پاکستاناہم خبریں

پاکستانی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے میں دقتوں کا سامنا ہے : حکام

امریکی ناکہ بندی سے آبنائے ہرمز کی صورت حال مزید غیر یقینی ہو گئی ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ کہ امریکہ نے ان تیل بردار جہازوں اور ان کےعملے سے منشیات کے سمگلروں والا سلوک کرنے کی دھمکی دی ہے

پاکستان،ایجنسیاں
پاکستان کے جہاز رانی کے امور کو دیکھنے والے وفاقی حکام نے منگل کے روز ان مشکلات کا ذکر کیا ہے جو امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جاری جنگ کی وجہ سے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے پاکستانی جہازوں کو درپیش ہے۔
پاکستان کے جہاز اگرچہ آبنائے ہرمز کی بندش کے بد ترین دنوں میں بھی خصوصی سہولت کے ساتھ بہ اجازت اپنی نقل و حمل ممکن بناتے رہے ہیں۔ تاہم وفاقی وزیر نے منگل کے روز اس سلسلے میں درپیش مشکلات کا ذکر کیا ہے۔
یاد رہے امریکہ کے صدر ٹرمپ نے اتوار کے روز اعلان کیا تھا کہ امریکی نیول فورس آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ایران سمیت ہر اس جہاز کو روک دے گی جو ایران کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی فیس ادا کر کے نکلنا چاہیں گے۔ امریکی نیول فورس نے پیر کے روز سے باقاعدہ طور پر آبنائے ہرمز سے نکلنے والے جہازوں کی ناکہ بندی شروع کر رکھی ہے۔
یہ اقدام امریکہ نے ایران کے ساتھ اعلان کردہ پندرہ روزہ جنگ بندی کے عین بیچ میں کیا ہے۔ اتوار کے روز ہی امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے زیر قیادت ایک اعلی سطح کا امریکی وفد پاکستان میں ایرانی وفد کے ساتھ مذاکرات کے بعد واپس گیا تھا۔
اب مذاکرات کے دوسرے راؤنڈ کا بھی اعلان ہو چکا ہے اور توقع ہے کہ جمعرات کے روز سے امریکی اور ایرانی وفود دوبارہ مذاکرات کے لیے پاکستان آئیں گے ، مگر اسی دوران امریکہ نے زیادہ سے زیادہ دباؤ کے چکر میں آبنائے ہرمز کی خود ہی ناکہ بندی کر دی ہے۔ اگرچہ اس سے محض چند گھنٹے قبل امریکہ آبنائے ہرمز کھولنے کا ایران س کہہ رہا تھا۔
آبنائے ہرمز سے دینا بھر کے مختلف ملکوں کو جانے والے تیل کا 20 فیصد حصہ گزرتا ہے۔ تیل کے بڑے گاہکوں چین اور بھارت کو بھی اسی راستے سے ایران تیل فراہم کرتا ہے۔ جبکہ پاکستان کو سعودی عرب سے آنے والا تیل بھی آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے۔
امریکی ناکہ بندی سے آبنائے ہرمز کی صورت حال مزید غیر یقینی ہو گئی ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ کہ امریکہ نے ان تیل بردار جہازوں اور ان کےعملے سے منشیات کے سمگلروں والا سلوک کرنے کی دھمکی دی ہے۔ نتیجتا دنیا بھر میں خوف کی یہ فضا پیدا کر کے تیل کی قیمتوں کو ایک بار پھر بڑھانے کا موقع بنا دیا گیا ہے۔ ایران نے اس امریکی اقدام کو مسترد کیا ہے۔
امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر مشترکہ جنگ 28 فروری کو مسلط کی تھی۔ اس جنگ نے عملاً پورے مشرق وسطیٰ کی سلامتی اور معاشی استحکام کو مشکل میں ڈال رکھا ہے۔ جبکہ پوری دنیا کو تیل کے ساتھ دیگر اشیا کے سلسلے میں بھی مہنگائی کا سامنا ہے۔
جہاز رانی کے وزیر جنید انور چوہدری نے کہا ہے حکومت پاکستانی جہازوں کی آبنائے ہرمز سے پہلے کی طرح محفوظ نقل و حمل کے لیے کوششیں کر رہی ہے۔ لیکن فی الحال پاکستان کو بھی کچھ دقتوں کا سامنا ہے۔ جیسا کہ پوری دنیا جنگ کی وجہ سے مشکلات میں گھری ہے۔
وزیر جہاز رانی سے دو پاکستانی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے نہ دینے کی اطلاعات کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا وہ تازہ ترین واقعات کے بارے میں اپ ڈیٹ نہیں ہیں۔
پاکستانی بندرگاہوں پر محفوظ آمد و رفت
جب سے امریکہ اور ایران کی جنگ جاری ہے دنیا کی کئی بندر گاہوں پر نقل و حرکت نارمل نہیں رہ سکی ہے۔ البتہ پاکستان کی بندر گاہیں اس نوعیت کے جنگی اثرات سے محفوظ ہیں۔ اس لیے پاکستان کی بندرگاہوں پر کارگو جہازوں کی آمد و رفت میں تیزی دیکھنے میں آئی ہے۔
ایک رپورٹ کے مطابق یکم مارچ سے چوبیس مارچ کے درمیان صرف کراچی کی بندر گاہ پر 8313 سامان سے لدے کنٹینرز آئے ہیں۔ وزیر جنید انور کے مطابق ماہ فروری کے دوران کراچی پورٹ نے 4328 کنٹینروں کو ڈیل کیا تھا۔
وزیر جہازرانی نے کراچی بندرگاہ پر اس غیرمعمولی آمد و رفت کو سنبھالنے کی اہلیت کا ذکر کیا اور اپنے بندرگاہی سٹاف کی تعریف کی اور کہا ہماری پورٹس کے پاس یہ صلاحیت ہے کہ زیادہ سے بوجھ کو بھی آسانی سے سنبھال سکتی ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button