اہم خبریںپاکستان

گلگت بلتستان کا 79واں یومِ آزادی، شہداء کو سلام، ترقی و خوشحالی کے نئے عزم کا اظہار

صدر مملکت، وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب کی مبارکباد، خطے کی ترقی، تعلیم، توانائی اور روزگار کے منصوبوں پر روشنی

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
سید عاطف ندیم-ادارت پاکستان

گلگت بلتستان کا 79واں یومِ آزادی آج یکم نومبر کو قومی جوش و جذبے اور عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔ اس تاریخی دن کی مناسبت سے خطے بھر میں تقریبات کا انعقاد کیا جا رہا ہے، جبکہ مرکزی تقریب گلگت کے تاریخی مقام چنار باغ میں منعقد ہوئی۔ تقریب میں گلگت بلتستان کی آزادی کے لیے جدوجہد کرنے والے مجاہدین، غازیوں اور شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔

اس موقع پر گورنر اور وزیراعلیٰ گلگت بلتستان نے جنگِ آزادی کے شہداء کی یادگار پر حاضری دی، پھولوں کی چادر چڑھائی اور فاتحہ خوانی کی۔ انہوں نے آزادی کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے بہادر سپوتوں کی قربانیوں کو یاد کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ خطے کی ترقی، خوشحالی، امن اور عوامی فلاح کے لیے کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔

یکم نومبر کا دن گلگت بلتستان کی تاریخ میں غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ 1947ء میں اس روز مقامی مجاہدین اور گلگت اسکاؤٹس نے ڈوگرہ حکمرانی کے خلاف جدوجہد میں کامیابی حاصل کی اور خطے میں آزادی کا اعلان کیا۔ اس تاریخی جدوجہد کو گلگت بلتستان کے عوام کی بہادری، عزم، قربانی اور پاکستان سے وابستگی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

صدر مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم محمد شہباز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے بھی گلگت بلتستان کی آزادی کی 79ویں سالگرہ پر خطے کے عوام کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے ان کی تاریخی جدوجہد، قربانیوں اور قومی وابستگی کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔

یکم نومبر 1947ء: گلگت بلتستان کی تاریخ کا اہم موڑ

گلگت بلتستان کی آزادی کی تاریخ 1947ء کے ان واقعات سے جڑی ہے، جب برصغیر کی تقسیم کے بعد خطے میں سیاسی تبدیلیوں اور اقتدار کی منتقلی کے حالات پیدا ہوئے۔ اس دوران مقامی مجاہدین اور گلگت اسکاؤٹس نے ڈوگرہ حکمرانی کے خلاف مزاحمت کی، جس کے نتیجے میں یکم نومبر 1947ء کو گلگت میں آزادی کا اعلان کیا گیا۔

یہ جدوجہد خطے کے عوام کی اجتماعی تاریخ کا اہم حصہ ہے۔ آزادی کے لیے سرگرم مقامی رہنماؤں، فوجی اہلکاروں اور جانبازوں نے مشکل حالات میں مزاحمت کی اور خطے کے سیاسی مستقبل کی تشکیل میں کردار ادا کیا۔

گلگت بلتستان کے عوام ہر سال یکم نومبر کو اپنے اسلاف کی قربانیوں کو یاد کرتے ہیں اور آزادی کے لیے جدوجہد کرنے والے افراد کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں۔ یہ دن نئی نسل کو خطے کی تاریخ، ثقافت، قومی شناخت اور آزادی کی اہمیت سے روشناس کرانے کا موقع بھی فراہم کرتا ہے۔

بلتستان کے مختلف علاقوں میں بھی 1947ء اور 1948ء کے دوران اہم تاریخی واقعات پیش آئے۔ تاہم بلتستان کی آزادی کے واقعات اور ان کی تاریخ کو گلگت میں یکم نومبر 1947ء کے اعلانِ آزادی سے الگ تناظر میں دیکھنا ضروری ہے۔

صدر مملکت کا گلگت بلتستان کے عوام کو مبارکباد کا پیغام

صدر مملکت آصف علی زرداری نے گلگت بلتستان کی آزادی کی 79ویں سالگرہ پر علاقے کے عوام کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے ان کی بہادری، قربانیوں اور پاکستان سے وابستگی کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

اپنے پیغام میں صدر مملکت نے کہا کہ 79 سال قبل گلگت بلتستان کے بہادر عوام نے ڈوگرہ راج کے خاتمے کے لیے جدوجہد کرتے ہوئے آزادی کا اعلان کیا۔ ان کے مطابق خطے کے عوام کی جرات، قربانیاں اور پاکستان سے الحاق کا فیصلہ ہماری مشترکہ تاریخ کا اہم حصہ ہیں۔

صدر مملکت نے آزادی کے اس تاریخی سفر کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام نے مشکل حالات میں بہادری اور عزم کا مظاہرہ کیا۔ ان کی جدوجہد خطے کی تاریخ میں نمایاں مقام رکھتی ہے اور آنے والی نسلوں کے لیے حوصلے اور قربانی کی مثال ہے۔

انہوں نے گلگت بلتستان کی تاریخی، جغرافیائی اور قومی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہ خطہ اپنے قدرتی وسائل، منفرد جغرافیائی محلِ وقوع اور قدرتی حسن کے باعث خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔

صدر مملکت کے مطابق گلگت بلتستان کی ترقی کے لیے تعلیم، صحت، نوجوانوں کے لیے روزگار اور کاروباری مواقع کی فراہمی کو بنیادی ترجیحات میں شامل کرنا ضروری ہے۔ ان شعبوں میں سرمایہ کاری سے نہ صرف عوام کا معیارِ زندگی بہتر بنایا جا سکتا ہے بلکہ خطے کی اقتصادی صلاحیتوں سے بھی بھرپور استفادہ کیا جا سکتا ہے۔

ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو کے ادوار میں اصلاحات کا ذکر

صدر آصف علی زرداری نے اپنے پیغام میں شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے ادوار میں گلگت بلتستان میں متعارف کرائی جانے والی اہم انتظامی اور قانونی اصلاحات کا بھی ذکر کیا۔

ان اصلاحات کو خطے کے انتظامی ڈھانچے، عوامی حقوق اور حکومتی نظام کی ترقی کے حوالے سے اہم قرار دیا جاتا ہے۔ گلگت بلتستان کی آئینی اور انتظامی حیثیت، اختیارات کی تقسیم اور عوامی نمائندگی سے متعلق معاملات طویل عرصے سے قومی مباحث کا حصہ رہے ہیں۔

صدر مملکت نے خطے کی ترقی کے لیے انسانی وسائل پر توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے تعلیم اور صحت کی سہولتوں میں بہتری، نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور مقامی کاروبار کو فروغ دینے کو اہم قرار دیا۔

ان کے پیغام سے یہ امر نمایاں ہوتا ہے کہ گلگت بلتستان کی تاریخی اہمیت کے ساتھ ساتھ اس کے عوام کی معاشی اور سماجی ترقی بھی قومی ترجیحات میں بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف کا آزادی کے رہنماؤں اور عوام کو خراجِ تحسین

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بھی گلگت بلتستان کے 79ویں یومِ آزادی پر علاقے کے عوام کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے آزادی کی جدوجہد میں حصہ لینے والے رہنماؤں، مجاہدین، غازیوں اور شہداء کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

وزیراعظم نے اپنے پیغام میں کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام نے آزادی کے لیے تاریخی جدوجہد کی اور اپنی قربانیوں سے خطے کی تاریخ میں ایک نمایاں باب رقم کیا۔

انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وفاقی حکومت گلگت بلتستان کی ترقی، خوشحالی اور عوام کی فلاح و بہبود کے لیے اقدامات جاری رکھے گی۔

وزیراعظم کے مطابق خطے میں توانائی، تعلیم، نوجوانوں کی صلاحیتوں میں اضافے اور اقتصادی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے مختلف منصوبوں پر کام کیا جا رہا ہے۔ ان اقدامات کا مقصد عوام کو بہتر سہولتیں فراہم کرنا، ترقی کے نئے مواقع پیدا کرنا اور خطے کی معاشی صلاحیتوں کو بروئے کار لانا ہے۔

گلگت بلتستان میں 100 میگاواٹ شمسی توانائی منصوبے کا آغاز

وزیراعظم شہباز شریف نے گلگت بلتستان میں توانائی کے شعبے میں جاری اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ 100 میگاواٹ کے شمسی توانائی منصوبے کا آغاز کیا گیا ہے۔

گلگت بلتستان میں توانائی کی ضروریات پوری کرنا ایک اہم چیلنج ہے۔ خطے کے دشوار گزار پہاڑی علاقے، موسم کی شدت اور آبادی کا مختلف وادیوں میں پھیلاؤ توانائی کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کو خصوصی اہمیت دیتے ہیں۔

شمسی توانائی جیسے متبادل ذرائع سے بجلی کی پیداوار بڑھانے کے لیے اقدامات مقامی ضروریات پوری کرنے، توانائی کے روایتی ذرائع پر انحصار کم کرنے اور پائیدار ترقی کے امکانات پیدا کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

وزیراعظم کے مطابق گلگت بلتستان کے عوام میں تقریباً ایک لاکھ سولر پینل مفت فراہم کیے جا چکے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد گھریلو سطح پر توانائی کی ضروریات پوری کرنے میں مدد دینا اور عوام کو متبادل توانائی کے ذرائع تک رسائی فراہم کرنا ہے۔

تاہم ان منصوبوں کے دیرپا فوائد کے لیے تنصیبات کی مؤثر دیکھ بھال، تکنیکی معاونت، بیٹریوں اور دیگر ضروری آلات کی دستیابی اور توانائی کے نظام کی پائیداری پر توجہ دینا بھی اہم ہوگا۔

12 ارب 46 کروڑ روپے کی لاگت سے چار دانش اسکول قائم کیے جا رہے ہیں

وزیراعظم نے تعلیم کے شعبے میں اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ گلگت بلتستان میں 12 ارب 46 کروڑ روپے کی لاگت سے چار دانش اسکول قائم کیے جا رہے ہیں۔

دانش اسکولوں کا مقصد معیاری تعلیم کے مواقع کو وسعت دینا اور ایسے طلبہ کو بہتر تعلیمی سہولتیں فراہم کرنا ہے جنہیں معیاری اداروں تک رسائی میں مشکلات کا سامنا ہوتا ہے۔

گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں میں آبادی کے پھیلاؤ، طویل سفری فاصلوں، دشوار گزار راستوں اور موسمی حالات کے باعث تعلیم تک یکساں رسائی ایک اہم مسئلہ ہے۔ ایسے حالات میں تعلیمی اداروں کی تعمیر اور تعلیمی سہولتوں کی فراہمی بچوں کے مستقبل پر مثبت اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

چار دانش اسکولوں کے قیام سے متعلق منصوبہ خطے میں تعلیمی مواقع بڑھانے کی ایک اہم کوشش قرار دیا جا سکتا ہے۔ تاہم اس منصوبے کے حقیقی نتائج کا انحصار اسکولوں کی بروقت تکمیل، اساتذہ کی دستیابی، تعلیمی معیار، طلبہ کے داخلوں اور اداروں کے مؤثر انتظام پر ہوگا۔

تعلیم کے شعبے میں سرمایہ کاری کو خطے کے مستقبل کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے، کیونکہ معیاری تعلیم نوجوانوں کو روزگار، کاروبار اور جدید ٹیکنالوجی کے میدان میں آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرتی ہے۔

نوجوانوں میں 4 ہزار 245 لیپ ٹاپ تقسیم

وزیراعظم شہباز شریف نے نوجوانوں کی تعلیمی اور تکنیکی صلاحیتوں میں اضافے کے لیے کیے جانے والے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ گلگت بلتستان کے نوجوانوں میں 4 ہزار 245 لیپ ٹاپ تقسیم کیے گئے ہیں۔

ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی بڑھتی ہوئی اہمیت کے پیش نظر لیپ ٹاپ کی فراہمی طلبہ کو آن لائن تعلیم، تحقیق، جدید تعلیمی مواد اور ڈیجیٹل مہارتوں تک رسائی دینے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

گلگت بلتستان کے دور دراز علاقوں میں انٹرنیٹ کی دستیابی اور ڈیجیٹل سہولتوں کا فروغ خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ اگر نوجوانوں کو مناسب انٹرنیٹ، تربیت اور تعلیمی رہنمائی بھی میسر ہو تو وہ فری لانسنگ، آن لائن کاروبار، سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ اور دیگر ڈیجیٹل شعبوں میں مواقع حاصل کر سکتے ہیں۔

لیپ ٹاپ تقسیم کرنے کے اقدامات کے ساتھ ڈیجیٹل تربیت، انٹرنیٹ کے بنیادی ڈھانچے کی بہتری اور نوجوانوں کو عملی مہارتیں فراہم کرنا بھی ضروری ہے تاکہ یہ سہولتیں ان کی تعلیمی اور پیشہ ورانہ ترقی میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔

مقپون داس کو خصوصی اقتصادی زون قرار دینے کی منظوری

وزیراعظم نے گلگت بلتستان میں اقتصادی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے مقپون داس کو خصوصی اقتصادی زون قرار دینے کی منظوری کا بھی ذکر کیا۔

وزیراعظم کے مطابق اس منصوبے کے ذریعے تقریباً پانچ ہزار روزگار کے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔

خصوصی اقتصادی زونز کا بنیادی مقصد سرمایہ کاری کو راغب کرنا، کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینا، صنعتی ترقی کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنا اور مقامی سطح پر روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہوتا ہے۔

گلگت بلتستان میں ایسے منصوبے مقامی نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے اور خطے کی معاشی صلاحیتوں سے استفادہ کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ مقامی کاروباری اداروں، چھوٹے تاجروں اور خدمات فراہم کرنے والے شعبوں کو بھی فائدہ پہنچنے کے امکانات پیدا ہوتے ہیں۔

تاہم پانچ ہزار روزگار کے مواقع کی متوقع تعداد کو عملی شکل دینے کے لیے سرمایہ کاروں کی دلچسپی، بنیادی ڈھانچے کی دستیابی، توانائی اور مواصلاتی سہولتوں، زمین کے استعمال سے متعلق انتظامات اور منصوبے پر عمل درآمد کی رفتار اہم ہوگی۔

اگر منصوبے کو مؤثر انداز میں آگے بڑھایا جاتا ہے تو یہ گلگت بلتستان میں اقتصادی سرگرمیوں کے فروغ اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے امکانات پیدا کرنے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی گلگت بلتستان کے عوام کو مبارکباد

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے بھی گلگت بلتستان کے عوام کو ڈوگرہ راج سے آزادی اور پاکستان سے الحاق کی 79ویں سالگرہ پر دلی مبارکباد پیش کی ہے۔

اپنے پیغام میں مریم نواز شریف نے کہا کہ یکم نومبر 1947ء گلگت بلتستان کی تاریخ کا ایک اہم اور یادگار دن ہے۔ یہ دن عوام کی بہادری، عزم، حوصلے اور آزادی کے لیے کی جانے والی جدوجہد کی علامت ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے آزادی کی جدوجہد میں حصہ لینے والے افراد اور قربانیاں دینے والے خاندانوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان کے غیور عوام کی قربانیوں اور جدوجہد کو سلام پیش کرتی ہوں۔

انہوں نے گلگت بلتستان کو پاکستان کا قیمتی حصہ اور قومی یکجہتی کی خوبصورت علامت قرار دیتے ہوئے کہا کہ خطے کے بہادر عوام ملک و قوم کا فخر ہیں۔

مریم نواز شریف کے مطابق گلگت بلتستان پاکستان کی خوبصورت اور شاندار تصویر ہے، جہاں کی منفرد روایات، ثقافتی تنوع اور قدرتی حسن اسے دیگر علاقوں سے ممتاز بناتے ہیں۔

گلگت بلتستان کا قدرتی حسن اور ثقافتی ورثہ

وزیراعلیٰ پنجاب نے اپنے پیغام میں گلگت بلتستان کے قدرتی حسن، روایات اور ثقافت کو بھی سراہا۔

گلگت بلتستان پاکستان کے اہم سیاحتی خطوں میں شمار ہوتا ہے۔ یہاں بلند و بالا پہاڑ، برف پوش چوٹیاں، گلیشیئرز، جھیلیں، سرسبز وادیاں اور تاریخی مقامات ملکی و غیر ملکی سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنتے ہیں۔

خطے کی ثقافت، زبانیں، روایتی لباس، دست کاری، مقامی کھانے اور مہمان نوازی بھی اس کی منفرد شناخت کا حصہ ہیں۔ ان روایات کا تحفظ نہ صرف ثقافتی ورثے کو محفوظ رکھنے کے لیے ضروری ہے بلکہ سیاحت کے فروغ اور مقامی معیشت کی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

سیاحت سے متعلق بنیادی سہولتوں کی بہتری، سڑکوں کی تعمیر و مرمت، محفوظ سفری انتظامات، ماحولیات کا تحفظ اور مقامی آبادی کی شمولیت اس شعبے کی پائیدار ترقی کے لیے اہم ہیں۔

گلگت بلتستان میں سیاحت کو فروغ دینے کے لیے ضروری ہے کہ قدرتی ماحول اور مقامی ثقافت کے تحفظ کو ترجیح دی جائے، تاکہ معاشی فوائد کے ساتھ خطے کی قدرتی خوبصورتی بھی برقرار رہے۔

خطے کی ترقی اور خوشحالی مشترکہ ذمہ داری ہے، مریم نواز

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کہا کہ گلگت بلتستان کی ترقی، خوشحالی اور عوام کی فلاح و بہبود ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

انہوں نے یومِ آزادی کو قومی عزم، بہادری اور جرأت کی علامت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس دن ہمیں ان افراد کی قربانیوں کو یاد کرنا چاہیے جنہوں نے آزادی کی جدوجہد میں اہم کردار ادا کیا۔

مریم نواز شریف نے آزادی کے لیے تاریخ رقم کرنے والے تمام مجاہدین، غازیوں اور شہداء کو خصوصی سلام پیش کیا اور دعا کی کہ اللہ تعالیٰ گلگت بلتستان سمیت پورے پاکستان کو امن، ترقی اور خوشحالی عطا فرمائے۔

ان کے پیغام میں قومی یکجہتی، باہمی احترام اور خطے کی ترقی کے لیے مشترکہ کوششوں کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔

گلگت بلتستان کی ترقی: مواقع اور چیلنجز

گلگت بلتستان قدرتی وسائل، سیاحت، آبی وسائل، قابلِ تجدید توانائی اور جغرافیائی محلِ وقوع کے اعتبار سے اہم صلاحیتیں رکھتا ہے۔ تاہم ان امکانات کو معاشی ترقی میں تبدیل کرنے کے لیے بنیادی ڈھانچے کی بہتری، معیاری تعلیم، صحت کی سہولتوں، روزگار کے مواقع اور مقامی کاروبار کے فروغ پر مسلسل توجہ دینا ضروری ہے۔

خطے کے عوام کو بعض علاقوں میں طویل سفری فاصلوں، موسمی دشواریوں اور بنیادی سہولتوں تک محدود رسائی جیسے مسائل کا سامنا رہتا ہے۔ ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے وفاقی اور علاقائی حکومتوں کے درمیان مؤثر رابطہ، ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل اور وسائل کی منصفانہ تقسیم اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

توانائی کے منصوبے، دانش اسکولوں کا قیام، نوجوانوں میں لیپ ٹاپ کی تقسیم اور مقپون داس خصوصی اقتصادی زون جیسے اقدامات اس وقت زیادہ مؤثر ثابت ہوں گے جب ان کے فوائد براہِ راست مقامی آبادی تک پہنچیں اور منصوبوں پر شفاف انداز میں عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔

اسی طرح صحت کی سہولتوں میں بہتری، خواتین کے لیے تعلیم اور روزگار کے مواقع، مقامی زرعی و دست کاری کی مصنوعات کی مارکیٹنگ اور سیاحت کے شعبے میں سرمایہ کاری بھی خطے کی مجموعی ترقی کے لیے اہم ہیں۔

یومِ آزادی کا پیغام: قربانیوں کی یاد اور روشن مستقبل کی امید

گلگت بلتستان کا 79واں یومِ آزادی خطے کی تاریخی جدوجہد کو یاد کرنے، شہداء اور غازیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے اور عوام کی ترقی و خوشحالی کے لیے نئے عزم کی تجدید کا موقع ہے۔

اس دن کی تقریبات نہ صرف آزادی کے تاریخی واقعات کی یاد تازہ کرتی ہیں بلکہ نئی نسل کو اپنے اسلاف کی قربانیوں، قومی تاریخ اور اجتماعی ذمہ داریوں سے آگاہ کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

صدر مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے پیغامات میں گلگت بلتستان کے عوام کی تاریخی جدوجہد، قومی وابستگی، ثقافتی شناخت اور ترقی کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا ہے۔

حکومتی سطح پر توانائی، تعلیم، ڈیجیٹل سہولتوں اور اقتصادی سرگرمیوں کے فروغ سے متعلق اقدامات خطے کی ترقی کے لیے اہم امکانات فراہم کرتے ہیں۔ تاہم ان منصوبوں کی کامیابی کا اصل معیار ان کے عملی نتائج، عوام کو حاصل ہونے والے فوائد اور روزگار و بنیادی سہولتوں میں حقیقی بہتری ہوگا۔

گلگت بلتستان کا یومِ آزادی اس تاریخی عزم کی یاد دہانی ہے کہ خطے کے عوام کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے ساتھ ان کے بہتر مستقبل، معاشی ترقی، معیاری تعلیم، صحت اور خوشحالی کے لیے مسلسل عملی اقدامات بھی ناگزیر ہیں۔

وائس آف جرمنی اردو نیوز (پاکستان)

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button