پاکستاناہم خبریں

پاکستان امن مذاکرات کا حامی، دہشت گردی کے خاتمے کے لیے عالمی تعاون ناگزیر ہے: محسن نقوی

دوحہ گلوبل سکیورٹی فورم سے کلیدی خطاب، قطر کے ثالثی کردار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی امن کوششوں کو سراہا؛ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ امن کی جانب اہم اقدام قرار، اسپین، لبنان اور شام کے وزرائے داخلہ سے اہم ملاقاتیں

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
سید عاطف ندیم-ادارت

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ امن، مذاکرات اور بات چیت کی حمایت کی ہے اور تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات کا راستہ اختیار کرنے کی پالیسی پر قائم رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے دروازے کبھی بند نہیں کیے جا سکتے، جبکہ عالمی امن کے قیام اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے تمام ممالک کو مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی۔

دوحہ میں گلوبل سکیورٹی فورم سے کلیدی خطاب کرتے ہوئے وزیر داخلہ محسن نقوی نے عالمی امن کے لیے قطر کے ثالثی کردار کو اہم قرار دیا اور کہا کہ قطر مختلف تنازعات کے حل اور فریقین کے درمیان رابطوں کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی جانب سے عالمی امن کے لیے کی جانے والی کوششوں کا بھی ذکر کیا۔

محسن نقوی نے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں مکالمے، سفارتی روابط اور باہمی تعاون کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ ان کے مطابق اختلافات اور تنازعات کا مستقل حل تلاش کرنے کے لیے ضروری ہے کہ متعلقہ فریق بات چیت کے راستے کھلے رکھیں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جو کشیدگی میں اضافے کا باعث بن سکتے ہوں۔

انہوں نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کو امن کی جانب ایک اہم اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے مشترکہ حکمت عملی اور تعاون ضروری ہے۔ وزیر داخلہ کے مطابق دہشت گردی ایک مشترکہ دشمن ہے، جس کا مقابلہ کسی ایک ملک کے لیے تنہا ممکن نہیں، اس لیے عالمی برادری کو اس خطرے سے نمٹنے کے لیے باہمی تعاون کو فروغ دینا ہوگا۔

دہشت گردی کے خلاف عالمی تعاون کی ضرورت

وفاقی وزیر داخلہ نے اپنے خطاب میں دہشت گردی کے مسئلے پر بھی توجہ مرکوز کی اور کہا کہ اس خطرے سے نمٹنے کے لیے ممالک کے درمیان معلومات کے تبادلے، سکیورٹی تعاون اور مشترکہ اقدامات کی ضرورت ہے۔

انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ دہشت گردی کسی ایک ملک یا خطے تک محدود نہیں، بلکہ اس کے اثرات عالمی سطح پر امن، استحکام اور معاشی ترقی کو متاثر کرتے ہیں۔ اس لیے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے بین الاقوامی تعاون کو مضبوط بنانا ناگزیر ہے۔

محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان امن کے قیام اور مذاکرات کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔ ان کے مطابق اختلافات کے باوجود مکالمے کے امکانات کو برقرار رکھنا چاہیے، کیونکہ بات چیت ہی تنازعات کو کم کرنے اور دیرپا استحکام کی راہ ہموار کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔

گلوبل سکیورٹی فورم کے موقع پر اہم سفارتی ملاقاتیں

گلوبل سکیورٹی فورم کے موقع پر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اسپین اور لبنان کے وزرائے داخلہ، جبکہ شام کے وزیر برائے ایمرجنسی و ڈیزاسٹر مینجمنٹ سے بھی ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں دوطرفہ تعلقات کے فروغ اور مشترکہ مفادات کے مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ان ملاقاتوں میں وفاقی وزیر برائے اوورسیز پاکستانیز چودھری سالک حسین بھی موجود تھے۔ ملاقاتوں کے دوران سکیورٹی، غیرقانونی امیگریشن کی روک تھام اور متعلقہ وزارتوں کے درمیان رابطوں کو مزید مؤثر بنانے جیسے امور زیرِ بحث آئے۔

مختلف ممالک کے وزرا کے ساتھ یہ روابط پاکستان کی جانب سے بین الاقوامی سطح پر سکیورٹی تعاون اور دوطرفہ تعلقات کو فروغ دینے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔ ایسے رابطوں کے ذریعے متعلقہ اداروں کے درمیان تجربات کے تبادلے اور مشترکہ مسائل کے حل کے امکانات پیدا ہوتے ہیں۔

اسپین کا غیرقانونی امیگریشن کی روک تھام میں پاکستان کی کوششوں کا اعتراف

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور اسپین کے وزیر داخلہ کے درمیان ملاقات میں غیرقانونی امیگریشن کی روک تھام اور دوطرفہ تعاون کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اس موقع پر اسپین کے وزیر داخلہ نے یورپ کی جانب غیرقانونی امیگریشن میں 64 فیصد کمی سے متعلق پاکستان کی کوششوں کو سراہا اور اس سلسلے میں پاکستان کے اقدامات کو خراج تحسین پیش کیا۔

ملاقات میں غیرقانونی امیگریشن کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے تعاون کی اہمیت پر بات کی گئی۔ غیرقانونی نقل مکانی کی روک تھام کے لیے متعلقہ ممالک کے درمیان رابطے، انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی اور قانونی طریقوں سے نقل مکانی کے مواقع کی اہمیت کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔

پاکستان اور یورپی ممالک کے درمیان اس معاملے پر تعاون دونوں جانب کے متعلقہ اداروں کے لیے اہمیت رکھتا ہے، خصوصاً انسانی اسمگلنگ اور غیرقانونی سفری نیٹ ورکس کی روک تھام کے حوالے سے۔

تاہم، غیرقانونی امیگریشن میں 64 فیصد کمی کے دعوے کے حوالے سے زیرِ بحث مدت، اعدادوشمار کی بنیاد اور متعلقہ یورپی راستوں کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

لبنان کے ساتھ سکیورٹی تعاون بڑھانے پر اتفاق

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور لبنان کے وزیر داخلہ و بلدیات احمد الحجار کے درمیان ملاقات میں سکیورٹی تعاون اور دونوں ممالک کی وزارت داخلہ کے درمیان روابط کو مزید فعال بنانے کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ دونوں ممالک کے متعلقہ اداروں کے درمیان رابطوں کو مؤثر بنایا جائے اور مشترکہ مفادات کے شعبوں میں تعاون کے امکانات کو آگے بڑھایا جائے۔

وزارت داخلہ کے درمیان براہ راست رابطوں کا فروغ سکیورٹی سے متعلق تجربات کے تبادلے، مشترکہ مسائل پر مشاورت اور ادارہ جاتی تعاون کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوسکتا ہے۔ ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان موجودہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی اہمیت بھی زیرِ بحث آئی۔

شام کے وزیر سے ملاقات، ہنگامی صورت حال سے نمٹنے میں تعاون پر تبادلہ خیال

محسن نقوی نے شام کے وزیر برائے ایمرجنسی و ڈیزاسٹر مینجمنٹ سے بھی ملاقات کی۔ ملاقات میں دوطرفہ تعلقات اور مشترکہ مفادات کے شعبوں میں تعاون کے امکانات پر گفتگو ہوئی۔

ایمرجنسی اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ سے متعلق اداروں کے درمیان تعاون قدرتی آفات، ہنگامی حالات اور دیگر بحرانوں سے نمٹنے کے تجربات کے تبادلے کے لیے اہم ہوسکتا ہے۔ تاہم، اس ملاقات میں کسی مخصوص منصوبے یا باقاعدہ معاہدے کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

امن، سفارت کاری اور علاقائی استحکام پر پاکستان کا مؤقف

دوحہ گلوبل سکیورٹی فورم میں وفاقی وزیر داخلہ کے خطاب اور مختلف ممالک کے وزرا سے ملاقاتوں میں امن، مذاکرات، دہشت گردی کے خلاف تعاون اور دوطرفہ تعلقات کے فروغ کو مرکزی اہمیت حاصل رہی۔

محسن نقوی نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ پاکستان مذاکرات کے ذریعے تنازعات کے حل اور عالمی امن کے فروغ کی حمایت جاری رکھے گا۔ ان کے مطابق دہشت گردی جیسے مشترکہ خطرات سے نمٹنے کے لیے عالمی برادری کو مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی۔

اسپین کے ساتھ غیرقانونی امیگریشن کی روک تھام، لبنان کے ساتھ سکیورٹی روابط اور شام کے ساتھ ایمرجنسی و ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے شعبے میں تبادلہ خیال ان ملاقاتوں کے نمایاں پہلو رہے۔

پاکستان کی جانب سے سفارتی رابطوں اور سکیورٹی تعاون کو آگے بڑھانے کی یہ کوششیں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب عالمی سطح پر تنازعات، دہشت گردی اور غیرقانونی نقل مکانی جیسے مسائل مختلف ممالک کے لیے مشترکہ چیلنج بنے ہوئے ہیں۔ گلوبل سکیورٹی فورم کے موقع پر ہونے والی ملاقاتوں کا عملی نتیجہ آئندہ متعلقہ اداروں کے رابطوں، طے پانے والے اقدامات اور تعاون پر پیشرفت سے واضح ہوگا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button