
پاکستان کا اقوام متحدہ میں انسانی حقوق پر مبنی انسدادِ دہشت گردی فریم ورک کا مطالبہ، سرحد پار ہلاکتوں اور دہشت گرد نیٹ ورکس کے احتساب پر زور
پاکستان کے مطابق انسدادِ دہشت گردی کی مؤثر حکمت عملی کے لیے ضروری ہے کہ دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنے کے ساتھ قانونی عمل، بنیادی آزادیوں اور انسانی وقار کا تحفظ بھی یقینی بنایا جائے۔
سید مدثر احمد-ادارت
نیویارک: پاکستان نے اقوام متحدہ میں انسدادِ دہشت گردی کے ایسے عالمی نظام کی ضرورت پر زور دیا ہے جو بین الاقوامی قانون، انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں کے احترام پر مبنی ہو۔ پاکستان نے خبردار کیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف اقدامات کو جبر، امتیازی سلوک، غیر قانونی طاقت کے استعمال یا دوسرے ممالک کی خودمختاری کی خلاف ورزیوں کا جواز نہیں بنایا جانا چاہیے۔
اقوام متحدہ میں انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں کے فروغ اور تحفظ کے موضوع پر انسدادِ دہشت گردی کے تناظر میں منعقدہ مکالمے کے دوران پاکستانی مندوب کونسلر محمد جواد اجمل نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے، تاہم اس مقصد کے حصول کے لیے بین الاقوامی قانون اور انسانی حقوق کے اصولوں کی پاسداری ناگزیر ہے۔
انہوں نے دہشت گردی کی واضح اور بین الاقوامی قانون سے ہم آہنگ تعریف کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ انسدادِ دہشت گردی کے عالمی فریم ورک میں دہشت گردی اور غیر ملکی قبضے میں رہنے والے عوام کے حقِ خود ارادیت کے جائز استعمال کے درمیان فرق واضح ہونا چاہیے۔
پاکستانی مندوب نے اپنے خطاب میں بھارت کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر اور فلسطین کی صورتحال، مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، سرحد پار ٹارگٹ کلنگ، دہشت گردی کی مالی معاونت، اقوام متحدہ کی پابندیوں کے نظام میں شفافیت اور افغانستان سے پیدا ہونے والے علاقائی سلامتی کے چیلنجز سمیت متعدد اہم امور پر پاکستان کا مؤقف پیش کیا۔
انہوں نے دہشت گرد تنظیموں کو اسلحہ، ہتھیار اور ڈرون فراہم کرنے والے مبینہ مجرمانہ نیٹ ورکس کے احتساب کا مطالبہ بھی کیا اور کہا کہ دہشت گردی کے خلاف عالمی کوششوں میں ان گروہوں کے سہولت کاروں، مالی معاونین اور رسد فراہم کرنے والوں کو بھی جواب دہ بنانا ضروری ہے۔
انسدادِ دہشت گردی میں انسانی حقوق اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری ضروری
پاکستانی مندوب محمد جواد اجمل نے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے برائے انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں کے فروغ و تحفظ کے ساتھ مکالمے میں اس امر پر زور دیا کہ دہشت گردی کے خلاف اقدامات انسانی حقوق کے عالمی اصولوں سے ہم آہنگ ہونے چاہییں۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ریاستوں کی کوششیں قانونی دائرہ کار کے اندر رہتے ہوئے کی جانی چاہییں اور ان اقدامات کو کسی بھی صورت میں شہریوں کے بنیادی حقوق سلب کرنے، مخصوص مذہبی یا نسلی گروہوں کو نشانہ بنانے یا غیر قانونی جبر کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔
پاکستان کے مطابق انسدادِ دہشت گردی کی مؤثر حکمت عملی کے لیے ضروری ہے کہ دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنے کے ساتھ قانونی عمل، بنیادی آزادیوں اور انسانی وقار کا تحفظ بھی یقینی بنایا جائے۔
اس تناظر میں پاکستان نے دہشت گردی کی بین الاقوامی تعریف کے حوالے سے بھی واضح اصول وضع کرنے کی ضرورت اجاگر کی۔ پاکستانی مندوب کے مطابق تعریف ایسی ہونی چاہیے جو بین الاقوامی قانون کے تحت دہشت گردی کی کارروائیوں اور غیر ملکی قبضے میں رہنے والے عوام کے حقِ خود ارادیت کے جائز استعمال کے درمیان فرق کر سکے۔
یہ مؤقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی سطح پر دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں، مسلح تنازعات، قومی سلامتی اور انسانی حقوق کے درمیان توازن کے حوالے سے بحث جاری ہے۔ پاکستان نے اس بات پر زور دیا کہ انسدادِ دہشت گردی کا نظام مؤثر ہونے کے ساتھ منصفانہ، شفاف اور قانونی اصولوں کا پابند بھی ہونا چاہیے۔
مقبوضہ جموں و کشمیر اور فلسطین میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش
پاکستانی مندوب نے غیر ملکی قبضے سے متعلق حالات، بالخصوص بھارت کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر اور فلسطین میں انسانی حقوق کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا۔
محمد جواد اجمل نے اپنے خطاب میں جبری بے دخلی، آباد کاروں کے تشدد، آبادیاتی تبدیلیوں، من مانی حراست، تشدد اور دیگر غیر انسانی یا توہین آمیز سلوک سے متعلق اطلاعات کا حوالہ دیا۔
انہوں نے زور دیا کہ انسانی حقوق کے تحفظ کے عالمی اصولوں کا اطلاق بلاامتیاز ہونا چاہیے اور ان کی خلاف ورزیوں کے الزامات کا جائزہ بین الاقوامی قانون اور متعلقہ شواہد کی بنیاد پر لیا جانا چاہیے۔
پاکستانی مؤقف کے مطابق انسدادِ دہشت گردی کے عنوان کے تحت کیے جانے والے اقدامات کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں یا شہری آبادی کے خلاف غیر قانونی کارروائیوں کا جواز نہیں بنایا جا سکتا۔
پاکستان نے اس حوالے سے عالمی برادری کی توجہ اس ضرورت کی جانب مبذول کرائی کہ انسانی حقوق، شہریوں کے تحفظ اور حقِ خود ارادیت سے متعلق اصولوں کو بین الاقوامی پالیسی سازی میں یکساں اہمیت دی جائے۔
اقوام متحدہ کے انسدادِ دہشت گردی نظام میں امتیازی سلوک کی روک تھام کا مطالبہ
پاکستان نے اقوام متحدہ کے انسدادِ دہشت گردی کے نظام پر زور دیا کہ وہ دہشت گردی کے بدلتے ہوئے خطرات سے نمٹنے کے لیے زیادہ جامع اور غیر امتیازی نقطۂ نظر اختیار کرے۔
محمد جواد اجمل نے کہا کہ دہشت گردی کے خطرات میں پرتشدد قوم پرست گروہ، انتہائی دائیں بازو کے عناصر اور اسلام مخالف گروہ بھی شامل ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق عالمی انسدادِ دہشت گردی نظام کو ان خطرات کا بھی مناسب طور پر احاطہ کرنا چاہیے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دہشت گردوں کی فہرستیں مرتب کرتے وقت مذہب یا کسی دوسری ممنوعہ بنیاد پر امتیازی سلوک نہیں ہونا چاہیے۔ کسی فرد یا تنظیم کے بارے میں فیصلے متعلقہ شواہد، قانونی معیار اور منصفانہ طریقۂ کار کی بنیاد پر کیے جانے چاہییں۔
پاکستانی مندوب نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پابندیوں کے نظام میں شفافیت بڑھانے اور قانونی عمل کے تحفظات کو مضبوط بنانے کا مطالبہ بھی کیا۔
ان کے مطابق پابندیوں سے متاثر ہونے والے افراد اور اداروں کے لیے مؤثر قانونی طریقۂ کار اور فیصلوں پر نظرثانی کے مناسب انتظامات ضروری ہیں، تاکہ پابندیوں کا نظام قابلِ اعتماد اور منصفانہ رہے۔
1267 پابندیوں کے نظام میں اومبڈس پرسن کا کردار بڑھانے پر زور
پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے 1267 پابندیوں کے نظام کے تحت اومبڈس پرسن کے مینڈیٹ اور صلاحیت کو مزید وسعت دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
یہ نظام اقوام متحدہ کی جانب سے مخصوص دہشت گرد تنظیموں اور ان سے وابستہ افراد کے خلاف پابندیوں کے نفاذ سے متعلق ہے۔ اس کے تحت متعلقہ فہرستوں میں شامل افراد یا اداروں پر اثاثوں کی منجمدی، سفری پابندیوں اور اسلحے کی فراہمی پر پابندی جیسے اقدامات لاگو ہو سکتے ہیں۔
اومبڈس پرسن کا کردار متعلقہ پابندیوں کی فہرست میں شامل افراد یا اداروں کی جانب سے نام خارج کرانے کی درخواستوں کے جائزے سے متعلق ہے۔ اس طریقۂ کار کا مقصد یہ ہے کہ فہرست میں شامل کیے جانے کے فیصلوں کے حوالے سے متعلقہ اعتراضات کا جائزہ لیا جا سکے۔
پاکستانی مندوب نے مؤقف اختیار کیا کہ اس نظام میں شفافیت اور قانونی عمل کے تحفظات مضبوط بنانے سے اس کی ساکھ بہتر ہو سکتی ہے۔ انہوں نے اومبڈس پرسن کے مینڈیٹ کو وسیع کرنے اور اس کی استعداد بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا، تاکہ متعلقہ درخواستوں اور اعتراضات کا مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔
اس مطالبے کی اہمیت اس لیے بھی ہے کہ بین الاقوامی پابندیاں سلامتی کے مقاصد کے ساتھ ساتھ قانونی انصاف اور بنیادی حقوق کے تقاضوں سے بھی مطابقت رکھنی چاہییں۔
انسدادِ دہشت گردی کے نام پر سرحد پار ٹارگٹ کلنگ پر تشویش
پاکستانی مندوب نے انسدادِ دہشت گردی کے عنوان کے تحت سرحد پار ٹارگٹ کلنگ یا قتل کی کارروائیوں کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی اور ریاستی سرپرستی میں تشدد سے متعلق سنگین خدشات پیدا کر سکتے ہیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کو کسی دوسرے ملک کی خودمختاری یا علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی کا جواز نہیں بنایا جانا چاہیے۔
پاکستان کے مطابق ریاستوں کی جانب سے انسدادِ دہشت گردی کے اقدامات بین الاقوامی قانون کے تابع ہونے چاہییں اور ان کے ذریعے شہریوں کے خلاف غیر قانونی طاقت کے استعمال کو درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔
اس تناظر میں پاکستانی مندوب نے عالمی برادری کی توجہ اس امر کی جانب مبذول کرائی کہ سرحد پار کارروائیوں، ہلاکتوں اور دہشت گردی کے خلاف اقدامات سے متعلق الزامات کا جائزہ بین الاقوامی قانون، متعلقہ شواہد اور قابلِ اطلاق قانونی اصولوں کی بنیاد پر لیا جانا چاہیے۔
دہشت گردی کی مالی معاونت روکنے کے لیے ورچوئل اثاثوں پر سخت ضوابط کا مطالبہ
محمد جواد اجمل نے دہشت گردی کی مالی معاونت روکنے کے لیے ورچوئل اثاثوں اور کرپٹو کرنسیوں سے متعلق مؤثر ضابطہ جاتی نظام وضع کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
ڈیجیٹل مالیاتی ذرائع اور ورچوئل اثاثوں کے بڑھتے ہوئے استعمال نے مالیاتی نگرانی اور غیر قانونی رقوم کی منتقلی کی روک تھام کو اہم بنا دیا ہے۔ ان ذرائع کے غلط استعمال سے متعلق خدشات کے پیش نظر مالیاتی نظام کی شفافیت، مشتبہ لین دین کی شناخت اور متعلقہ قوانین پر عمل درآمد اہمیت اختیار کر چکے ہیں۔
پاکستانی مندوب کے مطابق دہشت گردی کے مالی وسائل کو محدود کرنے کے لیے ایسے ضوابط ضروری ہیں جو ورچوئل اثاثوں کے ممکنہ غلط استعمال کی روک تھام میں مدد دے سکیں۔
اس سلسلے میں بین الاقوامی تعاون، مالیاتی اداروں کے درمیان معلومات کا تبادلہ اور متعلقہ حکام کی تکنیکی صلاحیتوں میں اضافہ اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
پاکستان نے اس امر پر زور دیا کہ دہشت گردی کی مالی معاونت کے خلاف کوششوں کو جدید مالیاتی طریقوں اور ڈیجیٹل ذرائع سے پیدا ہونے والے خطرات کے مطابق مؤثر بنایا جائے۔
ٹی ٹی پی اور بی ایل اے سمیت دہشت گرد گروہوں کو اسلحہ فراہم کرنے والے نیٹ ورکس کے احتساب کا مطالبہ
پاکستان نے تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) سمیت مختلف دہشت گرد گروہوں کو اسلحہ، ہتھیار اور ڈرون فراہم کرنے والے مبینہ مجرمانہ نیٹ ورکس کے خلاف احتساب کی ضرورت پر زور دیا۔
محمد جواد اجمل نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف مؤثر کارروائی کے لیے صرف براہِ راست حملوں میں ملوث افراد کو نشانہ بنانا کافی نہیں، بلکہ ان نیٹ ورکس کا بھی تعین ضروری ہے جو دہشت گرد گروہوں کو مالی معاونت، اسلحہ، تکنیکی وسائل اور دیگر سہولتیں فراہم کرتے ہیں۔
پاکستانی مؤقف کے مطابق ایسے نیٹ ورکس کے سہولت کاروں اور مالی معاونین کو جواب دہ بنانا دہشت گردی کی صلاحیتوں کو کمزور کرنے کے لیے اہم ہے۔
دہشت گرد تنظیموں کی رسد، مالی وسائل اور تکنیکی سہولتوں پر قابو پانے کے لیے مختلف ممالک کے درمیان معلومات کا تبادلہ، مالیاتی نگرانی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا تعاون مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔
تاہم، کسی مخصوص نیٹ ورک، فرد یا ریاست کے ملوث ہونے سے متعلق الزامات کی قانونی حیثیت اور ذمہ داری کا تعین متعلقہ شواہد اور تحقیقات کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔
افغانستان سے پیدا ہونے والے سکیورٹی چیلنجز اور پاکستان کی جانی قربانیاں
پاکستانی مندوب نے افغانستان سے پیدا ہونے والے علاقائی سکیورٹی چیلنجز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ تین برسوں کے دوران پاکستان کو 4,700 سے زائد جانوں کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔
انہوں نے اس صورت حال کے تناظر میں دہشت گرد نیٹ ورکس کو ختم کرنے اور ان کے سہولت کاروں اور مالی معاونین کو جواب دہ ٹھہرانے کی ضرورت پر زور دیا۔
پاکستان طویل عرصے سے دہشت گردی کے خطرات اور سکیورٹی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ دہشت گرد حملوں میں شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکتیں ملک کے امن، معاشی سرگرمیوں اور عوامی زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرتی ہیں۔
پاکستانی مؤقف کے مطابق سرحد پار سرگرم دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف مؤثر اقدامات اور ان کی معاونت کے ذرائع کا خاتمہ علاقائی سلامتی کے لیے اہم ہے۔
محمد جواد اجمل نے کہا کہ پڑوسی ممالک کو نشانہ بنانے والے دہشت گرد نیٹ ورکس کو ختم کرنا اور ان کے سہولت کاروں کو جواب دہ بنانا ضروری ہے۔
اس تناظر میں علاقائی ممالک کے درمیان رابطے، دہشت گردی سے متعلق معلومات کا تبادلہ اور بین الاقوامی سطح پر تعاون کو اہم قرار دیا گیا۔ تاہم، مخصوص تنظیموں یا افراد کے بارے میں ذمہ داری کے تعین کے لیے قابلِ تصدیق شواہد اور متعلقہ تحقیقات بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔
مئی 2025 میں بھارت کے حملوں کا حوالہ، شہری ہلاکتوں کی مذمت
پاکستانی مندوب نے 6 اور 7 مئی 2025 کی درمیانی شب پاکستانی علاقے پر بھارت کے حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ شہری آبادی والے علاقوں پر کیے گئے ان حملوں میں 54 پاکستانی شہری ہلاک ہوئے، جن میں 15 بچے اور 13 خواتین شامل تھیں۔ ان کے بیان کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں شیر خوار بچے بھی شامل تھے۔
محمد جواد اجمل نے ان کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں پاکستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائی کو شہریوں کے خلاف طاقت کے غیر قانونی استعمال کا جواز نہیں بنایا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق شہری آبادی کا تحفظ بین الاقوامی قانون کے بنیادی تقاضوں میں شامل ہے اور کسی بھی سکیورٹی کارروائی میں شہریوں کی جانوں اور حقوق کا احترام ضروری ہے۔
پاکستان نے اس معاملے کو اقوام متحدہ میں اٹھاتے ہوئے اس مؤقف پر زور دیا کہ انسدادِ دہشت گردی کے عنوان کے تحت کی جانے والی کارروائیوں کا جائزہ بین الاقوامی قانون اور شہریوں کے تحفظ سے متعلق اصولوں کی روشنی میں لیا جانا چاہیے۔
مسلح تنازعات کے دوران شہریوں کو نقصان پہنچنے کے واقعات عالمی سطح پر انسانی حقوق اور بین الاقوامی انسانی قانون سے متعلق اہم سوالات اٹھاتے ہیں۔ اس لیے ایسے واقعات کی تحقیقات، حقائق کی تصدیق اور ذمہ داری کے تعین کے لیے شفاف طریقۂ کار ضروری ہے۔
خصوصی نمائندے سے رپورٹ کی تیاری کے طریقۂ کار پر وضاحت طلب
مکالمے کے اختتام پر پاکستانی مندوب محمد جواد اجمل نے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے سے رپورٹ کی تیاری کے لیے اختیار کیے گئے طریقۂ کار اور اس عمل کے آئندہ مراحل کے بارے میں بھی وضاحت طلب کی۔
اس اقدام کے ذریعے پاکستان نے رپورٹ کی تیاری کے عمل، متعلقہ معلومات کے جائزے اور آئندہ مراحل کے حوالے سے مزید وضاحت حاصل کرنے میں دلچسپی ظاہر کی۔
اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کا کام متعلقہ مینڈیٹ کے تحت انسانی حقوق کے مسائل کا جائزہ لینا، معلومات جمع کرنا اور متعلقہ فورمز کے سامنے اپنے نتائج اور سفارشات پیش کرنا ہوتا ہے۔ ایسے معاملات میں طریقۂ کار کی وضاحت اور متعلقہ فریقوں کے مؤقف کو سمجھنا مکالمے کا اہم حصہ ہو سکتا ہے۔
پاکستان کا مؤقف: دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قانون، شفافیت اور جواب دہی ضروری
اقوام متحدہ میں پاکستان کے بیان کا مرکزی نکتہ یہ تھا کہ دہشت گردی کے خلاف عالمی کوششیں بین الاقوامی قانون، انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں کے احترام کے ساتھ آگے بڑھائی جانی چاہییں۔
پاکستان نے دہشت گردی کی تعریف میں وضاحت، اقوام متحدہ کے پابندیوں کے نظام میں شفافیت، مذہبی بنیاد پر امتیازی سلوک کی روک تھام، سرحد پار ہلاکتوں کے خلاف مؤثر قانونی اصولوں اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے ذرائع پر قابو پانے کی ضرورت اجاگر کی۔
اس کے ساتھ پاکستان نے ٹی ٹی پی اور بی ایل اے سمیت دہشت گرد گروہوں کو اسلحہ اور دیگر وسائل فراہم کرنے والے مبینہ نیٹ ورکس کے احتساب، افغانستان سے متعلق سکیورٹی خدشات اور شہریوں کے تحفظ پر بھی زور دیا۔
مجموعی طور پر پاکستان نے اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر یہ مؤقف پیش کیا کہ دہشت گردی کے خلاف مؤثر عالمی نظام صرف سکیورٹی اقدامات تک محدود نہیں ہونا چاہیے، بلکہ اس میں شفافیت، قانونی عمل، انسانی حقوق اور ذمہ داری کے تعین کو بھی بنیادی اہمیت حاصل ہونی چاہیے۔
پاکستان کے مطابق دہشت گردی کے نیٹ ورکس، ان کے مالی معاونین اور سہولت کاروں کے خلاف مؤثر کارروائی کے ساتھ شہریوں کے تحفظ اور ریاستوں کی خودمختاری کا احترام بھی یقینی بنانا ضروری ہے۔



