اہم خبریںبین الاقوامی

پاکستان کے افغانستان سے جڑے دہشت گردی کے خدشات امریکہ نے سن لیے، تعمیری کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں: مارکو روبیو

روبیو نے کہا، ’’اگر ہمارے لیے کوئی تعمیری کردار ادا کرنے کی گنجائش ہوئی تو ہم ضرور ادا کریں گے۔‘‘

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service

واشنگٹن: امریکہ نے پاکستان کو افغانستان سے درپیش دہشت گردی کے خطرات اور سرحد پار حملوں سے متعلق اسلام آباد کے تحفظات کا نوٹس لیتے ہوئے اس معاملے میں تعمیری کردار ادا کرنے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ واشنگٹن پاکستان کے ان خدشات سے آگاہ ہے کہ افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف دہشت گردانہ کارروائیوں کی معاونت کی جا رہی ہے، اور اگر امریکہ کے لیے اس معاملے میں کوئی مثبت اور تعمیری کردار ادا کرنے کی گنجائش پیدا ہوئی تو وہ اس کے لیے تیار ہے۔

31 اکتوبر 2026 کو امریکی ریاست جارجیا کے شہر اٹلانٹا میں پریس بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے مارکو روبیو نے کہا کہ پاکستان کو ان دہشت گرد حملوں پر تشویش ہے جن کے بارے میں اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ انہیں افغانستان کی سرزمین سے معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کا خیال ہے کہ افغان طالبان انتظامیہ نے ان حملوں کو روکنے کے لیے مؤثر اور کافی اقدامات نہیں کیے۔

امریکی وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ واشنگٹن نے پاکستان کے تحفظات سنے ہیں اور امریکہ نہیں چاہتا کہ پاکستان کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ امریکہ کے طالبان کے ساتھ بہت قریبی تعلقات نہیں ہیں، تاہم امریکی حکام نے پاکستان کی جانب سے اٹھائے گئے بعض معاملات اور ان حملوں کا بھی جائزہ لیا ہے جن کی نشاندہی اسلام آباد نے کی ہے۔

مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ امریکہ دہشت گردی کے خلاف ہے، خواہ اس کا مرکز کہیں بھی ہو اور اس کا نشانہ کوئی بھی ملک یا شہری بنے۔ ان کے اس بیان کو پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری کشیدگی کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اسلام آباد طویل عرصے سے افغان سرزمین سے پاکستان میں ہونے والی دہشت گردانہ کارروائیوں اور بالخصوص تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی سرگرمیوں پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتا رہا ہے۔

پاکستان کے تحفظات تسلیم، امریکی وزیر خارجہ کی تعمیری کردار ادا کرنے کی پیشکش

مارکو روبیو نے اپنی گفتگو میں پاکستان کے سکیورٹی خدشات کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن نے اسلام آباد کی جانب سے پیش کیے گئے مؤقف کو سنا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کو ایسے حملوں پر تشویش ہے جن کی منصوبہ بندی یا معاونت افغانستان کی سرزمین سے ہونے کا الزام عائد کیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مؤقف ہے کہ افغان طالبان ان حملوں کو روکنے کے لیے مطلوبہ اقدامات نہیں کر رہے۔ امریکی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ واشنگٹن نے پاکستان کے خدشات کو نظرانداز نہیں کیا اور بعض ایسے حملوں کے بارے میں بھی معلومات دیکھی ہیں جن کی نشاندہی پاکستانی حکام نے کی ہے۔

روبیو نے کہا، ’’اگر ہمارے لیے کوئی تعمیری کردار ادا کرنے کی گنجائش ہوئی تو ہم ضرور ادا کریں گے۔‘‘

ان کا یہ بیان اس لحاظ سے اہم ہے کہ امریکہ نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان سکیورٹی تنازعے کو محض دوطرفہ معاملہ قرار دینے کے بجائے اسلام آباد کے خدشات کو سننے اور ممکنہ طور پر مثبت کردار ادا کرنے کی آمادگی ظاہر کی ہے۔ تاہم روبیو نے یہ واضح نہیں کیا کہ امریکہ اس سلسلے میں کس نوعیت کے عملی اقدامات کر سکتا ہے یا اس کے لیے کوئی مخصوص سفارتی منصوبہ زیرِ غور ہے۔

طالبان کے ساتھ قریبی تعلقات نہیں، تاہم دہشت گردی پر مؤقف واضح ہے

امریکی وزیر خارجہ نے افغانستان کی موجودہ طالبان انتظامیہ کے ساتھ واشنگٹن کے تعلقات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کے طالبان کے ساتھ بہت قریبی تعلقات نہیں ہیں۔ تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کی جانب سے اٹھائے گئے خدشات کو سنا گیا ہے اور ان میں سے بعض حملوں سے متعلق معلومات کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔

روبیو نے دہشت گردی کے خلاف امریکی مؤقف دہراتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن دہشت گردی کی کسی بھی شکل کی مخالفت کرتا ہے، چاہے وہ کسی بھی مقام سے جنم لے یا کسی بھی ملک کو نشانہ بنائے۔

ان کے بیان سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ امریکہ پاکستان کی سلامتی سے متعلق خدشات کو اہمیت دے رہا ہے، تاہم اس معاملے میں کسی براہِ راست مداخلت یا طالبان انتظامیہ پر کسی مخصوص اقدام کے لیے دباؤ ڈالنے کا اعلان نہیں کیا گیا۔

پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں کشیدگی کی بنیادی وجہ سرحد پار دہشت گردی

امریکی وزیر خارجہ کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات سرحد پار دہشت گردی اور سکیورٹی خدشات کے باعث مسلسل کشیدگی کا شکار ہیں۔ اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ افغان سرزمین پر موجود دہشت گرد عناصر پاکستان کے اندر حملوں کی منصوبہ بندی، تیاری اور معاونت میں ملوث ہیں۔

پاکستانی حکام متعدد بار افغان طالبان انتظامیہ پر زور دے چکے ہیں کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کرے اور تحریک طالبان پاکستان سمیت دیگر مسلح گروہوں کے خلاف کارروائی کرے۔

اسلام آباد کا کہنا ہے کہ افغان طالبان انتظامیہ نے ماضی میں یہ یقین دہانیاں کرائی تھیں کہ افغانستان کی سرزمین کسی پڑوسی ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دی جائے گی، تاہم پاکستانی حکام کے مطابق زمینی صورتحال اور عسکریت پسندوں کی سرگرمیاں ان یقین دہانیوں سے مطابقت نہیں رکھتیں۔

پاکستان کا مؤقف ہے کہ مسئلہ صرف سرحد پار نقل و حرکت یا دہشت گردوں کی موجودگی تک محدود نہیں بلکہ اس میں مبینہ طور پر تربیتی مراکز، اسلحے کی فراہمی، مالی وسائل اور آپریشنل معاونت جیسے عوامل بھی شامل ہیں۔ پاکستانی حکام کے مطابق ان عناصر کی موجودگی دہشت گردی کے خطرے کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔

ٹی ٹی پی کی سرگرمیاں اور افغان سرزمین کے استعمال پر پاکستان کے تحفظات

پاکستان نے خاص طور پر تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی سرگرمیوں کو اپنی قومی سلامتی کے لیے ایک بڑا خطرہ قرار دیا ہے۔ اسلام آباد کا کہنا ہے کہ اس تنظیم کے جنگجو افغان سرزمین پر موجود محفوظ ٹھکانوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان کے اندر دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی اور کارروائیاں کرتے ہیں۔

پاکستانی حکام کے مطابق دہشت گرد نیٹ ورک کی سرگرمیاں صرف سرحد پار نقل و حرکت تک محدود نہیں بلکہ ان میں جنگجوؤں کی تربیت، اسلحے اور دیگر وسائل کی فراہمی اور حملوں کے لیے عملی معاونت بھی شامل ہے۔

اسلام آباد نے افغان طالبان انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر موجود ایسے گروہوں کے خلاف قابلِ تصدیق اقدامات کرے اور پاکستان کے خلاف کسی بھی قسم کی دہشت گردانہ کارروائی کی روک تھام یقینی بنائے۔

دوسری جانب پاکستان افغان طالبان کی جانب سے دی جانے والی ان یقین دہانیوں پر عدم اطمینان کا اظہار کرتا رہا ہے کہ افغانستان کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔ پاکستانی مؤقف کے مطابق دہشت گرد حملوں کا تسلسل ان یقین دہانیوں کے مؤثر نفاذ کے حوالے سے سوالات پیدا کرتا ہے۔

70 فیصد تک دہشت گردوں کا تعلق افغانستان سے ہونے کا سکیورٹی حکام کا دعویٰ

پاکستانی سکیورٹی حکام کے اندازوں کے مطابق پاکستان میں داخل ہونے والے فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں میں سے 70 فیصد تک کا تعلق افغانستان سے تھا۔ حکام کا دعویٰ ہے کہ افغانستان میں موجود دہشت گرد نیٹ ورک پاکستان کے اندر کارروائیوں کے لیے مختلف نوعیت کی معاونت حاصل کرتے ہیں۔

پاکستانی سکیورٹی اداروں نے یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ افغان طالبان حکومت نے امریکہ اور نیٹو افواج کے افغانستان سے انخلا کے بعد پیچھے رہ جانے والے ہتھیاروں کو مختلف دہشت گرد گروہوں تک پہنچنے سے روکنے کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کیے۔ پاکستانی حکام کے مطابق ان ہتھیاروں تک فتنہ الخوارج اور فتنہ الہند سمیت مختلف دہشت گرد گروہوں کی رسائی کے خدشات موجود ہیں۔

پاکستانی حکام نے حملوں میں اضافے کا تعلق افغانستان کے اندر موجود دہشت گردی کے مبینہ بنیادی ڈھانچے سے بھی جوڑا ہے۔ ان کے مطابق دہشت گردوں کی تربیت، اسلحے کی دستیابی اور آپریشنل معاونت پاکستان کی سلامتی کے لیے مسلسل خطرہ بن رہی ہے۔

تاہم ان الزامات اور دعوؤں کے حوالے سے افغان طالبان انتظامیہ کا مؤقف اور آزادانہ تصدیق بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کے مستقل حل کے لیے ان معاملات پر قابلِ تصدیق معلومات، مؤثر سرحدی تعاون اور عملی اقدامات ضروری سمجھے جا رہے ہیں۔

2026 میں دہشت گردی سے 1,327 پاکستانی جاں بحق، 2,484 زخمی ہونے کا دعویٰ

پاکستانی حکام کے پیش کردہ اعداد و شمار کے مطابق صرف 2026 کے دوران افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی کے نتیجے میں پاکستان میں 1,327 افراد ہلاک اور 2,484 زخمی ہوئے۔

یہ اعداد و شمار پاکستان کو درپیش سکیورٹی چیلنجز کی سنگینی کو ظاہر کرتے ہیں۔ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ دہشت گرد حملوں کے نتیجے میں نہ صرف قیمتی انسانی جانوں کا نقصان ہوتا ہے بلکہ ملک میں امن و امان، معاشی سرگرمیوں، سرحدی علاقوں کی ترقی اور شہری زندگی بھی متاثر ہوتی ہے۔

پاکستان کے مطابق دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں سکیورٹی فورسز، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عام شہریوں کو مسلسل جانی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ ایسے حالات میں افغان سرزمین سے پاکستان مخالف کارروائیوں کی روک تھام اسلام آباد کی بنیادی سکیورٹی ترجیحات میں شامل ہے۔

واشنگٹن کا ممکنہ کردار، پاکستان کے لیے سفارتی پیش رفت کا امکان

مارکو روبیو کی جانب سے پاکستان کے خدشات کو تسلیم کرنے اور تعمیری کردار ادا کرنے کی پیشکش کو اسلام آباد کے لیے ایک اہم سفارتی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ امریکہ خطے میں دہشت گردی کے خطرات، افغانستان کی صورتحال اور پاکستان کی سلامتی سے متعلق معاملات میں ایک اہم عالمی فریق کی حیثیت رکھتا ہے۔

اگر واشنگٹن پاکستان اور افغان طالبان انتظامیہ کے درمیان اعتماد سازی، معلومات کے تبادلے اور دہشت گردی کے خلاف قابلِ تصدیق اقدامات کے لیے سہولت کاری کرتا ہے تو اس سے دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

تاہم امریکی وزیر خارجہ کے بیان میں کسی مخصوص عملی اقدام، مذاکراتی طریقہ کار یا ٹائم فریم کا اعلان نہیں کیا گیا۔ اس لیے واشنگٹن کے ممکنہ کردار کی نوعیت کا تعین آئندہ سفارتی رابطوں اور عملی پیش رفت سے ہی ہو سکے گا۔

پاکستان کے لیے بنیادی اہمیت اس بات کی ہے کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردانہ کارروائیوں کے لیے استعمال نہ ہو، جبکہ سرحدی علاقوں میں امن و استحکام کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر تعاون قائم کیا جائے۔

پاکستان کا مؤقف: دہشت گردی کے خلاف قابلِ تصدیق اقدامات ناگزیر

پاکستان مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ افغانستان کے ساتھ پائیدار تعلقات اور علاقائی امن کے لیے ضروری ہے کہ افغان طالبان انتظامیہ اپنی سرزمین سے پاکستان کے خلاف ہونے والی دہشت گردی کی روک تھام کے لیے عملی اور قابلِ تصدیق اقدامات کرے۔

اسلام آباد کے نزدیک محض یقین دہانیاں کافی نہیں بلکہ ان کے ساتھ زمینی سطح پر ایسے اقدامات بھی ہونے چاہییں جن سے دہشت گرد گروہوں کی سرگرمیوں، تربیتی ڈھانچوں اور پاکستان میں حملوں کی منصوبہ بندی کے امکانات ختم کیے جا سکیں۔

مبصرین کے مطابق مارکو روبیو کا حالیہ بیان پاکستان کے سکیورٹی خدشات کو امریکی سطح پر تسلیم کیے جانے کی اہمیت رکھتا ہے، تاہم اصل پیش رفت اسی وقت ممکن ہوگی جب سفارتی بیانات عملی تعاون میں تبدیل ہوں گے۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کا خاتمہ نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے خطے کے امن، تجارت اور معاشی استحکام کے لیے ضروری ہے۔ ایسے میں امریکہ کا ممکنہ تعمیری کردار، پاکستان کے قانونی اور سفارتی مؤقف کی حمایت اور دہشت گردی کے خلاف علاقائی تعاون مستقبل کی پیش رفت میں اہم عوامل ثابت ہو سکتے ہیں۔

وائس آف جرمنی اردو نیوز (پاکستان)

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button