پاکستان پریس ریلیزاہم خبریں

ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل لاہور کی کارروائی، افغان شہری سمیت چار ملزمان گرفتار، غیر قانونی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کے حصول کا معاملہ بے نقاب

لاہور: ایگزیکٹو پاسپورٹ آفس ڈی ایچ اے فیز 3 میں افغان شہریوں کی موجودگی کی اطلاع پر کارروائی، نادرا انٹیلی جنس افسر بھی گرفتار، ملزمان کے درمیان مبینہ گٹھ جوڑ کی تحقیقات جاری

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
قیصر مغل-ادارت

وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے اینٹی کرپشن سرکل لاہور نے غیر قانونی طور پر پاکستانی شناختی کارڈ حاصل کرنے اور افغان شہریوں کی پاسپورٹ پراسیسنگ کے معاملے پر کارروائی کرتے ہوئے افغان شہریوں سمیت چار ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔ گرفتار ملزمان میں مبینہ طور پر غیر قانونی طریقے سے پاکستانی شناختی کارڈ حاصل کرنے والا شخص، پاسپورٹ پراسیسنگ کے لیے آنے والے دو افغان شہری اور نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کا ایک انٹیلی جنس افسر شامل ہیں۔

ابتدائی تحقیقات کے مطابق معاملے میں پاکستانی شناختی دستاویزات کے حصول کے لیے مبینہ جعل سازی، شجرۂ نسب میں غیر قانونی اندراج اور نادرا اہلکار کے ممکنہ سہولت کار کردار کے پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ایف آئی اے حکام کی جانب سے ملزمان کے باہمی روابط اور مبینہ ملی بھگت کے حوالے سے مزید تفتیش جاری ہے۔

ایگزیکٹو پاسپورٹ آفس ڈی ایچ اے فیز 3 سے کارروائی کا آغاز

دستیاب تفصیلات کے مطابق ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل لاہور کو ایگزیکٹو پاسپورٹ آفس، ڈی ایچ اے فیز 3 لاہور میں افغان شہریوں کی موجودگی کے حوالے سے اطلاع موصول ہوئی، جس پر متعلقہ حکام نے کارروائی کی۔

کارروائی کے دوران فیصل عرف عرفان نامی ملزم کے بارے میں انکشاف ہوا کہ اس نے مبینہ طور پر غیر قانونی طریقے سے پاکستانی شناختی کارڈ حاصل کیا تھا۔ ابتدائی معلومات کے مطابق ملزم کا نام ایک پاکستانی خاندان کے شجرۂ نسب میں مبینہ طور پر غیر قانونی طور پر شامل کیا گیا، جس کے بعد پاکستانی شناختی دستاویزات کے حصول کا معاملہ سامنے آیا۔

حکام اب اس امر کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ ملزم نے پاکستانی شناختی کارڈ کس طریقے سے حاصل کیا، شجرۂ نسب میں اس کا اندراج کن ذرائع سے کیا گیا اور اس عمل میں کون سے افراد یا ادارے مبینہ طور پر ملوث تھے۔

پاسپورٹ پراسیسنگ کے لیے آنے والے دو افغان شہری بھی حراست میں

ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل لاہور نے ملزم عرفان کے ہمراہ پاسپورٹ پراسیسنگ کے لیے آنے والے دو افغان شہریوں، دلاور خان اور جہانزیب خان، کو بھی حراست میں لے لیا۔

ابتدائی معلومات کے مطابق دونوں افغان شہری پاسپورٹ پراسیسنگ کے سلسلے میں ایگزیکٹو پاسپورٹ آفس پہنچے تھے۔ ان کی موجودگی اور متعلقہ دستاویزات کی جانچ کے دوران پاکستانی شناختی کارڈ کے مبینہ غیر قانونی حصول سے جڑے معاملے کی مزید چھان بین شروع کی گئی۔

تحقیقاتی حکام اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ دونوں افغان شہریوں کے پاس موجود دستاویزات کی نوعیت کیا تھی، پاسپورٹ پراسیسنگ کے لیے کون سی معلومات فراہم کی گئی تھیں اور آیا اس عمل میں کسی دوسرے شخص نے بھی سہولت کاری کی تھی۔

نادرا انٹیلی جنس افسر شعیب بھٹی بھی گرفتار

ایف آئی اے کی ابتدائی تفتیش کے دوران معاملے میں نادرا کے ایک انٹیلی جنس افسر شعیب بھٹی کا نام سامنے آیا، جس کے بعد انہیں جوہر ٹاؤن میں واقع نادرا سینٹر سے گرفتار کر لیا گیا۔

ابتدائی تحقیقات کے مطابق شعیب بھٹی پر الزام ہے کہ وہ دیگر ملزمان کے ساتھ مبینہ ملی بھگت میں ملوث تھے۔ تفتیشی حکام اس پہلو کی جانچ کر رہے ہیں کہ شناختی دستاویزات کے حصول اور شجرۂ نسب میں مبینہ غیر قانونی اندراج کے عمل میں ان کا کیا کردار تھا اور آیا سرکاری ریکارڈ میں کسی قسم کی ردوبدل یا غیر قانونی معاونت کی گئی۔

نادرا اہلکار کی گرفتاری کے بعد معاملے نے مزید اہمیت اختیار کر لی ہے، کیونکہ شناختی دستاویزات کے اجرا اور شہریوں کے کوائف کی تصدیق کے نظام میں متعلقہ اداروں کے اہلکاروں کی ذمہ داریاں بنیادی اہمیت رکھتی ہیں۔ تاہم ملزم کے خلاف عائد الزامات کی حتمی نوعیت اور ذمہ داری کا تعین تفتیش اور قانونی کارروائی کے بعد ہی ممکن ہوگا۔

شناختی ریکارڈ اور مبینہ سہولت کاری کی تحقیقات جاری

ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل لاہور کی جانب سے گرفتار ملزمان کے باہمی روابط، پاکستانی شناختی کارڈ کے مبینہ غیر قانونی حصول، شجرۂ نسب میں اندراج اور پاسپورٹ پراسیسنگ کے عمل کی تفصیلات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

تحقیقات میں اس بات کا تعین اہم ہوگا کہ آیا شناختی ریکارڈ میں اندراج کے لیے جعلی دستاویزات استعمال کی گئیں، متعلقہ ریکارڈ کی تصدیق کے مراحل کی خلاف ورزی ہوئی یا کسی اہلکار نے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے ملزمان کو سہولت فراہم کی۔

حکام اس مبینہ نیٹ ورک سے منسلک دیگر افراد کی نشاندہی اور دستاویزی شواہد جمع کرنے کے لیے بھی تفتیش آگے بڑھا رہے ہیں۔ مزید یہ کہ زیرِ تفتیش شناختی دستاویزات کی قانونی حیثیت اور پاسپورٹ پراسیسنگ کے لیے فراہم کردہ معلومات کی تصدیق بھی معاملے کا اہم حصہ ہے۔

مزید گرفتاریاں اور قانونی کارروائی تفتیش سے مشروط

ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل لاہور کے مطابق نادرا اہلکار اور دیگر ملزمان کے مبینہ گٹھ جوڑ کے حوالے سے مزید تفتیش جاری ہے۔ تحقیقات کے نتائج کی روشنی میں معاملے میں ملوث دیگر افراد کی نشاندہی اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کا فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔

یہ کارروائی شناختی دستاویزات کے اجرا اور پاسپورٹ پراسیسنگ کے نظام میں قانونی تقاضوں کی پابندی کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔ متعلقہ حکام کے لیے ضروری ہے کہ پاکستانی شناختی دستاویزات کے حصول کے ہر مرحلے پر ریکارڈ کی درستگی، خاندانی کوائف کی تصدیق اور قانونی شرائط پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔

واضح رہے کہ گرفتار افراد کے خلاف الزامات تاحال تحقیقات کے مرحلے میں ہیں۔ کسی بھی ملزم کی حتمی ذمہ داری کا تعین شواہد، تفتیش اور مجاز عدالت کے فیصلے کی روشنی میں ہوگا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button