انٹرٹینمینٹ

ایران جنگ کے باعث بھارت میں کنڈومز کی قلت

آج کل، انہی سیڑھیوں کے اوپر موجود کوٹھوں کی دہلیز سے لے کر شہر کے جدید ترین اپارٹمنٹس کے بیڈ رومز تک ایک ہی بے چینی بھری سرگوشی سنائی دیتی ہے، "اسٹاک ختم ہو گیا ہے۔"

روہنی سنگھ

ایران جنگ کے دوران سپلائی چین متاثر ہونے سے بھارت میں کنڈومز کی قلت پیدا ہو چکی ہے۔ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو ایچ آئی وی اور غیر ارادی حمل کے کیسس میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

نئی دہلی کے اجمیری گیٹ سے لاہوری گیٹ تک پھیلی "جی بی روڈ” کی فضا میں ایک مخصوص قسم کی بو رچی بسی رہتی ہے۔ سستا عطر، انسانی پسینہ اور پرانے لوہے کے زنگ کی ملی جلی مہک۔ یہ وہ سڑک ہے جو دن بھر ہارڈویئر کے سامان کی چھن چھن سے گونجتی رہتی ہے، مگر شام ڈھلتے ہی اپنی اداس سیڑھیوں پر سستی لپ اسٹک اور گہرے کاجل کا دبیز پردہ اوڑھ لیتی ہے۔ آج کل، انہی سیڑھیوں کے اوپر موجود کوٹھوں کی دہلیز سے لے کر شہر کے جدید ترین اپارٹمنٹس کے بیڈ رومز تک ایک ہی بے چینی بھری سرگوشی سنائی دیتی ہے، "اسٹاک ختم ہو گیا ہے۔”

Kondome 2019 | Eine Vielzahl von Kondomen als Symbol für sicheren Geschlechtsverkehr
حکومت عوامی صحت کے مراکز، آشا کارکنوں اور NACO کے ذریعے مفت کنڈومز تقسیم کرتی ہےتصویر: diy13@ya.ru/Depositphotos/IMAGO

یہ "اسٹاک” کسی عیش و عشرت کی شے کا نہیں بلکہ ایک ایسی بنیادی ضرورت کا ختم ہوا ہے جسے عام زبان میں "کنڈوم” کہا جاتا ہے۔ زیادہ تر کنڈوم لیٹیکس سے بنتے ہیں۔ سپلائی چین کے تعطل اور لیٹیکس سمیت دیگر خام مال کی قیمتوں میں اضافے نے عالمی منڈیوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

خاموش بحران

جی بی روڈ کے کوٹھہ نمبر 64 کے غسل خانے کی دیوار پر کبھی نیشنل ایڈز کنٹرول آرگنائزیشن (NACO) کی طرف سے لگائی جانے والی سرخ دھاتی ڈبے جیسی کنڈوم وینڈنگ مشین اب ایک قصہ پارینہ معلوم ہوتی ہے۔ یہ وینڈنگ مشین آج زنگ آلود تالے کے پیچھے خالی پڑی ہے۔ یہ خالی پن محض ایک مشین کا نہیں، بلکہ اس حفاظتی حصار کا ہے جو یہاں کام کرنے والی خواتین اور ان کے گاہکوں کے درمیان واحد دیوار تھی۔

شوبھا کا خوف

"جی بی روڈ”پر جسم فروشی کے کاروبار سے وابستہ (فرضی نام) کے لیے یہ قلت صرف ایک خبر نہیں، بلکہ روزانہ کی بنیاد پر موت کا سامنا کرنے کے مترادف ہے۔ اس نے اپنے کمرے میں لگے ٹوٹے ہوئے شیشے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ جب ایک گاہک نے وینڈنگ مشین خالی پائی اور باہر دکانوں پر مہنگے داموں فروخت دیکھے تو اس کا پارہ چڑھ گیا اور اس نے اپنا غصہ مشین پر نکال دیا۔

یہ بحران جسم فروشی کے کاروبار سے وابستہ خواتین کو ایک ایسے مقام پر لے آیا ہے جہاں ان کے پاس "غیر ارادی  حمل” یا "مہلک بیماریوں” میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچتا۔

تجارتی لاگت میں اضافہ

تجارتی لاگت میں بے تحاشا اضافہ، خام مال کی قلت، ترسیل میں تاخیر اور فریٹ چارجز میں غیر معمولی اضافے نے بڑے بڑے مینوفیکچررز کے لیے بھی پیداوار کا تسلسل برقرار رکھنا دشوار بنا دیا ہے۔ بھارتی حکومت نے 11 مارچ 2026 کو عندیہ دیا کہ گھریلو پیٹروکیمیکل یونٹس کو وسائل کی فراہمی میں 35 فیصد تک کمی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور اس کی وجہ انہوں نے ایندھن اور توانائی کی ضروریات کو ترجیح دینا بتایا۔ اس فیصلے کے نتیجے میں کنڈوم سازی کے لیے درکار خام مال، جیسے سلیکون آئل، پی وی سی فوائل، ایلومینیم فوائل، لیٹیکس، پولی کیمیکلز اور پیکجنگ میٹیریل کی دستیابی براہ راست متاثر ہوئی ہے، جبکہ سمندری ترسیل کے دورانیے بھی طول پکڑ رہے ہیں۔

Indien Delhi 2026 | Kondom-Engpass | Männertoilette in Kotha Nr. 64, GB Road
بھارت ہر سال چار ارب سے زائد کنڈوم تیار کرتا ہےتصویر: Rohinee Singh/DW

دوہرا خطرہ

دنیا کے سب سے زیادہ آبادی والے ملک ہونے کے ساتھ ساتھ بھارت میں 25.6 لاکھ افراد ایچ آئی وی/ایڈز کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔ نیشنل ایڈز کنٹرول آرگنائزیشن کے مطابق یہ دنیا میں ایڈز کے مریضوں کی دوسری سب سے بڑی تعداد ہے۔ تقریباً چھ فیصد بھارتی آبادی جنسی طور پر منتقل ہونے والی بیماریوں میں مبتلا ہے۔

NACO کے مطابق بھارت میں ایچ آئی وی وائرس کی تقریباً 86 فیصد منتقلی غیر محفوظ جنسی تعلقات کے ذریعے عمل میں آتی ہے اور اس سے بچاؤ  کی تدابیر میں کنڈوم بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

پاپولیشن فاؤنڈیشن آف انڈیا کی  ایگزیکٹو ڈائریکٹر پونم متریجا کہتی ہیں، "کنڈومز کی قلت کے باعث بھارتی عوامی صحت کے نظام پر دباؤ بہت زیادہ بڑھ سکتا ہے۔ جنسی بیماریوں میں اضافہ اور غیر ارادی حمل صحت کے ڈھانچے کو کمزور کر دیں گے۔ تیزی سے آبادی میں اضافے والے صوبوں جیسے بہار، اتر پردیش، چھتیس گڑھ اور جھارکھنڈ میں مانع حمل ذرائع تک کم رسائی غیر ارادی حمل کے بڑھتے ہوئے خطرات کو جنم دے گی، جس سے ان خطرات میں کمی لانے کے لیے سخت محنت سے حاصل کیے گئے نتائج ضائع ہو جائیں گے۔”

بھارت ہر سال چار ارب سے زائد کنڈوم تیار کرتا ہے، جس کے باعث یہ دنیا کے بڑے کنڈوم بنانے والے ممالک میں شمار ہوتا ہے۔

ایچ ایل ایل لائف کیئر، جو ایک سرکاری ادارہ ہے، سالانہ تقریباً 2.2 ارب کنڈومز تیار کرتا ہے، جو ملک کی کل پیداوار کا نصف سے زیادہ ہے۔ حکومت عوامی صحت کے مراکز، آشا کارکنوں اور NACO کے ذریعے مفت کنڈومز تقسیم کرتی ہے۔

ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ بحران کے اس دور میں متبادل ذرائع اور مردوں کی ذمہ داری کو اجاگر کرنا ناگزیر ہے۔ کنڈوم حمل اور جنسی بیماریوں سے بچاؤ کے لیے ضروری ہیں۔

بحران صرف لوکل نہیں ہوتا

جی بی روڈ کی وہ ٹوٹی ہوئی وینڈنگ مشین اور دکانوں کے خالی شیلف اس بات کا ثبوت ہیں کہ آج کی دنیا میں کوئی بھی بحران "لوکل” نہیں ہوتا۔ نئی دہلی حکومت اور نیشنل ایڈز کنٹرول آرگنائزیشن کے لیے یہ ایک بڑی آزمائش ہے کہ وہ کس طرح اس بحران کا حل نکال کر غریب اور متوسط طبقے تک کنڈومز کی رسائی کو یقینی بنائیں۔ اگر وینڈنگ مشینوں کے یہ "سرخ ڈبے” اسی طرح خالی رہے تو آنے والے برسوں میں ایک ایسے انسانی اور طبی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جس کی قیمت نسلیں چکائیں گی۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button