
سرمایہ کاری اور روزگار کے فروغ کیلئے سیاسی استحکام ضروری ہے: سپیکر پنجاب اسمبلی
احتجاج کے باعث کاروباری سرگرمیاں اور بچوں کی تعلیم متاثر نہیں ہونی چاہیے، ملک محمد احمد خاں
سید کاشف ندیم ارحم-پاکستان
لاہور: سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خاں نے کہا ہے کہ پاکستان کی معاشی ترقی، غربت میں کمی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کیلئے سرمایہ کاری اور نجی شعبے کا فروغ ناگزیر ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ سیاسی اختلافات کے باوجود کاروباری سرگرمیوں، شہریوں کی نقل و حرکت اور بچوں کی تعلیم کا تسلسل برقرار رہنا چاہیے۔
26ویں بین الاقوامی پولٹری نمائش (آئی پیکس 2026) کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سپیکر ملک محمد احمد خاں نے کہا کہ نمائش میں مختلف شعبوں سے وابستہ ملکی و غیر ملکی اداروں، سرمایہ کاروں، ماہرین، ڈاکٹروں اور کاروباری شخصیات کی شرکت پولٹری انڈسٹری کی اہمیت اور اس میں سرمایہ کاری کے وسیع امکانات کو ظاہر کرتی ہے۔
سپیکر ملک محمد احمد خاں نے کہا کہ پولٹری کا شعبہ ادویات، جدید مشینری، انڈوں کی پیداوار، پراسیسنگ، برآمدات اور مقامی منڈی سمیت متعدد کاروباری سرگرمیوں سے منسلک ہے۔ ایسے تجارتی اجتماعات نہ صرف کاروباری روابط کو فروغ دیتے ہیں بلکہ نئی سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔
ملک محمد احمد خاں نے نمائش میں چینی پویلین اور جدید آلات و پراسیسنگ پلانٹس کی موجودگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی کاروباری روابط کو وسعت دینا اور سرمایہ کاروں کیلئے سازگار ماحول فراہم کرنا معاشی ترقی کیلئے اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ نجی شعبے کی ترقی سے نوجوانوں کیلئے روزگار کے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں اور ملکی معیشت کو مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔
سپیکر ملک محمد احمد خاں نے کہا کہ حکومت تنہا تمام شہریوں کو روزگار فراہم نہیں کر سکتی، اس لیے کاروباری سرگرمیوں کا فروغ اور نجی شعبے کی مؤثر شمولیت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاشی مشکلات سے نمٹنے کیلئے سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی، کاروبار کے مواقع میں اضافہ اور ترقیاتی سرگرمیوں کا تسلسل برقرار رکھنا ہوگا۔
حکومت پنجاب کے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے رہائشی سہولتوں اور صفائی کے شعبوں میں جاری کوششوں پر بات کی۔ انہوں نے کم آمدن والے افراد کو اپنی رہائش کے حصول میں مدد فراہم کرنے کیلئے رہائشی منصوبوں کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ عوامی ضروریات سے متعلق اقدامات معاشرتی بہتری میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
سیاسی احتجاج کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ملک محمد احمد خاں نے کہا کہ سیاسی اختلافات جمہوری عمل کا حصہ ہیں، تاہم ان کے اظہار سے عام شہریوں کی زندگی، کاروبار اور تعلیمی سرگرمیاں متاثر نہیں ہونی چاہئیں۔ سڑکوں کی بندش اور کاروباری سرگرمیوں میں تعطل سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور معیشت پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
سپیکر ملک محمد احمد خاں نے کہا کہ سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچانا، تشدد اور حساس تنصیبات پر حملے کسی صورت قابل قبول نہیں۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ شہریوں، عبادت گاہوں، قومی املاک اور کاروباری مراکز کا تحفظ یقینی بنائے۔ انہوں نے زور دیا کہ سیاسی اختلافات کو تصادم کے بجائے آئینی اور قانونی طریقہ کار کے تحت حل کیا جانا چاہیے۔
تعلیم کے شعبے کا ذکر کرتے ہوئے سپیکر ملک محمد احمد خاں نے سرکاری اسکولوں میں جدید ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل تدریس اور مصنوعی ذہانت کی سہولتوں کے استعمال کو اہم پیش رفت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ جدید تعلیمی سہولتوں سے طلبہ کو مستقبل کے تقاضوں کے مطابق تیار کرنے میں مدد مل سکتی ہے، لیکن احتجاج کے باعث تعلیمی اداروں کی بندش بچوں کے تعلیمی نقصان کا سبب بنتی ہے۔
ملک محمد احمد خاں نے کہا کہ سیاسی قیادت کو قومی مسائل کے حل کیلئے مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق سیاسی مکالمہ، آئینی بالادستی اور معاشی سرگرمیوں کا تسلسل ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے اور عوام کیلئے بہتر مواقع پیدا کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔
پولٹری نمائش کے منتظمین اور شرکا کو مبارک باد دیتے ہوئے سپیکر نے کہا کہ ایسی نمائشیں مختلف کاروباری شعبوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے، نئی مصنوعات اور ٹیکنالوجی متعارف کرانے اور کاروباری روابط بڑھانے کا مؤثر ذریعہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان سرگرمیوں کو مزید وسعت دینے سے چھوٹے تاجروں سمیت مختلف شعبوں سے وابستہ افراد کیلئے بھی نئے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ سرمایہ کاری کے فروغ، نجی شعبے کی شمولیت، سیاسی مکالمے اور تعلیمی و کاروباری سرگرمیوں کے تسلسل کے ذریعے پاکستان میں ترقی اور روزگار کے مزید مواقع پیدا کیے جا سکیں گے۔



