؟
بدقسمتی سے ہمارے ہاں مذہبی گفتگو کے بعض حلقوں میں اصطلاحات کے بجائے جذبات کو دلیل کا متبادل بنا دیا گیا ہے۔ کسی لفظ سے اختلاف ہو تو اس کے تاریخی، سیاسی یا فکری پس منظر کو سمجھنے کے بجائے اسے فوراً دین دشمنی کا مترادف بنا دینا آسان سمجھا جاتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ نوجوان نسل کو پیچیدہ فکری سوالات کے جواب دینے کے بجائے چند خوفناک لیبل دے دیے جاتے ہیں۔ اسے بتایا جاتا ہے کہ فلاں نظریہ خطرناک ہے، فلاں لفظ کفر کی طرف لے جاتا ہے اور فلاں طرزِ فکر ایمان کے خلاف ہے۔ مگر اسے یہ نہیں بتایا جاتا کہ ان اصطلاحات کا حقیقی مفہوم کیا ہے، ان کے اندر کون سے اختلافات موجود ہیں اور مختلف معاشروں میں ان کا عملی کردار کیا رہا ہے۔یہ رویہ صرف علمی کمزوری نہیں، تربیتی نقصان بھی ہے۔ جب ایک نوجوان بعد میں دنیا کے کسی ایسے معاشرے میں پہنچتا ہے جہاں مختلف مذاہب کے لوگ ایک ہی محلے، ایک ہی یونیورسٹی اور ایک ہی ریاست میں اپنے اپنے عقائد کے ساتھ زندگی گزار رہے ہوتے ہیں تو اس کے ذہن میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ سب لوگ ایک دوسرے کو اپنے عقیدے میں داخل ہونے پر مجبور نہیں کر رہے تو پھر انہیں ایک ساتھ رہنے میں مسئلہ کیوں نہیں؟ اگر اسے گھر اور منبر سے یہ سکھایا گیا ہو کہ سیکولر معاشرہ لازماً بے دینی کا معاشرہ ہے تو وہ اپنے مشاہدے اور سکھائے گئے تصور کے درمیان تضاد سے دوچار ہوگا۔ پھر یا تو وہ حقیقت کو غلط سمجھے گا یا اپنے اساتذہ اور مذہبی رہنماؤں پر سوال اٹھائے گا۔
سچا علم سوال سے خوف زدہ نہیں ہوتا، اسے راستہ دکھاتا ہے۔ مذہبی رہنما اگر کسی نظریے پر تنقید کرنا چاہتے ہیں تو ضرور کریں، مگر پہلے اس نظریے کو اس کے اصل مفہوم میں سمجھیں۔ کسی فکر کی تردید اس کی غلط تعریف بنا کر نہیں کی جا سکتی۔ اگر سیکولرزم کے کسی خاص ماڈل میں مذہب کو عوامی زندگی سے مکمل طور پر نکالنے کی کوشش ہے تو اس پر تنقید کیجیے، دلائل دیجیے، تاریخی مثالیں سامنے رکھیے۔ لیکن پورے تصور کو الحاد کہہ دینا علمی دیانت کے تقاضے پورے نہیں کرتا۔ تنقید کی قوت اسی وقت پیدا ہوتی ہے جب ناقد اپنے مخالف موقف کو اس کی مضبوط ترین شکل میں سمجھ کر اس کا جواب دے۔اصل مسئلہ شاید سیکولرزم سے زیادہ ہماری اپنی فکری بے اعتمادی ہے۔ ہمیں اکثر اختلاف سے خوف آتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اگر دوسرے کو اپنے عقیدے کے ساتھ آزاد چھوڑ دیا گیا تو شاید ہمارا عقیدہ خطرے میں پڑ جائے گا۔ حالانکہ مضبوط ایمان دوسروں کی آزادی سے خوف زدہ نہیں ہوتا۔ جو شخص اپنے عقیدے کی سچائی پر مطمئن ہے، وہ دلیل دے سکتا ہے، دعوت دے سکتا ہے، کردار سے متاثر کر سکتا ہے، مگر اسے ہر مختلف انسان کو دشمن ثابت کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ کمزوری اکثر شور پیدا کرتی ہے، یقین اکثر تحمل پیدا کرتا ہے۔
ریاست اور مذہب کے تعلق پر بھی یہی بنیادی اصول لاگو ہوتا ہے۔ ایک مذہبی شخص یہ خواہش رکھ سکتا ہے کہ معاشرہ اخلاقی اقدار کا احترام کرے، لیکن اسے یہ فرق بھی سمجھنا ہوگا کہ اخلاقی ترغیب اور قانونی جبر ایک چیز نہیں۔ ریاست جب شہری کے ضمیر کی نگہبان بننے لگتی ہے تو وہ صرف قانون نافذ کرنے والا ادارہ نہیں رہتی بلکہ لوگوں کے باطن پر اختیار قائم کرنے کی کوشش کرتی ہے اور باطن کی دنیا حکم سے نہیں چلتی۔ عبادت اگر صرف خوف کے نتیجے میں ہو تو اس میں روح کہاں باقی رہتی ہے؟ہمیں اپنے بچوں کو یہ سکھانے کی ضرورت ہے کہ مسلمان ہونا اور دوسروں کے حقوق کا احترام کرنا ایک دوسرے کی ضد نہیں۔ اپنے عقیدے سے محبت اور دوسرے انسان کی آزادی کا احترام بیک وقت ممکن ہے۔ مسجد کی حرمت اپنی جگہ، چرچ، مندر یا عبادت گاہ کی آزادی اپنی جگہ۔ قرآن پڑھنے کا حق اپنی جگہ، کسی دوسرے شہری کے اپنے مذہب کے مطابق زندگی گزارنے کا حق اپنی جگہ۔۔۔ یہ دو متضاد مطالبے نہیں بلکہ ایک مہذب معاشرے کے بنیادی تقاضے ہیں۔
ہم اپنی نئی نسل کو صرف یہ سکھانا چاہتے ہیں کہ کیا سوچنا ہے یا یہ بھی سکھائیں گے کہ کیسے سوچنا ہے؟ اگر ہم نے اسے صرف تیار شدہ فیصلے دیے تو وہ ہر نئے سوال کے سامنے گھبرا جائے گی۔ اگر اسے تحقیق، مکالمہ، دلیل اور اختلاف کا سلیقہ دیا تو وہ اپنے ایمان کے ساتھ بھی زیادہ مضبوط ہوگی اور دنیا کو بھی زیادہ بہتر سمجھ سکے گی۔مذہب کو علم سے، ایمان کو دلیل سے اور اپنے عقیدے کو دوسروں کے حقوق سے لڑانے کی ضرورت نہیں۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ ہم اصطلاحات کو سمجھیں، اختلاف کو برداشت کریں اور منبر کو جذبات بھڑکانے کے بجائے ذہن روشن کرنے کی جگہ بنائیں۔ کیونکہ ایک غلط بات اگر کہی جائے تو شاید چند لوگ متاثر ہوں، لیکن وہی بات اگر علم کی علامت سمجھے جانے والے مقام سے کہی جائے تو نسلوں کے ذہن تشکیل دے سکتی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ ہم اپنے عقیدے کے کتنے بڑے محافظ ہیں۔۔۔ سوال یہ ہے کہ ہم علم، انصاف اور انسان کے حقِ اختلاف کے کتنے بڑے محافظ بن سکے ہیں۔ شاید کسی معاشرے کی فکری بلوغت کا اصل پیمانہ یہی ہے کہ وہاں ایمان کو آزادی سے خوف نہ آئے اور آزادی کو ایمان سے دشمنی نہ سمجھا جائے۔



