تازہ ترینکاروبار

پاکستان اور قطر میں تجارت و سرمایہ کاری کے فروغ پر اتفاق، آزاد تجارتی معاہدے پر جلد دستخط اور اہم شعبوں میں قطری سرمایہ کاری پر زور

دوحہ میں پاکستان-قطر جوائنٹ ٹاسک فورس کا دوسرا اجلاس، زراعت، غذائی تحفظ، الیکٹرک گاڑیوں، آئی ٹی، بحری نقل و حمل اور انفراسٹرکچر میں تعاون بڑھانے پر تفصیلی تبادلہ خیال

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
رپورٹ وائس آف جرمنی اردو نیوز

دوحہ: پاکستان اور قطر نے دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری اور صنعتی تعاون کو نئی وسعت دینے کے لیے مشترکہ کوششیں تیز کرنے پر زور دیا ہے۔ اس سلسلے میں وفاقی وزیر برائے تجارت جام کمال خان اور قطر کے وزیر مملکت برائے امورِ خارجہ تجارت ڈاکٹر احمد بن محمد السید نے 24 اکتوبر کو دوحہ میں پاکستان-قطر جوائنٹ ٹاسک فورس برائے تجارت و سرمایہ کاری کے دوسرے اجلاس کی مشترکہ صدارت کی، جس میں دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات کو مضبوط بنانے، باہمی تجارت میں اضافے، سرمایہ کاری کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے اور ترجیحی شعبوں میں نئی شراکت داریوں کے قیام پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

اجلاس میں پاکستان اور قطر کے درمیان جاری اقتصادی تعاون کا جائزہ لیتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ دونوں ممالک دستیاب تجارتی مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے ادارہ جاتی رابطوں کو مؤثر بنائیں گے اور مختلف شعبوں میں عملی پیش رفت کو یقینی بنانے کے لیے مشترکہ حکمت عملی اختیار کریں گے۔ پاکستان نے اس موقع پر خلیجی منڈیوں تک بہتر رسائی، پاکستان-خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) آزاد تجارتی معاہدے پر جلد دستخط اور پاکستان کے اہم اقتصادی شعبوں میں قطری سرمایہ کاری کی ضرورت کو نمایاں کیا۔

پاکستان-جی سی سی آزاد تجارتی معاہدے پر جلد دستخط کی ضرورت پر زور

اجلاس کا ایک اہم موضوع پاکستان اور خلیج تعاون کونسل کے درمیان آزاد تجارتی معاہدہ تھا۔ پاکستانی وفد نے اس معاہدے کو دوطرفہ اور علاقائی تجارت کے فروغ کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے اس پر جلد دستخط کرنے اور باقی ماندہ رسمی کارروائیوں کو تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

پاکستانی حکام نے قطری فریق سے درخواست کی کہ وہ معاہدے کی تکمیل کے لیے اپنا تعاون جاری رکھے تاکہ دونوں جانب کے کاروباری اداروں کو منڈیوں تک بہتر رسائی حاصل ہو اور پاکستانی مصنوعات کی خلیجی ممالک کو برآمدات میں اضافے کے امکانات پیدا کیے جا سکیں۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ پاکستان اپنا داخلی منظوری کا عمل مکمل کر چکا ہے اور معاہدے کا منظور شدہ متن 31 دسمبر 2025 کو جی سی سی سیکرٹریٹ کو ارسال کیا جا چکا تھا۔ پاکستان کی جانب سے اس معاملے کو ترجیحی بنیادوں پر آگے بڑھانے کا مقصد تجارتی تعلقات کو زیادہ منظم، قابلِ پیش گوئی اور کاروبار دوست بنانا ہے۔

آزاد تجارتی معاہدے کی تکمیل سے متعلقہ منڈیوں میں محصولات اور تجارتی ضوابط کے حوالے سے سہولتیں پیدا ہونے کے امکانات ہیں، تاہم اس کے حقیقی فوائد کا انحصار معاہدے کی حتمی شرائط، عمل درآمد کے طریقہ کار اور دونوں فریقوں کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات پر ہوگا۔

پاکستانی گوشت کی برآمدات پر پابندیاں اٹھانے کا معاملہ

پاکستان نے قطر کے ساتھ تجارتی معاملات پر گفتگو کرتے ہوئے ہڈی والے گوشت کی برآمدات پر عائد پابندیوں کا معاملہ بھی اٹھایا اور ان کے جلد حل کی درخواست کی۔

پاکستانی وفد نے اس ضمن میں جانوروں کی صحت، بیماریوں سے تحفظ اور غذائی تحفظ سے متعلق تکنیکی پہلوؤں کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ اس حوالے سے ایک جامع تکنیکی دستاویز پہلے ہی متعلقہ قطری حکام کے ساتھ شیئر کی جا چکی ہے۔

پاکستانی حکام کی جانب سے اس معاملے کو اٹھانے کا مقصد برآمدات کے لیے درپیش رکاوٹوں کو دور کرنا اور پاکستانی گوشت کی قطری منڈی تک رسائی کے امکانات بہتر بنانا ہے۔ اس حوالے سے آئندہ پیش رفت متعلقہ قطری حکام کے جائزے اور طے شدہ صحت و خوراک کے حفاظتی معیار سے مشروط ہوگی۔

غذائی تحفظ اور پاکستانی چاول کی فراہمی کے لیے تعاون

اجلاس میں زراعت اور غذائی تحفظ کو پاکستان اور قطر کے درمیان اقتصادی تعاون کے اہم شعبوں کے طور پر پیش کیا گیا۔ پاکستان نے اس موقع پر ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان (ٹی سی پی) اور قطر کی کمپنی حصاد فوڈ کے درمیان مجوزہ مفاہمت کی یادداشت کا ذکر کیا، جس کے تحت حکومت سے حکومت کی سطح پر پاکستانی چاول کی فراہمی کا منصوبہ زیرِ غور ہے۔

اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ مجوزہ معاہدہ منظوری کے لیے وفاقی کابینہ کو پیش کیا جا چکا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان زرعی تجارت کو فروغ دینا اور خوراک کی مستحکم فراہمی کے لیے تعاون کے نئے امکانات پیدا کرنا ہے۔

پاکستان نے قطر کو جدید زراعت، اناج ذخیرہ کرنے کے مراکز، سائلو، کولڈ اسٹوریج، مربوط کولڈ چین نظام اور جدید زرعی ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کی دعوت بھی دی۔

ان منصوبوں کے ذریعے زرعی پیداوار کو محفوظ بنانے، خوراک کے ضیاع میں کمی، ذخیرہ کرنے کی استعداد میں اضافے اور رسد کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔ دونوں ممالک کے لیے پائیدار غذائی فراہمی کے انتظامات کو فروغ دینے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

پاکستان کی جانب سے ان شعبوں میں سرمایہ کاری کی پیشکش اس وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہے جس کے تحت ملک کی زرعی صلاحیت کو علاقائی ضروریات سے منسلک کرتے ہوئے برآمدات اور صنعتی سرگرمیوں میں اضافہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

الیکٹرک گاڑیوں اور جدید صنعتی پیداوار میں سرمایہ کاری کی دعوت

پاکستانی وفد نے صنعتی ترقی اور جدید مینوفیکچرنگ کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے امکانات بھی قطری حکام کے سامنے پیش کیے۔ اس ضمن میں پاکستان کے نئے الیکٹرک وہیکل پالیسی فریم ورک کے تحت آٹوموبائل سیکٹر، خصوصاً نیو انرجی وہیکلز اور الیکٹرک گاڑیوں کی تیاری کو اہم مواقع کے طور پر اجاگر کیا گیا۔

پاکستان نے مشترکہ مینوفیکچرنگ، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور صنعتی شراکت داری کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان تعاون بڑھانے کی تجویز پیش کی۔

ان امکانات میں گاڑیوں کی مقامی تیاری، متعلقہ صنعتی سپلائی چین کی ترقی اور جدید پیداواری طریقوں کو فروغ دینے جیسے شعبے شامل ہو سکتے ہیں۔ ایسی سرمایہ کاری سے پاکستان میں صنعتی صلاحیت کے فروغ اور جدید ٹیکنالوجی تک رسائی کے مواقع پیدا ہونے کی توقع کی جا سکتی ہے، تاہم ان منصوبوں کی عملی شکل سرمایہ کاروں کے فیصلوں، پالیسیوں اور تجارتی امکانات پر منحصر ہوگی۔

انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر میں تعاون

اجلاس کے دوران انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو بھی سرمایہ کاری کے لیے اہم شعبوں میں شمار کیا گیا۔ پاکستان نے قطر کو آئی ٹی کے شعبے میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے اپنی بڑھتی ہوئی آئی ٹی برآمدات، ٹیکنالوجی شراکت داری اور ڈیجیٹل سروسز کے فروغ کے امکانات کو اجاگر کیا۔

پاکستانی وفد کے مطابق اس شعبے میں تعاون کے ذریعے دونوں ممالک کے کاروباری اداروں کے درمیان روابط کو وسعت دینے اور ڈیجیٹل معیشت سے متعلق نئے مواقع تلاش کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

ڈیجیٹل خدمات، ٹیکنالوجی پر مبنی کاروبار اور جدید آئی ٹی انفراسٹرکچر میں ممکنہ سرمایہ کاری کو پاکستان کی مجموعی اقتصادی ترقی اور برآمدی صلاحیت کے تناظر میں اہم قرار دیا گیا۔

بحری نقل و حمل، توانائی اور تجارتی رابطوں پر توجہ

پاکستان نے قطر کے ساتھ بحری شعبے میں تعاون بڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ اجلاس میں جہاز رانی، بحری نقل و حمل اور تجارتی سامان کی ترسیل کے شعبوں میں مشترکہ مواقع زیرِ غور آئے۔

پاکستانی وفد نے خاص طور پر آئل ٹینکرز، مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی ترسیل کرنے والے جہازوں اور کنٹینر ویسلز سے متعلق امکانات کی نشاندہی کی۔

بحری نقل و حمل میں تعاون کو توانائی کی فراہمی، بین الاقوامی تجارت اور علاقائی تجارتی رابطوں کے لیے اہم قرار دیا گیا۔ پاکستان اور قطر کے درمیان اس شعبے میں ممکنہ شراکت داری سے رسد کے نظام کو بہتر بنانے اور تجارتی روابط میں اضافے کے امکانات کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

کراچی-حیدرآباد موٹروے میں قطری سرمایہ کاری کی تجویز

پاکستان نے مجوزہ نئی کراچی-حیدرآباد موٹروے کو بھی قطری سرمایہ کاری کے لیے ایک ممکنہ منصوبے کے طور پر پیش کیا۔

پاکستانی وفد کے مطابق اس منصوبے کا مقصد پاکستانی بندرگاہوں اور قومی شاہراہوں کے نیٹ ورک کے درمیان رابطوں کو بہتر بنانا اور تجارتی نقل و حمل کو زیادہ مؤثر بنانا ہے۔ اس سے علاقائی ٹرانزٹ ٹریڈ، بالخصوص وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ تجارتی رابطوں کو سہولت فراہم کرنے کے امکانات بھی زیرِ بحث آئے۔

انفراسٹرکچر کے شعبے میں سرمایہ کاری کو پاکستان کی طویل مدتی اقتصادی ترقی، سامان کی نقل و حمل میں بہتری اور علاقائی تجارت کے فروغ کے تناظر میں اہم سمجھا جاتا ہے۔ تاہم موٹروے منصوبے میں سرمایہ کاری کی نوعیت، مالیاتی ڈھانچے اور عمل درآمد سے متعلق حتمی تفصیلات کے لیے مزید پیش رفت درکار ہوگی۔

سول ایوی ایشن اور فضائی ٹریفک میں تعاون بڑھانے پر اتفاقِ رائے

اجلاس میں قطری فریق نے سول ایوی ایشن اور فضائی ٹریفک کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ پاکستان نے اس تجویز کا خیرمقدم کرتے ہوئے بتایا کہ ہوا بازی سے متعلق معاملات کو لاجسٹکس اور کمیونیکیشن کے تکنیکی ورکنگ گروپ کے ذریعے بھی آگے بڑھایا جائے گا۔

فضائی رابطوں میں بہتری سے مسافروں کی آمدورفت، کاروباری روابط اور تجارتی سرگرمیوں کو سہولت ملنے کے امکانات ہیں۔ دونوں ممالک نے اس شعبے سے متعلق معاملات کو متعلقہ تکنیکی فورمز پر زیرِ غور لانے کی اہمیت اجاگر کی۔

پاکستان نے سرمایہ کاری فنڈ کا تصور بھی پیش کر دیا

پاکستانی وفد نے اجلاس میں ایک سرمایہ کاری فنڈ کے تصور پر بھی روشنی ڈالی، جس کے ذریعے انفراسٹرکچر، زراعت، صنعتی ترقی، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور دیگر ترجیحی شعبوں میں قطری سرمایہ کاری کے امکانات کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔

اس تجویز کو دونوں ممالک کے درمیان سرمایہ کاری کے مواقع کو منظم انداز میں آگے بڑھانے کی ایک ممکنہ صورت کے طور پر پیش کیا گیا۔ اس نوعیت کے فنڈ کے ذریعے مختلف منصوبوں کی مالی معاونت اور سرمایہ کاری کے لیے مشترکہ ترجیحات متعین کرنے کے امکانات کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

تاہم فنڈ کے قیام، اس کے مالیاتی ڈھانچے، سرمایہ کاری کے حجم اور انتظامی طریقہ کار کے بارے میں حتمی تفصیلات سامنے آنے کے بعد ہی اس کے عملی دائرہ کار کا تعین ہو سکے گا۔

گیارہ تکنیکی ورکنگ گروپس کو فعال بنانے پر زور

پاکستان-قطر جوائنٹ ٹاسک فورس کے اجلاس میں گیارہ تکنیکی ورکنگ گروپس کو جلد فعال بنانے کے معاملے پر بھی خصوصی توجہ دی گئی۔ پاکستان نے زور دیا کہ ان گروپس کو عملی طور پر کام شروع کرنے کے قابل بنایا جائے تاکہ اجلاس میں زیرِ بحث آنے والی تجاویز کو قابلِ عمل منصوبوں اور ٹھوس نتائج میں تبدیل کیا جا سکے۔

پاکستانی حکام نے بتایا کہ گیارہ ورکنگ گروپس کی تشکیل سے متعلق تفصیلات پہلے ہی شیئر کی جا چکی ہیں اور قطر سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ اپنے متعلقہ نمائندوں کی نامزدگیاں جلد مکمل کرے۔

ان ورکنگ گروپس کے دائرہ کار میں لاجسٹکس، ہوا بازی، جدید مینوفیکچرنگ، کان کنی و معدنیات، زراعت، سیاحت، مالیاتی ٹیکنالوجی، صحت کی دیکھ بھال، تعلیم، صنعتی ترقی، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور اسٹارٹ اپس سمیت ترجیحی شعبے شامل ہیں۔

پاکستان نے تجویز دی کہ ہر ورکنگ گروپ اپنے متعلقہ شعبے میں دستیاب تجارتی اور سرمایہ کاری کے مواقع کی نشاندہی کرے، درپیش مسائل کے حل کے لیے تجاویز مرتب کرے اور پیش رفت سے متعلق شعبہ وار رپورٹس اور سفارشات تیار کرے۔

اس طریقہ کار کے ذریعے دونوں ممالک کے متعلقہ اداروں کے درمیان رابطوں کو زیادہ منظم بنانے اور مشترکہ فیصلوں پر عمل درآمد کی رفتار بہتر کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

اپریل 2026 کے اجلاس کے بعد پیش رفت کا جائزہ

جوائنٹ ٹاسک فورس کے دوسرے اجلاس میں اپریل 2026 میں منعقدہ پہلے اجلاس کے بعد ہونے والی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔ دونوں فریقوں نے تجارت، سرمایہ کاری اور صنعتی تعاون کے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے آئندہ کے لیے ترجیحی اقدامات کی نشاندہی کی۔

اجلاس میں متعلقہ پاکستانی وزارتوں کے نمائندوں نے آن لائن شرکت کی، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلی ٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) نے پاکستان کی جانب سے اجلاس کے امور کو مربوط کیا۔ ایس آئی ایف سی جوائنٹ ٹاسک فورس کے سیکرٹریٹ کے طور پر کام کر رہی ہے۔

اجلاس کا بنیادی مقصد دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کو محض مذاکرات تک محدود رکھنے کے بجائے عملی منصوبوں، سرمایہ کاری کی تجاویز اور تکنیکی سطح پر رابطوں کے ذریعے آگے بڑھانا تھا۔

جام کمال خان کی ورلڈ انویسٹمنٹ فورم کے سربراہ سے علیحدہ ملاقات

دوحہ میں پاکستان-قطر جوائنٹ ٹاسک فورس کے اجلاس کے علاوہ وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان کی ورلڈ انویسٹمنٹ فورم کے سربراہ کے ساتھ علیحدہ ملاقات بھی اس دورے کے اہم پہلوؤں میں شامل تھی۔

اس ملاقات کا ذکر دورے کے حوالے سے جاری معلومات میں کیا گیا ہے، تاہم اس کے دوران زیرِ بحث آنے والے موضوعات، طے پانے والے فیصلوں یا کسی مخصوص سرمایہ کاری کے منصوبے کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

پاکستان اور قطر کے اقتصادی تعلقات کے لیے اہم پیش رفت

پاکستان-قطر جوائنٹ ٹاسک فورس کا دوسرا اجلاس دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کو وسعت دینے کے لیے جاری سفارتی اور تجارتی رابطوں کا حصہ ہے۔ آزاد تجارتی معاہدے کی تکمیل، زرعی مصنوعات کی فراہمی، گوشت کی برآمدات سے متعلق مسائل، جدید صنعتی پیداوار، آئی ٹی، بحری نقل و حمل اور انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری جیسے معاملات اس تعاون کے اہم پہلو ہیں۔

اجلاس میں سامنے آنے والی تجاویز سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان قطری سرمایہ کاری کو مختلف پیداواری اور خدماتی شعبوں کی جانب راغب کرنے اور اپنی برآمدی صلاحیت کو بہتر بنانے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ دوسری جانب، تکنیکی ورکنگ گروپس کو فعال بنانے کی تجویز اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ متعلقہ شعبوں میں پیش رفت کے لیے ادارہ جاتی رابطوں اور مسلسل جائزے کو اہمیت دی جا رہی ہے۔

تاہم ان تجاویز کے حقیقی اقتصادی اثرات کا انحصار آزاد تجارتی معاہدے پر پیش رفت، زیرِ غور منصوبوں کی منظوری، سرمایہ کاری کے فیصلوں اور متعلقہ تکنیکی و انتظامی معاملات کے حل پر ہوگا۔

پاکستان اور قطر کے درمیان آئندہ تعاون کے لیے اہم مرحلہ یہ ہوگا کہ اجلاس میں زیرِ بحث آنے والے امور کو واضح ترجیحات، قابلِ عمل منصوبوں اور باقاعدہ پیش رفت رپورٹس کے ذریعے آگے بڑھایا جائے، تاکہ دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری اور صنعتی شراکت داری کو ٹھوس نتائج میں تبدیل کیا جا سکے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button