اہم خبریںپاکستان

بلوچستان میں آپریشن ردالفتنہ 3 کے تحت سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، چھ خوارج ہلاک، دہشت گرد کمانڈر عادل شاہ عرف درویش بھی جہنم واصل

شدید فائرنگ کے تبادلے میں پاک فوج کے دو جوان نائیک غلام مرتضیٰ اور سپاہی تاثیر احمد نے جامِ شہادت نوش کیا؛ قلعہ سیف اللہ میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران دہشت گرد کمانڈر کی ہلاکت کی بھی تصدیق

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
سید عاطف ندیم-ادارت

بلوچستان میں دہشت گردی کے خاتمے اور امن و امان کی صورتِ حال بہتر بنانے کے لیے سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں جاری ہیں۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، آپریشن ردالفتنہ 3 کے تحت دہشت گردوں کے خلاف مختلف کارروائیوں میں چھ خوارج ہلاک ہو گئے، جبکہ شدید فائرنگ کے تبادلے کے دوران پاک فوج کے دو جوان بہادری سے لڑتے ہوئے شہید ہو گئے۔ دوسری جانب ضلع قلعہ سیف اللہ میں ایک الگ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران فتنہ الخوارج سے وابستہ دہشت گرد کمانڈر عادل شاہ عرف درویش کو ہلاک کیے جانے کی اطلاع بھی سامنے آئی ہے۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کی جا رہی ہیں، جن کا مقصد مسلح عناصر کی موجودگی کا سراغ لگانا، ان کے ٹھکانوں کو ختم کرنا اور سیکیورٹی فورسز، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور شہریوں کو درپیش خطرات کا تدارک کرنا ہے۔

حکام کے مطابق، ان کارروائیوں میں دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا۔ ہلاک ہونے والے عناصر پر سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف متعدد دہشت گردانہ کارروائیوں اور بے گناہ شہریوں کے قتل میں ملوث ہونے کے الزامات تھے۔

شدید فائرنگ کا تبادلہ، پاک فوج کے دو جوان شہید

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، دہشت گردوں کے خلاف ایک کارروائی کے دوران شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس میں سیکیورٹی فورسز نے پیشہ ورانہ مہارت اور احتیاط کے ساتھ مقابلہ کیا۔ اس دوران چھ خوارج ہلاک ہوئے، تاہم فائرنگ کے تبادلے میں پاک فوج کے دو اہلکاروں نے جامِ شہادت نوش کیا۔

شہید ہونے والے جوانوں میں نائیک غلام مرتضیٰ شامل ہیں، جن کی عمر 36 سال اور تعلق ضلع گجرات سے تھا۔ دوسرے شہید سپاہی تاثیر احمد تھے، جن کی عمر 30 سال اور تعلق ضلع تلہ گنگ سے بتایا گیا ہے۔

دونوں اہلکاروں نے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے دوران بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ ان کی قربانیاں اس مشکل سیکیورٹی ماحول کی عکاسی کرتی ہیں جس میں سیکیورٹی فورسز مسلح دہشت گرد گروہوں کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہیں۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کیا گیا۔ ان عناصر کی سرگرمیوں اور ان کے ممکنہ معاون نیٹ ورکس کے حوالے سے مزید معلومات حاصل کرنے کے لیے کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

قلعہ سیف اللہ میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن، عادل شاہ عرف درویش ہلاک

بلوچستان کے ضلع قلعہ سیف اللہ میں سیکیورٹی فورسز نے ایک الگ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران فتنہ الخوارج سے وابستہ دہشت گرد کمانڈر عادل شاہ عرف درویش کو ہلاک کر دیا۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، عادل شاہ دہشت گرد گروہ کے اہم ارکان میں شامل تھا اور اس کی سرگرمیاں محض مسلح کارروائیوں تک محدود نہیں تھیں، بلکہ وہ گروہ کے مالی معاملات اور مختلف علاقوں میں دہشت گردوں کو رہائش فراہم کرنے کے انتظامات میں بھی کردار ادا کر رہا تھا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشت گرد کمانڈر دسمبر 2020 سے فتنہ الخوارج سے وابستہ تھا، جبکہ 2024 سے وہ دہشت گرد گروہ کے مالی معاملات کی نگرانی کر رہا تھا۔ اس حوالے سے سیکیورٹی ذرائع نے اسے گروہ کے مالیاتی اور تنظیمی ڈھانچے سے منسلک اہم کردار قرار دیا ہے۔

عادل شاہ عرف درویش کی ہلاکت کو بلوچستان میں دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف جاری کارروائیوں کے تناظر میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، تاہم اس کارروائی کے بعد گروہ کے دیگر ارکان اور مبینہ معاون نیٹ ورکس کے خلاف اقدامات کی تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔

ژوب، شیرانی اور شعبان میں دہشت گردوں کو رہائش فراہم کرنے کا الزام

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، عادل شاہ عرف درویش مبینہ طور پر غیر مقامی دہشت گردوں کو بلوچستان کے مختلف علاقوں، خصوصاً ژوب، شیرانی اور شعبان میں مستقل رہائش فراہم کرنے میں مدد کرتا تھا۔

حکام کے مطابق، ایسے انتظامات دہشت گرد گروہوں کو نقل و حرکت، قیام اور اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے میں سہولت فراہم کر سکتے ہیں۔ اسی لیے سیکیورٹی کارروائیوں میں مسلح عناصر کے ساتھ ساتھ ان کے مبینہ معاون نیٹ ورکس، مالی وسائل اور پناہ گاہوں کی نشاندہی کو بھی اہمیت دی جا رہی ہے۔

سیکیورٹی ذرائع نے مزید دعویٰ کیا ہے کہ عادل شاہ 2022 اور 2023 کے دوران سیکیورٹی فورسز پر حملوں اور اغوا برائے تاوان کے لیے بھتہ خوری جیسی سرگرمیوں میں بھی ملوث رہا۔

ان الزامات کی روشنی میں اس کی ہلاکت کو دہشت گرد گروہ کے مبینہ تنظیمی ڈھانچے اور مالی معاونت کے نظام کے خلاف کارروائی کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔

دہشت گرد کمانڈر کے خلاف 19 ایف آئی آرز، سر کی قیمت 25 لاکھ روپے مقرر تھی

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، عادل شاہ عرف درویش کے خلاف انسدادِ دہشت گردی کی عدالتوں سے متعلق 19 ایف آئی آرز درج تھیں، جبکہ اس کے سر کی قیمت 25 لاکھ روپے مقرر کی گئی تھی۔

یہ تفصیلات اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ متعلقہ حکام اسے ایک مطلوب دہشت گرد کمانڈر سمجھتے تھے۔ تاہم، ایف آئی آرز میں درج الزامات اور عدالتی فیصلوں کی حیثیت الگ الگ ہوتی ہے، اس لیے مقدمات کی حتمی قانونی حیثیت سے متعلق تفصیلات متعلقہ عدالتی ریکارڈ سے ہی واضح ہو سکتی ہیں۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، عادل شاہ کی ہلاکت سے دہشت گرد گروہ کے مالی معاملات، مسلح سرگرمیوں اور مبینہ سہولت کاری کے نظام کے حوالے سے مزید معلومات حاصل کرنے کے امکانات پیدا ہوئے ہیں۔

علاقے میں سینیٹائزیشن آپریشن جاری

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے بعد علاقے میں سینیٹائزیشن آپریشن جاری ہے، جس کا مقصد ممکنہ طور پر موجود دیگر مسلح عناصر کا سراغ لگانا اور علاقے کو دہشت گردوں سے پاک کرنا ہے۔

اس عمل میں مشتبہ مقامات کی تلاشی، ممکنہ ٹھکانوں کی جانچ اور کسی بھی باقی ماندہ خطرے کی نشاندہی شامل ہو سکتی ہے۔ حکام کے مطابق، اس نوعیت کی کارروائیاں اس لیے اہم ہیں تاکہ ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کے ساتھیوں کو دوبارہ منظم ہونے یا مزید حملوں کی منصوبہ بندی کا موقع نہ مل سکے۔

بلوچستان کے مختلف علاقوں میں جاری سیکیورٹی کارروائیوں کا مقصد دہشت گردوں کی نقل و حرکت محدود کرنا، ان کے معاون نیٹ ورکس کو ختم کرنا اور شہریوں و سیکیورٹی اہلکاروں کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔

عزمِ استحکام کے تحت دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے کا اعلان

سیکیورٹی حکام کے مطابق، پاکستان کی سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے قومی ایکشن پلان کے تحت دہشت گردی کے خلاف اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔ اس ضمن میں عزمِ استحکام کو بھی انسدادِ دہشت گردی کی وسیع تر حکمت عملی کے حصے کے طور پر پیش کیا گیا ہے، جسے وفاقی ایپکس کمیٹی برائے قومی ایکشن پلان نے منظور کیا تھا۔

اس حکمت عملی کے تحت دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنے، دہشت گرد گروہوں کے نیٹ ورکس کو محدود کرنے اور ریاستی اداروں کے درمیان رابطوں کو بہتر بنانے پر توجہ دی جاتی ہے۔

سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جاری رہیں گی۔ حکام کے مطابق، ملک سے دہشت گردی اور اس کی مبینہ بیرونی معاونت کا خاتمہ قومی سلامتی کی ترجیحات میں شامل ہے۔

بلوچستان جغرافیائی لحاظ سے پاکستان کا ایک اہم صوبہ ہے، جہاں سرحدی سلامتی، تجارتی رابطوں، قدرتی وسائل اور اہم اقتصادی منصوبوں کے تناظر میں امن و امان کی خصوصی اہمیت ہے۔ دہشت گردی کے واقعات نہ صرف شہریوں کی جان و مال کو خطرے میں ڈالتے ہیں بلکہ معاشی سرگرمیوں، ترقیاتی منصوبوں اور معمولاتِ زندگی کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔

سیکیورٹی فورسز کی جانب سے دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں اسی تناظر میں کی جا رہی ہیں کہ مسلح گروہوں کی سرگرمیوں کو روکا جائے اور شہریوں کے لیے محفوظ ماحول قائم کیا جا سکے۔

چھ خوارج کی ہلاکت، دو فوجی اہلکاروں کی شہادت اور قلعہ سیف اللہ میں دہشت گرد کمانڈر عادل شاہ عرف درویش کی ہلاکت سے متعلق اطلاعات بلوچستان میں جاری سیکیورٹی آپریشنز کی شدت کو ظاہر کرتی ہیں۔ تاہم، ان کارروائیوں کے طویل مدتی نتائج کا انحصار دہشت گرد نیٹ ورکس کے خاتمے، ان کے مالی و انتظامی معاون ڈھانچوں کی روک تھام اور پائیدار امن کے لیے مسلسل اقدامات پر ہوگا۔

پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کو جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے، جبکہ شہید ہونے والے نائیک غلام مرتضیٰ اور سپاہی تاثیر احمد کی قربانیوں کو ملک کے دفاع اور شہریوں کے تحفظ کے لیے پیش کی جانے والی قربانیوں کی ایک مثال قرار دیا جا رہا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button