
تعلیمی نظام کا پوسٹ مارٹم ……. علی عباس کاظمی
نجی اسکولوں کی طرف والدین کا بڑھتا ہوا رجحان بھی ایک سبق دیتا ہے۔ والدین صرف انگریزی بولنے والے بچوں یا خوب صورت عمارتوں کے خواہش مند نہیں ہوتے
پاکستان میں تعلیم کے بحران کی جڑیں ہماری ترجیحات، انتظامی رویوں اور جواب دہی کے کمزور نظام میں پیوست ہیں۔ ہم تعلیمی بجٹ، نئی عمارتوں، بھرتیوں اور ترقیاتی منصوبوں کے اعلانات تو سنتے ہیں، مگر یہ جاننے میں کم دلچسپی لیتے ہیں کہ ان اخراجات کے نتیجے میں بچوں نے حقیقتاً کیا سیکھا۔ اسکول میں استاد موجود ہو، بچے حاضری لگا رہے ہوں اور سالانہ امتحانات بھی منعقد ہو جائیں، لیکن اگر پانچویں جماعت کا طالب علم روانی سے عبارت نہ پڑھ سکے یا بنیادی حساب میں مشکل محسوس کرے تو اسے تعلیمی کامیابی کیسے کہا جا سکتا ہے؟سرکاری اسکولوں میں تعلیم یافتہ اور تجربہ کار اساتذہ کی موجودگی اپنی جگہ اہم ہے، مگر ڈگری قابلیت کا ثبوت ہو سکتی ہے، مؤثر تدریس کی ضمانت نہیں۔ علم کا اصل امتحان اس وقت ہوتا ہے جب استاد مشکل تصور کو آسان زبان میں سمجھائے، کمزور طالب علم کی الجھن پہچانے اور پوری جماعت کو سیکھنے کے عمل میں شریک کرے۔ اگر استاد برسوں ملازمت کرنے کے باوجود اپنے تدریسی طریقوں میں بہتری نہیں لاتا تو اس کا تجربہ محض مدتِ ملازمت کا حساب بن کر رہ جاتا ہے۔ تاہم ہر ناکامی کا بوجھ استاد کے کندھوں پر ڈال دینا بھی ناانصافی ہے۔ اصلاح اسی وقت ممکن ہے جب ذمہ داری کا تعین جذبات یا تعصب کے بجائے حقائق کی بنیاد پر ہو۔
نجی اسکولوں کی طرف والدین کا بڑھتا ہوا رجحان بھی ایک سبق دیتا ہے۔ والدین صرف انگریزی بولنے والے بچوں یا خوب صورت عمارتوں کے خواہش مند نہیں ہوتے، وہ یقین چاہتے ہیں کہ ان کے بچے کو روزانہ پڑھایا جا رہا ہے، اس کی کمزوریوں پر توجہ دی جاتی ہے اور اس کی تعلیمی پیش رفت سے انہیں آگاہ رکھا جاتا ہے۔ باقاعدہ ٹیسٹ، ہوم ورک، والدین سے رابطہ اور نظم و ضبط نجی اداروں کے حق میں اعتماد پیدا کرتے ہیں۔ ان میں سے بہت سے طریقے سرکاری اسکولوں میں بھی اختیار کیے جا سکتے ہیں۔ پھر رکاوٹ کیا ہے؟ وسائل کی کمی بعض جگہ حقیقی مسئلہ ہے، لیکن جہاں دستیاب وسائل بھی مؤثر طور پر استعمال نہیں ہوتے، وہاں صرف بجٹ کا رونا کافی نہیں۔البتہ نجی اسکولوں کی مقبولیت کو ان کی غیر معمولی برتری کا قطعی ثبوت سمجھنا بھی درست نہیں۔ معاشرے میں مہنگے اسکول کو معیاری اور سرکاری اسکول کو کم تر سمجھنے کا رجحان بھی موجود ہے۔ بعض والدین بچے کی صلاحیتوں سے زیادہ اس کے ادارے کے نام کو اہمیت دینے لگتے ہیں، گویا اسکول کی فیس ہی مستقبل کی کامیابی کا سرٹیفکیٹ ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ زیادہ فیس بہتر تعلیم کی ضمانت نہیں، جس طرح کم فیس لازماً ناقص تعلیم کا ثبوت نہیں۔ کسی ادارے کی اصل قدر اس کے طلبہ کی فہم، عملی مہارت، اخلاقی تربیت اور آزادانہ سوچ سے متعین ہونی چاہیے، نہ کہ اس کے اشتہارات یا عمارت کی چمک سے۔
یہاں امتحانی نمبروں کے بارے میں ہماری اجتماعی خوش فہمی بھی قابلِ تنقید ہے۔ نوے فیصد نمبر لینے والا طالب علم اگر کتاب سے باہر کوئی سوال سن کر خاموش ہو جائے، اپنے خیالات واضح نہ کر سکے یا روزمرہ مسئلے کا حل نہ نکال پائے تو ہمیں اپنی کامیابی کے معیار پر نظرثانی کرنی چاہیے۔ رٹے کی بنیاد پر حاصل کردہ نمبر وقتی خوشی تو دے سکتے ہیں، لیکن زندگی کے پیچیدہ مسائل کا سامنا کرنے کے لیے فہم، دلیل اور فیصلہ کرنے کی صلاحیت درکار ہوتی ہے۔ تعلیم کا مقصد صرف اگلی جماعت میں ترقی یا کسی پیشے میں داخلہ حاصل کرنا نہیں، بلکہ ایسے انسان تیار کرنا بھی ہے جو سچ اور جھوٹ میں فرق کر سکیں، اپنے حقوق پہچانیں اور دوسروں کے حقوق کا احترام کریں۔سرکاری اور نجی اسکولوں کے درمیان تقابل بھی اسی اصول پر ہونا چاہیے۔ اگر کسی جائزے میں نجی اسکولوں کے بچوں کی بنیادی تعلیمی صلاحیتیں نسبتاً بہتر سامنے آتی ہیں تو اسے سرکاری نظام کے لیے سنجیدہ انتباہ سمجھنا چاہیے، نہ کہ کسی شعبے کی مکمل ناکامی یا دوسرے کی ہر لحاظ سے برتری کا فیصلہ۔ مختلف علاقوں، گھریلو حالات، والدین کی تعلیم اور دستیاب سہولتوں کے فرق کو نظر انداز کرکے صرف نتائج کی بنیاد پر فیصلہ کرنا بھی درست نہیں۔ اصل ضرورت یکساں معیار پر بچوں کی پڑھنے، لکھنے، حساب کرنے، سمجھنے اور مسئلے حل کرنے کی صلاحیت جانچنے کی ہے۔ اعدادوشمار کا فائدہ اسی وقت ہے جب وہ اصلاح کا راستہ دکھائیں، محض بحث جیتنے کا ہتھیار نہ بنیں۔اس بحران کا سب سے گہرا اثر کم آمدنی والے خاندانوں پر پڑتا ہے۔ صاحبِ حیثیت والدین خراب تعلیمی ماحول سے نکل کر کسی مہنگے ادارے کا رخ کر سکتے ہیں، لیکن مزدور، کسان اور دیہاڑی دار کے پاس یہ انتخاب اکثر موجود نہیں ہوتا۔ وہ سرکاری اسکول کے معیار سے مطمئن نہ ہونے کے باوجود وہیں بچے کو پڑھانے پر مجبور ہو سکتا ہے، یا اپنی ضروریات کم کرکے نجی اسکول کی فیس ادا کرتا ہے۔ یوں ناقص عوامی تعلیم معاشرے میں پہلے سے موجود معاشی فرق کو مزید گہرا کر دیتی ہے۔ جن بچوں کو تعلیم کے ذریعے آگے بڑھنے کا موقع ملنا چاہیے، وہی کمزور نظام کے باعث پیچھے رہ جانے کا خطرہ مول لیتے ہیں۔ تعلیم میں عدم مساوات صرف آج کے بچوں کا مسئلہ نہیں، یہ آنے والی نسلوں کے مواقع بھی محدود کرتی ہے۔
حکومتی ذمہ داری محض اسکول کھولنے، اساتذہ بھرتی کرنے اور بجٹ مختص کرنے سے پوری نہیں ہوتی۔ پاکستان کے آئین کا آرٹیکل 25-A پانچ سے سولہ سال کی عمر کے بچوں کے لیے مفت اور لازمی تعلیم کی ضمانت دیتا ہے۔ اس ضمانت کا عملی مطلب یہ ہے کہ بچے کو اسکول میں داخلہ ملنے کے ساتھ ایسی تعلیم بھی ملے جو اس کی زندگی میں حقیقی تبدیلی لا سکے۔ ہر اسکول میں بنیادی سہولتوں کی دستیابی، اساتذہ کی مؤثر تربیت، تدریسی کارکردگی کا باقاعدہ جائزہ اور تعلیمی نتائج کی شفاف رپورٹنگ ضروری ہے۔ نگرانی کا مقصد صرف غلطی پکڑنا نہیں ہونا چاہیے، بلکہ مسئلے کی وجہ معلوم کرکے بہتری کے لیے وسائل اور رہنمائی فراہم کرنا بھی ہونا چاہیے۔ البتہ مسلسل غفلت اور ذمہ داری سے فرار کو محض نظام کی خرابی کہہ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔اساتذہ کی عزت اور ان کا احتساب ایک دوسرے کے مخالف نہیں۔ جو استاد دیانت داری سے محدود وسائل میں کام کر رہا ہے، وہ حوصلہ افزائی اور سہولتوں کا حق دار ہے۔ جو استاد بہتر تربیت کا محتاج ہے، اسے تربیت دی جانی چاہیے اور جو مسلسل غفلت برتتا ہے، اسے جواب دہ ہونا چاہیے۔ اسی طرح افسران کی کارکردگی بھی دفتری رپورٹوں کے بجائے اسکولوں میں ہونے والی حقیقی بہتری سے ناپی جانی چاہیے۔ اگر نگرانی کرنے والا افسر مسائل جاننے کے باوجود خاموش رہے تو ناکامی صرف کلاس روم تک محدود نہیں رہتی۔ جواب دہی کا نظام اوپر سے نیچے تک منصفانہ ہوگا تو اصلاح کے امکانات بھی بڑھیں گے۔والدین کو بھی اپنے کردار پر غور کرنا ہوگا۔ بچے کی تعلیم صرف اسکول کے سپرد کرکے مطمئن ہو جانا کافی نہیں۔ روزانہ اس سے پوچھنا کہ اس نے کیا سیکھا، اس کی بات سننا، کتاب پڑھنے کی عادت پیدا کرنا اور استاد سے رابطہ رکھنا معمولی دکھائی دینے والے مگر مؤثر اقدامات ہیں۔ اسی طرح اسکول کا انتخاب کرتے ہوئے صرف انگریزی، یونیفارم، امتحانی نتائج یا معاشرتی شہرت سے متاثر ہونے کے بجائے یہ دیکھا جائے کہ بچہ واقعی سمجھ رہا ہے یا صرف یاد کر رہا ہے۔ نجی اداروں کو بھی اساتذہ کے مناسب معاوضے، تربیت اور محفوظ پیشہ ورانہ ماحول کی ذمہ داری قبول کرنا ہوگی، کیونکہ کمزور استاد سے مسلسل بہترین نتائج کی توقع رکھنا خود ایک تضاد ہے۔
سرکاری اسکولوں کی بحالی کسی ایک محکمے، استاد یا حکومت کا کام نہیں، لیکن اس مشترکہ ذمہ داری کا مطلب یہ بھی نہیں کہ ہر کوئی دوسرے کی طرف انگلی اٹھا کر بری الذمہ ہو جائے۔ حکومت وسائل اور نگرانی بہتر بنائے، انتظامیہ کارکردگی دکھائے، اساتذہ تدریس کو اپنی بنیادی ذمہ داری سمجھیں اور والدین بچوں کے تعلیمی سفر میں شریک ہوں۔ نجی اسکولوں کے اچھے تجربات سے فائدہ اٹھایا جائے، مگر تعلیم کو ایسی منڈی نہ بننے دیا جائے جہاں معیار کا فیصلہ صرف والدین کی جیب کرے۔ کسی قوم کی ترقی کا پیمانہ یہ نہیں کہ اس کے کتنے بچے مہنگے اسکولوں میں پڑھتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ اس کے عام شہری کے بچے کو کتنی معیاری تعلیم میسر ہے۔ سرکاری اسکول کا خالی ہوتا ہوا کلاس روم ایک ادارے کی کمزوری نہیں، عوام کے اعتماد میں پڑنے والی دراڑ ہے۔ اگر ہم اس دراڑ کو بھرنے کے بجائے اس کے عادی ہو گئے تو کل تعلیم کی محرومی کو بھی قسمت کا نام دینے لگیں گے۔ ہمیں فیصلہ کرنا ہے کہ تعلیم چند خاندانوں کی استطاعت سے خریدی جانے والی سہولت رہے گی یا ہر بچے کا ایسا حق بنے گی جس پر اس کا مستقبل اعتماد کے ساتھ تعمیر ہو سکے۔ قوم کا مستقبل نجی اسکولوں کی فیسوں سے نہیں، اس یقین سے بنتا ہے کہ کسی غریب بچے کی ذہانت اس کے والدین کی غربت کے ہاتھوں ضائع نہیں ہوگی۔


