تازہ ترینکاروبار

پاکستان کی اتصالات سے 800 ملین ڈالر وصولی کے لیے بین الاقوامی ثالثی کی تیاری

پارلیمانی کمیٹی کے سامنے ثالثی کے ارادے کا اظہار، معاہدے کے تحت جائیدادیں اتصلات کو منتقل نہ ہو سکیں

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
سید عاطف ندیم-ادارت

پاکستان نے متحدہ عرب امارات کی ٹیلی کام کمپنی اتصالات (Etisalat) کے خلاف بین الاقوامی ثالثی میں جانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ (پی ٹی سی ایل) کی نجکاری کی واجب الادا تقریباً 800 ملین ڈالر کی رقم وصول کی جائے۔ پارلیمنٹ کے ایک رکن نے جمعرات کو عرب نیوز کو بتایا کہ اس سلسلے میں قانونی کارروائی کے لیے تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔

یہ پیش رفت گذشتہ دو عشروں سے جاری تنازعے میں ایک بڑی شدت کی نشاندہی کرتی ہے جو 2005 کے نجکاری معاہدے میں شامل جائیدادوں کی منتقلی پر شروع ہوا۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ اس نے معاہدے میں شامل 3,246 میں سے 3,214 جائیدادیں منتقل کر دی ہیں تاہم اتصالات نے بقیہ رقم کی ادائیگی روک رکھی ہے کیونکہ باقی 32 جائیدادوں کی ملکیت منتقل نہیں ہو سکی۔

کمیٹی کے رکن نے بتایا، "حکومت نے اب بین الاقوامی عدالت کے ذریعے ثالثی میں جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ تمام تیاریاں مکمل ہو گئی ہیں۔” پارلیمانی بریفنگ بند کمرے میں ہونے کی وجہ سے انہوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی۔

منگل کے روز 800 ملین ڈالر کی واجب الادا رقم پر بات کرنے کے لیے نجکاری اور انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن سے متعلق سینیٹ کمیٹیوں کے مشترکہ اجلاس منعقد کیا گیا تھا اور یہ انکشاف اس دوران ہوا۔

کمیٹی رکن کے مطابق حکام نے اشارہ دیا ہے کہ یہ معاملہ جلد ہی قانونی کارروائی کی طرف بڑھنے والا ہے اور مزید کہا ہے کہ ثالثی میں پیش رفت کے بغیر اس واجب الادا رقم کی جلد وصولی کا امکان نہیں ہے۔

یہ تنازعہ ان جائیدادوں کے گرد گھومتا ہے جو اتصالات کے ساتھ 2005 کے نجکاری معاہدے کی شرائط کے تحت منتقل ہونا تھیں۔ کمپنی نے معاہدے میں شامل تمام جائیدادیں منتقل نہ کرنے پر حکومت کی ناکامی کو بنیاد بنا کر بقیہ ادائیگی روک رکھی ہے۔

کمیٹی رکن نے بتایا کہ اب تک منتقل نہ ہو سکنے والی جائیدادوں میں ایسے اثاثہ جات شامل ہیں جنہیں قانوناً منتقل نہیں کیا جا سکتا تھا جبکہ زرِ مبادلہ کی شرح اور جائیدادوں کی مالیت پر اختلافات سے بھی معاملہ حل کرنے کی کوششیں مزید پیچیدہ ہو گئی ہیں۔

رکن نے مزید کہا کہ حکومت پارلیمانی کمیٹی کو فروخت کے اصل معاہدے کی کاپی فراہم کرنے میں بھی ناکام رہی۔ حکام نے کمیٹی کو بتایا تھا کہ اس انتظام میں پاکستان کی جانب سے ایک خود مختار ضمانت شامل ہے تاہم درخواست کے باوجود وہ دستاویز فراہم نہیں کی۔

رکن نے مزید کہا، "اس کے پیشِ نظر مجھے نہیں لگتا کہ فنڈز جلد دستیاب ہو سکیں گے جب تک بین الاقوامی عدالت کے ذریعے کوئی پیش رفت ہو۔”

ماضی میں ہونے والی پیش رفت

جنوری 2020 میں اتصالات نے تنازعہ حل کرنے کے لیے مبینہ طور پر تقریباً 275 ملین ڈالر کی پیشکش کی تھی جو واجب الادا 800 ملین ڈالر کی رقم سے کافی کم تھی۔ اس تجویز کے نتیجے میں کوئی سمجھوتہ نہ ہو سکا۔

دو سال بعد فروری 2022 میں سابق وزیرِ خزانہ شوکت ترین اور اتصالات انٹرنیشنل گروپ کے چیف ایگزیکٹو حاتم دویدار کے درمیان ایک ملاقات میں پاکستان نے دوبارہ جلد تصفیے کی کوشش کی۔

ڈان اخبار کے مطابق واجب الادا رقم کا جائزہ لینے اور پیش رفت کا طریقہ تجویز کرنے کے لیے جولائی 2026 میں وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ایک اور کمیٹی تشکیل دی۔ اس کمیٹی نے بین الاقوامی ثالثی سے رجوع کرنے کی سفارش کی جس میں 2008 سے رکی ہوئی رقم پر پاکستان کو حاصل ہونے والے ممکنہ مالی منافع کا دعویٰ اور ہرجانے کا مطالبہ بھی شامل ہے۔

کمیٹی کے رکن نے بتایا کہ اصل ناکامی نجکاری معاہدے میں ایسی جائیدادیں شامل کرنے کا وہ حکومتی فیصلہ تھا جن کے بارے میں یہ تعین نہیں کیا گیا کہ آیا قانوناً ان کی ملکیت منتقل ہو سکتی تھی یا نہیں۔

چونکہ یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتیں مذاکرات کے ذریعے یہ معاملہ حل کرنے میں ناکام رہیں اس لیے واجب الادا رقوم کی وصولی کے لیے پاکستان کی نئی حکمتِ عملی ایک اہم تبدیلی ثابت ہو سکتی ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button