پاکستان پریس ریلیزتازہ ترین

بھارتی اور پاکستانی سکھ بیساکھی کا تہوار منانے حسن ابدال پہنچ گئے

حسن ابدال میں یہ تہوار یکم بیساکھ کو منگل کے روز منایا گیا۔ جس میں شرکت کے لیے پاکستان کے علاوہ بھارت سے بھی سکھوں کی ایک تعداد یہاں حسن ابدال آئی ہے

پاکستان،ایجنسیاں
پنجاب میں منائے جانے والے روایتی موسمی و فصلی تہوار بیساکھی کو منانے کے لیے پاکستان کے علاوہ بھارت سے آئے سکھ یاتری بھی حسن ابدال پہنچ گئے ہیں۔ حسن ابدال میں سکھوں کو اہم مرکز پنجہ صاحب ہے، جس میں اپنی مذہبی رسومات کی ادائیگی کے لیے سکھ یاتری اہتمام کے ساتھ آتے ہیں۔
پاکستان میں بیساکھی کا یہ تہوار دیسی سال کے مہینے بیساکھ کے شروع میں اس وقت اظہار مسرت کے لیے منایا جاتا ہے جب گندم کی فصل پک کر تیار ہوتی ہے اور اس کی کٹائی شروع کی جاتی ہے۔
حسن ابدال میں یہ تہوار یکم بیساکھ کو منگل کے روز منایا گیا۔ جس میں شرکت کے لیے پاکستان کے علاوہ بھارت سے بھی سکھوں کی ایک تعداد یہاں حسن ابدال آئی ہے۔ نئی دہلی میں پاکستان کے ہائی کمیشن نے پچھلے ہفتے اس سلسلے میں 2800 سکھوں کو پاکستان کے لیے ویزے جاری کیے تھے۔ تاکہ 1699 سے منائے جانے والے اس تہوار کو حسن ابدال میں منا سکیں۔ اس تہوار کی شروعات گرو گوبند سنگھ نے کی تھی۔ اس وجہ اس تہوار کو مذہبی قرار دیا جاتا ہے۔
خیال رہے سکھ مذہب کے بانی بابا گرو نانک سنگھ کی جنم بھومی ننکانہ صاحب میں ہے۔ ننکانہ صاحب سکھوں کے لیے انتہائی مقدس مانا جاتا ہے۔ جہاں ہر سال دنیا بھر سے سکھ آتے ہیں۔
حسن ابدال پہنچنے والے 52 سالہ سمرن سنگھ نے مغربی خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی’ سے بات چیت میں کہا ‘ ہم نے گرو سے دعا کی ہے اور ہمیں امن اور سکون کا گہرا احساس ملا ہے۔ یہاں یاتریوں کے لیے بہترین انتطامات دیکھ کر بھی طبیعت نہال ہو گئی ہے۔
بھارت سے آئے 47 سالہ یاتری پرم جیت سنگھ نے کہا ‘ یہاں آنے سے قبل مجھے ڈرایا گیا تھا کہ پاکستان جاؤ گے تو پھر کسی ملک کا ویزا نہیں مل سکے گا۔ مگر میں ان باتوں میں آنے کے بجائے انہیں جواب دیا میں گرو نانک کے پاس جا رہا ہوں۔ اس لیے ضرور جاؤں گا۔ اب مجھے کسی اور جگہ جانے کی خواہش نہیں کہ میں نے پاکستان میں گرو نانک دیکھ لیا ہے۔ میرے لیے یہ کینیڈا اور امریکہ سے کم جگہ نہیں ہے۔’
62 سالہ پوتر سنگھ نے کہا سکھ مسلم بھائی چارہ پہلے سے بھی زیادہ مضبوط ہو گا۔ اور دونوں ملکوں کے درمیان لوگ آزادی سے آسکیں گے۔ ہم دعا کرتے ہیں دونوں ملکوں کے درمیان امن ہو۔ میں پہلی بار پاکستان آیا ہوں اور اب بار بار آنا چاہوں گا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button