
500 کے وی جامشورو گرڈ اسٹیشن میں خرابی کی خبر کی تردید، مسئلہ 132 کے وی اولڈ جامشورو سرکٹ کے آئسولیٹر میں تھا: نیشنل گرڈ پاکستان
مرمتی کام کے لیے پیشگی مشاورت کے بعد ایک گھنٹے کا شٹ ڈاؤن لیا گیا، نیشنل گرڈ پاکستان کا دعویٰ ہے کہ حیسکو متاثرہ لوڈ کو متبادل ذرائع پر منتقل کرنے میں ناکام رہا، بجلی کی بندش کو 500 کے وی گرڈ اسٹیشن کی خرابی سے منسوب کرنا درست نہیں۔
سید قاسم بخاری-پاکستان
نیشنل گرڈ پاکستان نے جامشورو کے 500 کے وی گرڈ اسٹیشن میں برقی خرابی سے متعلق ذرائع ابلاغ میں نشر اور شائع ہونے والی خبروں کی وضاحت کرتے ہوئے ان کی تردید کی ہے۔ ادارے کے ترجمان کے مطابق، 30 اکتوبر 2026 کو سامنے آنے والی خبروں میں صورتِ حال کی مکمل اور درست عکاسی نہیں کی گئی، کیونکہ اصل مسئلہ 500 کے وی جامشورو گرڈ اسٹیشن میں نہیں بلکہ 132 کے وی اولڈ جامشورو سرکٹ نمبر 2 کے بلیو فیز لائن آئسولیٹر میں غیر معمولی حرارت کی نشاندہی سے متعلق تھا۔
ترجمان نے واضح کیا کہ متاثرہ آئسولیٹر میں غیر معمولی حد تک حرارت، جسے تکنیکی اصطلاح میں ’’ریڈ ہاٹ اسپاٹ‘‘ کہا جاتا ہے، سامنے آنے کے بعد ممکنہ بڑے برقی نقصان سے بچنے کے لیے فوری مرمت ضروری تھی۔ اس مقصد کے لیے متعلقہ اداروں سے رابطہ کیا گیا اور ضروری انتظامات کی یقین دہانی کے بعد متاثرہ سرکٹ کو عارضی طور پر بند کیا گیا۔
نیشنل گرڈ پاکستان کے مطابق، مرمتی کام کے دوران بجلی کی فراہمی برقرار رکھنے کے لیے متبادل انتظامات اور لوڈ کی منتقلی اہم تھی، تاہم ادارے کا دعویٰ ہے کہ حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) متاثرہ لوڈ کو دستیاب متبادل ذرائع پر مؤثر انداز میں منتقل کرنے میں کامیاب نہ ہو سکی۔ ترجمان کے مطابق، حیسکو کے فیڈرز پر بجلی کی بندش کا تعلق 500 کے وی جامشورو گرڈ اسٹیشن میں خرابی سے نہیں تھا بلکہ متاثرہ لوڈ کی منتقلی اور انتظامی امور میں پیش آنے والی مشکلات سے تھا۔
500 کے وی گرڈ اسٹیشن میں خرابی نہیں ہوئی: ترجمان
نیشنل گرڈ پاکستان کے ترجمان نے اپنے وضاحتی بیان میں اس تاثر کو مسترد کیا کہ جامشورو کے 500 کے وی گرڈ اسٹیشن میں کوئی برقی خرابی پیدا ہوئی تھی۔ ان کے مطابق، جس تکنیکی مسئلے کی نشاندہی کی گئی، وہ 132 کے وی اولڈ جامشورو سرکٹ نمبر 2 کے بلیو فیز لائن آئسولیٹر سے متعلق تھا۔
بجلی کی ترسیل کے نظام میں آئسولیٹر اہم برقی آلات میں شمار ہوتے ہیں، جو برقی حصوں کو محفوظ طریقے سے الگ رکھنے اور نظام کے قابلِ اعتماد آپریشن میں مدد دیتے ہیں۔ اگر کسی آئسولیٹر میں غیر معمولی حرارت پیدا ہو تو یہ ممکنہ تکنیکی خرابی، خراب رابطے یا دیگر برقی مسائل کی علامت ہو سکتی ہے۔ ایسی صورتِ حال میں بروقت معائنہ اور مرمت نہ ہونے سے متعلقہ آلات کو نقصان پہنچنے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔
ترجمان کے مطابق، آئسولیٹر میں غیر معمولی حرارت کی نشاندہی کے بعد احتیاطی اقدامات کرتے ہوئے شٹ ڈاؤن لینا ضروری سمجھا گیا، تاکہ مرمتی عمل محفوظ انداز میں مکمل کیا جا سکے اور برقی نظام کو ممکنہ بڑے نقصان سے بچایا جا سکے۔
ادارے نے اس وضاحت کے ذریعے یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ تکنیکی مسئلے کی نوعیت اور اس کے مقام کو درست طور پر سمجھنا ضروری ہے، کیونکہ 132 کے وی سرکٹ کے آئسولیٹر میں سامنے آنے والی خرابی کو 500 کے وی گرڈ اسٹیشن کی خرابی قرار دینا دونوں نظاموں کے درمیان فرق کو نظرانداز کرنے کے مترادف ہو گا۔
شٹ ڈاؤن سے قبل متعلقہ اداروں سے رابطہ کیا گیا
ترجمان کے مطابق، مرمتی کام کے لیے شٹ ڈاؤن لینے سے پہلے آئی ایس ایم او (ISMO) کے ریجنل کنٹرول سینٹر اور حیسکو کے پاور ڈسپیچ سینٹر سے رابطہ کیا گیا اور صورتِ حال پر مشاورت کی گئی۔
بیان کے مطابق، متعلقہ اداروں کے ساتھ رابطے کا مقصد یہ تھا کہ مرمت کے دوران بجلی کی فراہمی پر ممکنہ اثرات کو کم سے کم رکھا جائے اور متاثرہ لوڈ کے لیے متبادل انتظامات یقینی بنائے جائیں۔ لوڈ مینجمنٹ کے مناسب انتظامات کی یقین دہانی کے بعد شٹ ڈاؤن لیا گیا۔
بجلی کے ترسیلی نظام میں کسی سرکٹ یا برقی آلے کو مرمت کے لیے بند کرنے سے قبل متعلقہ کنٹرول مراکز کے درمیان رابطہ کاری اہم ہوتی ہے۔ اس عمل کے ذریعے یہ طے کیا جاتا ہے کہ متاثرہ حصے کو بند کرنے کے دوران بجلی کی فراہمی کس حد تک جاری رکھی جا سکتی ہے، متبادل ترسیلی راستے کون سے دستیاب ہیں اور کن علاقوں میں عارضی بندش کا امکان ہو سکتا ہے۔
نیشنل گرڈ پاکستان کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں بھی شٹ ڈاؤن سے پہلے ضروری رابطہ کاری اور مشاورت کی گئی تھی، جبکہ مرمت کا کام مقررہ وقت سے پہلے مکمل کر لیا گیا۔
دو گھنٹے کے شٹ ڈاؤن کی اجازت، مرمت ایک گھنٹے میں مکمل کرنے کا دعویٰ
نیشنل گرڈ پاکستان کے ترجمان کے مطابق، آئی ایس ایم او کی جانب سے مرمتی کام کے لیے دو گھنٹے کے شٹ ڈاؤن کی اجازت دی گئی تھی، تاہم نیشنل گرڈ کی تکنیکی ٹیموں نے مؤثر منصوبہ بندی اور بروقت اقدامات کے ذریعے مرمت صرف ایک گھنٹے میں مکمل کر لی۔
ادارے کے مطابق، مرمت کا کام کم وقت میں مکمل ہونے سے شٹ ڈاؤن کا دورانیہ محدود رکھنے میں مدد ملی۔ برقی ترسیلی نظام میں کسی تکنیکی خرابی کی صورت میں بروقت مرمت اہم ہوتی ہے، کیونکہ اس سے آلات کو ممکنہ نقصان سے بچانے اور نظام کی قابلِ اعتماد کارکردگی برقرار رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔
ترجمان نے اس پیش رفت کو نیشنل گرڈ پاکستان کی ٹیموں کی بروقت کارروائی سے منسوب کیا۔ تاہم شٹ ڈاؤن کے دوران مختلف علاقوں میں بجلی کی فراہمی پر پڑنے والے مجموعی اثرات کا تعین متعلقہ آپریشنل ریکارڈ اور حیسکو کی تفصیلات کی روشنی میں کیا جا سکتا ہے۔
حیسکو کے لوڈ کی منتقلی سے متعلق کیا مؤقف اختیار کیا گیا؟
نیشنل گرڈ پاکستان کے وضاحتی بیان کا اہم نکتہ یہ ہے کہ مرمتی کام کے دوران بجلی کی فراہمی برقرار رکھنے کے لیے متاثرہ لوڈ کو متبادل ذرائع پر منتقل کرنا ضروری تھا۔
ترجمان کے مطابق، حیسکو متاثرہ لوڈ کو نیشنل گرڈ کے دستیاب متبادل نیٹ ورک، بالخصوص 220 کے وی ٹی ایم خان روڈ گرڈ اسٹیشن حیدرآباد، پر مؤثر انداز میں منتقل کرنے میں ناکام رہا۔
بیان میں کہا گیا کہ اگرچہ شٹ ڈاؤن سے قبل لوڈ مینجمنٹ کے انتظامات پر بات چیت کی گئی تھی، لیکن عملی طور پر متاثرہ لوڈ کی منتقلی کے دوران مشکلات پیش آئیں۔ نیشنل گرڈ پاکستان نے اسی صورتِ حال کو حیسکو کے بعض فیڈرز کی بندش سے جوڑتے ہوئے واضح کیا کہ ان بندشوں کو 500 کے وی جامشورو گرڈ اسٹیشن میں خرابی کا نتیجہ قرار دینا درست نہیں۔
یہ مؤقف نیشنل گرڈ پاکستان کی جانب سے جاری کردہ وضاحت پر مبنی ہے۔ معاملے کے تمام پہلوؤں کا مکمل جائزہ لینے کے لیے حیسکو کا مؤقف، لوڈ کی منتقلی کا ریکارڈ اور متعلقہ کنٹرول مراکز کی آپریشنل تفصیلات بھی اہم ہوں گی۔
ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن اداروں کی ذمہ داریاں الگ ہیں
نیشنل گرڈ پاکستان کے ترجمان نے واضح کیا کہ ٹرانسمیشن نیٹ ورک پر شٹ ڈاؤن کے دوران ڈسٹری بیوشن لوڈ کی منتقلی، فیڈر وائز بجلی کی فراہمی اور لوڈ مینجمنٹ کے انتظامات متعلقہ تقسیم کار کمپنی کے آپریشنل دائرہ کار میں آتے ہیں۔
بجلی کے نظام میں ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن کے مراحل ایک دوسرے سے منسلک ہونے کے باوجود مختلف ذمہ داریاں رکھتے ہیں۔ ٹرانسمیشن نیٹ ورک بجلی کو بڑے گرڈ اسٹیشنوں اور مختلف ترسیلی راستوں کے ذریعے آگے پہنچاتا ہے، جبکہ تقسیم کار کمپنیاں بجلی کو اپنے متعلقہ علاقوں کے صارفین تک پہنچانے اور فیڈرز کے آپریشن سمیت تقسیم کے انتظامات کی ذمہ دار ہوتی ہیں۔
اس لیے جب کسی ٹرانسمیشن سرکٹ کو مرمت کے لیے بند کیا جاتا ہے تو متعلقہ تقسیم کار کمپنی کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ دستیاب نیٹ ورک، متبادل فیڈرز اور تکنیکی صلاحیت کے مطابق متاثرہ لوڈ کی منتقلی کا انتظام کرے۔ اس عمل میں کسی بھی رکاوٹ کا اثر صارفین کو بجلی کی فراہمی پر پڑ سکتا ہے۔
نیشنل گرڈ پاکستان نے اپنے بیان میں اسی فرق کو نمایاں کرتے ہوئے کہا کہ حیسکو کے فیڈرز کی بندش کو 500 کے وی جامشورو گرڈ اسٹیشن میں خرابی سے منسلک کرنا درست نہیں، کیونکہ اصل معاملہ 132 کے وی سرکٹ کے آئسولیٹر کی مرمت اور اس دوران لوڈ کی منتقلی سے متعلق تھا۔
ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی خبروں پر وضاحت
ترجمان نے کہا کہ 30 اکتوبر کو ذرائع ابلاغ کے مختلف حصوں میں شائع اور نشر ہونے والی خبروں میں حقائق کی مکمل عکاسی نہیں کی گئی، جس سے عوام میں صورتِ حال کے بارے میں غلط تاثر پیدا ہوا۔
ادارے کے مطابق، اصل تکنیکی مسئلے کی درست نشاندہی اور مرمتی کارروائی کی تفصیلات سامنے لانا ضروری ہے، تاکہ بجلی کے نظام سے متعلق خبروں میں مختلف وولٹیج سطحوں کے گرڈ اسٹیشنوں، سرکٹس اور متعلقہ برقی آلات کے درمیان فرق واضح رہے۔
بجلی کی فراہمی میں خلل پڑنے کے واقعات عوامی دلچسپی کے حامل ہوتے ہیں، خصوصاً جب ان کے نتیجے میں کسی علاقے کے متعدد فیڈرز متاثر ہوں۔ ایسے واقعات کی رپورٹنگ میں خرابی کے مقام، شٹ ڈاؤن کی وجہ، متبادل انتظامات اور بجلی کی بحالی کے دورانیے کی درست وضاحت صارفین کو صورتِ حال سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔
نیشنل گرڈ پاکستان کی وضاحت کا مقصد بھی یہی بتایا گیا ہے کہ جامشورو کے معاملے میں اصل تکنیکی خرابی اور لوڈ مینجمنٹ سے متعلق مسائل کو الگ الگ سمجھا جائے۔
بروقت مرمت اور مؤثر رابطہ کاری کی اہمیت
یہ واقعہ بجلی کے ترسیلی اور تقسیم کے نظام کے درمیان رابطہ کاری کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ کسی بھی سرکٹ یا برقی آلے کی مرمت کے دوران صرف تکنیکی مسئلے کو دور کرنا کافی نہیں ہوتا، بلکہ متاثرہ لوڈ کے لیے متبادل انتظامات اور متعلقہ اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ بھی ضروری ہوتا ہے۔
اگر متبادل راستوں کی صلاحیت، فیڈرز کی دستیابی اور لوڈ کی تقسیم کے انتظامات پہلے سے واضح ہوں تو شٹ ڈاؤن کے دوران بجلی کی بندش کے دورانیے اور دائرہ کار کو محدود رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔ اس کے برعکس، متبادل انتظامات میں مشکلات پیش آنے کی صورت میں صارفین کو عارضی بندش کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
نیشنل گرڈ پاکستان کے مطابق، جامشورو میں مرمتی کام ایک گھنٹے میں مکمل کر لیا گیا، جبکہ شٹ ڈاؤن کے دوران متاثرہ لوڈ کی منتقلی میں حیسکو کو مشکلات پیش آئیں۔ ادارے نے اس وضاحت کے ذریعے اپنی تکنیکی کارروائی اور شٹ ڈاؤن کے انتظامات سے متعلق مؤقف پیش کیا ہے۔
نیشنل گرڈ پاکستان نے 500 کے وی جامشورو گرڈ اسٹیشن میں خرابی سے متعلق خبروں کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اصل مسئلہ 132 کے وی اولڈ جامشورو سرکٹ نمبر 2 کے بلیو فیز لائن آئسولیٹر میں غیر معمولی حرارت کی نشاندہی سے متعلق تھا۔ ممکنہ بڑے نقصان سے بچنے کے لیے مرمت کی خاطر شٹ ڈاؤن لیا گیا، جس کے لیے آئی ایس ایم او اور حیسکو کے متعلقہ مراکز سے پیشگی رابطہ کیا گیا تھا۔
ترجمان کے مطابق، دو گھنٹے کے مجاز شٹ ڈاؤن کے مقابلے میں مرمت ایک گھنٹے میں مکمل کر لی گئی، تاہم اس دوران متاثرہ لوڈ کو متبادل ذرائع پر منتقل کرنے میں مشکلات پیش آئیں۔ نیشنل گرڈ پاکستان نے حیسکو کے فیڈرز کی بندش کو 500 کے وی گرڈ اسٹیشن میں خرابی کے بجائے لوڈ کی منتقلی سے متعلق مسائل کا نتیجہ قرار دیا ہے۔
ادارے کا مؤقف ہے کہ واقعے کی درست رپورٹنگ کے لیے اصل خرابی کے مقام، مرمتی کارروائی اور تقسیم کار کمپنی کے لوڈ مینجمنٹ انتظامات میں واضح فرق رکھنا ضروری ہے۔



